مودی سرکار کو دباؤ نے دکھایا رنگ مایاوتی نے توڑا اتحاد

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>مودی سرکار کو دباؤ نے دکھایا رنگ مایاوتی نے توڑا اتحاد</h1>

راہل اور سونیا گاندھی کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتیں بی ایس پی سپریمو
لکھنؤ: کانگریس، سماج وادی پارٹی اور مایاوتی کی بی ایس پی مل کر لوک سبھا الیکشن لڑیں تو نریندر مودی کی بی جے پی کے لئے اترپردیش کی دس سیٹیں جیتنا بھی مشکل ہوگا۔ بی جے پی کا یہی حشر مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بھی ہوتا اس خطرے کو دور کرنے کے لئے نریندر مودی سرکار خصوصاً ان کی بی جے پی کے صدر امت شاہ نے انکم ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ (ای ڈی) کی تلوار ایسے بھانجی کہ پہلے ہی وار میں مایاوتی ڈھیر ہوگئیں۔ تین اکتوبر کو انہوں نے اعلان کردیا کہ اس سال کے آخر میں ہونے والے مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ اسمبلی کے انتخابات میں وہ کانگریس سے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گی اور ان کی پارٹی تینوں ریاستوں میں اکیلے الیکشن لڑے گی۔ گٹھ جوڑ نہ کرنے کی جو وجہ مایاوتی نے بتائی اس پر کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی اور سابق صدر سونیا گاندھی تو اتحاد کرناچاہتی تھیں وہ دونوں بہت اچھے اور سمجھ دار لیڈر ہیں۔ وہ دل سے ہمارے ساتھ گٹھ جوڑ کرنا چاہتے ہیں لیکن مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجئے سنگھ بی جے پی سے ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سازش کرکے گٹھ جوڑ نہیں ہونے دیا۔ مایاوتی کا بیان آنے کے ساتھ ساتھ مود ی کے وزیر قانون روی شنکر پرساد کا بھی بیان آگیا۔ انہوں نے مایاوتی کی تعریف کرتے ہوئےکہا کہ کانگریس کے ڈی این اے میں گٹھ جوڑ ہے ہی نہیں۔ اسی لئے کانگریس جس کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتی ہے اسے پہلے پریشان کرتی ہے پھر دھوکہ دیتی ہے۔ مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں مایاوتی کی پارٹی کا نہ کوئ خاص اثر ہے نہ ہی وہاں ان کی سرکار بننے والی ہے۔ انہوں نے جو داؤ چلا ہے وہ اگلے سال ہونے والے لوک سبھا الیکشن کے لئے ہی ہے۔ مایاوتی کے اعلان سے پہلے یہ خبر آ چکی تھی کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ(ای ڈی) نے ان کے بھائی آنند کمار سے چار دنوں تک سختی سے پوچھ گچھ کی ہے۔ کچھ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ مایاوتی کا جتنا قد ہے اس سے دس گنا زیادہ تک وہ بدعنوانیوں میں ڈوبی ہوئی ہوئی ہیں۔ اس لئے فی الحال وہ بی جے پی کے خلاف جانے کی ہمت کرہی نہیں سکتیں۔
خبر ہے کہ مودی سرکار نے پیسوں سے متعلق انکم ٹیکس اور ای ڈی سمیت جتنی بھی ایجنسیاں ہوسکتی ہیں ان سب کو مایاوتی کےخلاف لگا رکھا ہے۔ تقریباً اٹھارہ ہزار کروڑ کا گھپلا تو ان لوگوں کے بنائے ہوئے پارک، مورتیوں اور ہاتھی لگوانے کے کام میں ہی بتا دیا ہے۔ اس وجہ سے مایاوتی کافی دباؤ میں ہیں۔ مدھیہ پردیش ، راجستھان اورچھتیس گڑھ کے الیکشن کے بعد ہی لوک سبھا الیکشن میں اتحاد پر آخری بات ہونی ہے بہانہ کوئی بھی ہو بظاہر آثار تو یہی ہیں کہ اترپردیش میں کانگریس بی ایس پی اور سماج وادی پارٹی کے اتحاد کی بات تو دور بی جے پی پی شائد مایاوتی اور اکھلیش یادو کا ہی گٹھجوڑ نہیں ہونے دے گی۔
چھتیس گڑھ میں تو مایاوتی نے کانگریس کے ساتھ گٹھ جوڑ کو آخری شکل اگست میں ہی دے دی تھی۔ اس وقت تک ای ڈی نے آنند کمار سے پوچھ گچھ نہیں کی تھی۔ جیسے جیسے ای ڈی اور انکم ٹیکس کی سرگرمیاں بڑھیں کانگریس سے مایاوتی کے فاصلے میں بھی اضافہ ہونے لگا پھر مایاوتی نے ستمبر کے آخر تک کانگریس کو بغیر بتائے اجیت جوگی کی ریجنل پارٹی کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں ان کی کانگریس کے ساتھ بات چیت چل ہی رہی تھی کہ تین اکتوبر کو انہوں نے اعلان کردیا کہ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھی ان کی پارٹی کانگریس سے سمجھوتہ نہیںکرے گی بلکہ کچھ مقامی پارٹیوں کے ساتھ مل کر الیکشن لڑے گی۔ مایاوتی کا یہ فیصلہ بی جے پی مخالف طاقتوں کو جھٹکا دینے والا ہے۔ یہ دیگر بات ہے کہ ان کے اس فیصلے سے راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ تینوں ہی ریاستوں میں کانگریس پر کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا۔
مایاوتی کی یہ بات کسی کے گلے نہیں اترنے والی کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی تو ان کی پارٹی کے ساتھ سمجھوتہ کرنا چاہتے تھے لیکن دگ وجئے سنگھ نے نہیں ہونے دیا۔ سبھی جانتے ہیں کہ دگ وجئے سنگھ ایسا کوئی کام نہیں کرتے ہیں جو پارٹی کے لئے نقصان دہ ثابت ہو اور اگر وہ کرنا بھی چاہیں تو مدھیہ پردیش کے بارے میں کانگریس کے لئے فیصلہ کرنے والے وہ اکیلے لیڈر نہیں ہیں مایاوتی بہانے بنانے پر آئیں تو یہ تو کہہ دیا کہ کانگریس بہت مغرور پارٹی ہے۔ گٹھ جوڑ ساتھیوں کو اہمیت نہیں دیتی۔ دوسری طرف وہ یہ بھی کہہ رہی ہیں کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی بہت اچھے اور نیک دل لیڈر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کانگریس مغرور پارٹی ہے تو سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نیک دل کیسے ہوگئے۔ بولنے پر آئیں تو انہوں نے دگ وجئے سنگھ کو بی جے پی کا ایجنٹ تک بتا دیا اور ابھی سے یہ تک پیشن گوئی کردی کہ اس بار لوک سبھا الیکشن میں کانگریس مسلمان امیدواروں کی تعداد بہت کم کرنے والی ہے لیکن بی ایس پی ایسا نہیں کرے گی۔