بندہ کیلئے وہی بہتر ہے جو اللہ نے اس کیلئے پسند کیا ہے

مولانا عائض القرنی
بندہ کےلئے بھلائی اسی میں ہے جو اللہ نے اس کےلئے چنا ہے کیونکہ اللہ اسے اس سے بھی زیادہ جانتا ہے اور اس کی ماں سے زیادہ مہربان ہے۔ اسے بس اپنے رب کے حکم پر راضی رہنا ہے معاملہ اسی پر چھوڑ دینا ہے اللہ خالق ومالک کو اپنے معاملے میں کافی سمجھنا ہے۔
بابا آدم نے ممنوعہ درخت سے کھا لیا اللہ کی نا فرمانی کی تو زمین پراتار دئے گئے اس کا ظاہری پہلو یہ ہے کہ آدم نے احسن واولیٰ کو چھوڑ دیا مکروہ چیز انہیں ملی لیکن اس کا دوسرا پہلو خیر عظیم اور بہت بڑے فضل کا ہے کہ اللہ نے توبہ قبول کی، ہدایت دی ان کا انتخاب کر لیاانہیں رسول بنا دیا۔ ان کی صلب سے رسول ونبی اور علماء و شہداء، اولیاء ومجاہدین،عابد وزاہد اور سخی پیدا کئے۔ اللہ کی عظمت کے کیا ٹھکانے اس نے ایک طرف فرمایا’’تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور خوش سے کھا ؤ پیو‘‘ایک جگہ فرمایا ’’پھر ہم نے ان کا انتخاب کیا ان کی توبہ قبول کی اور راہ دکھائی‘‘۔پہلی حالت رہنا او رکھانا پینا ہے۔ یہ عام لوگوں کا حال ہے کہ جن کی زندگی میں کوئی مقصد نہیںہوتا کوئی بڑا ہدف نہیں ہوتا دوسری حالت اجتباء و اصطفاء ، نبوت اور ہدایت کی ہے،جو ایک اشرف مرتبہ اوربلند مقامی کی حالت ہے۔
دیکھئے حضرت داؤدؑ سے غلطی ہو گئی ندامت ہوئی اور روئے تویہ ان کے حق میں بڑی نعمت بن گئی کیوں کہ انہوں نے اپنے رب کو کما حقہ جان لیا تھا اور اس کے سامن عاجزی و فروتنی برتی تھی یہی عبودیت کا مقصود ہے۔ اللہ تعالی کے سامنے انکساری وعاجزی عبودیت کے ضروری ارکان ہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ سے حضور ﷺ کا قول: مومن کا معاملہ کیا خوب ہے کہ اللہ اس کےلئے جو بھی فیصلہ کرتا ہے وہ بہتر ہی ہوتا ہے ‘‘کے بارے میں سوال کیاگیا کہ مومن سے معصیت و گناہ جوکام ہو جاتے ہیں کیا اس میں وہ بھی داخل ہوں گے۔کہا:’’ہاں ‘‘بشرطیکہ اس گناہ کے ساتھ ندامت ،توبہ، استغفار ہو جائےیعنی ظاہراً معصیت مومن کے لئے نا پسندیدہ ہے لیکن معنوی طور پر وہ بھی خیر ہی ہوجاتی ہے اگر شرائط پوری ہوں۔
محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو بھی پیش آیا وہ ظاہر وباطن بہر طور خیر ہی ہوا۔ مثلاً قوم نے آپ کی تکذیب کی آپ سے جنگ کی تو یہ سبب بن گیا جہاں د کااللہ کی نصرت کا اور اس کے راستہ میں قربانی دینے کا۔غزوات آپ کےلئے فتح کا ذریعہ بن گئے ان میں جو مومنین شہید ہوئے وہ جنت کے مستحق ہو گئے اگر کفار سے مقابلہ نہ ہوتا تو بڑی کامیابی اور خیر کبیر نہ ملتا۔ نبی کریم ﷺ مکہ سے نکالے گئے بظاہر یہ ناپسندیدہ بات تھی لیکن باطناً اس میں خیر وفلاح پنہاں تھیں کیونکہ ہجرت کے بعد ہی آپ نے اسلامی مملکت کی بنیاد رکھی، انصار دامن اسلام میں آئے اہل ایمان کفر سے ممتاز ہوئے اور ایمان وہجرت وجہاد کے باعث ہی سچے ایمان والوں اور جھوٹوںمیں فرق وامتیاز ہوا۔ جب احد میں نبی کریم ﷺ اور صحابہ ؓ کو شکست ہوئی تو بظاہر یہ ناپسندیدہ امر تھا لیکن اس میں اتنا خیر ظاہر ہوا کہ کہ بیان بیان نہیں کیا جاسکتا کہ بدر کی فتح سے بعض لوگوں میں جو خود پسندی سی پیدا ہو گئی تھی وہ ختم ہو گئی،اپنے نفس پر اعتماد پیدا ہوا۔بہت سے مومنین کو شہادت کا شرف ملا۔ مثلاً سید الشہداء حمزہؓ کو اسلام کے سفیر مصعب بن عمیر ؓ  او رجابرؓ کے والد عبداللہ بن عمرو کو جنہیں خدا نے ہم کلامی سے نواز ا تھا۔غزوہ احد میں منافقین الگ ہو گئے ان کی رسوائی ہوئی اللہ نے ان کے راز کھول کر رکھ دئے۔ اس پر آپ کے مزید احوال ومقامات کو قیاس کر لیں جن کا ظاہر وناپسندیدہ تھا لیکن باطن آپ کے اور مسلمانوں کےلئے خیر ثابت ہوا۔
جو اس بات کو جان لے کہ اللہ نے بندہ کےلئے جو پسند کیا ہے بہتر ہی کیا اس کے مصائب و مشکلات ختم اور دشواریاں آسان ہو جاتی ہیں۔اسے اللہ کے لطف کی توقع ہوتی ہے اور وہ اللہ کے لطف وکرپر بھروسہ کرتا ہے۔لہذا اس کی بیزاری تنگ دلی اور رنج وغم سب ختم ہو جاتے ہیں۔ وہ سب اللہ کے حوالہ کردیتا ہے۔نا راضگی ، بیزار اور اعتراض سب چھوڑ کر صبر وشکر کا رویہ اپناتا ہے۔حتی کہ انجام بہتر ہوتا ہے اور مصائب کی بدلیاں چھٹ جاتی ہیں۔
نوحؑ کو ساڑھے نو سو سال تک دعوت کے راستہ میں ایذاء پہنچائی گئی لیکن آپ صبر واستقلال سے دعوت توحید دیتے رہے اس میں خفیہ علانیہ رات دن ایک کرتے رہے حتی کہ اللہ نے آپ کو نجات دی اور دشمنوں کو طوفان کے ذریعہ غارت کر دیا۔
موسی علیہ السلام ہیں فرعون آپ کے خلاف سازشیں کرتا چالیں چلتا اور طرح طرح سے ایذا دیتا ہے دیس نکالا دیتا ہے اللہ کی نصرت آتی ہے آپ کو عصا عطا ہوتا ہے جو ان کی ساری چالوں کو اکارت کر دیتا ہے۔ اس سے سمندر میں راستہ ملتا ہے جس سے موسی اور بنی اسرائیل پار ہوجاتے ہیں جب کہ دشمن کو ہلاک ورسوا کر دیا جاتا ہے۔
عیسی علیہ السلام سے بنو اسرائیل جنگ کرتے ہیں ایذا پہنچا تے ہیں ان کی ماں کےکردار کے بارے میں پروپیگنڈا کرتے ہیں ان کو قتل کرنا چاہتے ہیں اللہ آپ کو اٹھا لیتا ہے آپ کی نصرت فرماتا ہے اور دشمن ناکام ونا مراد ہو جاتا ہے۔
ہمارے رسول محمد عربیﷺ کو مشرکین یہود اور نصرانیوں نے شدید تکلیفیں پہنچائیں ۔طرح طرح سے ایذا تک دی تکذیب کا مقابلہ کیا دعوت ٹھکرائی استہزاء وتمسخر اور سب و شتم کیا۔ جنون وکہانت شاعری وساحری اور جھوٹ کس چیز کاالزام نہیں لگایا۔وطن سے نکالا، آپ سے جنگ کی ساتھیوں کو قتل کیاگیا۔ سزائیں دی گئیں۔ زوجہ محترمہ پر الزام لگایاگیا۔ حملے ہوئے، بحرانوں کا سامنا ہوا، بھوک پیاس برداشت کی ،زخمی ہوئے سامنے کے دانت ٹوٹے، سرمیں زخم آیا،مددگار سرپرست چچا ابو طالب چھوٹ گئے، زوجہ محترمہ خدیجہ گزر گئیں جو آپ کےلئے بڑا سہارا تھیں۔شعب ابی طالب میں محصور ہوئے،یہاں تک کہ آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے درخت کے پتے کھائے، آپ کی بیٹیاں آپ کی زندگی میں انتقال کر گئیں۔ آپ کے سامنے صاحبزادے ابراہیم کی روح پرواز کر گئی۔احد میں شکست ہوئی،پیارے چچا حمزہ کے ناک کان کاٹے گئے، کئی بار قتل کی کوششیں ہوئیں، بھوک کے مارے پیٹ پر پتھر باندھے،بسا اوقات جوکی روٹی اور ردی کھجور بھی نہ ہوتی،شدید مشکلات ومصائب کا سامنا کرنا پڑ ا۔ جن سے ساتھیوں کو کے کلیجے منھ کو آگئے۔ جابروں کے غرور،متکبرین کی سر کشی، اعرابیوں کے بے ادبی، یہودیوں کی مکاری اور منافقین کے مکر کا مقابلہ کرنا پڑا۔ لوگوں نے دیر سے دعوت قبول کی۔
پھر انجام آپ کے حق میں ہوا۔ آپ کو نصرت سے نوازا گیا کامیابی نے قدم چومے، غلبہ دین ہوا،اللہ نے آپ کی مدد کی اور تمام گروہوں کو شکست ہوئی تمام دشمنوں کو ذلیل کو رسوا اور خوار ہونا پڑا اللہ ہی غالب ہونے والا ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔
دیکھئے ا بو بکر شدائد جھیلتے ہیں،دین کے راستے میں مشکلات برداشت کرتے ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں اثرو رسوخ اور منصب کا استعمال کرتے ہیں اور اللہ کےلئے ہرطرح کی قربانی دیتے ہیںحتی کہ صدیق کا لقب ملتا ہے۔عمرؓبن خطاب کو محراب عبادت میں خون میں نہلا دیا جاتا ہے جب کہ پوری زندگی جہاد،سخاوت قربانی، زہد اور لوگوں کے بیچ اقامت عدل میں گزار دی تھی۔ عثمان بن عفانؓ کو تلاوت قرآن کرتے ہوئے ذبح کر دیاجاتا ہے اپنے اصولوں اور پیغام کی خاطر وہ جان کی بازی لگا دیتے ہیں ۔علی بن ابی طالبؓ زندگی بھر زبردست اقدامات کرتے رہتے ان کو صدق، فدا کاری نصرت اور قربانی کے مقامات بلندحاصل ہوئے اور اس کے بعد آپ کو مسجد میں دھوکہ سے شہید کر دیاگیا۔
حسینؓ کو شہادت ملتی ہے انہیں ؍ظلم وجور سے مار ڈالا جاتا ہے ۔سعید بن جبیر جیسے عالم فاضل اور عابد زاہدشخص کو حجاج قتل کرا دیتاہے اور گناہ کما لیتا ہے۔ ابن الزبیرؓ کو اللہ تعالی حجاج بن یوسف جیسے ظالم کے ہاتھوں حرم میں شہادت سے سرفراز کرواتا ہے۔امام احمد بن حنبلؒ کو حق کے سلسلہ میں قید کیا جاتا ہے۔ ا نہیں بے پناہ کوڑے لگائے جاتے ہیں تب وہ اہل سنت والجماعت کے امام ہوتے ہیں۔ واثق باللہ، امام بن نصر الخزاعی کو قتل کر ڈالتا ہے جوداعی سنت تھے۔ شیخ الاسلام بان تیمیہؒ کو جیل میں ڈالا جاتا ہے اپنے گھر والوں ساتھیوں اور کتابوں سے انہیں الگ کر دیاجاتا ہے لیکن اللہ دنیا میں ان کا غلغلہ بلند کر دیتا ہے۔
امام ابو حنیفہ کو خلیف ابوالمنصور کوڑے لگواتا ہے۔ عالم ربانی سعید بن المسیب کو گورنر مدینہ نے کوڑے لگوائے۔ امام عبداللہ بن عون جیسے عالم ومحمدث کو بلال بن ابی بردہ نے مارا۔ جن کو تکلیف دی گئی مارا گیا کوڑے لگائے گئے قتل کیاگیا معزول کیاگیا اگر ان سب کا شمار کرنے لوگوں تو بات بڑھ جائے گی جتنا میں ذکر کر چکا ہوں وہی بہت کافی ہے۔ الغرض بندے کو یقنین ہونا چاہئے کہ اللہ نے اس کےلئے جو پسند کیا ہے وہی اسکےلئے بہتر ہے۔