نوٹ بندی، نقصان اور جھوٹ پر جھوٹ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>نوٹ بندی، نقصان اور جھوٹ پر جھوٹ</h1>

آٹھ نومبر ۲۰۱۶ کو بغیر سوچے سمجھے یا کسی بھی جانکار سے مشورہ کئے بغیر اچانک ملک کے دو بڑے پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ بند کرکے وزیر اعظم نریندر مودی نے جو غلطی بلکہ ملک کے عوام کے ساتھ گناہ کیا اس میں پھنسے عام لوگ آج تک نکل نہیں سکے ہیں۔ کروڑوں لوگوں کے روزگار چھن گئے، سو سے زیادہ لوگ موت کا شکار ہو گئے۔ نوٹ بندی کے وقت اور اس کے تقریباً ایک سال تک وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کی نوٹ بندی کے جو فائدے گنوائے ان میں ایک بھی فائدہ کسی کو حاصل نہیںہوا۔ اب تقریباً پونے دو سال بعد ریزرو بینک آف انڈیا نے جو اعداد و شمار ملک کے سامنے پیش کئےان اعداد و شمار نے وزیراعظم مودی کے تمام دعوؤں پر پانی پھیر دیا۔ ریزرو بینک کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ملک کے وزیر خزانہ اور نریندر مودی مہربانیوں کے سہارے سیاست کی بلندیوں تک پہونچنے والے ارون جیٹلی نے نوٹ بندی کا جو فائدہ بتایاہے وہ بہت ہی مضحکہ خیز ہے۔ اب ارون جیٹلی نے ا پنے حساب سے بہت بڑا خلاصہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد ملک میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد بڑھ کر دگنی ہوگئی ہے۔نوٹ بندی کے اعلان کرکے وقت یا اس کے بعد اب تک خود نریندر مودی نے ایک بار بھی نوٹ بندی کا یہ مقصد نہیں بتایا تھا جو اب ان کے قابل دوست ارون جیٹلی نے بتایا ہے۔ تو کیا یہ سمجھا جانا چاہئیے کہ نریندر مودی اس حد تک کبھی سوچ نہیں پائے جتنا جیٹلی نے سوچ لیا۔ وہ یہ کہ نوٹ بندی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ملک میں ٹیکس ادا کرنے والوں اور انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے والوں کی تعداد چھاچھٹھ لاکھ ستتر ہزار(۷۷.۶۶ لاکھ) سے بڑھ کر ایک سو چودہ لاکھ سترہ ہزار یعنی ایک کروڑ چودہ لاکھ سترہ ہزار ہوگئی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں انکم ٹیکس کی شکل میں ۱۴-۲۰۱۳ کے مقابلے چھ لاکھ اڑتیس ہزار کروڑ سے بڑھ کر ۱۸-۲۰۱۷ میں دس لاکھ د و ہزار کروڑ روپئے سرکاری خزانے میں آگئے۔ یعنی سرکاری آمدنی میں صرف تین لاکھ چونسٹھ ہزار کروڑ کا اضافہ ہوا ہے۔ اتنے فائدے میں خوشی سے اچھلنے کا کام ارون جیٹلی جیسا وکیل ہی کرسکتا ہے۔ ہمیں تو جیٹلی کی عقل پر ترس آتا ہے کہ نئے نوٹ چھپنے پر ہونے والے بے تحاشہ خرچ، سو ڈیڑھ سو غریب بے گناہوں کی جان اور کروڑوں کے بے روزگار ہونے کے بعد اگر جیٹلی کے مطابق تین لاکھ چونسٹھ ہزار کرور کی سرکار کو زیادہ آمدنی ہوئی تو وہ اسے کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ ملک کو خود ہی اندازہ لگا لینا چاہئے کہ اس قسم کے خیالات والے شخص کے ہاتھوں میں ملک کی وزارت خزانہ کا ہونا ملک کے لئے کتنا فائدہ مند یا نقصان دہ ہے؟
ارون جیٹلی نے اس بات کو تو بڑھا چڑھا کر پیش کردیا کہ ۱۴-۲۰۱۳ کے مقابلے ۱۸-۲۰۱۷ میں ملک میں ٹیکس ادا کرنےوالوں کی تعداد میں چوالیس فیصد اور آمدنی میں چودہ سے اٹھارہ فیصد کا اضافہ ہوگیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ نئے نوٹوں کی چھپائی میں اب تک سولہہ ہزار دو سو اٹھاون کروڑ روپئے خرچ ہوگئے۔ نومبر میں نوٹ بندی کے بعد نومبر سولہہ سے مارچ سترہ تک تین ہزار چار سو اکیس کروڑ ، ۱۸-۲۰۱۷ میں سات ہزار نو سو پینسٹھ کروڑ اور اس کے بعد آج تک چار ہزار نو سو بارہ کروڑ روپئے نئے نوٹ چھپنے پر ہی خرچ ہو گئے۔ آر بی آئی کے ذرائع کے مطابق پانچ سو اور دو ہزار روپئے کی نئی سیریز کے نوٹ چھاپنے کی وجہ سے اتنا زیادہ خرچ ہوگیا۔ اس کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی ان کے بڑ بولے وزیر روی شنکر پرساد، اسمرتی ایرانی اور اب وزیر خزانہ ارون جیٹلی بھی نوٹ بندی کے فائدے ہی گنواتے رہتے ہیں۔نوٹ بندی کا اعلان کرتے وقت پھر کئی مہینوں تک وزیراعظم نریندر مودی بار بار تین فائدے گنواتے رہتے تھے۔ ایک کہ اس سے چھپا ہوا کالا دھن باہر آ جائے گا، دوسرا اس سے دہشت گردی اور نکسلی وارداتوں کو قابو کرنے میں مدد ملے گی اور تیسرے ملک میں چل رہی جعلی کرنسی بھی چلن سے باہر ہو جائےگی۔ تین مہینے تک تو انہوں نے انہی تین باتوں کی رٹ لگائے رکھی پھر جب انہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوا تو انہو ں نے بار بار اپنی باتیں تبدیل کرناشروع کردیں۔ اب تو حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ نریندر مودی نے نوٹ بندی کی بات ہی کرنی بند کردی،اب وہ گاہے بگاہے جی ایس ٹی کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔ شائد اب وہ نوٹ بندی کے معاملے سے اپنا پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔
نوٹ بندی کے وقت اور اس کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے اس بات پر بھی بہت زور دیا تھا کہ ملک میں فرضی نوٹ یا جعلی کرنسی بڑی تعداد میں چلن میںہے نوٹ بندی سے جعلی کرنسی پکڑ جائے گی اب پونے دو سال کے بعد ریزرو بینک آف انڈیا نے بتا دیا کہ نوٹ بندی کے وقت ملک میں پانچ سو اور ایک ہزار روپئے کے جتنی قیمت کے نوٹ بازار میں چلن میں تھے نو ٹ بندی کے بعد اب تک اس کا ننانوے اعشاریہ ایک تین نوٹ واپس آ گئے ہیں۔ اب جو ایک فیصد سے بھی کم نوٹ واپس آنے سے رہ گئے ہیں ان کے سلسلے میں ویسے تو ریزرو بینک آف انڈیا نے کچھ نہیں کہا لیکن نیپال کے بینکوں میں اور ملک خصوصاً مہاراشٹر کے کو آپریٹیو بینکوں میں جو پرانے نوٹ ڈمپ ہیں اور انہیں بھی شامل کرلیا جائے تو شائد سو فیصد یااس سے بھی کچھ زیادہ قیمت کی کرنسی واپس آ جائے گی۔ پھر جعلی کرنسی اور کالے دھن کا کیا ہوا؟ اگر نیپال کے بینکوں اور کو آپریٹیو بینکوں میں بڑے نوٹ واپس بھی نہ آئے تو بھی محض ایک فیصد سے بھی کم رقم جو واپس نہیں آئی ہے تو ملک اچھی طرح سے جانتا ہے کہ ایک ڈیڑھ فیصد نوٹ تو خراب ہو جاتےہیں، پھٹ جاتے ہیں، برباد ہوجاتے ہیں۔ مطلب صاف ہے کہ یا تو جعلی نوٹ اور کالا دھن بھی نوٹوں کے ساتھ بینکوں کو واپس ہو کرسفید ہو گیااور سرکار اور ریزرو بینک انہیںپکڑ نہیں پائی کیا اسے سرکار اور بینکوں کی مجرمانہ غلطی نہیں کہا جانا چاہئے؟ آج حالات کیا ہوگئے ہیں دو ہزار، پانچ سو ، دو سو، سو اور پچاس روپئے کے نئے نوٹوں کی عمر تو سال سے دو ڈھائی سال کی ہی ہے۔ آر بی آئی خودہی تسلیم کررہی ہے کہ بڑی تعدادمیں پانچ سو اور دو ہزار کے جعلی نوٹ بازار میں چل رہے ہیں۔ ۱۷-۲۰۱۶ میں پانچ سو روپئے کے ایک سو ننانوے اور دو ہزار روپئے کے چھ سو اڑتیس نوٹ پورے ملک میں پکڑ میں آئے تھے لیکن ۱۸-۲۰۱۷ میں پانچ سو روپئے کے نو ہزار آٹھ سو ننانوے نوٹ اور دو ہزار کے سترہ ہزار نو سو انتیس نوٹ پکڑے گئے۔ محض ایک سال میں جعلی نوٹوں کی تعداد میں اتنا زبردست اضافہ ہی ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں کتنے بڑے پیمانے پر جعلی یا فرضی نوٹ چل رہے ہیں۔ سو اور پچاس روپئے کے جعلی نوٹ جتنے بڑے پیمانے پر بازا ر میں آگئے ہیں وہ صورتحال بہت ہی خطرناک ہے۔ آر بی آئی کے ذرائع کے مطابق ۱۷-۲۰۱۶ کے مقابلے ۱۸-۲۰۱۷ میں سو روپئے کے جعلی نوٹوں میں پینتیس فیصد اور پچاس روپئے کے جعلی نوٹوں میں ایک سو چوّن فیصد کا اضافہ ہوگیا۔ پچاس روپئے کے نئے نوٹ بازار میں لائے جانے کے باوجود پرانے نوٹ بند نہیں کئے گئے۔ شائد پچاس روپئے کے زیادہ جعلی نوٹوں کی وجہ یہی ہے کہ نئی اور پرانی دونوں سیریز کے دونوں نوٹ بازار میں ہیں ۔جو بھی ہو اصل بات وہی ہے کہ نوٹ بندی کی جو وجوہات وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان کی تھیں ان میں ایک بھی سچ ثابت نہیں ہوئی۔
نوٹ بندی کی چاروں طرف سے زبردست تنقید شروع ہوگئی تو ملک کا دھیان بٹانے کے لئے مودی نے ایک نیا شگوفہ کیش لیس اکنامی کا چھیڑا تھا۔ سرکار کا کروڑوں روپیہ اشتہارات پر خرچ کرکے کیش لیس اکنامی کا ڈھنڈورا پیٹا۔ ان کے اس پروپگینڈے کا کوئی فائدہ ملک کو نہیںملا لیکن پے ٹی ایم جیسی غیر ملکی کمپنی نےعوام کی جیب سے ہزاروں کروڑ روپئے نکلوا لئے۔ پے ٹی ایم ہی نہیں کئی امریکی کارڈ کمپنیوں نے بھی ہزاروں کروڑ لوٹ لئے اس وقت بھی مودی نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ پہلے وہ ریزرو بینک کے ذریعہ اپنے ملک کا کوئی کارڈ مضبوط کرلیتے اس کے بعد ہی کیش لیس اکنامی کا شوشہ چھوڑتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ نہ کرنے کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ چونکہ انہوں نے بغیر سوچے سمجھے یا معاشی ماہرین سے مشورہ کئے بغیر ہی نوٹ بندی کا اعلان کردیا تھا اور ان کا یہ فیصلہ غلط ہوگیا۔ انہیں خود بھی اس بات کا احساس ہوگیا تھا اس لئے ملک کے لوگوں کا دھیان اصل مسئلہ سے ہٹانے کی غرض سے ہی انہوں نے کیش لیس اکنامی کا راگ چھیڑ دیا تھا۔ کیش لیس اکنامی کا مودی کا شگوفہ دو سال بھی نہیں چل پایا۔ اب تو ریزرو بینک آف انڈیا نے ہی ایک رپورٹ جاری کرکے بتا دیا ہے کہ پچھلے سال ملک میں جتنی نقدی ملک میں چلن میں تھی اس سال اس میں اٹھارہ فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ ریزروبینک کی رپورٹ کے مطابق نوٹ بندی کے وقت ملک میں پندرہ لاکھ اکتالیس ہزار کروڑ کی نقدی ملک میں چلن میں تھی۔ اس وقت جو نقدی ملک میں چلن میں ہے وہ پندرہ لاکھ اکتالیس ہزار کروڑ سےتین لاکھ کروڑ زیادہ ہے۔ مودی سرکار اور ریزرو بینک آف انڈیا دونوں ہی اس بات پر خاموش ہیں کہ آج کل دو ہزار روپئے کے نئے نوٹوں کی سپلائی بینکوں کو کیوں نہیں کی جارہی ہے۔ نئے نوٹوں کی چھپائی تو برابر جاری ہے پھر آخر دو ہزار کے نئے چھپنے والے نوٹ کہاں جا رہے ہیں؟ اترپردیش جیسی بڑی ریاست کی حالت تویہ ہے کہ لکھنؤ میں بینکوں کو نوٹ فراہم کرنے والی ریزرو بینک کی برانچ میں ہی کئی مہینوں سے دو ہزار کے نئے نوٹ نہیں آ رہے ہیں۔بازار اور بینکوں کے پرانے نوٹ ہی چل رہے ہیں۔
مطلب صاف ہے کہ نوٹ بندی کا کوئی بھی فائدہ ملک کو نہیں ہوا نہ تو کالا دھن ختم ہوا نہ جعلی نوٹ پکڑ میں آئے نہ دہشت گردیاور نکسلی سرگرمیوں پر قابو پایا جاسکا نہ ملک کیش لیس ہو پایا۔ اسی لئے اب ارون جیٹلی جیسے لوگوں نے لوک سبھا الیکشن سے پہلے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد انکم ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اور ٹیکس کی شکل میں سرکار کوہونے والی آمدنی میں ڈیڑھ سے دو گنا تک اضافہ ہوا ہے۔ یہ نہیں بتاتےکہ اضافہ کرنے کے لئے سرکار نے نئے نوٹوں کی چھپائی پر کتنی بڑی رقم پھونک دی۔ ملک کے زیادہ سے زیادہ لوگ ہر سال انکم ٹیکس ریٹرن داخل کریں ٹیکس ادا کریںیہ کام کرانے کے لئے تو انکم ٹیکس کا بھاری بھرکم محکمہ کام کرہی رہا ہے۔ اگر یہ بھی نوٹ بندی کی ایک وجہ تھی تو پونے دو سال میں خود وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار بھی اس کا ذکر کیوں نہیں کیا؟