جنازوں پر سیاست

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>جنازوں پر سیاست</h1>

تین سوا تین سال تک اقتدار کی بالائی چاٹنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی اور اتنی ہی کٹر پنتھی جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی الگ ہو گئی۔ سرکار گر گئی لیکن تین سوا تین سالوں میں دونوں ہی پارٹیوں نے اپنی اپنی جیبیں بھی خوب بھریں۔ کشمیر وادی میں پی ڈی پی تو جموں میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے عوام میں خود کو مضبوط کرنے کی ہر ممکن کوششیں کیں۔ یہ دیگر بات ہے کہ یہ دونوں ہی اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوپائیں۔ اب دونوں کا طلاق ہو چکا ہے۔ آٹھ دس مہینے بعد لوک سبھا کاالیکشن ہونا ہے تو ظاہر ہے کہ ملک کی دیگر تمام سیاسی پارٹیوں کی طرح بی جے پی اور پی ڈی پی دونوں کو الیکشن جیتنے کے لئے نئے نئے نعروں اور مدوں کی ضرورت ہے۔ کشمیر میں اب جنازوں پر نئی سیاست شروع کرکے پورے ملک میں ہندو ووٹوں کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔ ویسے کشمیر میں جنازوں کی سیاست کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب سے کشمیر وادی میں دہشت گردی کا دور شروع ہوا وہاں جنازوں اور لاشوں پر سیاست ہو رہی ہے۔ اس سیاست میں ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ طریقے سے ہر پارٹی، سرکاریں اور ایڈمنسٹریٹیو افسر سبھی شامل رہے ہیں۔ انتظامیہ کے افسران سے بھی سنگین غلطیاں ہوئی ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ جب میر واعظ مولوی فاروق کو قتل کیا گیا تھا تو ان کے جنازے کے جلوس پر فائرنگ ہوئی تھی، اس وقت فائرنگ کرنے والے اتنے بے لگام ہو گئے تھے کہ ان میں سے کچھ نے مولوی فاروق کے جنازے تک پر گولیاں چلائی تھیں۔ اس وقت جلوس میں شامل لوگوں نے گورنر پر الزام لگائے تھے کہ محض مسلمانوں کو بے عزت کرنے کے لئے مولوی فاروق کے جسد خاکی پر گولیاں چلوائیں تو گورنر خاموش رہے تھے لیکن سرکاری مشینری نے ہی یہ پروپگینڈہ پورے ملک میں کیا تھا کہ دیکھو کشمیر سرکار نے کشمیری مسلمانوں کو سبق سکھا دیا۔ میر واعظ مولوی فاروق کے بیٹے اور آج کے میرواعظ عمر فاروق نے واضح الزام لگایا تھا کہ سرکار نے ان کے والد کو قتل کرایا ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی آئی بی کے افسران نےعمر فاروق کو ایک ویڈیو دکھایا تھا جس سے ثابت ہوتا تھا کہ مولوی فاروق کا قتل انہی لوگوں نے کیا ہے جو پہلے ان کے ساتھ رہتے تھے۔ پرانےساتھیوں نے ہی انہیں خود قتل کیا یا انہیں خرید کر کسی نے کرایا؟پھر ان کے جنازے پر فائرنگ کس نے کرائی ان تمام سوالات کا جواب ابھی تک نہیں ملا ہے لیکن ان کے جنازے پر فائرنگ کاواقعہ دنیا بھر میں ملک کے لئے شرمندگی کا باعث ضرور بنا تھا۔
گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گرد،سرحد پر بیٹھے ان کے آقاؤں اور علیحدگی پسندوں کے ذریعہ کشمیر میں جنازوں کی سیاست کی جاتی رہی ہے انہیں کرنی بھی چاہئے تھی لیکن اصل سوال یہ ہے کہ گزشتہ تین چار سالوں سے جنازوں کی سیاست میں جو اضافہ ہوا اس کے لئے ذمہ دار کون ہے؟یقینی طور پر اس کے لئے مودی کی بی جے پی اور محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کی ساجھا سرکار ہی اصل قصوروار تھی۔ کیا سرکار نے کبھی کسی بھی دہشت گرد کے جنازے میں بھیڑ اکٹھا ہونے سے روکا اگر نہیں تو کیوں اب اس کا جواب کون دے گا؟ خیر اب سرکار نے میڈیا کے ذریعہ یہ خبر پھیلوائی ہے ہےگورنر راج کے دوران آرمی یہ فیصلہ کرنے والی ہے کہ اب مڈ بھیڑ میں مارے جانے والے دہشت گردو ں کی لاشیں ان کے گھر والوں کو نہیں سونپی جائیں گی تاکہ ان کے جنازے کے جلوس میں بھیڑ نہ ا کٹھا ہو سکے اور اس بھیڑ کو دیکھ کر نوجوان اس سے متاثر ہو کر دہشت گردی کا راستہ اختیار نہ کریں دوسرے جنازوں کے جلوس میں شامل ہو کر دہشت گرد سرکار کے سامنے کوئی نئی چنوتی پیش نہ کرنے پائیں۔
یہ خبر پلانٹ ہوتے ہی مودی سرکار کی غلامی میں لگے کئی ٹی وی چینلوں نے ملک کے جذبات بھڑکانے والی بحثیںشروع کردیں۔ ان پڑھ قسم کے اینکرس چیخ چیخ کر بحث میں شامل لوگوں خصوصاً مسلم نمائندوں سے چیخ چیخ کر سوال کرنے لگے کہ دیش دروہی دہشت گردوں کے جنازے نکالیں ہاں یا نا اب ایسے حساس مسئلہ پر ہاں یا نا میں جواب کوئی کیسے دے سکتا تھا۔ پھر اینکروں نے وہی کیا جس کی ہدائت انہیں ان کے آقاؤں سے ملی تھی۔ انہوں نے کہنا شروع کیا کہ آپ لوگ دہشت گردوں کے جنازوں کے جلوس نکال کر ان کی عزت افزائی کرنا چاہتے ہیں۔ ملک کے ہندوؤں کو اثر دار طریقہ سے پیغام دیا گیا کہ دیکھو یہ مسلمان ہیں جو مارے جانے کے بعد بھی دہشت گردوں کی عزت افزائی کرانا چاہتے ہیں۔ جب کہ وزیر اعظم مودی اور ان کی سرکار ایسا نہیں چاہتی۔
چونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب دہشت گردوں کے جنازوں کو بھی ووٹوں میں بھنانا چاہتی ہے اس لئے اس قسم کی خبریں پہلے پلانٹ کرائی گئیں پھر غلام ٹی وی چینلوں پر بحثیں کرائی گئیں۔ اگر سرکار اس معاملے میں سنجیدہ اور ایماندار ہوتی تو آئندہ مڈ بھیڑ میں مارے گئے دہشت گردوں کی لاشیں ان کے گھر والوں یا گروہوں کو سونپنے کے بجائے خاموشی کے ساتھ پولیس اور سماجی تنظیموں کے ذریعہ انہیں دفن کرا دیتی ۔ زیادہ سے زیادہ یہ بھی کیا جاسکتا تھا کہ مارے گئے دہشت گردوں کے گھر والوں کو بھی بلا کر تدفین میں شامل کرایا جاتا۔ اس کے بعد اگر کوئی اس کاروائی پر اعتراض کرتا تب اس پر بحث بھی ہوسکتی تھی اور خبریں بھی شائع کرائی جا سکتی تھیں۔ ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ ایسا کرنے سے کشمیر کے باہر کے لوگوں کے جذبات بھڑکائے نہیں جاسکتے ہیں۔ ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر اس طرح مار ے گئے دہشت گردوں کو دفنا دیا جائے تو ان کے گھر والوں کے علاوہ کوئی دوسرا اعتراض نہیں کرے گا۔ مقبول بھٹ کو اندرا گاندھی سرکار میں اور افضل گرو کو منموہن سنگھ سرکار میں تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تو وہیں دفنا دیا گیا تھا۔ افضل گروکو تہاڑ جیل میںہی دفنائے جانے کے خلاف صرف محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے ہی شور مچایا تھا جس کی گود میں بیٹھ کر نریندر مودی کی بی جے پی نے جموں کشمیر میں سرکار بنائی۔
خبریں شائع کرائی گئیں کہ مڈ بھیڑ میں مارے گئے دہشت گردوں کی لاشیں اب ان کے گھر والوں کو نہ سونپنے پر آرمی غور کررہی ہے یہ جھوٹ ہے کیونکہ فوج کا یہ کام ہی نہیں ہے۔ آرمی کے ساتھ مڈ بھیڑ میں مارے جانے والوں کی لاشیں آرمی مقامی پولیس کو سونپ دیتی ہے۔ پھر پولیس اور سرکار ہی اس کی تدفین یا آخری رسومات ادا کرنے کی ذمہ داری پوری کرتی ہے۔ پھر آرمی کو اس تنازعہ میں کیوں کھینچا گیا؟ ملک کا قانون اور روائت یہی رہی ہے کہ دہشت گردہوں یا ماؤوادی ہوں یا ڈاکو مڈ بھیڑ میں جو بھی مارا جاتا ہے بعد میں اس کی لاش اس کے گھر والوں کو سونپ دی جاتی ہے۔ اسی روائت کے چلتے تو ملک کی آرمی سرحد پر مارے جانے والے پاکستانی فوجیوں اور دہشت گردوں کی لاشیں پاکستان کو سونپتی رہی ہے۔کرگل میں مارے گئے پاکستانی فوجیوں، ممبئی پر حملہ کرنے والے پاکستانی دہشت گردوں ، یہاں تک کہ اجمل قصاب کی لاش بھی کئی دنوں تک ڈیفریزر میں رکھ کر پاکستان سے کہا گیا کہ وہ لاش لے لیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں تھی کہ وہ اپنے بھیجے ہوئے فوجیوں اور دہشت گردوں کی لاشیں لے جا کر اپنے یہاں دفن کراتا اور کئی دنوں تک انتظار اور لاشیں لینےسے پاکستان کے انکار کے بعد ہی سرکار نے اپنی ہی دھرتی پر انہیں دفن کرا دیا۔
اب اگر کشمیر میں دہشت گردوں کی لاشیں ان کے گھر والوں کو نہ سونپنے کا ارادہ سرکار کا ہے تو ایک آرڈر کردینا چاہئے کہ اب ہم مڈ بھیڑ میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی لاشیوں کو ان کے گھر والوں کو نہیں سونپیں گے۔ کیونکہ ان کے جنازے کا جلوس نکلتا ہے تو وادی کا ماحول خراب ہوتا ہے پھر دیکھئے کون اعتراض کرتا ہے؟ ایسا اسلئے نہیں کیا جارہا ہے کہ اس کے پیچھے بھی بد نیتی نظر آتی ہے۔ لوک سبھا الیکشن سے پہلےدہشت گردوں کے جنازوں پر بھی سیاست شاید سرکار میں بیٹھے لوگوں کے لئے فائدہ کا سودا نظر آرہا ہے۔ ملک کے مسلمان کسی بھی دہشت گرد کی نہ تو حمائت کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے مرنے کے بعد اس کے جنازے کی عزت افزائی کرنا چاہتے ہیں۔ ہاں اگر سرکار یعقوب میمن کے جنازے کی طرح گھر والوں کے ساتھ سودے بازی کرکے جنازہ سونپے گی تو اس کی تدفین تو مسلمان کی طرح ہی ہوگی کوئی کتنا ہی بہک جائے دہشت گرد بن جائے، ڈاکو بن جائے یا بے گناہ ہوتے ہوئے بھی بھوپال جیل سے نکال کر پولیس کے ذریعہ قتل کردیا جائے مرنے کے بعد اس کی تدفین یا آخری رسومات کی ادائیگی تو اس کے اسی مذہب کے مطابق کی جائے گی جس مذہب میں وہ پیدا ہوا ہوگا۔اس پرکسی کو اعتراض کیسے ہو سکتا ہے۔ کیا ملک کے پہلے دہشت گرد ناتھو رام گوڈ سے کی پھانسی کے بعد اس کے مذہب کے مطابق اس کی آخری رسومات ادا نہیں کی گئی تھیں۔ اب تو بڑی تعداد میں دہشت گردوں کی ذہنیت و الے لوگ ہر سال اس کے لئے جلسہ کرتے ہیں اور اس کا مندر بنانے کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔