خاتون پر مولوی کا ہاتھ اٹھانا

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>خاتون پر مولوی کا ہاتھ اٹھانا</h1>

خصوصی اداریہ
سترہ جولائی کو دلالوں، فرقہ پرستوں اور نریندر مودی کے غلاموں کے ایک ٹی وی چینل نے وہی کرا دیا جو وہ بہت دن سے کرانے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔ چینل کی چرب زبان اور سطح سے گری زبان کا استعمال کرنے والی اینکر سبینہ تمانگ نے طلاق، حلالہ اور شرعی عدالت پر بحث کے لئے خود کو مفتی بتانے والے اعجاز ارشد قاسمی، مس نقوی اور فرح فیض سے لکشمی ورما بنیں سپریم کورٹ کی ایک خاتون وکیل کو بلایا تھا۔ انتہائی بے ہودہ قسم کے سوالات کئے گئے جواب دیتے وقت لکشمی ورما اور اعجاز قاسمی کے درمیان تو تو میں میں ہونے لگی۔ دونوں اٹھ کر کھڑے ہو گئے تو لکشمی ورما نے اعجاز قاسمی کو تھپڑ مار دیا، جواب میں اعجاز قاسمی اس پر ٹوٹ پڑے اور لوگوں کی مداخلت کے باوجود انہیں کئی تھپڑ جڑ دیئے۔ چینل نے پولیس بلائی، اعجاز قاسمی گرفتار کئے گئے، عدالت نے ان کو چودہ دنوں کی جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
فرح فیض عرف لکشمی ورما کی جانب سے مشتعل کئے جانے کے باوجود اعجاز قاسمی کو خاتون پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے تھا۔ ان کی اس حرکت کو کسی بھی قیمت پرایک مسلمان کی کاروائی نہیں کہا جاسکتا۔اس لئے ملک کے مسلم سماج میں ان کی اس حرکت کو گھٹیا قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی۔ وہ آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ کے ممبر بھی ہیں۔ بورڈ نے اس معاملے پر تین ممبران کی کمیٹی بنا دی ہے جو یہ طئے کرے گی کہ ان کے خلاف کیا کاروائی ہونی چاہئے۔ امید تو یہی ہے کہ وہ بورڈ سے نکالے جائیں گے۔ اگر اعجاز قاسمی اسلام کے راستے پر مضبوطی سے چلتے، لکشمی ورما کے تھپڑ مارنے اور بدتمیزی کرنے کے باوجود ان کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے کے بجائے اسی چینل پر بیٹھ کر بتاتے کہ ہم اسلام کے ماننے والے ہیں اس برداشت کیاہے۔ تو ان کی اور اسلام کی صحیح تصویر ملک کے سامنے ہوتی انہیں بے عزت ہو کر جیل نہ جانا پڑتا۔
ارشد قاسمی نے جو حرکت کی اس کے لئے عدالت نے انہیں جیل بھیج کر مناسب سبق سکھا دیا لیکن عدالت کا یہ فیصلہ کافی نہیں ہے۔ کاروائی تو فرح فیض عرف لکشمی ورما، چینل کے مینجمنٹ اور اینکر کے خلاف بھی ہونی چاہئے تھی۔ فرح فیض کو اسلام میں بہت خامیاں نظر آئیں انہوں نے مذہب سے باہر شادی کرلی۔ ان کے شوہر کا نام ونود ورما بتایا جاتا ہے۔ وہ آر ایس ایس کی شاکھا مسلم مہیلا منچ کی کنوینر ہیں۔ ناتھو رام گوڈسے اور تشدد کی پیروکار بتائی جاتی ہیں۔ گوڈسے کی مورتی کو پھول مالا پہناتے ہوئے سوشل میڈیا پر ان کی تصویریں وائرل ہو رہی ہیں جس کی انہوں نے تردید نہیں کی۔ انہیں اسلام پسند نہیں تھا ا س لئے اسے چھوڑ کر ہندوبن گئیں۔ یہ ان کی پسند تھی اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ اب انہیں اس بات کا احساس رہنا چاہئے کہ جس مذہب کو برا سمجھ کر انہو ں نے اسے چھوڑ دیا اس پر گھٹیا تبصرے کرکے اسلام کو ماننے والوں کے جذبات مجروح کرنے کا بھی کوئی اختیار اب انہیں نہیں ہے۔ اب ان کے ذریعہ ایسا کرنا اخلاقی اور قانونی دونوں طریقے سے جرم ہے۔
چینل مینجمنٹ اور اینکر نے اسلامک مسئلہ پر بات کرنے کے لئے انہیں بلانے کی باقاعدہ سازش کی، کیونکہ ہاتھا پائی اور مارپیٹ کے بعد جس طرح کئی گھنٹوں تک سبینہ تمانگ نام کی وہ اینکر چیخ چیخ کر یہی شاٹ بار بار دکھاتی رہی اور انتہائی گھٹیا و بھدی زبان میں بولتی رہی ویسا کام کسی منظم سازش کے تحت ہی کیا جاتا ہے۔ وہ بار بار کہہ رہی تھیں’میں مسلمان نہیں ہوں، لیکن مہیلا ہوں اس لئے اس مولوی کو سبق سکھاؤں گی‘۔ خاتون وہ اینکر ہو، لکشمی ورما ہو یا کوئی اور اس کی عزت اور احترام تو ہر حال میں ہونا چاہئے۔ اعجاز قاسمی اسلام کے ماننے والے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمان، اسلام کے بعد جمہوریت اورگاندھی کی پیروکاری کرتے ہیں اس لئے خاتون کا احترام کرنے کی ان پر دہری ذمہ داری تھی۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ محض احترام کے بہانے کوئی خاتون قانون اپنے ہاتھ میں لے لے اور بلا وجہ کسی کے مذہب پر حملہ کرکے اسے مجروح کرنے کا کام کرے۔ مردہو یا خاتون ہر کسی کو اپنے ا پنے حدود اور قانون کے دائرے میں ہی رہنا پڑے گا۔