ہم جنسی کا اختیار

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>ہم جنسی کا اختیار</h1>

ملک میں اب ہم جنسی جرم نہیں ہے کیونکہ سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے ان لوگوں کا بنیادی اختیار قرار دیتے ہوئےاسے جرم قرار دینے والی انڈین پینل کوڈ کی ڈیڑھ سو سال سے بھی پرانی دفعہ تین سوستتر(۳۷۷) کو ختم کرتے ہوئے کچھ لوگوں کو آپس میں جسمانی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ چھ ستمبر کو چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی پانچ ججوں کی بینچ نے اس سلسلے میں فیصلہ سنا دیا۔ بینچ میں جسٹس آر ایف نریمن، جسٹس اے ایم کھانویلکر، جسٹس ڈی وائی چندر چور اور جسٹس اندو ملہوترا شامل تھیں۔ یہ فیصلہ آنے کے بعد اب ملک کے کچھ گمراہ مرد- مردوں کے ساتھ اور عورتیں- عورتوں کے ساتھ غیر فطری سیکس کرنے کے لئے آزاد ہو گئے ہیں۔ ایسے مردوں کو انگریزی میں ’گے‘ اور عورتوں کو ’لسبیئن‘ کہا جاتا ہے۔ مقدمے کی سنوائی شروع کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے نریندر مودی کی مرکزی سرکار کو نوٹس بھیج کر سرکار کا رخ معلوم کیا تھا تو سرکار نے اس پر کوئی رائے دینے کے بجائے اسے سپریم کورٹ کے شعور پر چھوڑ دیا تھا۔ مطلب یہ کہ اس قسم کی بد فعلی کی سختی سے مخالفت کرنے کے بجائے سرکار نے اپنے دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھنے کاکام کیا ۔ پتہ چلا کہ مودی سرکار نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپنی رائے دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ سرکار کا حلف نامہ تیار ہوتا اس سے پہلے ہی آر ایس ایس چیف نے سرکار کو مشورہ دے دیا کہ اس جھگڑے میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے اسے عدالت کے شعور پرہی چھوڑ دینا چاہئے۔ اب فیصلہ ہم جنسوں کے حق میں آگیا تو فوراً ہی آر ایس ایس کا بیان بھی آ گیا۔ بیان میں آر ایس ایس نے کہا کہ بھلے ہی سپریم کورٹ نے ہم جنسی کو قانونی اعتبار سے صحیح قرار دےدیا ہے لیکن یہ ’نارم‘ نہیں ہے۔ مسلم تنظیموں اور پورے مسلم سماج نے بد فعلی جیسے گناہ کو بہت بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ عیسائیوں، سکھوں اور جینیوں نے بھی اسے ا یک غیر مناسب اور سماج میں برائیاں اور خطرناک قسم کے امراض پیدا کرنے والا قرار دیا ہے۔
فیصلہ چونکہ سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے دیا ہے اس لئے اس پر انگلی اٹھنا بھی شائد مناسب نہیں ہوگا۔ لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس فیصلے سے ملک میں سماجی تباہی آنا یقینی ہے جہاں تک کسی شخص یا گروہ کے بنیادی حقوق کا سوال ہے تو ملک کے لوگوں کا سب سے بڑا اور ضروری بنیادی حق تو ہر بچے کو تعلیم، ہر شخص کے لئے میڈیکل سہولتیں، ہر شخص کو کھانا اور روزگار یا نوکری دینے کا ہے۔ ان بنیادی حقوق کو دلانے کے لئے نہ تو کوئی این جی او سپریم کورٹ جا رہا ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ ہی ان بنیادی حقوق کے لئے اپنی طرف سے سو موٹو نوٹس ہی لے رہا ہے۔ ہم سپریم کورٹ کے لئے پورے احترام اور ادب کے ساتھ کہنا چاہتے ہیں کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے کئی فیصلے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے عدالت اپنی مرضی اور اپنے شعور کے بجائے دباؤ میں آکر یا میڈیا کے پروپگینڈے سے متاثر ہو کر فیصلے دے دیتی ہے۔ آئی پی سی کی دفعہ ۳۷۷ ختم کرنے اور ہم جنسی کو قانونی درجہ دینے والا فیصلہ بھی دباؤ میں آیا فیصلہ ہے۔ اس سے پہلے طلاق اور ایک سے زیادہ شادیوں سے متعلق پی آئی ایل منظور کرتے وقت بھی صاف نظر آرہا تھا کہ جیسے عدالت عالیہ نے میڈیا کے پروپگینڈے کے دباؤ میں بمشکل درجن بھر مسلم یا اسلام چھوڑ کر غیر مسلم بن چکی خواتین کی دائر کی ہوئی پی آئی ایل کو منظور کر لیا تھا۔ یہ صورتحال ملک اور عدلیہ دونوں کے لئے خطرناک ہے۔
ایک سو تیس کروڑ کی آبادی کے اس عظیم ملک میں کتنی تعداد ایسے مر د عورتوں کی ہے جو ’گے‘ اور لسبیئن رشتوں میں بندھ کر رہنا چاہتے ہیں؟ کیا کبھی سرکار نے یا بدفعلی کی پیروی کرنے والے کسی این جی اونے اس کا کوئی سروے کیا یا کرایا ہے۔ سپریم کورٹ کو ان لوگوں اور سرکار دونوں سے اتنا تو معلوم ہی کرناچاہئے تھا کہ ملک میں کتنے لوگ ہیں جو اس طرح بد فعلی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اگر اسی طرح کسی این جی او یا سو پانچ سو ہزار پانچ ہزار لوگوں کی دہلی اور ملک کے بڑے شہروں میں ہونے والی ریلیوں اور مظاہروں کے دباؤ میں آ کر بنیادی حقوق کے نام پر اسی طرح کے فیصلے ہوتے رہے تو چھوٹے چھوٹے گروہوں اور این جی او کے طرح طرح کے بنیادی حقوق ہی بچیں گے نہ آئین بچے گا نہ عدلیہ اور نہ ہی ملک کا سسٹم بچے گا۔ پھر تو شائد ایسی پی ائی ایل بھی داخل ہونے لگے گی کہ ہمارے پاس رہنے کے لئے مکان یا جگہ نہیں ہے ہم تو لال قلعہ کے سامنے خالی پڑی زمین پر یا رام لیلا میدان میں اپنا مکان بنا کر ر ہیں گے ۔ کیونکہ رہنے کے لئے چھت حاصل کرنا ہمارا بنیادی حق ہے۔ بنیادی حقوق کے نام پر چل پڑا یہ سلسلہ کہاں تک پہونچے گا اس کا تصور ہی خوفناک ہے۔ ایسی بد فعلی کی اجازت دنیا کے ایک چوتھائی ملکوں میں بھی نہیں ہے۔ دنیا کے تین چوتھائی سے زیادہ ملک ایسے ہیں جہاں ہم جنسی جرم ہے۔ ایک درجن سے زیادہ ملک ایسے ہیں جہاں ہم جنسی کی بدفعلی میں ملوث لوگوں کی سزا موت ہے۔ امریکہ ، کناڈا، سوئیڈن، اسپین، بیلجیم، گرین لینڈ، ارجنٹینا، لگزمبرگ، ساؤتھ افریقہ، برازیل ، آئیس لینڈ، آسٹریلیا اور آئر لینڈ میں ہم جنسی کو قانونی طور پر اجازت ہے۔ ہم نے بھی یہ اجازت دے کر خود کو ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرتو لیا لیکن کیا ساؤتھ افریقہ کے علاوہ ہم انسانی حقوق کے معاملے میں ان میں سے کسی ایک کے برابر بھی کھڑے ہونے لائق ہیں؟ مقابلہ بھی کیا تو بد فعلی میں کیا واہ۔
مودی سرکار نے اس معاملے میں اپنا پلو تو جھاڑ لیا لیکن ملک کی سب سے بڑی عدالت کو اس گھناؤنے کام کی اجازت دینی پڑ گئی۔ فیصلہ کرنے کے بعد جسٹس چندر چوڑ نے سرکار کے اس روئیے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کئی معاملات میں اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لئے سپریم کورٹ کو اختیار دیتی جا رہی ہے یہ رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ قانون بنانے کا کام تو عوام کے ذریعہ چنی ہوئی سرکاریا چنے ہوئے نمائندوں کو ہی کرنا چاہئے۔ عدالت کا کام تو لیجسلیچر یا پارلیمنٹ کے ذریعہ بنائے ہوئے قوانین کو صحیح طرح سے تشریح کرنے ان قوانین کے مطابق لوگوں کو انصاف دینے اور ان پر عمل کرنے کاہی ہوتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لیجسلیچر اپنی ذمہ داریاں سپریم کورٹ کے ماتھے مڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ملک اور عدلیہ دونوں کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کچھ لوگوں اور این جی اوز کے پروپگینڈے میں پڑ کر اتنا بڑا فیصلہ کردیا کہا یہ جارہا ہے کہ لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دینے کی سمت میں یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے ۔ جو لوگ اس قسم کی احمقانہ باتیں کررہے ہیں انہیں ذرا ایسے والدین سے بھی مل کر ایک بار ان کی رائے معلوم کرنی چاہئے جن کے بچے ہم جنسی کی گھٹیا حرکتوں میں ملوث ہیں۔ وہ بے چارے تو نہ زندہ میں ہیں نہ مردہ میں آخر ان کے بھی تو کچھ بنیادی حقوق ہیں۔ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ خود کو سماج میں منھ دکھانے لائق نہیں سمجھ رہے ہیں۔ ویسے بھی قدرت کا ایک پختہ انتظام ہے قدرت نے دنیا میں جتنے بھی انسان، جانور، پرندے یا سانپ بچھو تک بنائے ہیں سب کو جوڑوں میں بنایا ہے۔قدرت کے بنائے ہوئے بندوبست میں جب کبھی بھی انسانوں نے دخل دیا ہے اس دخل اندازی کا نتیجہ ہمیشہ تباہی کی ہی شکل میں سامنے آیا ہے۔ اب اگر قدرت کے بنائے ہوئے مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے شادی بیاہ یا جسمانی رابطے کے بندھن میں نہیں بندھیں گے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ آنے والے وقت میں نسلیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ خاندان کےخاندان تباہ ہو جائیں گے پھر انتہائی خطرناک اور مہلک قسم کے امراض پھیل جائیں گےوہ الگ۔ اسلام میں تو ہم جنسی کی نہ صرف اجازت نہیں ہے بلکہ اس میں ملوث لوگوں کے لئے سخت سزائیں طئے ہیں۔ جب ہمارے ملک میں سپریم کورٹ ہم جنسی کی اجازت دینے والا فیصلہ سنا رہا تھا اسی دن ملیشیا میں دو خواتین کو چھ چھ کوڑے مارنے کی سزا مل رہی تھی۔ ملیشیا کی ترگانو ریاست میں دو خواتین لیس بئین پائی گئیں جو ساتھ ساتھ میاں بیوی کی طرح رہ رہی تھیں وہ پکری گئیں تو عوامی طور پر دونوں کو چھ چھ کوڑے مارے گئے اور بعد میں اس وارننگ کے ساتھ چھوڑی گئیں کہ آئندہ ایک ساتھ نہ پائی جائیں۔
اس فیصلے کے بعد سماج کے ایک چھوٹے طبقے میں اور خصوصاً انگریزی میڈیا میںجس قسم کا رد عمل نظر آیا اسے دیکھ کر شرم آتی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے کہے جانے والے ایک انگریزی اخبار نے اس فیصلے کی خبر لیڈ اسٹوری بنا کر شائع کی جس کی موٹی سرخی لگائی ’انڈپینڈنس ڈے‘ مطلب یہ کہ اگر سپریم کورٹ نے بد فعلی کو قانوناً جائز قرار دے دیا تو اس اخبار کے مطابق جیسے پورے ملک کو کسی کی غلامی سے آزادی مل گئی۔ اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر ملک کے مٹھی بھر لوگوں کو جشن مناتے دیکھ کر سماج کے ایک بہت بڑے حصہ کو شرم بھی آ رہی تھی اور غصہ بھی۔ کچھ گنے چنے پہلے سے ہی جانی پہچانی بے شرم شکلوں کو جشن مناتے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ آخر ہمارا سماج پستی کی کس حد تک پہونچ چکا ہے۔ شرم اس لئے کہ دنیا کا میڈیا بھی انہی لوگوں کو جشن مناتا دکھائے گا اور بھارت کی تصویر یہ بنے گی کہ جیسے ایک سو تیس کروڑ کے اس عظیم ملک میں ’گے‘ اور ’لسبئین‘ ہی رہتے ہیں باقی کوئی نہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی بدفعلی کرنے والوں اور ان کے حامیوں کےپوسٹرس اور پیغامات کا سیلاب سا نظر آیا۔ ان میں کئی بد فعلوں نے یہ تک لکھا کہ ملک اور دنیا میں پانچ سو سے زیادہ قسم کے کیڑے مکوڑے بھی آپس میں ہم جنسی میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ یعنی یہ بدقسمت مرد اور عورتیں اب خود کو اللہ اور ایشور کی بہترین تخلیق نہ مان کر جانور اور کیڑے مکوڑوں میں شمار کرنے میں فخر کرنے لگے ہیں۔شرم ہے ایسے لوگوں اور ان کے حامیوں پر۔ کئیوں نے لکھا کہ اب ہمیں ایک ساتھ رہنے اور مردوں کو مردوں کے ساتھ اور عورتوں کو عورتوں کے ساتھ بد فعلی کرنے سے کوئی روک نہیں پائے گا۔ ہندوستان جیسا ملک جس کی دسیوں ہزار سالوں کی تہذیب ہے اس میں ہم گر کر اس حد تک پہونچ گئے ہیں کہ یہاں مرد مرد کے ساتھ سیکس کرے گا اور اپنی اس گھناؤنی حرکت کو اپنا بنیادی حق قرار دے گا۔ کیا انہی سب حرکتوں کے ذریعہ ’وشو گرو‘ بنیں گے اس فیصلے کے لئے سب سے زیادہ ذمہ دار بلکہ گناہ گار موجود مودی سرکار ہی ہے جس نے عدالت عظمیٰ میں سختی کے ساتھ اس معاملے میں اپنی موقف پیش کرنے کے بجائے اس مسئلہ کو عدالت کی مرضی پر ہی چھوڑ دیا۔ سرکار کو اس کی سخت مخالفت کرنی چاہئیے تھی۔