مخالف آواز دبانے میں بری پھنسی مودی سرکار

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>مخالف آواز دبانے میں بری پھنسی مودی سرکار</h1>

ملک کے دلتوں، آدیواسیوں اور ان کے پیروکاروں کو جیلوں میں ڈالنے کا ناپاک منصوبہ

نئی دہلی: امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کی سطح کی سکیورٹی میں رہنے والے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو مارنے کی سازش کے بہانے بی جے پی سرکار والے مہاراشٹر کی پونے پولیس کو ملک کے پانچ ممتاز اور مشہور انسانی حقوق ایکٹوسٹ کو گرفتار کرنا بہت مہنگا پڑا ہے۔ سپریم کورٹ نے پانچوں کوا ن کے گھروں میں ہی رکھنے کا آرڈر دیتے ہوئے جو کچھ کہا اس سے مودی سرکار کے لئے ڈوب مرنے جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اس سال یکم جنوری کو مہاراشٹر کے بھیما کورے گاؤں میں دلتوں کی تنظیم ایلگار پریشد کے جلسہ کے دوران ہوئے تشدد کی تحقیقات کرنے والی پونے پولیس نے اصل ملزمان سمبھا جی بھنڈے اور ملند ایکبوٹے کے خلاف کوئی کاروائی کرنے کے بجائے وزیراعظم نریندر مودی کو راجیو گاندھی کی طرح قتل کرنے کی سازش کا جن پیدا کردیا اور اٹھائیس اگست کو دلتوں، آدیواسیوں اور انسانی حقوق کے لئے لڑنے والے پانچ لوگوں حیدرآباد سے ستر سال کے بزرگ کوی وریرا، فرید آباد ہریانہ کی مشہور وکیل اور سوشل ورکر سدھا بھاردواج، تھانے مہاراشٹر سے سوشل ورکر اور وکیل ارون پریرا، ممبئی سے وی گون سالویس اور دہلی سے گوتم نولکھا کو گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے فوراً بعد دہلی ہائی کورٹ نے گوتم نولکھا کو دہلی سے پونے لے جانے پر روک لگاتے ہوئے آرڈر کردیا کہ اگلے آرڈر تک انہی کے گھر میں نظر بندر کھا جائے۔ اگلے دن ہریانہ پنجاب ہائی کورٹ نے سدھا بھاردواج کے لئے بھی اسی قسم کا آرڈر کردیا۔ انتیس اگست کو ہی چھ مشہور شخصیات نے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں ایک پی آئی ایل دائر کی تو تین ججوں کی سپریم کورٹ کی بینچ نے سبھی پانچوں کو ان کے ا پنے اپنے گھروں میں ہی نظر بند رکھنے کا آرڈر دے دیا۔ سنوائی کے دوران سپریم کورٹ نے ان گرفتاریوں کو سرکار کے ساتھ نا اتفاقی کی آواز دبانے کا معاملہ قرار دیا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت میں جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بینچ نے بھیما کورے گاؤں واقعہ کے نو مہینے بعد انسانی حقوق کے لئے لڑنے والے ان پانچوں مشہور لوگوں کی گرفتاری پر سوال کرتے ہوئے پونے اور مہاراشٹر پولیس کو ڈانٹ لگائی۔ بینچ نے کہا کہ ان پانچوں لوگوں کو ان کے ا پنے گھروں پر ہی رکھا جائے۔ جسٹس چندر چوڑ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اختلاف جمہوریت کا سیفٹی والو ہوتا ہے اگر زیادہ دبایا تو پریشر کوکر کی طرح کی پھٹ جائے گا۔ سوا چار سال کی مودی سرکار کے منھ پر سپریم کورٹ کا یہ سب سے بڑا اور کرارا طمانچہ ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی کے ترجمان آر ایس ایس کے کئی لیڈر اور مودی کے غلام کئی ٹی وی چینلوں کے اینکرس پوری بے شرمی کے ساتھ ان سبھی کی گرفتاریوں کو جائز ٹھہرانے میں مصروف نظر آئے ۔ مودی کے بڑ بولے وزیر قانون روی شنکر پرساد سمیت سرکار کے تمام وزیروں نے اپنا منھ بند رکھنے میں ہیعافیت سمجھی۔ معاملے کو ڈائیورٹ کرنے کی غرض سے وزیر خزانہ ارون جیٹلی رافیل سودا لے کر میڈیا سے روبرو ہوئے اور راہل گاندھی پر کند ہتھیار سے حملے کئے۔
دلتوں، آدیواسیوں اور انسانی حقوق کے لئے ہمیشہ آگے رہنے والی ان پانچوں نامور شخصیات کی گرفتاری سے دکھی مشہور تاریخ داں رومیلا تھاپر، اکنامسٹ پربھات پٹنائک، دیوکی جین، ستیش دیش پانڈے اور مجا دارو والا جیسے اپنے اپنے میدان کے بڑے لوگوں نے سپریم کورٹ کے دروازے پردستک دی تھی۔ ملک کی عدلیہ کی تاریخ میں انتہائی اہم اور اپنے قسم کا انوکھا قدم اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ نے اس معاملے میں نہ صرف تیسرے فریق کی درخواست کو سنابلکہ انتہائی درجہ کا منصفانہ فیصلہ بھی سنایا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے ملک کے سوا سو کروڑ لوگو ں کے دلوں میں ملک کی عدلیہ کے لئے احترام کا کرنٹ سا تو دوڑا دیااور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوئی جو مودی سرکار میں پریشان کئے جانے کی وجہ سے خوفزدہ رہنے کو مجبور تھے۔ ملک کے دبے کچلے اور پریشان حال لوگوں کا یقین ایک بار پھر پختہ ہو گیاکہ مودی ہویا کسی اور کی جب تک ملک میں مضبوط عدلیہ ہے اس وقت تک کوئی بھی سرکار کسی کے ساتھ نا انصافی اور ظلم نہیں کر سکے گی۔ دہلی کی نریندر مودی اور مہاراشٹر کی پھڑ نویس سرکاروں کو اپوزیشن کو دبانے کا یہ قدم الٹا پڑ گیا۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ دونوں ہی سرکاروں کو اگلے سال اپنے لئے چل چلاؤکا وقت دکھ رہا ہے۔ اس لئے اتاؤلے پن میں اس قسم کے قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ اس کاروائی سے تو پوری طرح ثابت ہو گیا کہ مودی سرکار آئین کے بجائے منوسمرتی کے مطابق چل کر مسلمانوں کے بعد دلتوں کو بھی ہر سطح پر دبا کررکھنا چاہتی ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ اعلیٰ سطحی اور سخت سکیورٹی میں رہنے والے ہندوستان کے وزیراعظم کو مار پانا تو دور ان کے سائے تک کو کوئی چھو نہیں سکتا اس کے باوجود اکثر کوئی نہ کوئی رپورٹ آجاتی ہے کہ وزیر اعظم نریندرمودی کو مارنے کی فلاں فلاںلوگ یا فلاں فلاں تنظیمیں سازش کررہی تھیں۔ مودی کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہ گجرات کے وزیراعلیٰ تھے، فروری مارچ ۲۰۰۲ میں گجرات میںہوئے انسانیت کے قتل عام کے بعد ہر سال چھ مہینے بعد گجرات پولیس اور خفیہ ایجنسیاں ان پر حملے کی مبینہ سازشوں کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کرتی رہی ہیں، کئی بار تو کچھ لوگوں کو انکاؤنٹر میں مارنے کے بعد کہا گیا کہ وہ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ایجنٹ تھے جو گاندھی نگر میں نریندر مودی کو مارنے کے مقصد سے آئے تھے۔ اب پونے پولیس نے اچانک یہ بتادیا کہ بھیما کورے گاؤں میں پچھلی اکتیس دسمبر کو دلتوں کی ایلگار پریشد کے جلسے کے دوران ہوئے تشدد کی تحقیقات کے دوران انہیں دو ایسے خط روناجیکب ولسن کے کمپیوٹر پر ملے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو راجیو گاندھی کی طرح مارنے کی سازش ہو رہی ہے۔ اس سازش کے الزام میںپولیس نے اچانک اٹھائیس اگست کو ملک کے الگ الگ مقامات سے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے پانچ لوگوں کو شہری ماؤوادی بتا کر گرفتار کرلیا ۔ اس سے پہلے جون میں بھی اسی معاملے میں لیفٹسٹ خیالات والے پانچ انسانی حقوق ایکٹوسٹ کو گرفتار کیا جاچکا تھا۔ ان میں دہلی کے رونا جیکب ولسن، سدھیر ٹھاؤلے کو ممبئی سے سریندر گاڈلنگ، مہیش راوت اور شوبھا سین کو پونا سے اٹھا گیا تھا۔
یاد رہے کہ بھیما کورے گاؤں میں دلتوں کے ہاتھوں پیشواؤں کی شکست کے دو سو سال پورے ہونے کے موقع پر ہر سال کی طرح اس سال بھی یکم جنوری کو دلتوں کی تنظیم ایلگار پریشد نے بڑے پیمانے پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مہاراشٹر اور گجرات کے علاوہ کئی ریاستوں کے دلت اس جلسہ میں شامل ہونے کے لئے دو د ن پہلے سے مارچ کرتے ہوئے آنا شروع ہو گئے تھے۔ اکتیس دسمبر کو پونا میں سمستھ ہندو ایکتا گھاڑی کے سمبھا جی بھنڈے اور سمستھ شیو پرتشٹھان ہندوستان کے ملند ایکوٹے نے سورنوں کو بھڑکانے والی بیان بازی کرکے دلتوں کے مارچ پر حملہ کرایا تھا۔ ا س حملے میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی۔یکم جنوری کو بھیما کورے گاؤں میں جمع لاکھوں دلت جب واپس ہونے لگے تو راستے میں ایک بار پھر تشدد ہوا۔ ایلگار پریشد کی جانب سے سمبھا جی بھنڈے اور ملند ایکبوٹے کے خلاف نامزد رپورٹ درج کرائی تھی۔ ملند ایکبوٹے کو پونا پولیس نے معمولی دفعات میں گرفتار کرکے ضمانت پر رہا کردیا۔ سمبھا جی بھنڈے پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت کوئی نہیں کرسکا۔ کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی انہیں اپنا آدرش بتا چکے ہیں۔ بغیر کوئی تحقیقات کرائے وزیر اعلیٰ دویندر پھڑ نویس نے مہاراشٹر اسمبلی میںانہیں کلین چٹ دیتے ہوئے کہہ دیا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔ اسی معاملے کی تحقیقات کے بہانے مہاراشٹر پولیس نے ملک بھر کے دلت ایکٹوسٹوں اور ان کے حامیوں کو پھنسانے کی سازش رچ دی۔ کمپیوٹر سے دو خط بھی تیار ہو گئے جن میں لکھا ہے کہ وزیر اعظم مودی کو راجیو گاندھی کی طرح روڈ شو کے دوران قتل کردیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کی بینچ نے کہا اختلاف جمہوریت کا سیفٹی والو ہے اگر آپ ان سیفٹی والو کی اجازت نہیں دیں گے تو یہ پھٹ جائے گا۔ عدالت عظمیٰ نے اس کے ساتھ ہی ان گرفتاریوں کے خلاف تاریخ داں رومیلا تھاپر اور دیگر چار لوگوں کی اپیل پر مہاراشٹر سرکار اور پولیس کو نوٹس جاری کئے۔ اپیل کرنے والوں میں پربھات پٹنائک اور دیوکی جین بھی شامل ہیں۔ مہاراشٹر سرکار کے وکیل نے اس اپیل کو سنے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ معاملے سے سروکار نہیں رکھنے والے ان لوگوں کے لئے راحت نہیں مانگ سکتے جو پہلے ہی ہائی کورٹوں میں اپیل دائر کرچکے ہیں۔ اس دوران ہائی کورٹ میں مہاراشٹر سرکار نے بھی ہاؤس اریسٹ کی بات قبول کرلی ہے۔ عدالت نے سرکار سے پانچ ستمبر تک جواب داخل کرنے کو بھی کہا ہے۔ سپریم کورٹ اب اس معاملے میں چھ ستمبر کو اگلی سنوائی کرے گا پونا پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ملزم کے گھر سے ایسا خط ملا تھا جس میں راجیو گاندھی کے قتل جیسی پلاننگ کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس خط میں وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنانے کی بات بھی کہی گئی تھی۔ بھیما کورے گاؤں معاملے میں ۲۸ اگست کو ملک کے کئی شہروں ممبئی، حیدرآباد، فرید آباد، دہلی اور تھانے میں چھاپہ ماری کی گئی تھی۔ مہاراشٹر کی بی جے پی سرکار اور اس کی پولیس کا کہنا ہے کہ بھیما کورے گاؤں میں دلتوں اور ان کے حامیوں کی جانب سے کی گئی بھڑکیلی تقریروں کی وجہ سے تشدد پھیلا تھا۔
بھیما کورے گاؤں تشدد سے جڑے معاملے میں پونا پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ذریعہ سماجی اور انسانی حقوق ورکر گوتم نولکھا، ورورا راؤ، سدھا بھاردواج، ارون پریرا اور ورنون گونز سالویس کے گھروں پر چھاپہ ماری کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ بھیما کورے گاؤں تشدد معاملے میں ہوئی لیفٹسٹ دانشوروں کی گرفتاریوں پر روک لگاتے ہوئے سپریم کور نے سرکار کو کڑی پھٹکار لگائی ۔ عدالت نے کہا کہ اختلاف جمہوریت کا سیفٹی والو ہے۔ اگر پریش کوکر میں سیفٹی والو نہیں ہوگا تو وہ پھٹ سکتا ہے۔ بھیم کورے گاؤں تشددمعاملے میں ہوئی گرفتاریوں کے خلاف تاریخ داں رومیلا تھاپر، دیوکی جین، اکنامسٹ پربھات پٹنائک، ستیش دیش پانڈے اور مجا دارو والا نے سپریم کورٹ میں ایک اپیل دائر کی تھی۔ جس پر چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس اے ایم کھانویلکر کی بینچ کے سامنے ان کی طرف سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی، دشینت دوے، راجو رام چندرن، پرشانت بھوشن اور ورندا گروور وہیں، سرکار کی طرف سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتا موجود تھے۔ سپریم کورٹ میں تین ججوں کی بینچ کے سامنے پٹیشنرس کی طرف سے موقف رکھتے ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ پولیس کی ایف آئی آر میں گرفتار لوگوں کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی ان پر کسی طرح کی میٹنگ کرنے کا الزام ہے۔ سنگھوی نے کہا کہ گرفتار لوگوں میں سے ایک سدھا بھاردواج نے اپنی امریکی شہریت چھوڑتے ہوئے بھارت میں وکالت کرنے کو اپنے پیشہ کے طور پر چنا۔ وہ دہلی کی نیشنل لاء یونیورسٹی میں پڑھاتی بھی ہیں۔ لیکن بڑا معاملہ سرکار سے اختلاف کا ہے۔ وہیں سنگھوی کی مخالفت کرتے ہوئے اڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ جن لوگوں کا اس کیس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے وہ سپریم کورٹ کے سامنے ہے جس پر سنگھوی نے کہا کہ یہ معاملہ آئین کی دفعہ ۲۱ کے ذریعہ اختیار کی گارنٹی اور آزادی کے حق سے جڑا ہے۔ لہٰذا ان گرفتاریوں پر روک لگائی جائے۔ وکیل دشینت دوے نے کہا کہ یہ گرفتاریاں بغیر سوچے سمجھے کی گئی ہیں۔ جس کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سبھی فریقین کو سننے کے بعد جسٹس چندر چوڑ نے مہاراشٹر سرکار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ نا اتفاقی ہماری جمہوریت کا سیفٹی والو ہے اگر آپ پریشر کوکر میں سیفٹی والو نہیں لگائیں گے تو وہ پھٹ سکتا ہے۔ لہٰذا عدالت ملزمان کو عبوری راحت دیتے ہوئے اگلی سنوائی تک گرفتاری پر روک لگاتی ہے تب تک سبھی ملزمان ہاؤس اریسٹ رہیں گے۔ سپریم کورٹ میں معاملے کی اگلی سنوائی چھ ستمبر کو ہوگی۔
مہاراشٹر اور پونا پولیس کے مطابق نکسلیوں کی یہ ایک ایسی سازش ہے جس نے ہواس باختہ کردیاایک صوبے کی پولیس اور سرکار کو کیونکہ ایک تشدد سے قتل تک کے ناپاک ارادوں کے جس نیٹ ورک کا خلاصہ ہوا اس میں نشانےپر ہیں ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی، ملک کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور بی جے پی صدر امت شاہ۔ ان خدشات نے اٹھائیس اگست کو ایک دو نہیں ملک کے کئی شہروں میں ہڑکمپ مچا دیا۔ بھیما کورے گاؤں تشدد کے معاملے میں پونا کی پولیس تابڑ توڑ چھاپہ ماری کر کے گرفتاریاں کررہی ہے اور اسی لسٹ میں کچھ نام اور جڑ گئے ہیں۔ خود پولیس یہ بھی کہتی ہے کہ ان سب کے تار نکسلیوں کے ساتھ جڑے ہونے کا شک ہے ابھی کوئی ثبوت نہیں ہے اگر صرف شک ہے تو گرفتاری کیوں؟
تھانے سے گرفتار ارون پریرا کا نام اس لئے آیا کیونکہ جون میں گرفتار کئے گئے ملزمان کے پاس سے نکسلیوں کا ایک ای میل ملا تھا جس میںارون پریرا کا ذکر تھا۔ ارون پریرا پر تشد بھڑکانے کے لئے فنڈ جمع کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ دہلی سے گرفتار گوتم نو لکھا کو جون میں گرفتار کئے گئے وکیل سریندر گڈلنگ نے ایک خط لکھا تھا۔ یہ خط بھیما کورے گاؤں تشدد سے ٹھیک پہلے لکھا گیا تھا۔ اس میں گوتم نو لکھا کو ایلگار پریشد کی میٹنگ میں حاضر رہنے کو کہا گیا تھا۔ پولیس کے پاس بات کا کوئی جواب نہیں تھا کہ ایلگار پریشد کی میٹنگ میں حاضر رہنا گناہ کیسے ہوگیا کیا اس میٹنگ میں کوئی ملک مخالف فیصلے ہوئے تھے؟ فرید آباد سے گرفتار سدھا بھاردواج کے بارے میںپولیس نے گڑھا کہ جے این یومیں بھیما کورے گاؤں کو لے کر ایک میٹنگ ہوئی تھی اس میٹنگ کا انتظام سدھا بھاردواج نے ہی کیا تھا۔ سدھا بھاردواج پر الگ الگ تنظیموں اور مذہبوںکے بیچ دشمنی پھیلانے کے لئے دفعہ -۱۵۳ اے لگائی گئی ہے۔ ساتھ ہی متشددبیان دینے کے لئے آئی پی سی کی دفعہ -۵۰۵، ۱۱۷ اور ۱۲۰ لگائی گئی ہے۔ وہیں گرفتاری کے بعد سدھا بھاردواج کو بھی پونا نہیں لے جایا گیا کیونکہ پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ نے ان کی ٹرانزٹ ریمانڈ پر دو دن کی روک لگا دی تھی۔ لیکن اس سے پہلے دیر رات تک فرید آباد کی عدالت میں سنوائی ہوتی رہی۔ دراصل اٹھائیس اگست کو صبح فرید آباد کے چارم ووڈ ولیج سوسائٹی سے بھیما کورے گاؤں تشدد معاملے میں ایڈووکیٹ سدھا بھاردواج کو پونا پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ حراست میں لینے کے بعد سدھا کو فریدآباد کورٹ میں پیش کرکے ٹرانزٹ ریمانڈ مانگا گیا تھا جسے سی جی ایم کورٹ نے آنکھ بند کرکے پولیس کے دباؤ میں منظور کرلیا۔ اسی بیچ سدھا بھاردواج کے وکیل نے ہائی کورٹ میں اسٹے کی مانگ کی اور پھر ہائی کورٹ نے انہیں تیس تاریخ تک اسٹے دے دیا لیکن جب تک اسٹے کا یہ فیصلہ سامنے آیا تب تک سی جے ایم کورٹ سدھا بھاردواج کو پونا پولیس کو ٹرانزٹ ریمانڈ پر سونپ چکی تھی۔
بعد میں دیر رات ہائی کورٹ سے آرڈر آنے کے بعد پونا پولیس نے سدھا کو واپس فرید آباد میں جج اشوک شرما کے سامنے پیش کیا جہا ں انہوں نے آدھی رات کے بعد تقریباً سوا ایک بجے سدھا کو تیس اگست تک فرید آباد پولیس کی نگرانی میںان کے ہی گھر پر رکھنے کے آرڈر دیئے۔ سدھا بھاردواج کی وکیل کے مطابق اب اگلی سنوائی پھر سے ہائی کورٹ میں ہی ہوگی۔ حیدرآباد سے پکڑے گئے ورورا راؤ، اس معاملے میں گرفتار ہو چکے کبیر کلا منچ کے سدھیردھاؤلے کے قریبی ہیں اور پولیس کے مطابق ورورا راؤ نوجوانوں کو ریکروٹ کرتا تھا۔ ورور ا راؤ کا نیٹ ورک دس ریاست میں پھیلا ہوا ہے اور نکسلی انہیں آدرش بھی مانتے ہیں۔ جبکہ ممبئی سے پکڑے گئے ورون گون سالویس کے پاس سے کئی ایسے کاغذات ملے جس سے ان کے نکسلیوں سے جڑے ہونے کا شک ہے۔ پہلے جن ملزمان کو پکڑا گیا تھا ان سے بھی ورن گون سالویس کے قریبی رشتے ہیں۔ سرکار کا دعویٰ ہے کہ یہ کاروائی پختہ ثبوتوں کے ساتھ کی گئی ہے لیکن معاملہ صرف بھیما کورے گاؤں تشدد تک محدود نہیں ہے۔ پانچ ریاستوں میں ریڈ اور گرفتاریاں اس لئے بھی اہم ہیں کہ اس تشدد کے تار اس سازش سے جوڑ دیئے گئے جہاں نشانے پر ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کو بتایا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس کا خلاصہ تب ہوا تھا جب جون ۲۰۱۸ میں بھیما کورے گاؤں کے تشدد کی جانچ کے دوران دہلی سے گرفتار کئے گئے رونا ویلسن نام کے شخص کے لیپ ٹاپ سے پولیس کو ایک خط ملا۔ اس خط میں لکھا تھا، ’مودی پندر ہ ریاستوں میں بی جے پی کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ایسا ہی رہا تو سبھی مورچو ں پر پارٹی کے لئے بڑی دقت ہوجائے گی۔ کامریڈ کسن اور کچھ دیگر سینئر کیڈر نے مودی راج کو ختم کرنے کے لئے مضبوط قدم سجھائے ہیں۔ ہم سبھی راجیو گاندھی جیسے قتل پر غور کررہے ہیں۔ یہ خود کش لگتا ہے اور یہ بھی توقع ہے کہ ہم ناکام ہو جائیں، لیکن ہمیں لگتا ہے کہ انہیں روڈ شو میں ٹارگٹ کرنا اچھی حکمت عملی ہوسکتی ہے‘۔