کھانے پینے میں اسراف

محمد سلمان منصور پوری
اسلام نے جائز حدود میں رہتے ہوئے کھانے پینے وغیرہ پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے لیکن اگر کسی انسان کی یہ حالت ہو جائے کہ وہ ہر وقت اسی ادھیڑ بن میںلگا رہے کہ کیا کھائے اور کیا پئے؟ تویہ حالت کسی بھی انسان کے لئے پسندیدہ قرار نہیں دی جاسکتی، کیونکہ انسان کی پیدائش محض کھانے پینے کے لئے نہیں ہوئی ہے، بلکہ اپنے رب کی اطاعت اور بندگی اس کے وجود کا اصل مقصد ہے اس مقصد کو درکنار کرکے چٹور پن کا عادی بن جانا محض خسارے کی بات ہے۔
سیدنا حضرت مقدام بن معدی کرب ؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ:
’’آدمی پیٹ سے زیادہ بدترین برتن کوئی نہیں بھرتا، آدمی کو پیٹھ سیدھی رکھنےکے لئے چند لقمے کافی ہیں، پس اگر ضروری ہی ہو تو تہائی حصہ کھانے کے لئے، تہائی حصہ پینے کے لئے اور تہائی حصہ سانس لینے کے لئے رکھنا چاہئے۔(سنن ترمذی)
سیدنا حضرت ابوجحیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ثرید(گوشت اور روٹی کا کھانا) کھا کر پیغمبر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو مجھے ڈکار آنے لگی، جسے سن کر پیغمبر ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’ارے بھائی! اپنی ڈکار ہم سے الگ رکھو، کیونکہ دنیا میں جو لوگ زیادہ بھر پیٹ رہیں گے وہی قیامت میں سب سے زیادہ بھوکے ہوںگے۔
سیدنا حضرت ابو جحیفہؓ فرماتےہیں کہ میں نے اس کےبعد کبھی بھر پیٹ کھانا نہیں کھایا۔
سیدنا حضرت ابو امامہؓسے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’عنقریب میری امت میں ایسے لوگ پائے جائیں گے جو مختلف قسم کے کھانے کھائیں گے اور مختلف قسم کے مشروبات پئیں گے اور مٹھار مٹھار کر باتیں بنائیں گے، پس یہ میری امت کے بدترین لوگ ہیں۔‘‘
سید حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے صحابہ کرام ؓ کے چہروں سے بھوک کااحساس فرمایا اورپھر ارشاد فرمایا کہ’’بشارت قبول کرو، کیونکہ عنقریب تم پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ صبح کو تمہارے سامنے ثرید کا پیالہ لایا جائے گا اور شام کو بھی اسی طرح کا کھانا پیش کیا جائے گا‘‘۔ تو صحابہؓ نے عرض کیا کہ اس دن ہم لوگ اچھی حالت میں ہوں گے(گویا کہ عبادت میںیکسوئی میئسر ہوگی) تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’نہیں بلکہ آج تم لوگ اس دن سے زیادہ بہتر حالت میںہو‘‘۔
سیدنا حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ فرماتے ہیں کہ پیغمبر اسلام ﷺنے ارشاد فرمایا:
’’مجھے تم پر تمہارے پیٹوں اور شرم گاہوں اور گمراہ کن افکار میں کج روی کی خواہشات پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔‘‘
سیدنا حضرت عمرو بن ابوالعاص ؓ سے مروی ہے کہ پیغمبراسلامﷺنے ارشاد نے ارشاد فرمایا:
’’کھاؤ پیو اور صدقہ کرو جب تک کہ اس کے ساتھ اسراف اور کبر و غرور شامل نہ ہو۔‘‘
سیدناحضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ پیغمبر اسلامﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’میری امت کے بدترین وہ لوگ ہیں جو نعمتوں میں پلے بڑھے ، اور اسی حالت میں ان کے بدن پروان چڑھے۔‘‘
افسوس ہے کہ ایک طرف مذکورہ روایات ہیں، دوسری طرف آج ہم لوگوں کا حال یہ ہے کہ ہماری توجہات کھانے پینے کی لذتوں کی طرف حد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، قوم کا چاہے کچھ بھی حال ہو اور دنیا کے حالات کتنے ہی سنگین ہوں، ہمارے دسترخوانوں اور ہوٹلوں پر اس کا بظاہر کوئی اثر نظر نہیں آتا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پوری قوم بس کھانے پینے میں مست ہے اور اپنی ساری خدادا صلاحیتیں اسی پر صرف کررہی ہے۔ الامان والحفیظ۔
کھانے کو ضائع نہ کریں!
شریعت میں رزق کے احترام کی بڑی تاکید کی گئی ہے، اسی لئے ہاتھ دھو کر دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھانے کا حکم ہے تاکہ اگر کھانے کا کوئی حصہ دستر خوان پر گر جائے تو وہ ضائع نہ ہو، بلکہ جمع کرکے استعمال کرلیا جائے۔ حد تو یہ ہے کہ انگلیوں پر جو کھانا لگا رہتا ہے اسے بھی منھ سے چاٹ لینے کا حکم ہے، چاٹے بغیر کسی رومال سے صاف کرنا یا پانی سے دھولینا ممنوع ہے۔ اسی طرح حتی الامکان پلیٹ اور برتن کو صاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے اوراس کو موجب اجر و ثواب عمل قرار دیا گیا ہے، اس میں بھی رزق کے اجزاء کی تعظیم پیش نظر ہے۔
سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اس وقت تک اپنی انگلیوں کو صاف نہ کرے جب تک کہ انہیں خود نہ چاٹ لے یا (کسی دوسرے بے تکلف شخص کو ) نہ چٹا دے۔‘‘
سیدنا حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’شیطان ہر وقت تمہارے پاس موجود رہتا ہے، یہاں تک کہ کھاتے وقت بھی حاضر ہوتا ہے، پس اگر تم میں سے کسی کا لقمہ ہاتھ سے گرجائے تو وہ اسے اٹھا کر ناگوار چیز دور کرکے کھالے اور شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔پھر جب کھانے سے فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے ، اس لئے اسے یہ معلوم نہیںہے کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے؟‘‘
شارحین لکھتے ہیں کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ گرے ہوئے لقمہ کو نہ کھانے میں ایک تو اللہ کی نعمت کی ناقدری اور رزق کی بے حرمتی لازم آتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اکثر متکبر ین لوگ ہی یہ گرا ہوا لقمہ کھانے سے اعتراض کرتے ہیں اور یہ شطان کا طریقہ ہے اس لئے’’یہ لقمہ شیطان کے لئے نہ چھوڑو‘‘ کی تعبیر استعمال کی گئی ہے۔
بعض احادیث میں ہے کہ جو شخص دستر خوان پر گرے ہوئے ٹکڑوں کو کھانے کا اہتمام رکھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائیں گے۔
اور بعض اکابر سے منقول ہے کہ جو شخص گرے ہوئے کھانے کے ٹکڑوں کو کھائے گا ٹکڑوں کو کھائے گا وہ تنگ دستی اور موذی بیماریوں سے محفوظ رہے گا، انشاءاللہ۔(شمائل کبریٰ)
بعض لوگوں کی عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ روٹی کے درمیانی حصہ کوکھالیتے ہیں اور کنارے چھوڑ دیتے ہیں اور پھر وہ کنارے کوڑے دان میں ڈال دیئے جاتے ہیں تو یہ رزق کی بڑی بے حرمتی کی بات ہے اور سراسر اسراف میں داخل ہے، جس سے اجتناب کرنا چاہئے۔
برتن دعا دیتا ہے
برتن اورپلیٹ کو صاف کرکے رزق کو بے حرمتی سے بچانے پر نبی کریمﷺ نے مغفرت کی بشارت سنائی ہے۔ حضرت نبیثۃالخیرؓ سے منقول ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’جو شخص کسی پیالے میں کھانا کھائے، پھر اس کو اچھی طرح صاف کرلے تو وہ پیالہ اس کے لئے دعا ء مغفرت کرتا ہے۔
اس کی شرح کرتے ہوئے محدثین لکھتے ہیں کہ برتن کو صاف کرنا تواضع کی علامت ہے، پس جو شخص یہ عمل کرے گا وہ کبر سے بری ہونے کی وجہ سے مغفرت کا مستحق ہوگا، اور چونکہ برتن اس مغفرت کےحصول کا سبب بن رہا ہے اس لئے طلب مغفرت کو برتن کی جانب منسوب کیا گیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ شریعت میں اس بات کی بہت تاکید کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جو رزق کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ اس کی ہرگز نا قدری نہ کریں لیکن اس معاملہ میں آج کل ہمارے معاشرے میں کوتاہیاں عام ہیں، بالخصوص تقریبات اور دعوتوں میں کھانے کی حس قدر بے حرمتی ہورہی ہے وہ نا قابل بیان ہے۔ ہوس میں پلیٹوں میں زیادہ کھانا نکال لیا جاتا ہے اور پھر اسے بے تکلف کوڑے دان میں ڈال دیا جاتا ہے، پلیٹیں صاف کرنے کی سنت متروک ہوتی جارہی ہے اور کوئی شخص دوسرے کی پلیٹ میں چھوڑ ہوا کھانا ہرگز پسند نہیں کرتا ہے جس کی وجہ سے اس عمل کی برائی ہی دل سے نکل چکی ہے، اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر بجالائے اور ہر طرح کی نا شکری اور نا قدری سے احتراز کرے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قدر دانی کی توفیق عطا فرمائیں۔ اور ناقدری کی وجہ سے اپنی نعمتوں سے محروم نہ فرمائیں۔آمین