عارفین کا حج

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>عارفین کا حج</h1>

مولانا ابو وحید ندوی قاسمی
اسلام کے بنیادی فرائض میں سے حج ایک سب سے بڑی عبادت ہے ۔اس لئے یہ تما عبادتوں کا جامع ہے۔ اس کے علاوہ اس عبادت کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی موحدانہ زندگی سے ہے جو خدا کی مخلصانہ برادری کی ایک بے نظیر مثال ہے۔حج کے سارے اعمال حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اعمال بندگی کی نقل ہیں اور اس لئے انجام دیتے ہیں تا کہ حاجی کے اندر ابراہیمی فکرو نظر پیدا ہو اور جد امجد کی طرح اس کی زندگی بھی خدا کی خالص اطاعت وبندگی میں بسر ہو۔
افسوس!حج جیسی ایک عظیم الشان عبادت بھی اب بے اثر ہو چکی ہے حج کا مقصد محض پچھلے گناہوں کا بخشوانا ہے نہ کہ خدا کی سچی فرمانبرادری اور اس کی دائمی غلامی عہدو اکرام ہم دیکھتے ہیں کہ ہر وہ مسلمان جو دولت مند ہے حج کےلئے روانہ ہو جاتے ہیں جب کہ اس کے پاس تقویٰ کا معمولی زاد راہ بھی نہیں ہوتا حالانکہ اس کا حکم دیاگیا ہے۔حج کی بے اثری کی ایک دوسری وجہ مناسک حج کی حقیقت سے لا علمی ہے بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ دوران حج و عمرہ میں احرام کیو ںپہنچتے ہیں ،تلبیہ کیا ہے؟طواف کیا ہے اور صفا ومروہ کےدر میان سعی کیوں کی جاتی ہے۔عرفات میں اجتماعیت کی غرض کیا ہے؟قربانی کیوں کی جاتی ہے ،اس کے بعد سر کے بال کیوں منڈوائے جاتے ہیں،منی میں کنکریا کیوں ماری جاتی ہیں؟
اسی ضمن میں قارئین کی خدمت میں ایک واقعہ درج ہے مشہور صوفی بزرگ حضرت جنید بغدادیؒ کی خانقاہ میں ایک شخص آیا حسب معمول آپ نے مہمان کی مہمان نوازی کی اور پھر پوچھا کہ میرے بھائی تم کہاں سے آرہے ہو؟جواب میں اس شخص نے کہا میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوںتاکہ شیخ کی روحانی برکات سے فیضیاب ہوں جو شخص اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو چکا ہو اسے ایک انسان کے پاس آنے کی کیا ضرورت ہے؟ درویش نے اپنے عقیدت مند کو ٹوکتے ہوئے کہا لیکن وہ شخص اپنی ضد پر قائم رہا کہنے لگا شیخ مجھے آپ کا فیض درکار ہے میں بڑی توقعات لے کر حاضر ہوا ہوں۔ برائے خدا مجھے مایوس نہ کیجئے۔حضرت جنید بغدادیؒ نے کچھ دیر کےلئے سکوت اختیار کیا پھر اس شخص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جب تم حج کےلئے گھر سے نکلے ہوکیا تم نے گناہوںسے اجتناب کیا؟اس شخص نے نفی میں جواب دیا۔ حضرت جنید بغدادیؒ نے کہا اس کا مطلب تم حج کےلئے گھر سے نکلے ہی نہیں پھر اس شخص سے حضرت جنید بغدادی ؒ پوچھا سفر حج کے دوران جب تم رات گذارنے کےلئے کسی سرائے میں ٹھہرے تو کیا تم نے کوئی مقام قرب طے کیا؟ اس شخص نے بڑی حیرت سے حضرت جنید بغدادی ؒ کی طرف دیکھتے ہوئے نفی میں جواب دیا تو حضرت نے کہا تم نے وقوف ہی نہیں کیا۔پھر پوچھا جب تم مزدلفہ پہنچے تو نفسانی خواہشات سے قطع تعلق کیا؟تو اس نے کہانہیں…حضرت نے کہا تو تم مزدلفہ پہنچے ہی نہیں۔ پھر اس شخص سے پوچھا جب تم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا تو جمال خدا کا مشاہدہ کیا ؟وہ شخص نفی میں جواب دیا تو حضرت نے کہا کہ تم نے طواف ہی نہیں کیا جب تم صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تو مقام صفا حاصل کیا یا نہیں پھر جب تم منیٰ میں آئے تو جانور کی قربانی کے ساتھ ساتھ اپنی نفسانی خواہشات کی قربانی کی یا نہیںپھر جب جمرات کی رمی کی یعنی تینوں شیطانوں کو کنکریا مارتے وقت اپنی حیوانی حسرتیں اور آروزؤں کو بھی دل سے نکال کر دور پھینکا یا نہیں تو وہ شخص ہر سوال کا جواب نفی میں دیا تو حضرت جنید بغدادی ؒ نے بلاتکلف کہا کہ میرے بھائی تم نے سرے سے حج ہی نہیں کیا ہے واپس جاؤ اور دوبارہ حج کرو جیسے میں تمہیں بتاتا ہوں تا کہ تم مقام ابراہیمی تک پہنچنے کی سعادت حاصل کرسکو۔اللہ تعالی ہم سب کو صحیح معنوںمیں مقام ابراہیمی تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)