جیٹلی، مالیا معاملہ اور جھوٹ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>جیٹلی، مالیا معاملہ اور جھوٹ</h1>

ملک کے کئی بینکوں سےتقریباً ساڑھے نو ہزار کروڑ روپئے لے کر بھاگنے والا یوبی گروپ کے شراب کاروباری اور کنگ فشر ائیر لائنز کے مالک وجئے مالیا کو ملک سے بھاگنے میں مدد کرنے والے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی بری طرح پھنس گئے۔ مالیا دو مارچ ۲۰۱۶ کو ملک چھوڑ کر بھاگا تھا۔ تقریباً ڈھائی سال بعد اس وقت یہ بات سامنے آئی کہ بھاگنے سے ایک دن پہلے وہ پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں ارون جیٹلی سے ملا تھا اور اگلے دن لندن جانے کی بات کہی تھی۔ جب مالیا نے خود پچھلے دنوں لندن کی عدالت سے باہر نکل کر میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ لندن آنے سے پہلے وہ ارون جیٹلی سے ملا تھا کئی بینکوں سے لی گئی قرض کی رقم واپس کرنا چاہتا تھا لیکن بینکوں کا رویہ مناسب نہیں تھا۔ اس لئے اسے ملک چھوڑنا پڑا۔ اس کے اس خلاصے کے بعد کانگریس پارٹی، مودی سرکار اور ارون جیٹلی پر حملہ آ ور ہوگئی، خود کانگریس صدر راہل گاندھی میڈیا سے بات کرنےآئے تو اپنے ساتھ راجیہ سبھا ممبر پی ایل پنیا کو لے کر آئے۔ پنیا نے بتایا کہ یکم مارچ ۲۰۱۶ کو انہوں نے سینٹرل ہال میں خود دیکھا تھا کہ ارون جیٹلی اور مالیا پہلے کھڑے ہو کر بات کررہے تھے پھر بینچ پر بیٹھ کر بات کرتے رہے۔ اس سے پہلے بارہ جون کو بی جے پی کے ہی ایک راجیہ سبھا ممبر سبرامنیم سوامی نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا تھا کہ لندن بھاگنے سے ایک دن پہلے وجئے مالیا ملک کے ایک طاقتور شخص سے ملا تھا،وہ شخص مالیا کے خلاف جاری لک آؤٹ نوٹس میں تبدیلی کرانے کی حیثیت رکھتا ہے۔
مودی سرکار کی پول پٹی کھلی تو اپنی مہارت اور عادت کے مطابق پوری بی جے پی اس معاملے میں جھوٹ پر جھوٹ بولنے لگی۔ جھوٹ کے اس مقابلے میں یہ پتہ کرنا مشکل ہوگیا کہ پارٹی ترجمان سنبت پاترا ، ریلوے منسٹر پیوش گوئل اور خود وزیرخزانہ ارون جیٹلی میں سے زیادہ بڑا جھوٹ کون بول رہا ہے۔ اپنے پہلے ہی رد عمل میں ارون جیٹلی نے کہا کہ ممبر پارلیمنٹ ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر وہ سینٹرل ہال میں دوڑتے ہوئے میرے پاس آئے، بینک قرضوں کے کچھ سیٹلمنٹ کی بات کررہےتھے میں نے ان کی بات بھی نہیں سنی اور یہ کہہ دیا کہ آپ بینک سے بات کریں۔ وکیل ہونے کے ناطے ا رون جیٹلی نے اس سے پہلے بڑی خوبصورتی سے کسی شاطر کریمنل کی طرح کہا تھا کہ ۲۰۱۴ میں وزیر خزانہ بننے کے بعد سےانہوں نے کبھی اپنے گھر یا دفتر میں ملاقات کے لئے وجئے مالیا کو وقت نہیں دیا تھا۔ سنبت پاترا، پیوش گوئل نے بھی بار بار کہا کہ ارون جیٹلی تو وجئے مالیا سے ملےہی نہیں۔ بی جے پی کی غلامی میں لگے اترپردیش کے ایک ہندی اخبار نے سترہ ستمبر کو یکم مارچ ۲۰۱۶ کے ارون جیٹلی کے آفیشیل پروگرام لیڈ کی شکل میں شائع کرکے یہ دعویٰ کیا کہ یکم مارچ ۲۰۱۶ کو ارون جیٹلی پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں گئے ہی نہیں اس لئے مالیا سے ملاقات کرنے کا پی ایل پنیا کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ پیوش گوئل اور سنبت پاترا نے بھی بار بار یہی کہا کہ ارون جیٹلی تویکم مارچ۲۰۱۶ کو سینٹرل ہال میں گئے ہی نہیں تھے۔ ان دونوں نے جھوٹ بولتے ہوئے اصل مسئلہ سے لوگوں کا دھیان ہٹانے کے لئے یہ بیان بازی شروع کردی کہ راہل گاندھی کے کنبہ سے وجئے مالیا کے بڑے قریبی رشتے رہے ہیں۔ اکثر سونیا گاندھی اور ان کے کنبہ کے لوگ اکنامی کلاس کا ٹکٹ لے کر کنگ فشر ائیر لائنز سے سفر کرتے تھے تو بغیر کوئی چارج لئے کنگ فشر ائیر لائنز ان لوگوں کو فرسٹ کلاس میں بٹھاتی تھی۔ اس بے وقوف پاترا کویہ نہیں پتہ کہ ملک کی ساری ائیر لائنز مشہور لوگوں، لیڈروں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اتنا جھوٹ کیوں؟ لک آؤٹ نوٹس میں تبدیلی کی گئی جس کا فائدہ اٹھا کر وہ بھاگ سکا۔ یہ تبدیلی کس کی ہدایت پر کس افسر نے کی جب خود ارون جیٹلی کہہ رہے ہیں کہ سینٹرل ہال میں وجئے مالیا ان کے پاس بھاگتے ہوئے آئے تھے قرضوں کے دوبارہ سیٹملمنٹ کی بات کرنے لگے میں نے ان کی بات بھی نہیں سنی۔ ان کے اس بیان کے باوجود سنبت پاترا، پیوش گوئل، بی جے پی کے کئی دیگر لیڈران اور دنیا میں سب سے زیادہ پڑھا جانے کا دعویٰ کرنے والے اترپردیش کے ہند ی اخبار نے یہ خبر کیوں شائع کی تھی۔ کنگ فشر کے ساتھ اگر راہل گاندھی کنبہ کے رشتے ہیں تو اس سے وجئے مالیا کے بھاگنے کا کیا تعلق؟ کیا وجئے مالیا کو راجیہ سبھا پہونچانے میں کرناٹک کے بی جے پی ممبران اسمبلی نے بی ایس یدروپا کے کہنے پر موٹی موٹی رقمیں لے کر ووٹ نہیں دیئے تھے۔ وجئے مالیا پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران اکثر ممبئی سے اپنے اسپیشل چارٹر سے صبح دہلی آتے اور شام کو ممبئی واپس جاتے تھے۔ پیوش گوئل ذرا یہ بھی بتائیں کہ مالیا کے ساتھ ممبئی سے اس کے چارٹر میں سفر کرنے والے بی جے پی کے کون کونسے لیڈران ہوا کرتے تھے؟
اب تو راہل گاندھی نے یہ بھی بتا دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے چہیتے گجرات کاڈر کے جن آئی پی ایس افسر اے کے شرما کو سی بی آئی میں جوائنٹ ڈائریکٹر بنا رکھا ہے شرما نے ہی مالیا کے خلاف جاری نوٹس کو ’ڈائلیوٹ‘ کرنے کا کام کیا۔ سرکار بتائے کہ اے کے شرما نے نوٹس میں تبدیلی کا کام وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے کہنے پر کیا یا نریندر مودی نے انہیں ایسا کرنے کی ہدائت دی۔ اے کے شرما ہی وہ افسر ہیں جو نریندر مودی سے قربت کی وجہ سے اتنے بے لگام ہیں کہ کچھ دن پہلے انہو ں نے سی بی آئی ڈائریکٹر کے خلاف ہی مورچہ کھول دیا تھا۔ نیرو مودی اور میہول چوکسی کا کیس بھی اے کے شرما کے پاس ہے۔ انہیںیہ بھی بتانا چاہئے کہ ان دونوں کو ملک سے بھاگنے میں مدد کرنے کی ہدایت انہیں کس نے دی۔ نریندر مودی کی حکومت ملک کی تاریخ کی پہلی ایسی حکومت ہے جو ڈنکے کی چوٹ پر مجرمانہ کام کرتی رہتی ہے۔ اپوزیشن کچھ بھی کہتا رہے سرکار کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کے باوجود بڑی ہٹ دھرمی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سرکار تو پوری ایمانداری سے کام کرتی ہے۔ اب یہ تو طئے ہو چکا ہے کہ ۲۰۱۹ کے لوک سبھا الیکشن میں مودی کی اقتدار میں واپسی ممکن نہیں ہے۔ اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ مودی کے جانے کے بعد ان لوگوں پر اتنے مقدمے چلیں گے کہ یہ روز کچہریوں میں ہی کھڑ نظر آئیں گے۔