کشمیری عوام کا دل جیتنے میں لگے نئے گورنر

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>کشمیری عوام کا دل جیتنے میں لگے نئے گورنر</h1>

سری نگر: تقریباً پچاس سال میں پہلی بار رٹائر ڈ افسروں اور فوجیوں کے بجائے ستیہ پال ملک کی شکل میں ایک سیاسی بیک گراؤنڈ والا گورنر جموں کشمیر کو ملاتو چند دنوں میں ہی انہوں نے عوام کویہ احساس کرا دیا کہ وہ کشمیری عوام کے جذبات کو بخوبی سمجھتے ہیں اور ان کے مسائل حل کرنے کاعزم رکھتے ہیں۔ پچھلے کافی دنوں سے کشمیر وادی میں سکیورٹی فورسز کے ذریعہ دہشت گرد بن چکے نوجوانوں کے والد یا بھائی کو اٹھا لینے کا رواج چل پڑا تھا۔ نتیجہ یہ کہ دہشت گرد گروہوں نے کشمیر پولیس کے جوانوں کو نشانہ بنانے اور ان کے گھر والوں کو اغوا کرنے کی حرکتیں شروع کردی تھیں۔حزب المجاہدین کے کمانڈر بتائے جانے والے دہشت گرد ریاض نائکو کے والد اسد اللہ کو بھی گزشتہ دنوں سکیورٹی فورسز نے اٹھا لیا تھا جس کا انتقام لینے کے لئے دہشت گردوں نے جنوبی کشمیر میں پولیس والوں کے گیارہ رشتہ داروں کو اغوا کر لیا تھا۔ گورنر ستیہ پال ملک نے یہ کہہ کر اسد اللہ کو چھڑوادیاکہ اگر ان کا بیٹا دہشت گرد بن گیا ہے تو اس میں ان کی کیا غلطی؟ ان کے اس قدم کے جواب میں دہشت گردوں نے کشمیر پولیس کے ان گیارہ رشتہ داروں کو رہا کردیا جنہیں ان لوگوں نے اکتیس اگست کو اغوا کرلیا تھا ۔ اس کاروائی سے گورنرراج پر عام لوگوں کے بھروسے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ گورنر نے کشمیر وادی میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ذریعہ تیار کی گئی مشتبہ دہشت گردوں اور ان کے مددگاروں کی فہرست پر بھی نظر ثانی کرنے کی ہدائت دی ہے۔
اس سال اب تک کشمیر میں مسلح فورس کے ساٹھ جوان دہشت گردوں کے ہا تھوں مارے جا چکے ہیں۔ جن میں ۳۴ جموں کشمیر پولیس کے اہلکار ہیں۔ دہشت گردوں نے پولیس والوں کو نشانہ بنا کر قتل کردیا ہے یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بقرعید اور اس کے آس پاس پچھلے مہینے میں صرف شوپیاں ضلع میں چار پولیس والے دہشت گردوں کا نشانہ بنے جبکہ تین پولیس والے اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ بقرعید منانے اپنے گاؤں گئے تھے یعنی پچھلے مہینے سات پولیس والوں کو دہشت گردوں نے اپنا نشانہ بنا ڈالا۔ پولیس والوں کے مارے جانے کے واقعات سے پولیس فورس میں دہشت پھیلنا ایک فطری بات ہے مگر گورنر راج میں اعلیُ افسران نے ایسے حالات میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور دہشت گردوں کے خلاف جوابی کاروائی سے پرہیز کیا۔ ایک سینئر افسر کے مطابق موجودہ سرکار ایسے حالات میں شدید رد عمل سے اس لئے بچنا چاہتی ہے تاکہ ویسے حالات نہ پیدا ہوں جیسے ۱۹۹۰ کی دہائی میں اس وقت پیدا ہو گئے تھے جب کشمیری پنڈتوں پر وادی میں حملے ہورہے تھے اور جموں کشمیر پولیس کو الگ تھلگ کرکے دہشت گردوں کو کچلنے کی کاروائی کی گئی تھی۔ اس آپریشن میں مقامی پولیس کا کوئی رول نہ ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیری پنڈتوں کو جموں اور دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑا تھا کیونکہ دہشت گردانہ وارداتیں تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
گزشتہ بیس جون کو جموں کشمیر میں گورنر رول اس وقت نافذ کرنا پڑا تھا جب بی جے پی نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے گٹھ جوڑ توڑ لیا تھا اور محبوبہ مفتی کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اس وقت کشمیر کے گورنر این این ووہرا تھے پچھلے مہینے جب گورنر کی مدت کار پوری ہوئی تو ان کی جگہ پر کسی رٹائرڈنوکر شاہ یا رٹائرڈ فوجی کو گورنر بنانے کے بجائے سیاسی پس منظر والے ستیہ پال ملک کو گورنر کے عہدے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ سیاسی پس منظر ہونے کی وجہ سے گورنر ستیہ پال ملک کا یہ فیصلہ کہ حزب المجاہدین کے کمانڈر بتائے جانے والے ریاض نائکو کے والد اسد اللہ کو سکیورٹی فورسز نے کیوں گرفتار کیا ان کا بیٹا دہشت گرد ہے وہ نہیں ہیں۔ انہیں چھوڑا جائے۔ گورنر کے اس فیصلے کا عوام ہی نہیں دہشت گردوں میں بھی اچھا پیغام گیا۔ دہشت گردوں نے انتقامی کاروائی میں پولیس والوں کے جن گیارہ رشتہ داروں کو اغوا کیا تھا اگلے دن چھوڑ دیا۔ اس سلسلے میں سرکار کے ایک افسر نے بتایا کہ جموں کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف کوئی بھی آپریشن پوری کامیابی سے نہیں چلایا جاسکتا جب تک مقامی پولیس کو اس میں شامل نہ کیا جاجائے۔ پولیس کے اعلیٰ افسر جانتے ہیں کہ نچلی سطح کے پولیس والوں کی کسی آپریشن میں شمولیت کا ایک عملی پہلو یہ ہے کہ انہیں وہاں کی زبان علاقوں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی سکیورٹی فورسز کے جوانوں کے مقابلے زیادہ جانکاری ہوتی ہے جس کا آپریشن کے دوران فائدہ ملتا ہے۔ ہم انہیں الگ تھلگ نہیں کرسکتے۔ کشمیری پنڈتوں کے معاملے میں ایسا ہو چکا ہے۔ جموں کشمیر کے اعلیٰ افسران کی اس طرح کی باتیں شائد اس لئے سننے کو مل ری ہیں کیونکہ جموں کشمیر کو ایک عرصہ کے بعد سیاست داں گورنر ملا ہے۔ سیاست داں عوام کے جذبات اور ان کی خواہشات سے بخوبی واقفیت رکھتا ہے۔
پولیس والوں کے گیارہ رشتہ داروں کو اغوا کئے جانے کی ایک وجہ تو یہ بتائی گئی تھی کہ سکیورٹی فورسز نے حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائکو کے والد کو پکڑا تھا دوسری وجہ یہ تھی کہ نائکو کے ڈپٹی اور فیلڈ کمانڈر الطاف احمد ڈار عرف الطاف کچرو جو کہ سب سے پرانا دہشت گرد تھا اسے انتیس اگست کو سکیورٹی فورسز نے ایک مڈھ بھیڑ کے دوران اننت ناگ میں مار گرایا تھا۔ تبھی سے حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائکو پر اس کے آقاؤں کی طرف سے بڑی کاروائی کو انجام دینے کا دباؤ تھا۔ کیونکہ الطاف ڈار ہی اصل میں وارداتوں کے منصوبے بنا کر ان پر عمل کرتا تھا۔ نائکو تو بس نام کے کمانڈر تھے۔ لوگ اگلے مہینے ہونے والے پنچائت الیکشن میں حصہ نہ لیں اس کی دھمکی پہلے ہی دی جا چکی تھی۔بتاتے ہیں کہ الطاف ڈار نے حزب المجاہدین کے لوگوں سے صاف کہہ دیا تھا کہ جو لوگ الیکشن میں حصہ لینے پر آمادہ ہوں ان کو اغوا کیا جائے یا ان پر ایسڈ پھینکا جائے مگر اس سے پہلے ہی وہ مار دیا گیا۔ سکیورٹی فورسز میں شامل کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ نائکو کے والد اسد اللہ کو پکڑنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اگر پکڑا گیا تھا تو پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا جانا چاہئے تھا۔ ان کی حراست کی وجہ سے دہشت گردوں میں غصہ بڑھا اور اغوا کی وارداتیں ہوئیں۔ ایک دوسرے افسر کے مطابق جموں کشمیر پولیس دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں کے محاذ پر آگے ہوتی ہے ایسا دہشت گرد محسوس کرتے ہیں پولیس پیشہ وارانہ طریقہ سے دہشت گردوں پر دباؤ بناتی ہے۔ اگر ان کے رشتہ داروں کو کوئی نقصان پہونچتا تو ان کا طریقہ کار بدل جاتا اور دہشت گرد جانتے ہیں کہ یہ اچھا سودا نہ ہوتا ۔گورنر کے ایڈوائزر کے وجئے کمار نے ایک انگریزی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کی پولیس اس طرح کے چیلنجز کو سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کانسٹبلری سمیت کئی رینکوں کی پولیس سے جو فیڈ بیک لیا ہے وہ یہی بتاتا ہے کہ پولیس پوری مضبوطی سے کھڑی ہے اس کی پیشہ واریت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے۔
دوسری طرف جموں کشمیر پولیس دہشت گردوں کے مشتبہ مددگاروں کیفہرست پر نظر ثانی کررہی ہے۔ وادی کے تمام ضلع ہیڈ کوارٹر سے کہا گیا ہے کہ وہ مشتبہ مددگاروں کی نئی فہرست تیار کریں اور ضرورت ہو تو ان سے پوچھ گچھ کرکے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی تازہ جانکاری حاصل کریں۔ کہا جارہا ہے کہ ۲۷۱ مقامی نام جوکو مشتبہ اوور گراؤنڈ ورکر ہیں ضلع ایس پی کو بھیجے گئے ہیں ان کے بارے میں تازہ جانکاری مانگی گئی ہے۔ کیونکہ اوور گراؤنڈ ورکرس کی مدد سے دہشت گرد بڑے صحیح طریقہ سے وارداتوں کو انجام دیتے ہیں۔ اگر ان پر قابو پا لیا گیا تو بالکل ویسا ہی ہوگا جیسے تالاب سے پانی نکال لیا جائے تو مچھلیاں اپنے آپ ہی مر جائیں گی۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس وقت ریاست میں ۳۲۵ دہشت گرد سرگرم ہیں۔ یہ تعداد پچھلی ایک دہائی میں سب سے زیادہ ہے۔ جنوبی کشمیر میں ۱۸۰، ۱۲۸ نارتھ کشمیر اورسترہ سینٹرل کشمیر میں سرگرم ہیں۔ یہ تب ہے جب سرکار نے پچھلے سال آپریشن آل آؤٹ دہشت گردی کو ریاست سے ختم کرنے کے لئے شروع کیا تھا۔ مگر اس دوران ۱۲۸ مقامی لوگ دہشت گردوں میں شامل ہوگئے۔