شرعی عدالتوں کی ضرورت اور جواز

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>شرعی عدالتوں کی ضرورت اور جواز</h1>

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ایگزیکیوٹیو کمیٹی کے ایک سینئر ممبر ظفریاب جیلانی نے کہہ دیا کہ دہلی میں ہونے والی بورڈ کی اگلی ایگزیکیوٹیو میٹنگ کے ایجنڈے میں ملک کے تمام اضلاع میں شرعی عدالتیں قائم کرنے کا معاملہبھی شامل ہے۔ ان کا اتنا بیا ن آتے ہی ملک میں ایک عجیب سا ہنگامہ مچ گیا۔ ٹی وی چینلوں میں کام کرنے والے بیشتر اینکرس اپنی لا علمی اور جہالت کی تلواروں پر راشٹر بھکتی کی دھار دے کر نکل پڑے ہر چینل نے گھنٹوں کی بحثیں کرائیں اور یہ ثابت کرنے کی بھونڈی کوششیں کیں کہ ملک کے مسلمانوں کو ملک کی عدلیہ پر بھروسہ نہیں ہے۔ اس لئے پرسنل لاء بورڈ نے ہر ضلع میں شرعی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالانکہ بحث کے وقت تک نیا فیصلہ نہیں ہوا تھا صرف اگلی میٹنگ کے ایجنڈے میں اسے شامل کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ اس پر فیصلہ تو کئی سال پہلے ہو چکا تھاملک کی کئی ریاستوں میں ایسی عدالتیں برسوں سے کام کررہی ہیں۔ سپریم کورٹ ان عدالتوں کو ثالثی مرکز کی شکل میںتسلیم بھی کرچکی ہیں۔ گزشتہ برس سات جولائی ۲۰۱۷ کو سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ان عدالتوں پر آچکا ہے جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ شرعی عدالتیں ملک میں متوازی عدلیہ نظام نہیں ہے یہ تو محض ثالثی مراکز ہیں جہاں مسلم طبقے کے لوگ خصوصاً خواتین کم وقت میں معمولی خرچ پر اپنی زندگی کے فیصلے کرا لیتی ہیں۔ پورا میڈیا پوری بات سمجھے بغیر ہی آر ایس ایس اور بی جے پی لیڈران کی زبان بولنے لگا۔ ملک اور بین الاقوامی قوانین کے جانکار اور لاء یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے فیضان مصطفیٰ نے اس مسئلہ پر ایک ویڈیو بھی جاری کیا تقریباً اٹھائیس منٹ کے اس ویڈیو میں فیضان مصطفیٰ نے ہندوستان ہی نہیں برطانیہ اور امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کام کررہے ایسے ثالثی مراکز کا حوالہ بھی دیا۔ اس کے باوجود چینلوں کے اینکرس کچھ سمجھنے یا ماننے کے لئے تیار نہیں ہوئے کیونکہ یہاں لفظ’شرعی‘ آگیا تھا’شرع‘ لفظ سنتے ہی فرقہ پرست عناصر کے ذہنوں میں نفرت کا زہر ابال کھانے لگتا ہے۔
اس سلسلے میں اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر سے دو غلطیاں ضرور ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ شرعی عدالتوں کی ملک کے بیشتر اضلاع تک توسیع کی بات کرنے کا وقت غلط چنا گیا۔ لوک سبھا الیکشن سر پر ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ وزیراعظم نریندر مودی سمیت پورآرایس ایس کنبہ اس قسم کی باتوں کا بتنگڑ بنا کر کٹر پنتھی ہندوؤں کو اپنی طرف پولرائز کرنے کا کام کرتے ہیں میڈیا خصوصاً پرائیویٹ ٹی وی چینل اس کام میں ان کی پوری مدد کرتے ہیں۔ دوسرے اب ان ثالثی مراکز کو شرعی عدالت کہنے کے بجائے ’شرعی پنچائت‘ کا نام دے دیا جانا چاہئے۔ کئی سال قبل جئے پور میں ہوئے پرسنل لاء بورڈ کے جلسہ میں بھی شرعی عدالتوں کو زیادہ مضبوط بنانے کی تجویز پاس ہوئی تھی۔ اس وقت بھی ہم نے اور ہمارے جیسے بڑی تعداد میں مسلمانوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا نام شرعی عدالت کے بجائے شرعی پنچائت ہونا چاہئے ہمارے ملک میں پنچائت نظام بہت مضبوط ہے۔ شرعی پنچائت پر فرقہ پرستوں کو شور مچانے کا موقع نہیں ملے گا۔ اس وقت پرسنل لاء بورڈ کے ایک سینئر ممبر نے ہمیں جواب دیا تھا کہ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں مضبوط ہو رہی ہیں انہیں تو ’مسلمان‘ لفظ سے ہی نفرت ہے اس لئے اس کا نام شرعی پنچائت ہو یا شرعی عدالت وہ طاقتیں اس کی مخالفت ہی کریں گے۔ کیونکہ انہیں لفظ ’شرعی‘ سے ہی نفرت سی ہے۔ اس لئے نام تبدیل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کے اس جواب کے باوجود ہم آج بھی یہ مانتے ہیں کہ اگر اس کا نام شرعی پنچائت ہو جائے تو شائد اس کی مخالفت بھی کم ہو جائے گی۔
ہندوستان میں گاؤں کی سطح پر پنچائتوں کا بہت ہی اہم رول رہا ہے۔ منشی پریم چند کی کہانی پنچ پرمیشور پنچائتوں پر ہی ہے جو آج بھی اہم ہے اور رہتی دنیا تک رہے گی۔ گاؤں والوں کے جھگڑے جب تک پنچائتوں میں نمٹائے جاتے تھے اس وقت تک عدالتوں اور پولیس پر بھی کام کا بوجھ کم تھا۔ بدقسمتی یا خوش قسمتی کہ اب گاؤں کی پنچائتیں رشوت خوری کا ذریعہ بن گئی ہیں۔ گاؤں پنچائت کے الیکشن میں سبھی سیاسی پارٹیوں کے لوگوں کا بھرپور دخل رہتا ہے۔ جو بھی پردھان چنا جاتا ہے اسے معلوم رہتا ہے کہ گاؤں کے کن کن لوگوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا ہے۔ جیتے ہوئے پردھان اکثر ان لوگوں کے ساتھ دشمنوں جیسا برتاؤ کرتے ہیں جنہوں نے ان کے مخالف امیدوار کو ووٹ دیا ہوتا ہے۔ اسی بدنیتی کی وجہ سے گاؤں پنچائتوں میں گاؤں کے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے جھگڑے طئے نہیں ہو پاتے ہیں نتیجہ یہ کہ نالی کدھر بہے گی،پر نالا کہاں گرے گا اور کھیت کی مینڈھ ٹیڑھی سیدھی جیسے اختلافات میں قتل تک ہو رہے ہیں اور اس قسم کے معمولی جھگڑے بھی لوگ پولیس اور عدالتوں تک جاتے ہیں۔ گاؤں پنچائتوں میں آئی خرابی ہی اصل وجہ ہے کہ آج ملک کی عدالتوں میں پینڈنگ مقدمات کا انبار سا لگا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں اگر پرسنل لاء بورڈ یہ پہل کر رہا ہے کہ شرعی عدالتوں کو ملک کے ہر ضلع تک پہونچانا ہے تو اس میں اعتراص کی کیا بات ہے۔ اترپردیش میں چالیس سے زیادہ شرعی عدالتیں کام کررہی ہیں ان میں کچھ کا کام انتہائی قابل تعریف ہے تو کچھ ایسی بھی ہیں جن میں بیٹھے قاضی صاحبان کے فیصلے شرعی قوانین کے مطابق نہ ہو کر ان کے سامنے آنےو الے فریقین کی حیثیت اور ان میں سے کسی ایک کے ساتھ قاضی کے تعلقات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ سلمان ندوی نے بھی تقریباً تیس سال قبل لکھنؤ میں دارالقضا اور مرکزی بیت المال قائم کیا تھا۔ شروع میں دونوں میں اچھا کام ہوا لیکن چند سالوں میںہی دونوں ہی ہر طرح کی بے ایمانیوں کا شکار ہو گئے نتیجہ یہ کہ وہ دونوں ادارے آج کہاں ہیں شہر میں سلمان ندوی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے۔
پروفیسر فیضان مصطفیٰ نے اپنے ویڈیو میں کانپور کی ایک خاتون پروفیسر انندتا کی ریسرچ کا ذکر کیا ہے۔ پروفیسر انندتا نے اترپردیش کی شرعی عدالتوں کا سروے کرکے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ ان عدالتوں میں مقدمہ پیش کرنے والوں میں نوّے فیصد تک خواتین ہوتی ہیں جو اپنے شوہر سے طلاق یا خلع اور مینٹیننس لینے کے لئے جاتی ہیں۔ قاضی پہلے تو پوری کوشش کرتے ہیں کہ ان میں صلح ہو جائے۔ صلح نہ ہونے کی صورت میں چھ مہینے سے ایک سال تک کی مدت میں ان کے فیصلے ہو جاتے ہیں۔۔ جو لوگ قاضیوں اور شرعی عدالتوں پر خواتین مخالف ہونے کا الزام لگاتے ہیں ان کے الزامات کا ٹھوس جواب بھی پروفیسر انندتا کی رپورٹ میں موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شرعی عدالتوں میں جانے والے معاملات میں پچانوے فیصد فیصلے خواتین کے حق میں ہوتے ہیں اور دونوں فریق ان فیصلوں کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ ان شرعی عدالتوں کے فیصلے جو لوگ نہیں مانتے وہ ملک کی عدالتوں میں جاتے ہیں کیونکہ شرعی عدالتیں اپنے فیصلے تسلیم کرنے کے لئے نہ تو کسی کو پابند کرتی ہیں اور نہ ہی کھاپ پنچائتوں کی طرح فریقین کو جوتے مارنے، جرمانہ بھرنے، سر منڈوانے اور سماجی بائیکاٹ کرنے جیسی پابندیاں لگاتی ہیں۔
بقول فیضان مصطفیٰ بہار کی راجدھانی پٹنہ کے نزدیک پھلواری شریف میں عمارت شریعہ۱۹۲۰ سے کام کررہی ہے۔ وہاں اب تک لا تعداد فیصلے ہو چکے ہیں۔ ان میں بمشکل ایک دو فیصد پارٹیوں نے ہی فیصلے تسلیم نہیں کئے اور عدالتوں میں گئے بھارت میں ۱۹۳۷ میں شریعت ایکٹ بنا تھا۔ جسے سپریم کورٹ تک نے تسلیم کیا ہوا ہے۔ اس پر تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اب تو ملک کے مسلمانوں نے ہی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے کہا ہے کہ شرعی عدالتوں میں خواتین قاضی بھی شامل کی جائیں۔ بورڈ کو اس تجویز پر اعتراض بھی نہیں ہے۔ جو لوگ اور جو طاقتیں مسلمان، شرعی اور اسلام جیسے الفاظ کے سہارے نفرت کی سیاست کررہے ہیں انہیں چھوڑ دینا چاہئے لیکن ٹی وی چینلوں کے چرب زبان اینکرس کو چاہئے کہ وہ کسی خاص سیاسی پارٹی کی غلامی میں بغیر سوچے سمجھے شرعی عدالتوں پر ہنگامہ کھڑا نہ کریں ایسا کرنے سے انہی کی ساکھ خراب ہونے والی ہے۔ لوگ انہیں ہی لاعلم اور جاہل سمجھیں گے۔ انہیں موٹی موٹی تنخواہیں ملتی ہیں ذرا پڑھنے لکھنے کا کام بھی کریں اور معلوم کریں کہ برطانیہ میں طلاق جیسے معاملات ایسی ہی عدالتوں میں طئے کئے جاتے ہیں۔ طلاق اور شوہر بیوی کے دوسرے جھگڑے عدالتوں میں لے جانے پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں عدالتوں میں چار کروڑ سے زیادہ مقدمے پینڈنگ ہیں یہاں اس قسم کی عدالتیں یا پنچائتیں ملک کے جوڈیشیل سسٹم میں مددگار کار ول ادا کرتی ہیں انہیں متوازی عدالتیں قرار دینا کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے۔