لکی ثابت ہوا جکارتہ بھارت کا ایشیاڈ میں بہترین مظاہرہ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>لکی ثابت ہوا جکارتہ بھارت کا ایشیاڈ میں بہترین مظاہرہ</h1>

نئی دہلی: بھارت کے لئے جکارتہ ایک بار پھر لکی ثابت ہوا، جہاں پر ہوئے ایشیاڈ کھیلوں کی تاریخ میں اپنا بہترین مظاہرہ کرڈالا۔ بھارت نے اٹھارہویں ایشیائی کھیلوں میں آخری وقت میں مکے باز امت پندھل اور برج پیئر کے گولڈ، خاتون اسکواش ٹیم کے سلور میڈل اور مرد ہاکی ٹیم کے کانسے کے میڈل کے ساتھ ایشیائی کھیلوں کے ۶۷ برسوں کی تاریخ میں اپنا سب سے اچھا مظاہر کرڈالا۔
بھارت نے ۱۹۵۱ میں نئی دہلی میں ا پنی میزبانی میںہوئے پہلے ایشیائی کھیلوں میں پندرہ گولڈ، سولہہ سلور اور بیس کانسے سمیت ۵۱ میڈل جیتے تھے جو ان کھیلوں سے پہلے تک اس کا سب سے اچھا مظاہرہ تھا۔ بھارت نے جکارتہ-پولمبنگ میں ہوئے اٹھارہویں ایشیائی کھیلوں میں پندرہ گولڈ، چوبیس سلور اور تیس کانسے سمیت کل ۶۹ میڈل جیت کر ۶۷ سال پہلے کے نئی دہلی کے مظاہرے کو پیچھے چھوڑ دیا۔ بھارت نے حالانکہ اپنا بہترین مظاہرہ کیا لیکن وہ میڈل لسٹ میں آٹھویں مقام پر ہی رہ گیا۔
بھارت کے پاس آٹھ سا ل پہلے گوانجھو ایشیائی کھیلوں میں ۱۹۵۱ کو پیچھے چھوڑنے کا موقع آیا تھا جب اس نے چودہ گولڈ، سترہ سلور اور ۳۴ کانسے سمیت کل ۶۵ میڈل جیتے تھے۔ کل تمغوں کے لحاظ سے یہ ۶۵ میڈل ہی بھارت کا بہترین مظاہرہ تھا لیکن اس بار بھارت اس سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔
ان کھیلوں میں بھارت نے ۵۷۲ ممبروں کی ٹیم اتاری تھی اور کئی کھیلوں میں بھارت نے تاریخی مظاہرہ کیا۔ انڈونیشیا کا جکارتہ شہر بھارت کے لئے ایک بار پھر لکی ثابت ہوا۔ جکارتہ نے ۱۹۶۲ میں پہلی بار ایشیائی کھیلوں کی میزبانی کی تھی اور تب بھارت نے بارہ گولڈ ، تیرہ سلور اور ستائیس کانسے سمیت کل ۵۲ تمغے جیتے تھے۔
بھارت کو ان کھیلوں میں ایتھلیٹ منجیت سنگھ(۸۰۰ میٹر)، جنسن جانسن(۱۵۰۰ میٹر)، تجیندر پال سنگھ طور(گولا پھینک)، نیرج چوپڑہ(بھالا پھنک)، ارپندر سنگھ(تہری کود)، ہیما داسا، ایم آر پومما، سریتا بین گائیکواڈ، وسمئےویلوا(چار گنا ۴۰۰ میٹر خاتون ریلے ٹیم) اور سوپنا برمن(ہیمٹاتھلن) نے گولڈ دلایا۔
کشتی میں بجرنگ پنیا(۶۵ کلوگرام) اور ونیش پھوگاٹ(۵۰ کلوگرام) نے گولڈ جیتا۔ نشانہ بازی میں راہی سرنوبت(۲۵ میٹر پسٹل) اور سوربھ چودھری(دس میٹر ائیر پسٹل)، برج پیئر میں پرنب وردھن اور شبناتھ سرکار، روئنگ میں سورن سنگھ، دتو بھوکنال، اوم پرکاش اور سکھ متی سنگھ کی آدمیوں کی چوکڑی نے کواڈرپل اسکلس، ٹینس میںروہن بوپنا اور دیوج شرن کی جوڑی نے مردوں کے ڈبل اور مکہ بازی میں امت پندھل نے ۴۹ کلوگرام میں گولڈ جیتا۔
اٹھارہویں ایشیاڈ میں بھارت کی کامیابی میں ایتھلیٹکس ٹیم کا سب سے اہم رول رہا جس نے شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے سات گولڈ، دس سلور اور دو کانسے سمیت کل انیس میڈل جیتے۔ نشانہ بازوں نے دو گولڈ، چار سلور اور تین کانسے سمیت نو میڈل حاصل کئے۔
کشتی میں بھارت کو دو گولڈ سمیت تین میڈل ملے جبکہ پہلی بار ان کھیلوں میں شامل کئے گئے برج میں بھارت کو ایک گولڈ اور دو کانسے سمیت تین میڈل ملے۔ روئنگ اور ٹینس میں بھی ایک گولڈ اور دو کانسے سمیت تین میڈل جیتے۔ مکہ بازی میں آخری دن کے گولڈ کے ساتھ بھارت کو دو میڈل حاصل ہوئے۔
تیر اندازی اور گھڑ سواری میں دو دو ملے جبکہ اسکواش میں ایک چاندی اور چار کانسے سمیت کل پانچ میڈل ملے۔ سوئمنگ میں بھارت کو ایک چاندی اور دو کانسے کے ساتھ تین میڈل ملے۔ بیڈ منٹن میں بھارت نے ۳۶ سال کے لمبے عرصہ کے بعد ایک میڈل حاصل کیا۔ بیڈ منٹن میں بھارت کو ایک چاندی اور ایک کانسے کا میڈل ملا۔ بیڈ منٹن کا چاندی اولمپک میں چاندی جیتنے و الی پی وی سدھو نے دلایا۔
ایشیائی کھیلوں میں کبڈی میں کل نو میڈل جیتنے والے بھارت نے پہلی بار اپنے خطاب گنوائے۔ مرد ٹیم کو کانسے اور خاتون ٹیم کو چاندی سے صبر کرنا پڑا۔ کبڈی کی تیرہ مرد ہاکی ٹیم نے بھی اپنا خطاب گنوایا اور اسے آخر کار کانسے سے صبر کرنا پڑا جبکہ خاتون ہاکی ٹیم نے بیس سال بعد فائنل میں جگہ بنائی اور چاندی کا تمغہ جیتا۔
پہلی بار شامل قراش میں ایک چاندی اور ایک کانسے کا میڈل ملا۔ وشو میں جہاں پچھلے تین کھیلوں میں بھارت کو پانچ میڈل ملے تھے وہیں اس بار چار کانسے ہاتھ لگے۔
ٹیبل ٹینس میں اس سے پہلے تک بھارت کا ہاتھ ہمیشہ خالی رہتا تھا لیکن اس بار مرد ٹیم اور مکسڈ ٹیم نے دو کانسے کے تمغے دلائے۔ ان دو کانسے کے تمغوں میں اچنت شرت کمل کا اہم رول رہا جنہوں نے کانسے کے بعد مسکڈ ڈبل میں مینکا بترا کے ساتھ میڈل جیتا۔ اسپیکٹرا میں بھی بھارت کو پہلا تاریخی کانسے کا میڈل ملا۔