ٹوٹنے لگا مودی کا جادو – بکھرنے لگا ہے این ڈی اے

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>ٹوٹنے لگا مودی کا جادو – بکھرنے لگا ہے این ڈی اے</h1>

نئی دہلی۔ وزیر اعظم بننے سے پہلے اور بعد میں اپنی باتوں سے جو طلسم کھڑا کیا تھا وہ اب ٹوٹنے لگا ہے۔ حالانکہ ابھی بھی مودی بھکت نیند سے پوری طرح بیدار نہیں ہوئے ہیں مگر بی جے پی کے ساتھ این ڈی اے کی شکل میں شامل سیاسی پارٹیوں کی آنکھیں پوری طرح کھل چکی ہیں۔ انہوں نے دیکھ لیا کہ ساڑھے تین سال سے زیادہ کی مودی سرکار نے ملک میں کوئی بھی ایسا ترقیاتی کام نہیں کرایا ہے جس کا ذکر وہ اپنی ریاست کے عوام کے سامنے  کر سکیں۔ اس دوران ’وکاس‘ صرف شوچالیوں کا ہوا ہے اور پورے ملک میں فرقہ پرستی کا زہر پھیلایا جارہا ہے۔ بی جے پی کی طرح ہی ہندوتو کی سیاست کرنے و الی شیو سینا نے سب سے پہلے ہندو تو کے خود ساختہ ٹھیکہ داروں کی فوج کے لئے مرکز کی مودی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا اور اس سے ناطہ توڑنے کا اعلان کیا۔ ان کے بعد تیلگو دیسم کے چندربابو نائیڈو،سوہیل دیو سماج پارٹی کے اوم پرکاش راجبھر نے بھی این ڈی اے چھوڑنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ پچھڑوں کے لیڈر بہار کے اُپیندرکشواہا اور مہا دلت طبقہ کے جتن رام مانجھی بھی این ڈی اے سے الگ ہو سکتے ہیں۔ اس سےتو  ایسا لگ رہا ہے کہ اب  مودی کا جادو ٹوٹ رہا ہے اور اس جادو سے  بندھا این ڈی اے بکھرنے لگا ہے۔

یوپی کی یوگی سرکار  میں شامل سوہیل دیو سماج پارٹی کے صدر اور ریاست کے پچھڑاویلفیئر وزیر اوم پرکاش راجبھرنے بغاوت کا بگل پھونک دیا ہے۔ راجبھرنے کہا ہے کہ سرکار میں اگر ان کی سنی نہیں جاتی تو پھر ۲۰۱۹ کے  الیکشن میں راستے الگ ہو جائیں گے۔ اوم پرکاش راجبھر کے علاوہ ملک کی اور کئی ریاستوں میں این ڈی اے کے حلیف بی جے پی سے ناراض ہیں اور ان کی ناراضگی سے ۲۰۱۹ کا چناوی حساب کتاب بگڑ سکتا ہے۔اودھو ٹھاکرے، چند ر بابو نائیڈو، جتن رام مانجھی، اوم پرکاش راجبھر اور اُپیندر کشواہا یہ وہ نام ہیں جو ابھی این ڈی اے یعنی بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کا حصہ ہیں۔ لیکن پچھلے دنوں سب سے پہلے اودھو ٹھاکرے نے ۲۰۱۹ کا لوک سبھا الیکشن اپنے دم پر لڑنے کا اعلان کرکے این ڈی اے میںبھگدڑ کی شروعات کردی ہے۔ اودھو کی پارٹی کے اعلان کے بعد ۲۷ جنوری کو آندھرا پردیش کی برسراقتدار پارٹی اور مرکز میں بی جے پی کی حلیف ٹی ڈی پی نے بھی بی جے پی پر ’متر دھرم‘ نہیں نبھانے کی بات کہہ کر سیاسی سنسنی مچا دی۔ شیو سینا اورٹی ڈی پی این ڈی اے میں بی جے پی کے بعد سب سے بڑی ساجھیدار ہے۔ شیو سینا کے پاس جہاں اٹھارہ ممبران پارلیمنٹ ہیں وہیں ٹی ڈی پی کے پاس سولہ ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ آندھرا پردیش کی پچیس لوک سبھا سیٹوں میں سے  ٹی ڈی پی کے پاس پندرہ، بی جے پی کے پاس دو  اور وی ایس آر کانگریس کےپاس آٹھ سیٹ ہیں۔

ویسے بی جے پی کہہ رہی ہے کہ ٹی ڈی پی کے ساتھ پارٹی پوری طرح کھڑی ہے۔ اب اگرٹی ڈی پی سے گٹھ جوڑ ٹوٹتا ہے تو پھر آندھرا پردیش میں صف بندی ہوسکتیہے۔ بی جے پی اور وائی ایس آر کانگریس کا گٹھ جوڑ ہوسکتا ہے۔ صدر جمہوریہ کے الیکشن میں جگن موہن ریڈی نے بی جے پی کی حمایت کی تھی۔

یوپی سرکار میں ساجھیدار بھارتیہ سوہیل دیو سماج پارٹی کے صدر اوم پرکاش راجبھر بھی بی جے پی سے  خوش نہیں ہیں۔ اوم پرکاش راجبھر نے ۲۹ جنوری کو وارنسی میں بڑی ریلی کرکے نہ صرف اپنی طاقت کا احساس کرایا بلکہ یہ بھی صاف کردیا کہ ۲۰۱۹ کی ڈگر بی جے پی کے لئے آسان نہیں رہنے والی ہے۔ یوپی میں راجبھرکی آبادی ۴.۲فیصد کے قریب ہے۔ یوپی کی ۴۲ اسمبلی سیٹوں پر اس ذات کے آٹھ فیصد ووٹ ہیں۔ ابھی لوک سبھا میں راجبھر کی پارٹی کا ایک بھی ایم پی نہیں ہے۔ لیکن یو پی اسمبلی میں اس  پارٹی کے چار ایم ایل اے ہیں۔

یوپی سے آگے بڑھیں تو بہار میں بھی این ڈی اے کے لئے اچھے اشارے نہیں ہیں۔ بی جے پی سے زیادہ توجہ نہیں ملنے کی وجہ سے ناراض چل رہے جتن رام مانجھی کی پارٹی ہندوستانی عوام مورچہ این ڈی اے میں کب تک ہے کہا نہیں جاسکتا۔ پچھلے دنوں اس پارٹی کے ریاستی صدر بشن پٹیل لالو یادو سے مل کر سیاسی بدلاؤ کے اشارے دے چکےہیں۔

بہار میں ہی اُپیندر کشواہا کی پارٹی بھی خوش نہیں ہے۔ پارٹی نے لوک سبھا کی پانچ سیٹوں پر دعویٰ کرکے بی جے پی کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ ابھی کشواہا کی پارٹی کے تین ایم پی ہیں۔ بہار میں کشواہا ذات کی آبادی قریب چھ فیصد ہے۔ پاسوان کو چھوڑ کر مہا دلت کی آبادی قریب بارہ فیصد ہے ۔ یعنی مانجھی اور کشواہا کی ناراضگی اٹھارہ فیصد ووٹ پراثر ڈال سکتی ہے۔ حالانکہ بہار میں نتیش کمار این ڈی اے کے ساتھی بن چکے ہیں لیکن سیٹ بٹوارے کو لے کر ان سے بھی تنازعہ ہونے کی پوری گنجائش بنی ہوئی ہے۔ ویسے بھی بہار میں اسمبلی اور لوک سبھا الیکشن ساتھ کرانے  کی پہلے وکالت کر چکے نتیش کمار اب اپنے پیر پیچھے کر چکے ہیں۔ اصل میں این ڈی اے میں شامل علاقائی لیڈروں کو اس بات کا ڈرہے کہ لوک سبھا اور اسمبلی کے الیکشن ساتھ ہوئے تو پھر بی جے پی فائدہ اٹھا لے جائے گی اور چھوٹی پارٹیوں کو فائدہ نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ این ڈی اے میں شامل علاقائی پارٹیاں ساتھ الیکشن کے حق میں نہیں نظر آرہی ہیں اور الگ راستے پر چلنے کی بات کہہ رہی ہیں۔

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندر بابو نائیڈو نے ۲۷ جنوری کو این ڈی اے سے رشتہ توڑنے کے اشارے دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی گٹھ جوڑ جاری رکھنا نہیں چاہتی تو تیلگو دیسم پارٹی اپنی راہ پر اکیلی چلے گی۔نائیڈو نے بی جے پی کی ریاستی یونٹ کے تبصروں پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئےپریس کانفرنس میں کہا، ’اگر بی جے پی گٹھ جوڑ جار ی رکھنانہیں چاہتی ہے تو ٹی ڈی پی اکیلے اپنی راہ پر چل گی‘۔ انہوںنے کہا کہ ہم ’متر دھرم‘ پر عمل کرر ہے ہیں لیکن بی جے پی کے مقامی لیڈر حد کے باہر جا کر بیان بازی کررہے ہیں۔

غور طلب ہے کہ سب سے پرانی اور این ڈی اے کی اہم حلیف پارٹی شیو سینا نے بھی ۲۰۱۹ کا لوک سبھا  اور مہاراشٹر اسمبلی الیکشن اکیلے لڑنے کا حال ہی میں اعلان کیا ہے۔ نائیڈو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ بی جے پی لیڈران کے خلاف حملہ سخت کرنے سے ٹی ڈی پی لیڈران کو روک رہے ہیں۔

آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے گورنر ای ایس ایل نرسمہن کے خلاف بی جے پی ایم ایل اے کی طرف سے متنازعہ تبصرہ کئے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے گورنر کے خلاف کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ۔ انہو ںنے کہا کہ گورنر بدل جانے کی مانگ پر میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔

سب سے پہلے بی جے پی اور این ڈی اے سے  الگ الیکشن لڑنے کا اعلان شیو سینا نے کیا۔ سیاسی ماہرین کے مطابق شیو سینا کے ۲۰۱۹ کا الیکشن اکیلے  لڑنے کے فیصلے سے بی جے پی کے ساتھ اس کے گٹھ جوڑ میں درار پیداہونے کا امکان ہے۔اودھو ٹھاکرے کی قیادت والی پارٹی کا ماننا ہے کہ اس کی حلیف بی جے پی کی اس ملک میں حمایت کم ہو رہی ہے اور وہ  دویندر فڑنویس سرکار کی ’ناکامیوں‘ کا اکیلے الیکشن میں جا کر فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کی وجہ سے دونوں پارٹیوں کے کٹر ووٹروں میں بکھراؤ ہوگا اور اس سے اپوزیشن پارٹیاں کانگریس اور این سی پی کے لئے راستے کھلیں گے، بی جے پی کو اس سے کڑی چنوتی ملے گی۔ شیو سینا نے پچھلے دنوں ہوئی نیشنل ایگزیکیوٹیو کی اپنی میٹنگ میں ایک تجویز پیش کرکے کہا کہ پارٹی ۲۰۱۹ کا لوک سبھا الیکشن اور مہاراشٹر اسمبلی الیکشن اکیلے لڑے گی۔ ریاست میں  شیو سینا بی جے پی کی جونیئر ساتھی پارٹی ہے۔

اترپردیش کی یوگی سرکار میں کابینہ وزیر اوم پرکاش راجبھر نے سوہیل دیو کی جینتی پر بنارس میںریلی کرکے پروانچل صوبے کی مانگ اٹھاتے ہوئے دلتوں کا حق حاصل کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا اعلان کیا۔ اوم پرکاش راجبھر نے کہا کہ یوپی کی یوگی سرکار میں شامل ہونے کا میرا مقصد دلت سماج کو اس کا حق دلانا ہے۔ دلتوں نے بڑے پیمانے پر ووٹ دے کر بی جے پی کی سرکار بنوائی ہے۔ اگر دلتوں کے حق میں کام نہیں کیا گیا تو پھر وہ بی جے پی کے ساتھ یوگی اور مودی دونوں سے الگ ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کے مفاد کے کئی پروپوزل ریاستی اور مرکزی سرکار کو دیئے مگر ان پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ استعفیٰ جیب میں لے کر گھومتے ہیں اس لئے اس بات سے ڈرتے نہیں ہیں کہ انہیں سرکار سے نکالا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ اگ ان کی مرضی مطابق سیٹیں نہ دی گئیں تو ۲۰۱۹ میں وہ این ڈی اے سے الگ بھی ہوسکتے ہیں۔ سیٹوں کے بٹوارے اور نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے بہار میں اُپیندر کشواہا اور مہا دلت لیڈر جتن رام مانجھی بھی این ڈی اے سے الگ ہو سکتے ہیں۔

دراصل بی جے پی کے پاس چونکہ سرکار چلانے کے لئے مکمل اکثریت ہے اس لئے وہ این ڈی اے کی شکل میں سرکار میں شامل دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کو  نظر انداز کر رہے ہیں۔ نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے این ڈی اے کی حلیف پارٹیوں کے لیڈران میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ اس کا کتنا نقصان بی جے پی کو ہوگا اس کا اندازہ تو ۲۰۱۹ کے لوک سبھا الیکشن کے نتیجہ ہی بتائیں گے۔