موہن بھاگوت کی غلط بیانی

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>موہن بھاگوت کی غلط بیانی</h1>

آر ایس ایس کےتین روزہ جلسے میں اس تنظیم کوایک بہترین تنظیم ثابت کرنے کی کوششیں
نئی دہلی:آرایس ایس چیف موہن بھاگوت نے ایک بارپھر وہی کیا جس کےلئے آر ایس یس کو جانا جاتا ہے یعنی ’منھ میں رام بغل میں چھری‘۔ دہلی میں ’ بھوشیہ کا بھارت-آر ایس یس کا درشٹی کوڑ‘(بھارت کا مستقبل اور آر ایس ایس کانقطۂ نظر) کے عنوان سے نہ صرف یکطرفہ بات کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کہ جیسے آر ایس ایس سے اچھی کوئی تنظیم پوری دنیا میں دوسری ہے ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نہ صرف کہ ملک کے آئین میں پورایقین رکھتی ہے،آئین کا احترام کرتی ہے بلکہ ہمارا بھی ماننا ہے کہ آئین کی اصل روح میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے یہ تو کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ انہیں مسلمان نہیں چاہئے وہ دراصل ہندتوا کے مخالف ہیں اور ہندتوا کو نقصان پہنچانے کی بات کرتے ہیں۔بھاگوت کی پوری تقریر چالاکی بھری رہی کیوں کہ انہوں نے گائے کے نام پر مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے یعنی ماب لنچنگ کے واقعات کا ذکر تک نہیں کیا۔جب ان کی تقریر پر سوال اٹھنے لگے تو اس اجلاس کے آخری دن یہ کہہ کر خود کو لنچنگ کا مخالف قرار دیتے ہوئے کہاکہ گائے کے نام پرلنچنگ کرنا جرم ہے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ لنچنگ کرنے والے والوں کا گئورکشا سے تعلق نہیں ہے۔دہلی سے ملی ہوئی ہریانہ، راجستھان جیسی ریاستوں میں مسلمانوں کا زندہ رہنا مشکل کیا جا چکا ہے۔مسلمانو ں کا جینا دوبھر کرنے والے کوئی اور نہیںآر ایس ایس کے لوگ ہی ہیں انہیں گئو رکشا کے نام کے شناختی کارڈ تک جاری ہیں انہیں ہر مہینے باقاعدہ موٹی رقم دی جاتی ہے۔ بھاگوت اس معاملے پر بھی خاموش رہے۔ جس وقت موہن بھاگوت دہلی کے عالیشان وگیان بھون میں لمبی چوڑی باتیں کرتے ہوئے آر ایس ایس کو ایک بہترین تنظیم قرار دے رہے تھے اس وقت دہلی سے ملے ہریانہ کے شہر گڑ گاؤں میں آر یس ایس کے منوہر لال کھٹر سرکار کے ذریعہ غیر قانونی طریقے سےسیل کی گئی ایک مسجد کو کھلوانے کےلئے گڑگاؤں کے مسلمان تقریباً ایک ہفتے سے دھرنے پر بیٹھےہوئے تھے ،موہن بھاگوت اس معاملے پر بھی خاموش رہے۔ ۲۰۱۴ میں ملک میں نریند رمودی سرکار آنے کے بعد سے ہندو، گائے، ہندو لڑکیوں اور ہندتوا کی حفاظت کرنے کے نام پر ہندو تنظیموں کاسیلاب آچکا ہے۔ یہ ہندو سینائیں دن رات مسلمانوںکو خوفزدہ کرنے کا کام کرتی ہیں۔ آر ایس ایس کی بچہ تنظیم کہی جانےوالی وشو ہندو پریشد کی جانب سے ان سیناؤں کو لاکھوں تلواریں فراہم کرائے جانے کی خبریں بھی عام رہی ہیں۔گزشتہ چار سالوں میں مسلمانوں کے نام پر ہندوؤں میں جس پیمانے پر خوف پیدا کیاگیا ایسا تو مغلوں کے دور میں بھی کبھی نہیں ہوا تھا۔ موہن بھاگوت ان تمام مسائل پر خاموش ہی رہے۔وہ کچھ بول بھی نہیں سکتے کیوں کہ یہ تمام حرکتیں ان کے اپنے لوگوں کے ذریعہ ہی تو کی جارہی ہیں۔ آر ایس ایس چیف نے کہا کہ ان کی تنظیم کوملک کے آئین پر پورا بھروسہ ہے اور ہم آئین کا احترام کرتے ہیں۔ اگر ان کی یہ بات سچ ہوتی تو وہ بتائیں کہ اتنی بڑی فوج اور پولیس کے موجود ہونے کے باوجود آر ایس ایس کےلوگوں کو ہندو سینا، ہندو رکشک دل، رام سینے، ہندو کرانتی دل جیسی متوازی فوجیں بنانے کیا ضرورت پڑ گئی۔حد تو یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ بھی ہندویوا واہنی کے نام پر اپنی پرائیویٹ فوج بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے وزیر اعلی بننے کے بعد سے ہندو یوا واہنی کو شاید ریاست کی پولیس سے بھی زیادہ مضبوط بنایاگیا ہے۔
اس موقع پر موہن بھاگوت نے آر ایس ایس کو تمام ذمہ داریوں سے بچانے کی کوشش کی۔ انہو ںنے کہا کہ سرکار چلانے میں آر ایس ایس کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کرتا۔ انہو ںنے کہا کہ کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ سرکار چلانے کےلئے ناگ پور سے روز فون جاتے ہیں یہ بات بالکل غلط ہے۔آر ایس ایس نے کبھی بھی سرکار چلانے میں کوئی دخل نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج سرکار میں وزیر اعظم سمیت جتنے بھی لوگ ہیں وہ سبھی سینئر ہیں۔ان میں سے کچھ ہماری عمر کے ہیں تو کچھ ہم سے بڑے بھی ہیں۔ تقریباًسبھی آر ایس ایس سے نکلے ہوئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ اگرانہیں کبھی ہمارے مشوروں کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم مشورہ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس ہمیشہ ملک کی تعمیر کا کام کرتا ہے اور ملک کے تعمیرکے کام میں سرکار کو مشورہ ضرور دیتے ہیں۔موہن بھاگوت کا یہ بیان بھی غلط ہے۔جتنی ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار ہوتی ہے ہر ریاست میںسرکار پر باقاعدہ نظر رکھنے کےلئے آر ایس ایس کی جانب سے ایک ’سنگٹھن منتری‘ تعینات کیاجاتا ہے۔وہ سنگٹھن منتری ہی سرکار پر ہر طرح سے نظر رکھتا ہے۔اتر پردیش میں آج کل سنگٹھن منتری کی حیثیت سےجو شخص تعینا ت ہیںوہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے بھی اوپر بتائے جاتے ہیں۔ وہ باقاعدہ افسران اور وزیروں کی حاضری لگواتے ہیں ان کی مرضی کے بغیر سرکارمیں پتہ تک نہیں ہلتا۔مطلب یہ کہ سرکار پر پورا کنٹرول تو آر ایس ایس کا رہتا ہے لیکن جواب دہی کچھ بھی نہیں۔یعنی بغیر کسی جواب دہی کے آر ایس ایس سرکار چلانا چاہتا ہے۔یہی صورتحال مرکزی حکومت کی ہے۔ نریندر مودی کی سرکار کاایک سال مکمل ہونے پر مودی خود آر ایس ایس کے دفتر میں سال بھر کے کام کاج کا حساب کتاب دینے پہنچے تھے۔نہ صرف پہنچے تھے بلکہ اس بات کا پروپیگنڈہ بھی خوب کیا تھا کہ مودی سال بھر کا رپورٹ کارڈ لے کر آر ایس ایس کے پاس پہنچے۔
موہن بھاگوت نے ملک کے ساتھ ایک اور بڑا مذاق کرتے ہوئے کا کہ آر ایس ایس چونکہ ہندوتوا میں یقین کرتا ہے اس لئے ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم سکیولرزم میں یقین کرتے ہیں لیکن ہم سیکولرزم کا ڈھنڈھورا نہیں پیٹتے۔ اب اگرموہن بھاگوت بھی یہ کہیں کہ وہ اور ان کی تنظیم خود کو سیکولر قرار دے تو اس سے بڑا مذاق کیا ہو سکتا ہے؟ایک طرف تو آر ایس ایس کی بنائی ہوئی طرح طرح کی تنظیمیں تشدد کرتی پھرتی ہیں دوسری طرف موہن بھاگوت دعویٰ کرتے ہیں کہ آر ایس ایس تو سماج کو جوڑنے کا کام کرتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ آر ایس ایس تو ا پنی پیدائش کے وقت سے ہی سماج کو جوڑنے کا کام کرتا رہا ہے۔ اب بھی ہم اپنے اسی کام پر لگے ہوئے ہیں۔ بھاگوت اس آر ایس ایس کو سماج سے جوڑنے والا بتا رہے ہیں جس آر ایس ایس کی بنیاد سماج کو توڑنے پر ٹکی ہے۔
آر ایس ایس کی تاریخ میں شایدپہلی بار اس کے چیف نے عوامی طور پر یہ تسلیم کر لیا کہ ملک کی آزادی کی جنگ میں کانگریس کااہم رول رہا ہے۔۱۸۸۵سے ہی کانگریس نے آزادی کاجو آندولن چلایا اسی کی وجہ سے ہمیں آزادی بھی ملی۔ اس دوران کانگریس نے بڑا رول ادا کیا۔اسی آندولن کے ذریعہ کانگریس نے ملک کو کئی عظیم شخصیتیں بھی دیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے جو بڑی شخصیتیںملک کو دیں ان میں کئی ایسے بھی رہے جنہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر کے ملک کو آزاد کرانے کا کام کیا تھا۔آج بھی ان بڑے لوگوں کے کاموں اوران کی جدو جہد بھری زندگی نے ملک کی بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کیاہے۔ اس تقریر کے باوجود موہن بھاگوت نے کانگریس کے ایک بھی لیڈر کا نام لینا مناسب نہیں سمجھا۔ نہ گاندھی کا نام لیا نہ سبھاش چندر بوس کا نہ جواہر لعل نہرو کا نہ سردار پٹیل کا اور نہ ہی لال بہادر شاستری کا۔سردار پٹیل کو تو نریندر مودی نے کانگریس سے چھین کر ان پر پوری طرح سے قبضـہ کر لیا ہے ۔لال بہادر شاستری کےلئے کہا جاتاتھا کہ وہ ایماندار ضرور تھے لیکن نہرو کے یہاں ساری زندگی آر ایس ایس کا ہی کام کرتے رہے۔شاستری کے بعد ان کے کنبے کے لوگ جس طرح بی جے پی میں رہ کر کانگریس کو گالیاں بک رہے ہیں انہیںدیکھ کر تو اس بات پریقین ہوتا ہے کہ شاستری آر ایس ایس کے مفادمیں کام کرتے رہے اور جواہر لعل نہرو جیسا لیڈر انہیں کبھی سمجھ نہیں پایا۔