’’بیٹی بچاؤ ‘‘کا ننگا سچ

’’بیٹی بچاؤ ‘‘کا ننگا سچ

ملک کے ہر کونے سے بچیوں کے ریپ کی خبروں کے درمیان شیلٹر ہومس بھی چکلہ خانوں میں تبدیل کردیئے گئے

لکھنؤ:’’بیٹی بچاؤ- بیٹی پڑھاؤ‘‘ کا ڈھونگ کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کی چار سال کی حکومت کے دوران پورے ملک خصوصاً بی جے پی سرکاروں والی ریاستوں سے بیٹیوں کی عزت تار تار کئے جانے کی خبریں روز آتی رہتی ہیں۔ اب تو انتہا ہو گئی کہ بیٹیوں اور لا وارث لڑکیوں کے لئے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے شیلٹر ہومس ہی جسم فروشی کے اڈے بنا دیئے گئے ہیں۔ ایک اردو اخبار میں چھپی خبر نریندر مودی نے پچھلے دنوں صبح صبح پڑھ لی تھی اور اسی دن شام کواترپردیش کے اعظم گڑھ آکر خوب ڈھنڈھورا پیٹا تھا کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے۔ اب ہفتوں سے ملک کے تمام چھوٹے بڑے اخبار اور ٹی وی چینل بہار اور اترپردیش کے شیلٹر ہومس کےذریعے بیٹیوں کےجسم بیچنے کی حرکتوں کی خبروں سے بھڑے پڑے ہیں۔ لیکن نریندر مودی کو نہ یہ خبریں نظر آرہی ہیں نہ ہی سنائی دے رہی ہیں۔ چار سالوں میں سماج بھی اتنی پستی کا شکار ہو گیا کہ ۲۰۱۲ میںایک نربھیا کے ریپ کے خلاف کئی دنوں تک ملک کی سڑکیں بھر دینے والی خواتین اور نوجوان بھی شیلٹر ہومس کی لڑکیوں کی حالت پر گونگے بہرے ہو چکے ہیں۔ مشرقی اترپردیش میں گائے مارے جانے اور تعزیہ کے جلوس کو روکنے کی افواہوں پر ہزاروں کی تعداد میں اکٹھا ہو کر لنچنگ کرنے اور سرکاری و غیر سرکاری املاک کو جلانے والے غنڈے اور دہشت گرد بھی بیٹیوں کی عزت کے سوال پر جیسے بے شرمی کے سمندر میں ڈوب گئے۔ بہار سے اترپردیش تک بیٹیوں کے لئے نہ تو کسی کا خون کھول رہا ہے نہ ’راشٹر‘ کا سر شرم سے جھک رہا ہے۔ ایک دو کو چھوڑ کر باقی ٹی وی چینلوں نے طلاق اور مسلم خواتین کی حالت پر مہینوں پروگرام کئے تھے وہ اینکر اور ٹی وی مداری بھی اب خاموش ہیں۔ اترپردیش کے دیوریا میں تو شیلٹر ہوم چلانے والی گرجا ترپاٹھی نے اخلاقیات کی تمام حدیں توڑ دیں۔ اس نے لڑکیوں کا جسم بیچنے کے لئے ا پنے اڈے کا نام ہی ’ماں وندھیا واسنی‘ کے نام پر رکھ کر برائی کا خاتمہ کرنے والی دیوی درگا تک کو بدنام کردیا۔ لیکن کسی بھی دھرم کے ٹھیکہ دار کا خون نہیں کھولا۔ ایسے سماج اور ایسی سرکاروں میں تو ایسا لگتاہے کہ بھکتوں کی ٹولی جیسے اس ملک کو ’ریپستان‘ بنتے دیکھنے پر تلی ہے۔ یہ سڑا گلا سماج ہندوستان کی ہزاروں سال کی تہذیب کا ضامن تو نہیں ہوسکتا۔
دیوریا کے واقعہ کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی اور خواتین بہبود کی وزیر ریتا بہوگنا جوشی سرگرم ہو گئے۔ یہ شیلٹر ہوم چلانے والی گرجا ترپاٹھی اور اس کے شوہر موہن ترپاٹھی اور بیٹے کو گرفتار کراکر جیل بھیج دیا۔ دیوریا کے ڈی ایم فوراً ہٹا دیئے گئے اور پورے معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کردی، خواتین بہبود اور سماجی بہبود محکمہ سے جڑے کئی افسران کو معطل کردیا گیا اور پوری ریاست کے شیلٹر ہومس کی جانچ شروع کرادی۔ وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ اور ان کی وزیر ریتا بہوگنا جوشی اس وقت سخت حیرت میں پڑ گئیں جب انہیں یہ پتہ چلا کہ لکھنؤ میں پراگ نارائن روڈ پر چل رہے سرکاری شیلٹر ہوم سے ایک لڑکی اٹھارہ جولائی سے غائب ہے۔ جس کا کچھ اتہ پتہ نہیں ہے۔ شام تک رپورٹ آگئی کہ ہردوئی کے ایک شیلٹر ہوم میں رہنے والی اکیس میں انیس لڑکیاں غائب ہیں۔پرتاپ گڑھ میں بی جے پی مہیلا مورچہ کی صدر اور کارپوریٹر رہی رما مشرا جاگرتی سوادھر مہیلا آشرام چلاتی ہیں ان کے آشرم میں سولہہ خواتین رہتی ہیں لیکن معائنہ کے وقت صرف ایک ہی ملی۔ اسی طرح اچل پور کے شیلٹر ہوم میں درج پندرہ میں سے بارہ غائب ملیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آخری رپورٹ آنے تک صورتحال انتہا درجہ تک شرمناک دکھائی دے گی۔
ادھر بہار کا حال یہ ہے کہ خود کو ’سشاسن بابو‘ کہلانے والے نتیش کمار مظفر پور شیلٹر ہوم کی لڑکیوں کے سلسلے میں پہلے تو کئی دنوں تک کچھ بولے ہی نہیں۔ آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے دہلی کے جنتر منتر پر جا کر اس سلسلے میںدھرنا دیا، جس میں کانگریس صدر راہل گاندھی سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے شرکت کی، مطالبہ کیا گیا کہ بہار حکومت اور اس کے رہتے سی بی آئی ایماندارانہ تحقیقات نہیں کرسکتی اس لئے کسی سینئر سٹنگ جج کی نگرانی میں پورے معاملے کی تحقیقات کرائی جائے۔ دہلی کے اس دھرنے کے بعد نتیش کمار کی نیند کھلی، میڈیا سے روبرو ہوئے تو اصل مسئلے پر بات کرنے کے بعد نتیش کمار نے زور اس پر دیا کہ دھرنے کے دوران ان پر اور ان کی سرکار پر سخت حملے کیوں کئے گئے۔ ایک سوال پر وہ بوکھلاہٹ میں یہاں تک کہہ گئے کہ کیا ریپ کا ملک میں یہ پہلا واقعہ ہے جو آپ لوگ اسے اتنا طول دے رہے ہیں؟
نتیش کمار کچھ بھی کہیں یہ حقیقت آئینہ کی طرح صاف ہے کہ مظفر پور شیلٹر ہوم کی لڑکیوں کے جسم بیچنے اور خود کچلنے والا برجیش ٹھاکر ان کا نزدیکی رہا ہے۔ ایک اخبار بھی نکالتا تھا جس کی بمشکل تین سو کاپیاں وہ چھاپتا تھا لیکن سرکولیشن ساٹھ ہزار بتاتاتھا۔ نتیش سرکار اس کے اخبار کو ہر مہینے لاکھوں روپئے کے اشتہار بھی دیتی رہی ہے۔ وہ نتیش کے جنتا دل یونائیٹڈ میں شامل تھا۔ ۲۰۱۵ میں نتیش جب ایک الیکشن ریلی کرنے مظفر پور گئے تھے تو برجیش ٹھاکر نے ہی ان کے ڈائس کو سنبھال رکھا تھا۔ جب نتیش کمار سے اس کے اخبار کو سب سے زیادہ اشتہارات دیئے جانے کا سوال ایک صحافی نے پوچھا تو نتیش کمار نے الٹا انہی سے سوال کرتے ہوئے پوچھا آپ کس اخبار میں کام کرتے ہیں پھر کہا اس سوال کا جواب پرنسپل سکریٹری انفارمیشن دیں گے ابھی لے لیجئے انفارمیشن سکریٹری کچھ کہنے ہی جارہے تھے کہ نتیش کمار نے انہیں روکتے ہوئے کہہ دیا کہ ابھی نہیں بعد میں انہیں بلا کر بتا دیجئے گا۔
نتیش کمار نے بڑے بڑے دعوے کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی گناہ گار کو چھوڑیں گے نہیں۔ سوال یہ ہے کہ صرف کچھ سرکاری افسران کے خلاف ہی کاروائی کرنے سے کیا ہوگا؟تحقیقات تو یہ بھی ہونی چاہئے کہ برجیش ٹھاکر نے کن کن افسران اور سیاستدانوں کی ہوس مٹانے کے لئے ا پنے شیلٹر ہوم سے لڑکیاں بھیجتا تھا۔ ان سبھی کا پتہ لگا کر ریپ اور پاکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ جب تک ان بھیڑیوں کو بھی پکڑ کر جیل میں نہیں ڈالا جائے گا اس وحشیانہ معاملے کا شکار بنی بچیوں کو انصاف نہیں مل پائے گا۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا نتیش سرکار ایسا کرے گی؟ امید بالکل نہیں ہے کیونکہ اس معاملے کا اصل ملزم برجیش ٹھاکر گرفتار ہوا تو اسے جیل بھیجنے کے بجائے اسپتال بھیجا گیا کیونکہ اس نے بیماری کا بہانہ کیا تھا۔ وہ بیمار ہے یا نہیں سی ایم او کے پینل سے اس کی صحت کی جانچ کرائے بغیر ہی اسے اسپتال بھیج دیا گیا۔ خبر لکھے جانے تک وہ اسپتال میں ہی تھا۔ اس سے ملاقات کرنے اور خدمت کرنے والوں کی بھیڑ بھی ہر وقت اسپتال میں دیکھی جاسکتی تھی۔ یہ تمام ہنگامہ مچنے کے باوجود نتیش کمار کی پولیس کی موجودگی اور نگرانی میں ہی ہوتی تھی۔ اتناہی نہیں میڈیا میں تمام ہنگامہ مچنے کے باوجود نتیش کمار اپنی خواتین اور سماجی بہبود وزیر منجو ورما کو ہٹانے کے لئے بھی تیار نہیں ہوئے منجو ورما کا شوہر ریپ معاملے میں ہی جیل میں ہے۔ منجو کا تعلق کوئری برادری سے ہے۔ بہار میں چار سے چھ فیصد تک کوئری برادری کی آبادی ہے۔ نتیش منجو کو ہٹا کر ان کی برادری کو ناراض نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ اب تو کال ڈٹیل سے ثابت ہوچکا ہے کہ منجو ورما مہینے میں دو بار برجیش ٹھاکر سے بات کرتی رہی ہیں۔
اترپردیش کے دیوریا کا شیلٹر ہوم چلانے والی گرجا ترپاٹھی کے تار بھی مظفر پور کے برجیش ٹھاکر کی طرح کئی طاقتور لوگوں سے جڑے بتائے گئے ہیں۔ اپنے انہی تعلقات کی وجہ سے وہ اس پولیس ٹیم اور افسران سے الجھ گئی۔ پولیس بھی ا س پر کافی مہربان رہی اس کے خلاف ریپ اور پاکسو ایکٹ کی دفعات نہیں لگائی گئیں بلکہ گرجا ترپاٹھی اور اس کے شیلٹر ہوم کی سپر وائزر کے خلاف ہنگامہ، مار پیٹ، سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور سرکاری افسران کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے جیسی دفعات کے تحت ہی مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔ اب اترپردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے ہر معاملے کی طرح اس معاملے کا ٹھیکرا بھی مایاوتی اور اکھلیش یادو کی سرکاروں پر پھوڑتے ہوئے کہہ دیا کہ اس شیلٹر ہوم کو ۲۰۰۹ میں رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔ ہوم میں طرح طرح کی گڑ بڑیوں کی باتیں سامنے آتی رہیں لیکن دونوں پچھلی سرکاروں نے کوئی کاروائی نہیں کی ہماری سرکار آتے ہی جون ۲۰۱۷ میں اس کا رجسٹریشن منسوخ کردیا گیا تھا۔ وہ اس حقیقت پر کچھ نہیں بولے کہ اگر ان کی سرکار نے تیرہ مہینے پہلے ہی اس شیلٹر ہوم کا رجسٹریشن منسوخ کردیا تھا تو اس کے بعد بھی پولیس اسی شیلٹر ہوم میں لڑکیاں کیوں بھیجتی رہی۔ کاغذ پر رجسٹریشن رد ہونے کے بعد گرجا ترپاٹھی کی پیٹھ پر کس کا ہاتھ تھا جو شیلٹر ہوم کو سیل یا بند نہیں کرایا گیا۔ تیسرے دیوریا جیسے شہر کے وہ کون لوگ ہیں جو ان لڑکیوں کے ساتھ اپنی ہوس مٹانے کا کام کرتے تھے۔ وہ سفید، کالی اور تیسری لال رنگ کی کاریں کس کی ہیں جس میں سوار کرکے ان لڑکیوں کو شام ہوتے ہی درندوں کے پاس بھیج دیا جاتاتھا۔
دیوریا اور مظفر پور دونوں شیلٹر ہومس کے سلسلے میں پتہ چلا ہے کہ ان دونوںسے لڑکیوں کو جن لوگوں کے پاس بھیجا جاتا تھا ان میں دیگر پارٹیوں کے علاوہ بی جے پی کے ہی کئی ممبران اسمبلی اور وزیر تک شامل ہیں۔ دیوریا سے تو گورکھپور اور لکھنؤ تک لڑکیوں کو بھیجے جانے کی خبریں ہیں۔
اس معاملے کے اصل ملزم برجیش ٹھاکر کے برے کاموںکے بارے میں نئے خلاصے ہوئے ہیں۔ یہ سبھی خلاصے پولیس کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ سے ہوئے ہیں۔ اس معاملے میں ۲۸ جولائی کو سولہ صفحات کی چارج شیٹ داخل کی گئی۔ چارج شیٹ میں پولیس نے جو جو باتیں کہی ہیں اسے جاننے کے بعد مظفر پور شیلٹر ہوم کے ملزم برجیش ٹھاکر کی بدکاری کا پتہ چل رہا ہے۔ شیلٹر ہوم معاملے میں داخل چارج شیٹ کے مطابق۳۴ لڑکیوں کے ساتھ ریپ کئے گئے۔ ایسا ایک دن نہیں گزرتا تھا جب بیٹیوں کی آبرو نہ لوٹی جاتی ہو۔ پاکسو کورٹ میں داخل چارج شیٹ میں ۳۲ لڑکیوں کے بیانات درج ہیں۔ ان کی بتائی باتیں لکھی نہیں جاسکتیں۔ لیکن کچھ پاکسو باتیں پڑھ کر ہی قارئین حیرت زدہ رہ جائیں گے۔ چارج شیٹ کے مطابق مظفر پور شیلٹر ہوم میں ایک کمرا تھا جس کا نام’آپریشن تھیٹر‘ تھا۔ ریپ کے بعد جب کوئی بچی حملہ ہو جاتی تھی تو اس کا اس آپریشن تھیٹر میں ہی ابارشن کرا دیا جاتاتھا۔
مظفر پور شیلٹر ہوم میں شکار بنی لڑکیوں نے بتایا کہ ان سے رات میں سوتے وقت بغیر کپڑوں کے ہی سونے کے لئے کہا جاتاتھا۔ بات نہ ماننے پر برجیش ٹھاکر لڑکیوں کے پرائیویٹ پارٹس پر لاتوں سے مارتا تھا۔ چارج شیٹ میں چونکانے والا خلاصہ ہوا ہے کہ شیلٹر ہوم کا مالک اور معاملہ کا ماسٹر مائنڈ برجیش ٹھاکر بھی لڑکیوں کے ساتھ غلط کام کرتا تھا۔ ایک لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ شیلٹر ہوم کی آنٹیاں زبردستی اسے برجیش ٹھاکر کے کمرے میں لاتی تھیں۔ کمرے میں بھیجنےسے پہلے اسے نشے کی گولیاں دی جاتی تھیں۔ صبح جب وہ اٹھتی تھی تو اسے ناقابل برداشت درد ہوتا تھا اور ان کی پینٹ اتری ہوتی تھی۔ اتنا ہی نہیں دوزخ بن چکے اس شیلٹر ہوم میں لڑکیوں کو ریپ سے پہلےسرسٹھ قسم کی نشیلی دوائیاں اور انجیکشن لگائے جاتے تھے۔ اس سے لڑکیوں کو بے ہوش کیا جاتاتھا۔ اس میں مرگی تک کا انجیکشن شامل تھا جسے لگاتے ہی لڑکیاں بے ہوش ہوجاتی تھیں۔ اس کے بعد لڑکیوں کا ریپ کیا جاتاتھا۔ فی الحال اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کررہی ہے۔ سی بی آئی کے ایس پی جے پی مشرا کی قیادت میں ایک درجن افسر اس معاملے کی جانچ کررہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کے نام سی بی آئی کب ظاہر کرے گی جن کے پاس ان بچیوں کو بھیجا جاتاتھا۔ ان سفید پوشوں کے نام ظاہر ہونا ضروری ہیں تاکہ معصوموں کو انصاف مل سکے۔
اترپردیش کے دیوریا کے شیلٹر ہوم سے۲۴ لڑکیوں کو آزاد کراتے ہوئے یوپی پولیس نے اسے سیل کردیا ہے۔ وہیں، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شیلٹر ہوم سے اٹھارہ لڑکیاں غائب ہیں۔ اس معاملے پر کر اب سیاست بھی تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے یوگی سرکار کو نشانے پر لینا شروع کردیا ہے۔ ادھر دیوریا کے پولیس کپتان روہن پی کنیہ کا کہنا ہے کہ ’ماں وندھیاواسنی مہیلا پرششکن ایوم سماج سیوا سنستھان‘ کے ذریعہ شہر کوتوالی حلقہ میں چلائے جا رہے شیلٹر ہوم میں رہنے والی بہار کی ایک لڑکی نے پانچ جولائی کو مہیلا تھانے جا کر شیلٹر ہوم میں رہ رہی لڑکیوں کو کار سے اکثر باہر لے جائے جانے اور صبح لوٹنے پر ان کے رونے کی شکائت کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ شکائت ملنے پر پولیس نے شیلٹر ہوم پر چھاپہ مارا اور وہاں سے چوبیس لڑکیوں کو آزاد کرایا۔ ساتھ ہی ہوم کو سیل کرتے ہوئے وہاں کی انچارج کنچن لتا، ہوم کی مالک گرجا ترپاٹھی اور اس کے شوہر موہن ترپاٹھی کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس شیلٹر ہوم میں بیالیس لڑکیوں کا رجسٹریشن پایا گیا ہے، جن میں سے اٹھارہ لا پتہ ہیں۔ ان کی تلاش کی جارہی ہے۔ وہاں رہنے والے بچوں نے پولیس کو شیلٹر ہوم میں رہ رہی لڑکیوں سے زبردستی جسم فروشی کرانے کی بات بتائی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ کئی گڑبڑیوں اور غیر قانونی کاموں کی وجہ سے اس ہوم کا رجسٹریشن جون۲۰۱۷ میں منسوخ کردیا گیا تھا۔ ضلع انتظامیہ نے وہاں رہ رہی لڑکیوں کو کہیں اور منتقل کرنے کے لئے کہا تھا۔ بار بار کہے جانے کے باوجود ایسا نہیں کیا جارہاتھا۔ پولیس کپتان یہ نہیں بتا سکے کہ اگر ایسا نہیں ہوا تھا تو ضلع انتظامیہ اور پولیس محکمہ سوتا کیوں رہا؟ جب اس شیلٹر ہوم کا رجسٹریشن منسوخ کردیا گیا تھا تو دیوریا پولیس بے سہارا اور لاوارث لڑکیوں کو شیلٹر ہوم کیوں بھیجتی رہی۔ خبر ہے کہ شیلٹر ہوم کا رجسٹریشن جون ۲۰۱۷ میں منسوخ ہونے کے بعد پولیس نے تقریباً سات سو لڑکیاں اسی شیلٹر ہوم میں بھیجیں جنہیں بعد میں ان کے والدین یا گھر والوں کے حوالے کردیا گیا ۔
خواتین بہبود محکمہ کی وزیر ریتا بہوگنا جوشی نے بتایا کہ شیلٹر ہوم بند کرنے کا آرڈر دئے جانے کے چھ مہینے کے بعد دیوریا کے ڈی پی او رہے ابھیشیک پانڈئے کو معطل کردیا گیا ہے۔ ان کے بعد دو افسران نیرج کمار اور انوپ سنگھ کو ان کے محکمہ کا ایڈیشنل چارج دیا گیا تھا۔ ان دونوں کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کی ہدائت دی گئی ہے۔ ریتا جوشی نے مانا کہ اس معاملے میں مقامی افسران کی سطح پر ڈھلائی ضرور ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۷ میں اقتدار میں آنے کے بعد ان کے محکمہ نے اسی سال اس شیلٹر ہوم کا رجسٹریشن منسوخ ہونے کی بنیاد پر اسے بند کرنے کا آرڈر دیا تھا۔ محکمہ نے پچھلے دنوں اس معاملے میں ایک مقدمہ بھی درج کرایا تھا۔
دیوریا کے شیلٹر ہوم سے کسی طرح بھاگ کر مہیلا تھانے پہنچنے والی لڑکی نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ دیدی لوگوں کو لینے کے لئے ہر رات میں سفید کاریں آتی تھیں، جب وہ لڑکیاں صبح واپس آتی تھیں تو وہ روتے ہوئے آتی تھیں۔ جب ہم لوگ پوچھنے کی کوشش کرتے تو وہ کچھ بھی بولنے سے انکار کردیتیں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں سے پونچھا لگوایا جاتاتھا۔ پونچھا نہ لگانے پر ہم لوگوں کی پٹائی بھی بڑی میڈم اور چھوٹی میڈم کرتی تھیں اور کھانا نہیں دیا جاتاتھا۔
جس بچی کی ہمت کے چلتے اس معاملے کا راز فاش ہوا وہ بیتیا بہار کی ہے۔ اس کی ماں کی تین سال پہلے موت ہوگئی، جس کے بعد اس کے والد نے دوسری شادی کرلی اور اس کو گھر سے نکال دیا۔ وہ اپنے ننیہال پہونچی تو اس کی نانی نے بھی مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا۔ لوگوں نے اسے بچا کر پولیس کو دے دیا۔ پولیس والوں نے اسے شیلٹر ہوم میں پہونچا دیا۔ تین سال سے یہ بچی شیلٹر ہوم میں رہ رہی تھی۔ اس نے ظلم کی کہانی کو بیان کیا تو ہر کسی کی آنکھیں بھر آئیں۔
چھوٹے چھوٹے بچوں کو پولیس نے آزاد کرایا اور پولیس لائین لے کر پہونچے۔ پولیس نے جن بچوں کو برآمد کیا اور انہیں پولیس لائین لایا گیا تو ان کے چہرے پر دہشت طاری تھی۔ ایس پی نے بچوں کو اپنے سامنے کھانا کھلوایا۔ اس کے بعد کچھ بچوں نے ایس پی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ انہوں نے کہا کہ صاحب ہم لوگ پڑھنا چاہتے ہیں، دوسرے بچوں کے ساتھ ڈریس میں اسکول جانا چاہتے ہیں۔ بچوں کی اس بات کو سن ایس پی خود جذباتی ہو گئے اور ضلع پروبیشن افسر پربھات کمار کو بلا کر ان بچوں کے لئے بہتر بندوبست کرنے کی ہدائت دی۔
یہ شیلٹر ہوم چلانے والی گرجا ترپاٹھی نے کہا کہ ان کا تین سال سے سرکار سے بھگتان نہیں کیا گیا ہے۔ بھگتان نہ ملنے کے چلتے وہ ہوم کو خالی نہیں کررہی تھیں۔ ان کے اوپر جو بھی الزام لگ رہے ہیں وہ بے بنیاد ہیں۔ ضلع پروبیشن افسر نے شہر کوتوالی میں پانچ اگست کی رات میں مقدمہ درج کرادیا۔ اس رپورٹ میں ہوم کی مالک اور سپر وائزر کو نامزد کرتے ہوئے ان کے کنبہ کے دیگر لوگوں کو نا معلوم کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ درج کرنے کے ساتھ ہی پولیس نے مالکن کے شوہر کر حراست میں لے لیا ۔ پولیس جلد ہی اس معاملے میں ملوث دیگر ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کررہی ہے۔