دہشت گردوں اور غنڈوں کا یوپی پر قبضہ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>دہشت گردوں اور غنڈوں کا یوپی پر قبضہ</h1>

لکھنؤ: الٰہ آباد میں دن دہاڑے رٹائرڈ داروغہ کو پیٹ پیٹ کر مار دیا جاتا ہے۔ آدتیہ ناتھ یوگی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس سرکار میں پورے اترپردیش میں پولیس کے بجائے کریمنلس کا راج چل رہا ہے۔ چلے بھی کیوں نہ جب بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ روز ہی کسی نہ کسی ضلع میں پولیس کی عزت اتارتے نظر آتے ہیں۔ لکھنؤ سمیت اترپردیش کے تقریباً سبھی ضلع غنڈوں اور مجرموں کی دہشت سے کانبپ رہے ہیں۔ کیونکہ یوگی حکومت میں حکومت اور پولیس دونوں کا اقبال تقریباً پوری طرح ختم ہوگیا ہے۔ الٰہ آباد میں چار ستمبر کو ۶۸ سال کے رٹائرڈ داروغہ عبدالصمد خان کو دن دہاڑے پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کے معاملے میں جب آدتیہ ناتھ پولیس کچھ نہیں کرسکی تو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے کا ’سو-موٹو‘ نوٹس لیتے ہوئے پولیس اور سرکار دنوں کو سخت پھٹکار لگائی اس کے بعد ہی پولیس سرگرم ہوئی اور قاتلوں میں سات کو گرفتار کرلیا۔ اس سے دو دن پہلے یوگی آدتیہ ناتھ کے آبائی وطن گورکھپور سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر بلرامپور میں ہندو دہشت گردوں نے ستر سال کے کیلاش ناتھ شکلا کو اس لئے بری طرح پیٹ کر ادھ مرا کردیا کہ وہ اپنی بیمار گائے کو علاج کرانے کے لئے لے جارہے تھے۔ میرٹھ کے سردھنا میں ایک ہندو لڑکی کے ساتھ راج ونش باگڑی، روہت سینی، گجراج سینی، امن، دیپ چند اور دویندر باگڑی نام کے بجرنگ دل کے غنڈے چھیڑ خانی کرتے تھے۔ لڑکی نے غنڈوں سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی تو ان دہشت گردوں نے اس پر مٹی کا تیل ڈال کر جلا دیا۔ تیرہ دنوں تک اسپتال میں زندگی اور موت کے درمیان جنگ کرنے کے بعد پانچ ستمبر کو موت کے منھ میں چلی گئی۔ ایسے واقعات کا سیلاب سا اترپردیش میں آیا ہوا ہے۔ لیکن سرکار بے بس نظر آرہی ہے۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اسمبلی میں کھڑے ہو کر ریاست کے نظم و نسق پر سوال اٹھانے والے اپوزیشن پارٹیوں کی آنکھوں کو خراب ہونے کا سرٹیفکیٹ دے رہے ہیں۔ سچائی یہی ہےکہ یوگی آدتیہ ناتھ سے اترپردیش سنبھل نہیں رہا ہے۔ صوبے میں کریمنل پوری طرح سے بے قابو ہیں اور جسے چاہتے ہیں نشانہ بنا کر قتل کردیتےہیں۔ الٰہ آباد میں ہوا رٹائرڈ داروغہ عبدالصمد خان کا قتل اس کا ثبوت ہے۔ عبدالصمد کے قتل کے پیچھے زمین اور مکان کا جھگڑا سامنے آیا ہے۔ جس پر مقامی ہسٹری شیٹر جنید قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ عبدالصمد اور جنید کے بیچ چل رہےجھگڑے سے مقامی پولیس بھی بخوبی واقف تھی واردات کے روز چار ستمبر کو عبدالصمد سائیکل سے کسی کام سے جا رہے تھے تبھی شیو کٹی تھانے کے ٹاپ ٹین کریمنلس میںشامل ہسٹری شیٹر جنید اس کے بیٹے شیبو، یوسف اور اس کے مامو ں کا لڑکا ابن سمیت گھر کی عورتوں نے مل کر اس کی پٹائی شروع کردی۔ ان غنڈوں نے سر عام لاٹھی ڈنڈے اور راڈ سے عبدالصمد کو اتنا پیٹا کہ محض ستر سیکنڈ میں اس کے جسم پر چالیس سے زیادہ زخم ہو گئے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں عبدالصمد کے قتل کی پوری تصاویر قید تھیں۔ جنید سمیت دس لوگوں کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔ ایس ایس پی نتن تیواری نے بتایا کہ جنید اس کی بیوی ثنا، بیٹی حنا، رجک اور مہدی بیٹا شیبو، یوسف، ماموں زاد بھائی ابن وغیرہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اس پورے معاملے کا سب سے غیر انسانی پہلو یہ تھا کہ سر عام پٹتے ہوئے عبدالصمد کا تماشہ تو لوگ دیکھتے رہے مگر اسے بچانے یا پولیس بلانے کی ہمت کوئی نہیں کرسکا۔ ان کریمنلس کو چونکہ پولیس اور قانون کا کوئی خوف نہیں تھا اسی لئے عبدالصمد کو سر عام قتل کردیا۔
بیٹی بچاؤ کا نعرہ دینے والی سرکار کا عالم یہ ہے کہ بجرنگ دل سے جڑے بتائے جانے والے غنڈوں نے ایک لڑکی کے ساتھ چھیڑ خانی شروع کی جب اس نے اس کی مخالفت کی تو سر عام چھ لوگوں نے اس لڑکی پر کیروسین ڈال کر آگ لگا دی۔ دو ہفتہ تک زندگی اور موت کے درمیان جھولنے کے بعد آخر کار اس نے دم توڑ دیا۔ پولیس نے پانچ نامزد لوگوں کو گرفتار کرلیا۔ امن کی تلاش جاری ہے۔ اس واقعہ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ کریمنلس کو قانون کا کوئی خوف نہیں ہے۔ باغپت میں اجتماعی آبروریزی کا شکار بنی لڑکی نے دیکھا کہ پولیس ریپ کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کررہی ہے تو اس نے زہر کھا کر جان دینے کی کوشش کی۔ سنگھا ولی اہیر کے تھانہ انچارج ہری رام یادو نے یہ تو بتایا کہ ریپ کا شکار لڑکی کی حالت میں سدھار ہورہا ہے مگر اس کا ریپ کرنے والوں کے خلاف کیا کاروائی ہوئی اس پر وہ چپ رہے۔ بڑوت میں ریپ کا شکار بنی عورت کی شکائت پر جب کوئی سنوائی نہیں ہوئی تو دونوں میاں بیوی نے ایس پی دفتر کے سامنے خود کشی کرنے کی کوشش کی۔ ظاہر ہے کریمنلس کے خلاف پولیس کے ذریعہ کوئی کاروائی نہ کئے جانے سے کریمنلس کے حوصلے بڑھتے ہیں اور قانون کا خوف ان کے دلوں سے نکل جاتاہے۔
پچھلے دنوں بلرامپور میں اپنی بیمار گائے کو علاج کے لئے جا رہے ستر سال کے بزرگ کیلاش ناتھ شکلا پر گائے کو بیچنے کا جھوٹا الزام لگا کر گئو غنڈوں نے انہیں نہ صرف مارا پیٹا بلکہ بوڑھے شخص پر رحم کھائے بغیر اس کو ذلیل کرنے کے لئے اس کا سر مونڈ دیا چہرے پر کالکھ پوت کر اس کا جلوس نکالاپھر مرنے کے لئے ایک گڈھے میں پھینک دیا۔ کیلاش ناتھ شکلا جب رپورٹ لکھوانے گئے تو پولیس نے رپورٹ نہیں لکھی اس پر انہوں نے پولس کپتان کو پوری بات بتائی تب جا کر رپورٹ درج ہوئی اور محض تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس والوں کا اس طرح کریمنلس کے خلاف کاروائی نہ کرنا یا ان کے خلاف رپورٹ نہ لکھنے سے صاف ہوتا ہے کہ اب کریمنلس نہیں بلکہ پولیس کریمنلس سے ڈر رہی ہے۔ کیونکہ اس کا اقبال پوری طرح سے ختم ہو چکا ہے اور ریاست پر کریمنلس نے قبضہ کرلیا ہے۔