خدمت خلق-اسلامی تعلیمات کا روشن باب

مفتی شمیم اکرم رحمانی
خدمت خلق کے لغوی معنی مخلوق کی خدمت کرنا ہے جب کہ اصطلاح شرع میں رضائے الہی کے حصول کےلئے جائز امور میں اللہ کی مخلوق کا تعاون کرنا خدمت خلق کہلاتا ہے۔خدمت خلق محبت الہی کی تقاضہ ،ایمان کی روح اور دنیا وآخرت کی سرخ روئی کا ذریعہ ہے۔ صرف مالی اعانت ہی خدمت خلق نہیں ہے کہ بلکہ کسی کی کفالت کرنا کسی کو تعلیم دینا مفید مشورہ دینا کوئی ہنر سکھانا علمی سرپرسرتی کرنا تعلمی ورفاہی ادارہ قائم کرنا کسی کے دکھ در میں شریک ہونا اور ان جیسے دوسرے امور خدمت خلق کی مختلف راہیں ہیں۔انسان ایک سماجی مخلوق ہے اس لئے سماج سے الگ ہٹ کر زندگی نہیں گذار سکتا اس کی تمام تر مشکلات کا حل سماج میں موجود ہے۔ مال ودولت کی وسعتوں اور بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے اس لئے ایک دوسرے کی محتاجی کو دور کرنے کےلئے آپسی تعاون ،ہمدردی ،خیر خواہی اور محبت کا جذبہ سماجی ضرورت بھی ہے۔مذہب اسلام چونکہ ایک صالح معاشرہ اور پر امن سماج کی تشکیل کا علم بردار ہے اس لئے مذہب اسلام نے ان افراد کی حوصلہ افزائی کو جو خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہو سماج کے دوسرے ضرورت مندوں اور محتاجوں کا درد اپنے دلوں میں سمیٹے تنگ دستوں اور تہی دستوں کے مسائل حل کرنے کی فکر کرے اپنے آرام کو قربان کرکے دوسروں کی راحت رسانی میں اپنا وقت صرف کرے۔کمال یہ ہے کہ اسلام نے خدمت خلق کے دائرہ کار کو صرف مسلمانوں تک محدود رکھنے کا حکم نہیں دیا بلکہ غیر مسلموں کے ساتھ بھی انسانی ہمدردی اور حسن سلوک کو ضروری قرار دیا۔ روایتو ںکے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ جہاں مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیاوہیںتمام مخلوق کو اللہ کا کنبہ بھی قرار دیا۔اس سےانسانیت کی تعمیر کےلئے آپسی ہمدردی باہمی تعاون اور بھائی چارے کی وسیع تر بنیادیں فراہم ہوئی ہیں پڑوسی کے حقوق کی بات ہو یا مریضوں کی تیمارداری کا مسئلہ، غرباء کی امداد کی بات ہو یا مسافروں کے حقوق کا معاملہ اسلام نے رنگ ونسل اور مذہب وملت کی تفریق کئے بغیر سب کے ساتھ یکساں سلوک کو ضروری قرار دیا۔حیرت ہے ان پر لوگوں پر جو مذہب اسلام کی من گھڑت تصویر پیش کرتے ہوئے یہاں تک کا کہا کہ اسلام میںخدمت خلق کا کوئی جامع تصور موجود نہیں ہے بلکہ اسلام نے مسلمانوں کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کرے۔ حالانکہ مذہب اسلام نے بنیادی عقائد کے بعد خدمت خلق کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے قرآن مجید کے مطابق تخلیق انسانی کا مقصد بلا شبہ عبادت ہے لیکن عبادت سے مراد محض نماز روزہ حج وزکوۃ نہیں ہے بلکہ عبادت کا لفظ عام ہے جو حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو بھی شامل ہے۔
علامہ رازی نے عبادت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پوری عبادت کا خلاصہ صرف دو چیزیں ہیں ایک امر الہی کی تعظیم دوسرے خلق خدا پر شفقت،علامہ رازی کی یہ بات دل کو چھو لینے والی اور بہت صحیح ہے۔علم حدیث سے واقفیت رکھنے والے علماء جانتے ہیں کہ فرامین نبوی علیہ السلام کے ایک بڑے حصے کا تعلق حقوق العباد اورخدمت خلق سے ہے۔طول کلامی سے اجتناب ان راویتوں کے تذکرہ کی اجازت نہیں دیتا ورنہ سیکڑوں روایتیں ذکر کی جا سکتی ہیں۔تاہم چند مشہور احادیث کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس سے لوگوں نفع پہنچے،قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔
مذکورہ روایتوںسےجہاںخدمت خلق کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے وہیں یہ بات بھی صاف ہو جاتی ہے کہ مذہب اسلام نے خدمت خلق کے دائرہ ک ار کو کسی ایک فرد یا چند جماعتوں کے بجائے تمام افراد امت پر تقسیم کردیا ہے۔غریب ہو امیر ہو یا بادشاہ وقت ہر شخص اپنی استطاعت کے بقدر خدمت خلق کی انجادم ہی کاذمہ دار ہے یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے خدمت خلق کی محض زبانی تعلیم نہیں دی بلکہ آپ کی عملی زندگی خدمت خلق سے لبریز ہے۔سیرت طیبہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بعثت سے قبل سے آپ خدمت خلق میں مشہور تھے۔بعثت کے بعد خدمت خلق کے جذبہ میں مزید اضافہ ہوا مسکینوں کی داد رسی ،مفلوک الحال پر رحم وکرم ،محتاجوں بے کسوں اور کمزوروں پر مدد آپ کے وہ نمایاں اوصاف تھے جس نے آپ کو خدا اور خلق خدا سے جوڑ رکھا تھا ۔حلف الفضول میں شرکت، غیر مسلم بڑھیا کی گٹھری اٹھا کر چلنا فتح مکہ کے موقع سے عام معافی کااعلان او رمدینہ منورہ کی باندیوں کا آپ ﷺ سے کام کروالینا اس کی روشن مثالیں ہیں۔
آپﷺ کے اصحاب رضوان اللہ علہیم کبطی خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار تھےے حضرت ابو بکر ؓ کاتلاش کرکے غلاموں کو آزاد کرانا، حضرت عمر فاروقؓ کا راتوں کو لباس بدل کر خلق خدا کی دادرسی کےلئے نکلنا،حضرت عثمان غنیؓ کاپانی فروخت کرنے والے یہودی سے سےکنواں خرید کر مسلم وغیر مسلم سب کےلئے وقف کرد ینا تاریخ کے مشہور واقعات میں سے ہیں انصار کا مہاجرین کےلئے بے مثال تعاون بھی اسی زمرہ میں آتا ہے۔خدمت خلق کا یہ جذبہ مذکورہ چند صحابہ کرام میں ہی منحصر نہیں تھا بلکہ آپ کے تمام اصحاب کا یہ حال تھا انہو ںنے رسول اللہﷺ کی اتباع کرتے ہوئے نظام مصطفیٰ کی عملی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی اپنے کردار سے سماجی فلاح وبہبود اور خدمت خلق کا وہ شاندار نقشہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ کر دیا جس کی نظر دنیا کا کوئی نظام حیات پیش نہیں کر سکتا۔یہ ملت اسلامیہ کی بد قسمتی ہے کہ اس نے نماز ،روزہ،زکوۃ اور حج کو عبادت کا حدود اربعہ سمجھ رکھا ہے اور معاشرت، معاملات اور اخلاقیات کو مذہب سے باہر کر دیا ہے۔ حالانکہ یہ بھی دین کے اٹوٹ حصے ہیں۔فرقہ پرستی اور اخلاقی بحران کے اس دور میں اب بات کی شدید ضرورت ہے کہ سماج کے با اثر افراد تنظیمیں اور ادارے خدمت خلق کے میدان میں آگے آئیں ۔دنیا کو اپنے عمل سے انسانیت کا بھولا ہوا سبق یاد دلائیں، نصاب تعلیم میں اخلقایات کو بنیادی اہمیت دی جائے تا کہ نئی نسلوں میں بھی خدمت خلق کا جذبہ پروان چڑھے ۔ خدمت خلق صرف دلوں کے فتح کرنے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ اسلام کی اشاعت کا مؤثر ہتھیار بھی ہے۔
کرو مہربانی تم اہل زمین پر
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر