آئینی اداروں کی تباہی

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>آئینی اداروں کی تباہی</h1>

آخیر مئی ۲۰۱۴ میں ملک کا اقتدار سنبھالتے ہی جب وزیراعظم نریندر مودی نے پنڈت جواہرلال نہرو کے قائم کردہمنصوبہ بندی کمیشن کو ختم کرکے نیتی آیوگ بنایا تھا تو بڑی تعداد میں لوگوں کا خیال تھا کہ شائد مودی نئے دور کی  ضرورت کے مطابق کچھ نئے کام کرنا چاہتے ہیں۔ نیتی آیوگ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا یہ سب کے سامنے ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن کو بند کرکے نیتی آیوگ بنانے کا کام تو باقاعدہ مرکزی کیبنٹ کے فیصلے کے مطابق کیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد ایک ایک کرکے تقریباً تمام آئینی اداروں کو ختم کرنے کا کام پردے کے پیچھے سے ہوا یہ الگ بات ہے کہ اب ہر سرکاری گناہ ملک اور دنیا کے سامنے ہے۔ الیکشن کمیشن، پارلیمنٹ، چیف ویجلنس کمیشن، رائٹ کو انفارمیشن کمیشن، انسانی حقوق کمیشن، انٹیلی جنس بیورو(آئی بی)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی( این آئی اے)، انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ(ای ڈی)، انکم ٹیکس محکمہ، فیرا جیسے اداروں کو جیبی اور غلام اداروں میں تبدیل کرنے کے بعد مودی سرکار نے سی بی آئی کو بھی تقریباً پوری طرح تباہ کردیا۔ سی بی آئی کی تباہی کا ڈرامہ ملک کے سامنے جاری ہی تھا، ہر طرف سے سرکار پر انگلیاں اٹھ رہی تھیں اسی درمیان بی جے پی صدر امت شاہ نے کیرل کے کنّور میں ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے ملک کے سامنے اہم اور ایک سو تیس کروڑ ہندوستانیوں کے امید کا آخری کرن کی طرح دیکھے جانے والے سپریم کورٹ پر بھی زبردست دھمکی بھرا حملہ کرکے پورے ملک کو سکتہ اور حیرت میںڈال دیا۔ کنّور میں ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے سبری مالا مندر میں خواتین کے داخلے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر دو خطرناک باتیں کہہ دیں۔ ایک یہ کہ وہ اور ان کی پارٹی بی جے پی ان لوگوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے جو سبری مالا مندر پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کررہے ہیں۔ دوسری اور سب سے زیادہ خطرناک بات انہوں نے یہ کہہ دی کہ سپریم کورٹ کو بھی فیصلہ دیتے وقت لوگوں کی آستھا کا خیال رکھنا چاہئے۔ مطلب یہ کہ سپریم کورٹ کواب ملک کے آئین اور قانون کو ردّی کی ٹوکری میں پھینک کر یا الماریوں میں بند کرکے لوگوں کی آستھا کے مطابق ہی مقدموں کا فیصلہ کرنا پڑےگا۔
وزیراعظم نریندر مودی بار بار دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ ملک میں گزشتہ ستر سالوں سے جو نہیں ہوا وہ انہوں نے صرف ساڑھے چار سالوں میں کر دکھایا ان کے اس دعوے سے بھلے ہی کوئی متفق نہ ہولیکن ان کا یہ دعویٰ پوری طرح کھوکھلا نہیں ہے۔ وہ کئی بار اپنا دعویٰ سچ کرکے دکھا چکے ہیں۔ اس بات سے بھلا کون انکارکرسکتا ہے کہ ستر سال سے ملک میں ایک درجن سے زیادہ وزیراعظم بنے سبھی میں کچھ نہ کچھ صلاحیتیں تھیں سبھی پڑھے لکھے تھے ، سبھی نے اپنی ا پنی سرکاروں کے دوران ا پنے اپنے حساب سے ملک کے لئے کئی اہم کام بھی کئے لیکن وہ سبھی مل کر ملک کے آئینی اداروں کو ہلا تک نہیں پائے، مودی تو ان سبھی کی طرح پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں ان وزرائے اعظم کی طرح مودی کو سیاست اور سماج کی عظیم شخصیت کے ساتھ کام کرکے کچھ سیکھنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ انہوں نے جو بھی سیکھا وہ اپنے سیاسی گرو لال کرشن اڈوانی سے ہی سیکھا۔ اس کے باوجود مودی میں اتنی صلاحیت تو ہے کہ ایک بار وزیر اعظم بننے کا موقع ملا تو انہوں نے ساڑھے چار سالوں میں ہی ملک کے تمام آئینی اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اسی کے ساتھ اپنے سیاسی گرو لال کرشن اڈوانی کو جیتے جی تل تل کر ختم ہونے پر مجبور کردیا۔ اڈوانی نے ملک میں مذہبی نفرت پھیلا کر اقتدار کی بلندیاں چھونے کی کوشش کی تھی، مودی نے انہیںالگ تھلگ کرکے انہیں پوری طرح خاموش رہنے پر مجبور کرکے ملک اور دنیا کو بتا دیا کہ کئی لوگوں کو ان کے گناہوں کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے۔
بی جے پی صدر امت شاہ نے آستھا کے بہانے سپریم کورٹ پر اتنا بڑا حملہ کردیا یا یوں کہا جائے کہ دھمکا دیا لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ وزیراعظم نریندر مودی خاموش، ہر معاملے میں انتہائی مغروریت کے انداز میں بیان بازی کرنے والے وزیر قانون روی شنکر پرساد بھی کچھ بولنے کی ہمت نہیں کرپائے۔ خود کو جمہوری سسٹم کا چوتھا اہم ستون بتانے والا میڈیا بھی خاموش۔ جو ٹی وی چینل یہ دکھاتے ہوئے روزانہ شور مچاتے رہتے ہیں کہ انہی کی بیداری کی وجہ سے ملک چل رہاہے۔ وہ چینل بھی اس مسئلہ پر خاموش ہی رہے، جس دن امت شاہ نے کنّور میں یہ بیان دیا اس دن اور اس کے اگلے دو دنوں تک یہ بے شرم ٹی وی چینل ہندو مسلم اور مندر مسجد پر ہی دو دو،تین تین گھنٹوں کے شو کرتے رہے۔ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی میڈیا کا نوّے فیصد سے بھی زیادہ حصہ امت شاہ کی ر ائے سے متفق ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی بھی اس مسئلہ پر خاموش ہی رہے کیونکہ آج کل وہ اپنی پارٹی میں پلانٹ کئے آر ایس ایس حامی لابی سے گھرے ہوئے ہیں وہ لابی انہیں کٹر ہندو دکھانے پر تلی ہوئی ہے۔ اس لابی کا خیال ہے کہ ’آستھا‘ کے خلاف بولنے سے پانچ ریاستوں میں ہو رہے اسمبلی الیکشن میں ووٹوں کا نقصان ہو جائے گا۔
سالوں میں سی بی آئی کی یہ حیثیت بنی تھی کہ پورے ملک میں ہر شخص اور ہر طبقے کو ملک کی عدلیہ کی طرح ہی سی بی آئی تحقیقات پر ہی بھروسہ تھا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے محض ا پنے کچھ چہیتوں کو سی بی آئی میںپہنچاکر اپنے سیاسی مخالفین کو الٹے سیدھے معاملات میں پھنسا نے اور بدنام کرنے کے مقصد سے ملک کی اس پرائم جانچ ا یجنسی کو بھی تباہ کردیا۔ سی بی آئی کی تباہی سے انٹرنیشنل سطح پر بھی ہندوستان کی ساکھ کو بہت بڑاجھٹکا ہے کیونکہ سی بی آئی ہی ملک میں انٹرنیشنل جانچ ایجنسی انٹر پو ل کی نمائندگی کرتی ہے۔ راکیش استھانا اور انٹرم ڈائریکٹر بنائے گئے ناگیشور راؤ کو سی بی آئی میں اہمیت دیئے جانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک اور سی بی آئی کی تاریخ میں پہلی بار یہ نوبت آگئی کہ سی بی آئی کو اپنے ہی اسپیشل ڈائریکٹر یعنی باس نمبر دو کے خلاف مقدمہ درج کرا کر ان کے خلاف جانچ کرانی پڑی۔ تئیس اور چوبیس اکتوبر کی رات میں ڈیڑھ بجے جس طرح دہلی پولیس نے سی بی آئی کے ہیڈ کوارٹر کو گھیر کر اس کے ڈائریکٹر آلوک ورما کو چھٹی پر بھیجنے کے مودی سرکار کے آرڈر پر عمل کرایا وہ بھی ملک کا ایک انتہائی شرمناک واقعہ ہی کہا جائے گا۔ راکیش استھانا گجرات کاڈر کے آئی پی ایس ہیں نریندر مودی اور امت شاہ پر ان کے کیا احسانات ہیںکہ مودی نے پہلے انہیں کارگزار ڈائریکٹر بنایا کیونکہ پوری طرح ڈائریکٹر بننے کی ان کی سینیارٹی نہیں تھی۔سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کامن کاز این جی او کے جانب سے انہیں کارگزار ڈائریکٹر بنانے سے روکنے کے لئے سپریم کورٹ میں دستک دی تو مودی نے انہیں اسپیشل ڈائریکٹر بنوا دیا اور لوک پال ایکٹ کے مطابق وزیراعظم لیڈر آف اپوزیشن اور چیف جسٹس آف انڈیا کی کمیٹی نے آلوک ورما کا انتخاب کرکے انہیں سی بی آئی ڈائریکٹر بنا دیا۔ رشوت اور بے ایمانی کے کم سے کم سات الزامات سے گھرے مودی کی آنکھوں کا تارہ بنے راکیش استھانا کی مبینہ بے ایمانیاں جب سر سے اوپر پہونچ گئیں تو ڈائریکٹر آلوک ورما نے راکیش استھانا کے خلاف رپورٹ درج کراکر اجئے بسّی کی قیادت میں پندرہ افسران کی ایک جانچ ٹیم بنا دی۔ یہ بات وزیراعظم مودی کو پسند نہیں آئی۔ انہوں نے راکیش استھانا کو بچانے کے لئے آلوک ورما کو ہٹانے کے ساتھ ہی سی بی آئی جیسے ادارے کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ آدھی رات کے بعد کئے گئے اپنے اس ایکشن میں انہوں نے قانون کی بھی دھجیاں اڑا دیں۔
کانگریس صدر راہل گاندھی اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن صاف الزام لگا رہے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح ہڑ بڑی میں آدھی رات میں سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما کو ہٹایا اس کی دو وجوہ ہیں ایک یہ کہ آلوک ورما چوبیس اکتوبر کو رافیل سودے کی تحقیقات شروع کرنے والے تھے، دوسرے چوبیس اکتوبر کو ہی راکیش استھانا کے خلاف رشوت خوری کی جانچ کرنے والی اجئے بسّی کی ایک ٹیم راکیش استھانا کو گرفتار کرنے والی تھی۔ خود نریندر مودی نے تو اس معاملے پر خاموشی اختیار کرلی ان کی جانب سے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے بجائے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے مورچہ سنبھالا اور ان الزامات کو خارج کردیا۔ ارون جیٹلی کچھ بھی کہیں قانون کی زبان میں انہیں واقعاتی شہادت کہا جاتا ہے سبھی مودی سرکار کے خلاف اور راہل اور پرشانت بھوشن کے الزامات کو سچ ثابت کرتے نظر آرہے ہیں۔ لوک پال ایکٹ کے مطابق سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری اور انہیں ہٹانے یا چھٹی پر بھیجنے کا مسئلہ وزیراعظم ،لیڈر آف اپوزیشن اور چیف جسٹس آف انڈیا کی کمیٹی ہی کرسکتی ہے۔ مودی سرکار نے اس کمیٹی کی میٹنگ نہیں بلائی۔ آلوک ورما کو چھٹی پر بھیجنے کے فیصلےپر اگلے دن چیف ویجیلنس کمشنر کی مہر لگوا لی گئی۔ اوّل تو ملک کے سی وی سی اس کے لئے مجاز ہی نہیں ہیں اس لئے ان کی اجازت یا رضامندی کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ دوسرے یہ وہی سی وی سی ہیں جن پر برلا اور سہارا کی ڈائریوں میں نریندر مودی کو پیسے دینے کی جو بات انکم ٹیکس چھاپے کے دوران برآمد ڈائری میں درج تھی اس معاملے پر ناگیشور راؤ کو غلط طریقے سے کلین چٹ دینے کا الزام ہے۔
چونکہ آلوک ورما کو سی وی سی کی اجازت سے ہٹانے کی غلطی اور غیر قانونی فیصلہ مودی سرکار نے رات کے اندھیرے میں کیا تھا اس لئے اگلے دن آلوک ورما سپریم کورٹ چلے گئے ایک ہفتے بعد اس پر سنوائی ہونی ہے۔ آر ایس ایس کے نزدیکی ناگیشور راؤ کو انٹرم ڈائریکٹر بنا کر ڈھائی بجے رات میں راکیش استھانا کی رشوت خوری کی جانچ کرنے والی ٹیم کے سبھی چودہ افسران کے تبادلے کرائے گئے۔ انٹرم ڈائریکٹر کو اتنا بڑا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ راکیش استھانا کی جانچ کرنے والی ٹیم کے مکھیا اجئے بسّی کو کالا پانی کی سزا کے طور پر پورٹ بلیئر بھیج دیا۔ بسّی نے بھی سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کرکے کہا کہ راکیش استھانا کے خلاف انہوں نے سارے ثبوت اکٹھا کرلئے تھے اس لئے انہیں پورٹ بلیئر بھیجا گیا۔ آلوک ورما کی اپیل پر سپریم کورٹ نے ۲۶ اکتوبر کو کہا کہ انٹرم ڈائریکٹر کی حیثیت سے ناگیشور راؤ پالیسی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اٹھائیس ا کتوبر کو سی وی سی سے کلین چٹ حاصل کرچکے انٹرم ڈائریکرٹر ناگیشور راؤ کی بے ایمانی کا ایک بڑا معاملہ سامنے آگیا۔ رجسٹرار آف کمپنیز کی ایک رپورٹ کے حوالے سے انڈین ایکپسریس نے خبر شائع کردی کہ ناگیشور راؤ کی بیوی ایم سندھیا نے کولکاتا سے کام کررہی ایک ٹریڈنگ کمپنی ’اینجلا مرکنٹائل پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو مالی سال ۲۰۱۱ اور ۲۰۱۴ کے درمیان ایک کروڑ چودہ لاکھ کا قرض دیا اتنی رقم ان کے پاس کہاں سے آئی ؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ شکائتیں ہونے کی وجہ سے آلوک ورما نے ناگیشور راؤ کو سی وی آئی میں لائے جانے کی مخالفت کی تھی تب انہیں سی وی سی نے انہیں کلین چٹ دے دی تھی۔ یہ تمام باتیں ثبوت ہیںکہ نرنیدر مودی نے اپنے چہیتےبے ایمان اور رشوت خور افسران کو سی بی آئی میں فٹ کرکے اس پرائم ایجنسی کو تباہ کرنے کا راستہ بنا دیا۔