بنگلا دیشی گھس پیٹھیوں پر ووٹ کی سیاست

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>بنگلا دیشی گھس پیٹھیوں پر ووٹ کی سیاست</h1>

آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن(این آر سی) یعنی وہ رجسٹر جس میں آسام میں رہنے والوں میں صرف تصدیق شدہ ہندوستانیوں کے نام درج کئے گئے ہیں اس کے سامنے آتے ہی تقریباً سبھی سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے طریقہ سے اسے ووٹ بٹورنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ یہ رجسٹر ووٹ بٹورنے کا ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعہ بنایا گیا پھر اس میں کانگریس، لیفٹ پارٹیاں، ممتا بنر جی کی ترنمول کانگریس، بدرالدین اجمل کی آل آسام یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ اورآسام گن پریشد جیسی قومی اور علاقائی پارٹیاں بھی اس میں کود پڑیں۔ پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے شروع میں ہی کہا تھا کہ یہ این آر سی آخری نہیں ہے جن چالیس لاکھ لوگوں کے نام اس رجسٹر میں شامل نہیں ہو پائے ہیں انہیں بیس اگست سے ایک موقع اور دیا جائے گا۔ وہ اپنی شہریت سے متعلق ضروری دستاویز پیش کرکے اپنا مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔ راجناتھ سنگھ کے اس بیان کے بعد این آر سی پر کوئی ٹکراؤ یا ہنگامہ نہیں ہونا چاہئے تھا سبھی کو بیس اگست سے ہونے والی اگلی مرحلے کی کاروائی کا انتظار کرنا چاہئے تھا۔ اس معاملے پر پارٹیاں خاموش نہیں ہوئیں وجہ ہے بی جے پی کی ہندو مسلم سیاست۔ بی جے پی کو لگا کہ شائد راجناتھ سنگھ کے بیان سے یہ معاملہ بغیر کوئی فائدہ دیئے نکل جائے گا۔ فوراً ہی پارٹی صدر امت شاہ نے کمان سنبھال لی۔ راجیہ سبھا میں بہادری دکھاتے ہوئے بولے ہم میں ہمت ہے کہ ہم نے چالیس لاکھ گھس پیٹھیوں کی شناخت کرا دی جبکہ کانگریس کے وزیراعظم راجیو گاندھی نے ۱۹۸۵ میں آسام معاہدہکیا تھا لیکن کانگریس میںہمت نہیں تھی کہ وہ گھس پیٹھیوں کی شناخت کرا پاتی۔ ان کی یہ پہلوانی راجیہ سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں کو برداشت نہیں ہوئی جم کر ہنگامہ ہوا۔ پارلیمنٹ کے باہر باقاعدہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پورے ملک میں بی جے پی کے لوگوں نے اس مسئلہ کوہندو مسلم رنگ دیتے ہوئے بنگال، دہلی، مہاراشٹر، تریپورہ، اترپردیش، بہار سمیت آدھے سے زیادہ ملک میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن بنانے کا مطالبہ شروع کردیا بنگال میں تو بی جے پی یوا مورچہ نے اس مطالبہ پر جلوس بھی نکال دیا۔ راجیہ سبھا سے غصہ میں تمتائے ہوئے نکل کر امت شاہ اپنی پارٹی کے دفتر پہونچے فوراً میڈیا کو بلایا گیا بولے کہ جو چالیس لاکھ لوگ این آر سی میں شامل نہیں ہو پائے ہیں وہ گھس پیٹھئے ہیں انہیں ملک سے جانا ہوگا۔ اب سوا ل یہ ہے کہ راجناتھ صحیح ہیں یا امت شاہ۔
فی الحال چالیس لاکھ لوگوں کے نام این آر سی میں درج نہیں ہو پائے ہیں راجناتھ سنگھ کے مطابق انہیں اپنی شہریت کے دستاویز پیش کرنے کا ایک اور موقع دیا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چاہے جتنے موقع دیئے جائیں آخر تک دس سے پندرہ لاکھ لوگ ایسے ضرور رہ جائیں گے جو تمام دستاویز پیش نہیں کرپائیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر دس لاکھ لوگ بھی رہ گئے تو ان کا کیا ہوگا؟ کیا انہیں بنگلہ دیش بھیجا جا سکتا ہے؟ ویسے تو یہ نا ممکن ہے اگر ہاں تو کیا بنگلہ دیش انہیں قبول کرلے گا؟ جواب صاف ہے کسی بھی قیمت پر نہیں تو کیا ان کے ہاتھ پیر باندھ کر دریا ئےبرہم پتر میں پھینک دیا جائے گا۔کیا انہیں ایک خاص قسم کی جیل بنا کر اس میں رکھا جائے گا۔ اگر ہاں تو جیل میں ان دس پانچ یا پندرہ لاکھ لوگوں کےکھانے پینے اور دوا علاج کا بوجھ کون اٹھائے گا۔ ان کے لئے بجٹ کہاں سے اور کون لائے گا؟ ظاہر ہے ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے آخر میںان تمام مبینہ گھس پیٹھیوں کا مسئلہ اگلے سال ہونے والے لوک سبھا الیکشن میں سیاسی پارٹیاں خصوصاً بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے ووٹ حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہی ثابت ہو کر رہ جائے گا۔ نریندر مودی کی بی جے پی کی قیادت والے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس میں شامل شیو سینا اور اکالی دل بھی تو اس مئلہ پر بی جے پی کے ساتھ نہیں ہیں۔ اکالی دل کے ممبران پارلیمنٹ نے تو راجناتھ سنگھ سے ملاقات کرکے صاف کہہ دیا ہے کہ جو لوگ تیس پینتیس سالوں سے ہندوستان میں رہ رہے ہیں انہیں شہریت دے دی جانی چاہئے وہ کسی بھی ملک سے آئے ہوں۔
اب وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کہہ رہے ہیں کہ آسام میں تیار ہوئے این آر سی سے کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلہ پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ راجناتھ سنگھ یہ باتیں کرتے وقت بھول جاتے ہیں کہ اس مسئلہ پر سیاست بھی ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی کررہی ہے اور ملک کے کمزور لوگوں کو خوفزدہ کرنے کا کام بھی انہی کی پارٹی کررہی ہے۔ چار اگست کو بی جے پی صدر امت شاہ مغل سرائے میں تھے مغل سرائے اسٹیشن کا نام تبدیل کرکے دین دیال اپادھیائے کے نام پر کرنے کے بہانے بھارتیہ جنتا پارٹی سرکاری خرچ پر وہاں الیکشن ریلی کررہی تھی۔ اس ریلی کو خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ملک میں ایک ایک گھس پیٹھئے کو چن چن کر نکالا جائے گا۔ وہ جب گھس پیٹھیوں کی بات کرتے ہیں تو ان کے نشانے پر صرف اور صرف مسلمان ہوتے ہیں۔ وہ ملک کو بار بار یہ پیغام دینے کی کوشش کررہےہیں کہ پورے ملک میں مسلم گھس پیٹھئے موجود ہیں ہم انہیں جلد ہی نکال باہر کریں گے۔ امت شاہ ہی نہیں بقول یشونت سنہا ان کا نالائق بیٹا جینت سنہا مود ی وزارت میں شامل ہے انہوں نے بھی جھار کھنڈ میں جا کر کہا کہ جلد ہی جھار کھنڈ میں بھی این آر سی یعنی نیشنل رجسٹر آف سٹیزن بنوایا جائے گا۔ منوج تیواری دہلی میں، گری راج سنگھ بہار میں، کوئی بی جے پی وزیر مہاراشٹر میں تو پوری بی جے پی بنگال میں اسی طرح کی کاروائیوں کی دھمکی دے رہے ہیں اور راجناتھ سنگھ کہہ رہے ہیں کہ اس مسئلہ پر سیاست نہیں کی جانی چاہئے سیاست تو ہوگی ہی اب اسے کون روک لے گا۔
جیسا کہ ہم نے اوپر لکھا ہے کہ اس مسئلہ میںہونا کچھ نہیں ہے چار سال میں مودی اور ان کی سرکار اپنا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کرپائی لوک سبھا الیکشن میں بمشکل سات آٹھ مہینوں کا وقت بچا ہے اتنی کم مدت میں اب کچھ ہونے والا نہیں ہے اس لئےبھارتیہ جنتا پارٹی نے اس وقت اپنی آسام پردیش سرکار کا استعمال کرکے، سپریم کورٹ کے بہانے آسام میں بنے این آر سی میں ایک بڑی سازش کے ذریعہ یہ مدا بنایا ہے۔ اگر ریاستی سرکار کی جعلسازی نہ ہوتی تو آخر کون سا پیمانہ ہے کہ دو جڑواں بھائیوں میں ایک کا نام این آر سی میں شامل ہے دوسرا گھس پیٹھیا ہو گیا۔ ملک کے پانچویں صدر جمہوریہ فخر الدین علی احمد کے بھائی کا بیٹا اور ان کا آدھا خاندان گھس پیٹھیا ہو گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو ممبران اسمبلی گھس پیٹھیوں میں شامل ہوگئے۔پچیس تیس سال سے فوج اور پولیس میں نوکری کرنے و الے متعددلوگ یا رٹائر ہو گئے یا رٹائر ہونے والے ہیں وہ گھس پیٹھئے ہو گئے بڑی تعداد میں ہند و اور مسلمان اسکول ٹیچرس گھس پیٹھئے ہو گئے۔ وہ سرکاری ملازم جو این آر سی تیار کرنے میںلگا ہے اس کا پورا کنبہ این آر سی میں شامل ہے لیکن وہ خود گھس پیٹھیا ہو گیا۔
این آر سی پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے ووٹوں کی سیاست شروع کردی تو ترنمول کانگریس کی چیف ممتا بنر جی کیوں خاموش رہتیں آخر کار بنگال میںان کا بڑا ووٹ بینک مسلم طبقہ ہے اور خود بنگالی مسلمانوں کو آسامی مسلمانوںکی طرح بی جے پی شروع سے ہی بنگلا دیشی گھس پیٹھئے قرار دیتی رہی ہے۔ ممتا بنر جی نے کہہ دیا کہ بی جے پی گھس پیٹھیوں کے بہانے جو کچھ کررہی ہے اس سے ملک میں خون خرابے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اب ذرا جعلسازی دیکھئے ممتا بنر جی کے اس بیان پر بی جے پی کے چھٹ بھئیے ورکرس سے پارٹی صدر تک سبھی نے پروپگینڈہ شروع کردیا کہ ممتا بنرجی کہہ رہی ہیں کہا اگر بنگلا دیشی گھس پیٹھیوں کو نکالا گیا تو ملک میں خون خرابہ مچ جائے گا۔ اس بیان کے اگلے دن ممتا دہلی میں تھیں انہو ں نے وہاں بھی اپنا بیان دہراتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔ بیان یہ ہے کہ گھس پیٹھیوں کے بہانے بی جے پی پورے ملک میں جو کررہی ہے ان کی ان حرکتوں کی وجہ سے ملک میں خون خرابہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ ممتا بنر جی کی اس وضاحت کے باوجود بی جے پی کے تمام چھوٹے بڑے لیڈران اور میڈیا چینلوں میں بیٹھے بی جے پی کے خوشامدی اینکرس یہی چیختے رہے کہ ممتا بنگلا دیشی گھس پیٹھیوں کی حمائت کرتی ہیں اور گھس پیٹھیوں کے لئے ملک میں خون خرابے کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔ اس پروپگینڈے سے ملک میں خوف نہیں پیدا ہوگا تو کیاہوگا؟ پھروہی سوال کہ آخر گھس پیٹھیوں کے بہانے سیاست کون کررہا ہے،کون اس مسئلے سے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرررہا ہے؟
۲۰۱۴ کے الیکشن کے دوران آر ایس ایس کے لوگوں نے اترپردیش کے گاؤں گاؤں میں گھوم کر ہندوؤں خصوصاً دلتوں اور پچھڑوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بن گئے تو مسلمانوں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ تقریباً سبھی سے یہاں تک کہا گیا تھا کہ مسلمان بھگائے جائیں گے تو ان کے مکان، دکانیں، زمینیں اور تمام جائیدادیں دلتوں اور پچھڑوں اور غریبو ں میں تقسیم کئے جائیں گے۔ ریاست کے وہ لوگ جن سے ایسے وعدے کئے گئے تھے آج تک انتظار کررہے ہیں کہ آخر مودی ملک کے مسلمانوں کو کب ملک سے نکال باہر کریں گے اور کب مسلمانوں کو ٹھیک کریں گے۔ اب بی جے پی آسام کے علاوہ جو پورے ملک کی الگ الگ ریاستوں میں این آر سی لانے کا پروپگینڈہ کررہی ہے دراصل وہ ایک بار پھر عام ہندوؤں کو گمراہ کرنے کی چال ہے۔ دہلی سے گواہاٹی تک اقتدار میں بیٹھےلوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ آسام کے جو چالیس لاکھ لوگ این آر سی میں درج نہیںہیں ان میں مسلمان ہیں ہندو بھی ہیں اور ملک کی کئی ریاستوں کے رہنے والے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق چالیس لاکھ میں تقریباً پندرہ لاکھ ہندو ہیں۔ اس کے باوجود پروپگینڈہ کیا جارہا ہے کہ چالیس لاکھ بنگلا دیشی گھس پیٹھئے مسلمان ہیں انہیں نکال باہر کیا جائے گا۔ راجناتھ سنگھ کو چاہئے کہ اپنے صدر امت شاہ سمیت پارٹی کے تمام لوگوں کے بیانات پر سنجیدگی سے غور کریں پھر اس مسئلے پر بیان دیں۔