کیرلا سیلاب پر گھناؤنی سیاست

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>کیرلا سیلاب پر گھناؤنی سیاست</h1>

سو سالوں میں سب سے بھیانک سیلاب نے کیرلا میں مچا دی ایسی تباہی کہ ابھرنے میں سالوں لگیں گے
نئی دہلی: گزشتہ سو سالوں میں کیرلا میں سب سے بھیانک سیلاب آیا، لاکھوں بے گھر ہو کر ریلیف کیمپوں میں پہونچ گئے، لاکھوں مویشی مر گئے پورا ملک ہی نہیں دنیا بھر میں رہنے والے ہندوستانیوں نے کیرلا کی مد میں ہاتھ بڑھا دیئے۔ ملک کے فوجی جوانوں نے دن رات کام کرکے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ وہ اپنی جان پر کھیل کر ملک اور ملک کے لوگوں پر پڑنے والی کسی بھی پریشانی سے لوگوں کو بچانے میں اپنا سب کچھ قربان کرسکتے ہیں۔ خبر لکھے جانے تک سیلاب کا پانی شہروں، گاؤں اور دیگر آبادیوں سے تیزی کے ساتھ اترنے لگا تھا لیکن پانی اترنے کے ساتھ ہی کیرلا کے عوام اور سرکار دونوں اس خوف میں مبتلا نظر آرہے تھے کہ اب پانی اترنے کے بعد وبائی امراض کا خطرناک حملہ ہوگا۔ اس سے کیسے نمٹا جائے۔ اس بھیانک آفت کے دوران بھی فرقہ پرست طاقتوں خصوصاً آر ایس ایس اور بی جے پی سے متعلق تنظیمیں اور افراد اپنی گھناؤنی اور شرمناک حرکتوں میں ملوث نظر آئے ۔ سب سے پہلے تو وزیراعظم نریندر مودی نے ہی کیرلا کے ساتھ اس وقت بھونڈا مذاق کیا جب سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ہوائی معائنہ کرنے کے بعد انہوں نے اتنی سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لئے کیرلا سرکار کو صرف پانچ سو کروڑ کی مرکزی مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔ ان سے پہلے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بھی کیرلا کا ہوائی دورہ کرنے کے بعد سو کروڑ روپئے کی مرکزی امداد کا اعلان کیا تھا۔ کیرلا میں ہوئے پچیس سے تیس ہزار کروڑ کے نقصان کی بھرپائی کے لئے مودی سرکار نے صرف چھ سو کرور کی مدد دینا ہی مناسب سمجھا۔ مودی کے دورے کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس سے جڑے لوگوں نے جس بے شرمی کا مظاہرہ کیا اس سے پورے ملک کا سر شرم سے جھک گیا۔ آر ایس ایس کے تھنک ٹینک کہے جانے والے چارٹرڈاکاؤنٹنٹ ایس گرو مورتی نے اٹھارہ اگست کو کہہ دیا کہ سپریم کورٹ نے سبری مالا مندر میں خواتین کے داخلے کا آرڈر کردیا تھا اس لئے بھگوان ایبتن کی ناراضگی کی وجہ سے کیرلا پر یہ آفت سیلاب کی شکل میں آئی ہے۔ آر ایس ایس کے مقامی لوگوں نے پروپگینڈہ شروع کردیا کہ کیرلا میں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے اس لئے بھگوان نے ناراض ہو کر چار کروڑ آبادی میں سے تین کروڑ کو سیلاب میں ڈبو دیا۔ خود کو بی جے پی میڈیا اور آئی ٹی سیل کا عہدیدار بتانے والے سریش کوچاٹل نے ٹوئیٹ کرکے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کیرلا کی مدد میں جو بھی پیسہ یا سامان دے رہے ہیں وہ وزیر اعلیٰ فنڈ میں بھیجنے کے بجائے آر ایس ایس کی تنظیم ’سیوا بھارتی‘ کو بھیجیں۔ اس بے شرم شخص نے اپنی اپیل میں کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ فنڈ میں پیسہ گیا تو اس کا زیادہ بڑا حصہ مسلمانوں کے پاس چلا جائے گا۔ عمان کے لولو سینٹر میں مسلمانوں کے پیسوں پر پلنے والے ایک راہل چیرو پلامٹو نام کے سانپ نے تو بے شرمی کی تمام حدیں توڑ دیں۔ اس نے سوشل میڈیا پر پوسٹ ڈال دی کہ کیا راحت امداد ی سامان کے ساتھ کنڈوم بھی بھیج دوں۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے سات سو کروڑ کی مدد دینے کا اعلان کیا گیا تو سرکاری بابو سے ریٹائر ہو کر مودی سرکار میں وزیر بننے والے الفونس نے کہہ دیا کہ ہماری سرکار اس پر غور کرے گی کہ غیر ملکی مدد لینی بھی چاہئے یا نہیں۔ دبئی میں رہ کر کیرلا کے یوسف علی نے چودہ کروڑ پچاس لاکھ روپئے کی مالی امداد دی اور کہا کہ متحدہ عرب امارات میں رہ کر کیرلا کے جو لوگ تجارت کرتے ہیںیا صنعتکار ہیں ان کی ایک کمیٹی بنا کر وہ اور بھی زیادہ بڑی رقم اکٹھا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ دبئی کے امیر شیخ محمد نے کہا کہ ان کی سرکار ڈیڑھ ہزار کروڑ تک کی مدد کرے گی۔عمان سرکار نے بھی مودی سرکار کے برابر ہی پانچ سو کروڑ کی مدد کی پیشکش کی۔ تلنگانہ نے پچیس کرور دینے کا اعلان کیا۔
سیلاب جیسی قدرتی آفت کے وقت بھی وزیر اعظم نریندر مودی نے کیرلا کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا اس پر انگلیاں اٹھنی لازمی ہیں۔ کیرلا کی چار کروڑ میں سے تین کروڑ سے زیادہ آبادی اس سیلاب کا شکار ہوئی ہے۔ مودی کی مرکزی سرکار نے صرف چھ سو کروڑ کی مدد دی مطلب یہ کہ سیلاب کا شکار ہوئے ایک شخص کو ایک سو ساٹھ سے ایک سو ستر روپئے۔ اتنے میں تو تین دنوں کے کھانے کا بھی انتظام نہیں ہو سکتا ہے۔ سودیشی کے نام پر پورے ملک کودونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے یوگ کاروباری رام دیو نے اپنی پتن جلی انڈسٹری کی جانب سے صرف دو کروڑ دینے کا اعلان کیا۔ فلم اداکار شاہ رخ خان نے پانچ کروڑ اکیس لاکھ دیئے۔ ممبئی فلم انڈسٹری سے اکشئے کمار سمیت بڑی تعداد میں اداکاروں اور اداکاراؤں نے بھی کھلے دل اور کھلے ہاتھوں سے کیرلا کی مدد کرنے کا کام کیا۔ حیدرآباد سے لوک سبھا ممبر اسد الدین اویسی نے دس لاکھ روپئے کا چیک وزیراعلیٰ فنڈ میں دیا اور دس لاکھ کی ہی دوائیں بھی بھیجیں۔ مودی کی قریبی کمپنی پے ٹی ایم نے تو صرف دس ہزار کا ہی چیک دیا۔
ایس گرومورتی کو چند دن پہلے ہی نریندر مودی نے ریزرو بینک آف انڈیا کے بورڈ میں شامل کیا ہے، آر ایس ایس میں وہ بہت قابل سمجھے جاتے ہیں۔ اٹھارہ اگست کو انہوں نے ٹوئیٹ کیا کہ سپریم کورٹ کے جج کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ انہوں نے گزشتہ دنوں بھگوان ایبتن کے خلاف جو فیصلہ دیا اس کا سبری مالا میں آئے سیلاب کی تباہی سے کیا کوئی تعلق ہے؟ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سبری مالا مندر میں عورتوں کے داخلے پر لگی پابندی ہٹانے کا فیصلہ دیا تھا۔ گرو مورتی کے اس ٹوئیٹ کو کیرلا کی بی جے پی اور آر ایس ایس نے ہاتھوں ہاتھ لیا ساتھ ہی یہ پروپگینڈہ بھی شروع کردیا کہ کیرلا میں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے اس لئے بھگوان نے غصہ میں کیرلا کو سیلاب سے تباہ کردیا۔ ان عقل کے اندھوں سے کون پوچھے کہ اگر گائے کا گوشت کھانے کی سزا بھگوان دیتا تو گوا اور بنگال کو تو وہ سمندر میں ہی ڈبو دیتا کیونکہ انہی دو ریاستوں میں سب سے زیادہ گائے کا گوشت کھا یا جاتا ہے۔
ان فرقہ پرستوں کے گرنے کا عالم یہ ہے کہ پہلے تو ان لوگوں نے سالوں پہلے ۲۰۱۲ کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرکے جھوٹے دعوے کئے کہ آر ایس ایس والینٹیرس دن رات محنت کرکے سیلاب سےمتاثرہ لوگوں کی مدد کررہے ہیں۔ بی جے پی میڈیا اور آئی ٹی سیل کے لئے کام کرنے والے سریش کوچاٹل نے ٹوئیٹ کرکے کیرلا کو مدد کرنے والوں سے کہا کہ وہ لوگ مدد میں دی جانے والی رقم وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ میں بھیجنے کے بجائے آر ایس ایس کی سیوا بھارتی کے کھاتے میں بھیجیں کیونکہ وزیر اعلیٰ فنڈ میں بھیجی گئی رقم مسلمانوں کو مل جائے گی۔ سریش ملیالی ہے وہ کیرلا کے رہنے والا ہے ، اب وہ دہلی اور سنگا پور میں رہتا ہے۔ اس کی اس حرکت پر ملیالی اخبارات اور مقامی ٹی وی چینلوں نے اس کے اس بیان کے لئے اس کی جم کر مذمت کی۔ سریش جیسا ہی کیرلا کا رہنے والا ایک اور شخص راہل چیرو پلامٹو عمان میں رہ کر لولو سینٹر میں کیشیئر کا کام کرتا تھا اس نے کیرلا میں سیلاب کا شکار لوگوں کا مذاق اڑاتے ہوئے باقاعدہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل کرکے پوچھا کہ کیا ریلیف کے سامان کے ساتھ کنڈوم بھی بھیج دوں۔ اس کے اس پوسٹ کے سامنے آتے ہی اسے نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ نوکری گئی تو وہ بزدل رونے لگا اور بولا کہ اس نے تو شراب کے نشہ میں یہ پوسٹ ڈال دی تھی اب وہ اپنی غلطی کے لئے معافی مانگتا ہے۔
آر ایس ایس نے کیرلا میں جان پر کھیل کر لوگوں کو بچانے میں لگے فوجی جوانوں کو بھی بدنام کرنے کی کوشش کی نتیجہ یہ کہ آرمی کو ایک بیان جاری کرنا پڑا کہ وہ لوگ اپنا کام کررہے ہیں انہیں کسی قسم کی کوئی دقت نہیں ہے۔ ہر بار کی طرح کیرلا میں بھی ہندوستانی فوج نے ثابت کیا کہ وہ صرف سرحد پر رہ کر ہی ملک کی حفاظت نہیں کرتی ملک کے اندر آنے والی کسی بھی قدرتی آفت کے دوران لوگوں کی حفاظت کرنے میں اپنی جان کی بازی لگا دیتی ہے۔ لوگوں کی مدد کرنے میں اس کے سامنے کبھی ہندو مسلم جیسا سوال نہیں رہتا ہے۔ اس کے سامنے صرف ملک اور ملک کے لوگ ہوتے ہیں۔ فوجیوں کے علاوہ کوچین کی مچھوارہ برادری نے بھی جان پر کھیل کر لوگوں کی مدد کی اور سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالا۔ ان میں تقریباً سبھی مسلمان ہیں۔ ان کی محنت اور کام سے خوش ہو کر کیرلا حکومت نے سبھی کو تین تین ہزار روپئے دینے کا اعلان کیا تو ان لوگوں نے یہ پیسہ لینے سے منع کردیا۔ محمد صدیق، فیصل اور سمیر وغیرہ نے کہا کہ انہوں نے جو کیا وہ اللہ کا بتایا راستہ ہے۔ا نہوں نے انسانیت کی خدمت کی ہے۔ اس خدمت کے لئے تین ہزار، تین لاکھ ہو یا تین کروڑ انہیں پیسے نہیں چاہئیں۔ ہاں اگر سرکار چاہے ان کی کشتیوں کا جو نقصان ہوا ہے اس کی مرمت کر ادے۔ خدائی خدمت گار تنظیم کے آل انڈیا صدر انعام الحق اور کیرلا ریاست کے صدر جیش کمار اپنی ٹیم لے کر دن رات لوگوں کی مدد میں لگے رہے اور کبھی بھی یہ نہیں چاہا کہ ان کو اخباروں میں پبلسٹی ملے۔ فوج کے سپاہیوں نے تو اس حد تک کام کیا ہے کہ جوانوں نے الٹے لیٹ کر اپنی پیٹھ کا زینہ بنا دیا جن پر چڑھ کر لوگ سیلاب سے نکلے۔ ان جوانوں کی تعریف کرنے کے بجائے آر ایس ایس نے یہ پروپگینڈہ کردیا کہ کیرلا کی سی پی ایم سرکار کی مرضی کے خلاف مودی نے اپنی فوج کو بھیجا مطلب آر ایس ایس کی نظر میں ملک کی فوج مودی کی جاگیر ہے۔
کیرلا نے اس سے پہلے اتنی بڑی تباہی پچھلے سو سال میں نہیں دیکھی تھی ۔ خبر لکھے جانے تک مرنے والوں کی تعداد سرکاری طور پر تقریباً چار سو تھی لیکن اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ پوری طرح پانی اترنے کے بعد جب راحت اور امدادی ٹیمیں ایک ایک گاؤں پہونچیں گی تو شائد مرنے والوں کی تعداد پانچ سو زیادہ ہو جائے گی۔ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ جوان فوج اور این ڈی آر ایف ٹیم کے کام میں لگے تھے۔ سب سے زیادہ نقصان ارونا کلم اور کوچن علاقہ میں بتایا گیا جہاںسوا لاکھ سے زیادہ لوگ سیلاب کا شکار ہوئے خبر لکھے جانے تک سیلاب میں پھنسے پانچ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو نکالا جاچکا تھا۔ یہ سب الگ الگ جگہوں میں بنے ریلیف کیمپوں میں رکھے گئے۔ کیرلا سرکار کے مطابق تقریباً ۹۵ ہزار کلومیٹر سڑکیں ٹوٹ گئیں جن کی مرمت پر بھاری خرچ آئے گا۔ اس لئے سرکار نے مرکز کی مودی سرکار سے دو ہزار چھ سو کروڑ کی مالی امداد مانگی لیکن نریندر مودی چھ سو کروڑ سے زیادہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔
متحدہعرب امارات نےسات سو کروڑ کی مددفوراً دینے کی پیش کش کی اور اعلان کیا کہ مدد کی یہ رقم پندرہ سو کروڑ تک جا سکتی ہے۔ اسی طرح قطر کے حکمراں ال تمیمی نے بھی پانچ سو کروڑ کی مدد کا اعلان کیا۔ دونوں کا کہنا تھا کہ ان دونوں کے ملکوںکی تعمیر کرنے میں کیرلا کے لوگوں کا شروع سے ہی قابل ذکر تعاؤن رہا ہے۔ اب اگر کیرلا پر مصیبت آئی ہے تو ہماری بھی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم آگے بڑھ کر ان کی مدد کریں۔ خبر لکھے جانے تک مودی سرکار یہ نہیں طئے پائی تھی کہ قطر اور یونائیٹڈ عرب امارات کی مدد لی جانی چاہئےیا نہیں۔مودی کے وزیر کنا تھنم جوزف الفونس نے اس مدد کو بھی ہندو مسلم میں تقسیم کرکے دیکھا اور کہا کہ ان کی سرکار اس بات پر غور کرے گی کہ ان ملکوں کی امداد لی بھی جانی چاہئے کہ نہیں۔ مطلب یہ کہ خود مودی حکومت مدد نہیں کرے گی اور اگر کوئی دوسرا ملک مدد کرے تو اس میں اڑنگے ڈالے گی۔ وجہ صرف اتنی ہے کہ کیرلا کے لوگ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے، اس لئے بی جے پی آج تک وہاں سے لوک سبھا کی ایک سیٹ بھی نہیں جیت پائی ہے۔