حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

مولانا عبدالعزیز ندوی
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانیوں کا فلسفہ اور حقیقت کووہی اچھی طرح سمجھ سکتا ہے جس نے سچے دل سے اسلام قبول کیا ہے اوراخلاص اور صدق دل سے اسلام کےاصولوں کے مطابق زندگی گزرانے کی دعوت دیتا ہے۔جو لوگ دین کی باتوں سے نابلد ہوت ے ہیں یا بے دین ہوتے ہیں ان کی سمجھ سے یہ چیز بالا تر ہے کہ بھلا کوئی باپ ا پنی ضعیفی اور ب ڑھاپے میں اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی دینے کےلئے محض خوا ب میں یہ دیکھ کر تیار ہو جائے گا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر ررہا ہے۔پھر بیٹے کو بھی غور وفکر کر کرنے کےلئے کہے گا اور اس کی رائے طلب کرے گا۔اب ذرا حقائق پر غور کیجئے وہ بیٹا جو دنیاکے عظیم پیشوا اور پیغمبر کے زیر تربیت پرورش پایا ہو اور نہایت پاکباز اور اللہ پر غیر معمولی بھروسہ کرنے والی بندی بی بی ہاجرہ جیسی خاتون کی گود میں پلا اور بڑھا ہو وہ کتنا بڑااولوالعزم اور ایثار وقربانی دینے والا ہو سکتا ہے وہی شخص حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اس جواب سے اندازہ کر سکتا ہے جو انہوں نے نہایت خاکساری اور ا نکساری سے دیا تھا۔’’ائے ابا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے اس کے مطابق کر ڈالئے انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘(سورۃ الصافات)
علامہ اقبال نے نہایت خوبصورت انداز میں کہا ہے۔
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے جس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی نظر کی بھی کرامت تھی اور بی بی ہاجرہ جیسی ما ں کی گود(پہلی درس گاہ) کا بھی کرشہ تھا جو ۱۳سالہ لڑکے کے کردار وسیرت میں شجاعت اور نرم خوئی اور سچی جاں نثاری کا پیکر بن کر انسانی شکل میں جلو ہ گر ہوئی جس کی مثال کسی اور شخصیت میں نظر نہیں آتی دشمنوں سے لڑ کر جان دینا اور بات ہے اور باپ کی ایک آواز کو اللہ کا حکم یا اشارہ سمجھ کر اپنے گلے پر چھری چلادینے کےلئے راضی ہو جانا اور بات ہے۔یہ ایسی غیر معمولی بات ہے جسے آسمان کی آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھا جس کا اللہ کے فرشتوں نے کبھی نہیں مشاہدہ کیا۔
حضرت اسماعیل ؑ کا یہ عرض کرناکہ آپ میری طرف سے مطمئن خاطر رہئے مجھے انشاء اللہ صابرین میں سے پائیں گے اتنا بڑا دعویٰ امتثال امر کی اتنی بڑی مثال قربانی کی اور ا نتہائی غیر معمولی جذبہ مستزاد یہ کہ انتہائی انکساری اور عاجزی سے کہا کہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ یعنی مجھ سے پہلے بھی اللہ تعالی کے راستے میں صبر واستقامت کے پیکر گذر چکے ہیں مجھے بڑی بات کا دعوی نہیں ہے۔میری صر ف آرزو اور تمان ہے کہ اس راستے پر جن لوگوں نے صبر واستقامت کے چراغ جلائے ہیں میں بھی اسے روشن رکھنے میں ان جیسے لوگوں کا ساتھ دوں اور چراغ جلاتے جلاتے دنیا ںسے رخصت ہو جاؤں۔
قرآن حکیم کے مطابق دونوں باپ بیٹے نے سرتسلیم خم کر دیا اور باپ نےبیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا ۔مولانا ڈاکٹر اسلم صدیقی نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
حضرت اسماعیلؑ کے جواب کے بعد تسلیم واطاعت کا وہ مرحلہ آیا جس کا تصور وپتوں کا پانی کردینے کےلئے کافی ہے۔دونوں باپ بیٹے منیٰ میں اس جگہ پہنچے جہاں آج کل ایاج میں رمی جمرات کی جاتی ہے باپ نے چھری نکال کر پتھرپر رگڑی اور بیٹے نے اطاعت امر کےلئے سر جھکا دیا۔ فرشتے یقیناً سناٹے میں ہوں گے اور فضا سہمی ہوئی ہوگی۔ یااللہ!یہ کیا ماجرا ہے؟باپ جو سر تا پا محبت وشفقت تھا اور بیٹا جو اطاعت وعقیدت کی تصویر تھا آج زندگی کا انوکھا باب کھولنے کےلئے کیوں تیار ہوگئے۔فرشتوں نے بھی آج تک بے مثال عقیدت واطاعت کی مثالیں قائم کی ہیں لیکن یہ انوکھا تجربہ تھا جس سے انسانیت امتثال امر کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہی تھی۔ جب باپ بیٹا دونوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالی کے حکم کے سپرد کر دیا یعنی باپ نے فیصلہ کر لیا کہ میں زندگی بھر کے ارمانوں کو آج اللہ تعالی کے حضور قربان کردوں گا اور بیٹے نے عہد کر لیا کہ امر الہی کے سامنے سر ہلانے کی جرأت بھی نہیں کروں گا۔تب باپ نے بیٹے کو اٹھایا اور منھ کے بل زمین پر پچھاڑ دیا تاکہ پوری قوت سے گلے پر چھری چلانے کا وقت آئے تو بیٹے کی آنکھوں میںآئے ہوئے آنسو باپ کی قربانی کے جذبے میں کمزوری پیدا نہ کر سکیں۔لیکن اہل علم کا خیال ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی جس طرح مسلسل قربانی اور ایثار کی مجسم تصویر تھی اس میں اس بات کا بہت کم امکان تھا کہ بیٹے کی آنکھ میں آنسو باپ کے پائے ثبات میں لرزش پیدا کر سکتے۔ آپ نے بیٹے کو منھ کے بل اس لئے پچھاڑا تا کہ وہ بیٹےکو سجدہ کی حالت میں قربان کریں کیونکہ اسلام میں سجدے کی ہیئت اللہ تعالی کے قرب کی سب سے بڑی علامت ہے (قرآن کریم میں ارشاد ہے’’وسجدواوقترب‘‘(سجدہ کر اپنے رب کے قریب تر ہو جا)‘‘۔
حقیقت یہ ہے کہ اپنے محبوب سے قریب تر ہونے کےلئے آدمی سب کچھ قربان کرنے کےلئے تیارہوجاتا ہے۔ایسا محبوب جو لافانی ہے۔ جو سب کچھ دانے کا وعدہ کر چکا ہو اور جس کے پاس سب کچھ ہے جب سب کو دیتا ہے اور کسی سے کچھ بھی نہیں لیتا۔جو ایسے محبوب کو دل وجان سے پیار کرنے لگے آخر اس کے لئے وہ کیا کچھ نہیں نچھاور کر سکتا وہ تو زندگی کو بچا کچھا کر نہیں رکھ سکتا بلکہ اس کی راہ میں اس کےلئے سب کچھ کرنے کےلئے آناً فاناً تیاہوجاتا ہے۔ یہی ہے قربانی کا وہ فلسفہ اور حقیقت جو نادانوں میں سمجھ میں نہیں آتا۔