پٹرول،ڈیژل کے ذریعہ سرکاری لوٹ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>پٹرول،ڈیژل کے ذریعہ سرکاری لوٹ</h1>

ملک پر مہنگائی کی مار سے ہر شخص پریشان ، نریندر ، ملک اور روپئے کی ساکھ میں مسلسل گراوٹ
نئی دہلی: مودی حکومت نے گیس، ڈیژل اور پیٹرول کے ذریعہ ملک میںلوٹ مچا رکھی ہے، تقریباً بارہ لاکھ کروڑ کی کمائی کرنے کے باوجود منافع خور سرکار کا پیٹ بھرنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ خبر لکھے جانے تک ملک کے کئی حصوں میںپیٹرول کی قیمت ۸۷ روپئے فی لیٹر ، ڈیژل ۷۶ روپئے فی لیٹر اور کوکنگ گیس ۹۸۰ روپئے فی سلینڈر ہو چکی تھی۔ قیمتوں میں آگ لگنے کی وجہ مودی حکومت کے ذریعہ بار بار ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جانا ہے۔ پورا ملک ان قیمتوں سے پناہ مانگ رہا ہے۔ لیکن مودی خاموش ہیں۔ مودی سے بھی زیادہ جھوٹ بولنے والے شاطر جعلساز ذہن کے یوگ کاروباری رام دیو بھی کسی بل میں گھس گئے ہیں۔ اب وہ ملک کو اپنی شکل دکھانےلائق نہیں ہیں، کیونکہ ۲۰۱۴ کے لوک سبھا الیکشن سے پہلے رام دیو نے ہی مختلف ٹی وی چینلوں کے ذریعہ عوام سے وعدہ کیا تھا کہ آپ لوگ مودی کو ووٹ دے کر ان کی سرکار بنوائیے، ہم ملک میں پینتیس سے چالیس روپئے فی لیٹر پیٹرول اور کوکنگ گیس تین سے ساڑھے تین سو روپئے فی سلینڈر فراہم کرائیں گے۔ من موہن سنگھ کی یو پی اے سرکا ر کے دوران جب انٹر نیشنل مارکٹ میں کچے تیل کی قیمتیں ۱۰۴ سے ۱۱۰ ڈالر فی بیرل ہوا کرتی تھیں اس وقت ملک میں پیٹرول کی قیمت ۵۸ سے ۶۰ روپئے فی لیٹر ہو گئی تھی تو انہی نریندر مودی نے ہاتھ پھینک پھینک کر تقریریں کی تھیں کہ وہ بھی سرکار چلاناجانتے ہیں۔ پیٹرول کی اتنی قیمتیں نہیں ہونی چاہئیں۔ پوری بی جے پی سڑکوں پر تھی لیکن اب سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ خبر ہے کہ اس سال دسمبر کے آخر تک مودی حکومت پیٹرول کی قیمت سو روپئے فی لیٹر اور ڈیژل۹۳ روپئے فی لیٹر کردے گی۔ کیونکہ سرکار کو تو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر اپنی تجوریاں بھرنی ہیں۔ پیٹرولیم منسٹر دھرمیندر پردھان نے یہ کہہ کر پیٹرول کی قیمتوں کو جائز ٹھہرایا کہ ڈالر کے مقابلے روپئے کی قیمت کافی گری ہے اور کچا تیل بیرون ملک سے امپورٹ کیا جاتا ہے جس کا پیمنٹڈالر میں ہوتا ہے۔ اس لئے پیٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ روپئے کی قیمت تو اب گر رہی ہے پیٹرول، ڈیژل اور کوکنگ گیس کی قیمتوں میں سرکار شروع سےہی اضافہ کررہی ہے۔
گیس، ڈیژل اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ مودی حکومت نے ۲۰۱۴ سے اب تک ایک درجن بار ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا ہے۔ ایکسائز ڈیوٹی کے ذریعہ اس وقت بھارت سرکار تقریباً چار لاکھ کروڑ تو ریاستی حکومتیں دو لاکھ نو ہزار کروڑ روپئے کی کمائی کررہی ہیں۔ مرکزی اور ریاستی سرکاروں کے ذریعہ وصولی جا رہی ایکسائز ڈیوٹی اور دوسرے ٹیکسوں کو ملا دیا جائے تو پیٹرول کی قیمتوں کے مقابلے تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ ٹیکس ہی وصولے جارہے ہیں۔ ہر طرف سے مطالبہ ہونے کے باوجود پیٹرولیم اشیاء کو مودی سرکار جی ایس ٹی کے دائرے میں نہیں لا رہی ہے۔ جی ایس ٹی ایڈوائزری کمیٹی کے صدر اور بہار کے ڈپٹی چیف منسٹر سشیل مودی نے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر سرکار ایک لاکھ کروڑ کی بھرپائی کرے تبھی پیٹرولیم اشیاء کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لایا جاسکتا ہے۔ مطلب صاف ہے کہ پیٹرولیم کو جی ایس ٹی میں نہیں لایا جائے گا۔ من موہن سنگھ کی یو پی اے سرکار کے دوران ایک بار جب پیٹرول کی قیمت ساٹھ روپئے سے زیادہ ہوگئی تھی تو اس وقت جن ریاستوں میں بی جے پی سرکاریں تھیں ان میں ایک سیاسی ڈرامہ دکھاتے ہوئے ٹیکس میںکمی کرکے پیٹرول کچھ سستا کیا گیا تھا۔ اب تین چوتھائی ہندوستان میں بی جے پی سرکاریں ہیں تو یہ ریاستی سرکاریں بھی مودی سرکار کی طرح ٹیکس کم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ خبر لکھے جانے تک سب سے مہنگا پیٹرول ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر کئی حصوں میں تقریباً ۸۷ روپئے لیٹر تو دہلی اور اترپردیش میں ۸۰ روپئے لیٹر بک رہا تھا۔ اسے قابومیں کرنے کا مودی حکومت کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
روپئے کی قیمت بھی وزیر اعظم نریندر مودی کی ساکھ کی طرح روز بروز گرتی جارہی ہے۔ من موہن سنگھ حکومت کے دوران یہ بات گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نریندر مودی نے ہی کہی تھی کہ ملک میں دو ہی چیزیں گر رہی ہیں ایک روپئے کی قیمت اور دوسری وزیر اعظم اور ملک کی ساکھ۔ اس وقت مودی نے ہاتھ پھینک پھینک کر لفاظی کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں گر ہی نہیں رہی ہیں بلکہ گراوٹ میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرر ہی ہیں کہ کون زیادہ گرتا ہے۔ اب روپئے کے مقابلے ایک ڈالر کی قیمت ۷۲ روپئے ہو چکی ہے تو مودی اور ان کی منڈلی نے یہ راگ الاپنا شروع کردیا ہے کہ ترکی اور چین کی کرنسی کا بھاؤ گرنے کی وجہ سے روپئے کی قیمت بھی گرر ہی ہے۔ یہ عالمی سطح کا مسئلہ ہے۔ سوال یہ ہےکہ سب سے پہلے امریکہ نے ترکی کی کرنسی پر حملہ کیا تھا پھر چین پر کیا تھا۔ ترکی کے صدر نے تو ایک مہینے کے اندر اپنی کرنسی کی قیمت ٹھیک کرلی، چینی کرنسی ’ین‘ میں بھی سدھار آ گیا تو روپئے میں سدھار آنے کے بجائے گراوٹ کیوں جاری ہے۔ اس سال یکم جنوری سے ۳۱ اگست تک چین کی کرنسی میں سوا پانچ فیصد، انڈونیشیا کی کرنسی میں نو فیصد، ملائیشیا کی کرنسی میںپونے تین فیصد اور تھائی لینڈ کی کرنسی میں تقریباً آدھا فیصد کی ہی گراوٹ درج کی گئی ہے لیکن ہندوستان کی کرنسی میں ۵۰.۱۱ فیصد کی گراوٹ آئی۔ آخر مودی اور ارون جیٹلی کا یہ کون سا فائنینشیل مینجمنٹ ہے۔ جب روپئے کی قیمت ہر روز گر رہی ہے۔ مطلب صاف ہے کہ مودی اور ان کی ٹیم میں ملک اور ملک کی معیشت چلانے کی صلاحیتیں ہی نہیںہیں۔یہ تو اچھا ہے کہ لوک سبھا الیکشن اور مودی کے جانے میں بہت کم وقت رہ گیا ہے ورنہ یہ لوگ ملک کو دیوالیہ بنا دیتے۔
اگست کے آخری ہفتہ میں مودی حکومت نے ایک شگوفہ چھوڑا کہ ملک کی جی ڈی پی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ جب یہ سوال اٹھا کہ جی ڈی پی میں اضافہ ہر سامان کی قیمتوں میں لگی آگ کی وجہ سے ہوا ہے تو سرکار کا پروپگینڈہ کرنے و الوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی۔ سرکار کی جانب سے جی ڈی پی کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ جی ڈی پی بڑھنے کی وجہ بے پناہ مہنگائی ہے، ڈیژل ، پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہے یا صنعتی اور زرعی شعبوں میں ترقی ہے۔صنعتی ترقی تو ملک میں بند پڑی ہے۔ لاکھوں چھوٹی صنعتیں اور کنسٹرکشن کا کاروبار تباہی کے دہانے پر پہونچ چکا ہے۔ کوئی نئی فصل ابھی آئی نہیں ہے تو پھر جی ڈی پی بڑھنے کی اصل وجہ تو مہنگائی ہی ہے۔ سرکار کی تجوریاں بھلے ہی بھر رہی ہو عوام کی کمر تو ٹوٹ ہی رہی ہے۔