راشٹر منچ سے جڑ کر آزاد محسوس کررہا ہوں………. شترو گھن سنہا

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>راشٹر منچ سے جڑ کر آزاد محسوس کررہا ہوں………. شترو گھن سنہا</h1>

نئی دہلی۔ نریندر مودی سرکار سے متعلق مدّے اٹھانے والے ایک نئے غیر سیاسی منچ ’راشٹر منچ‘‘ کے ممبر، سینئر اداکار اور ایم پی شترو گھن سنہا نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں ان کے ساتھ سوتیلے بیٹے جیسا برتاؤ ہوا۔ انہیں بی جے پی میں دباؤ محسوس ہوتا تھا ۔ اب انہیں آزادی کا احساس ہو رہا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ ہم کچھ بے چین دماغوں میںراشٹر منچ کا تصور کام کررہا تھا۔ اسے پورا کرنے کے لئے انہوں نے گھنشیام تیواری اور کے سی سنگھ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، راشٹریہ منچ کا حصہ بن کر کھلی ہوا میں سانس لینے جیسا احساس ہو رہا ہے۔ اس میں شامل ہونے کے بعد میں ملک کی بھلائی کے لئے اپنے خیال آزادی کے ساتھ ظاہر کر سکتا ہوں۔ میں بتا نہیں سکتا کہ میں کتنا آزاد محسوس کررہا ہوں۔ کھلی ہوا میں سانس لینے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ یہ کہنے پر کہ ان کی اصل پارٹی بی جے پی نے انہیں کبھی بولنے سے روکا نہیں، انہوں نے کہا ، میری اصل پارٹی  بی جے پی نے مجھے بولنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کرنے دیا۔ مجھے یہ محسوس ہوتا تھا کہ بی جے پی میرے ساتھ سوتیلے بیٹے جیسا برتاؤ کررہی ہے۔ سچ کہوں تو میں دبا دبا محسوس کرتا تھا۔ میرے محترم یشونت سنہا جب میرے پاس یہ غیر سیاسی منچ کا خیال لے کر آئے تو میں نے فوراً ہاں کردی۔ آپ دکھائیے ہم بی جے پی سے الگ نہیں ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنی اصل پارٹی سے بغاوت نہیں کی ہے۔ ہم نے کوئی حد نہیں توڑی ہے۔ راشٹر منچ کے مقصد کے بارے میں پوچھنے پر  شتروگھن سنہا نے کہا، پہلے تو میں آپ کو بتا دوں کہ ہمارا کیا مقصد ہے۔ راشٹر منچ سے کوئی الیکشن نہیں لڑا جائے گا ۔ اس حساب سے یہ  کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے۔ ہمارا مقصد ساتھ مل کر سماجی سسٹم میں سدھار لانا ہے۔ اس میں ہم معاشی مدّوں  اور غریبوں کی ضرورتوں کے مدّے اٹھائیں گے۔ کسانوں کی خود کشی ، بے روزگاری، سرحد پر اور اندرونی سلامتی کے مدّے اٹھائیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ ’پدما وت‘ جیسے غیر ضروری مدّوں پر زیادہ دھیان دینے سے دیگر اہم مدّوں سے دھیان ہٹ جاتا ہے۔ پدما وت پر تنازعہ بالکل بے کار ہے۔ ان مدّوں پر بولنے کی اجازت ملنے کے سوال پر انہوں نے کہا، کیوں ، اجازت کیوں نہیں ملے گی؟ کیا ملک کے سب سے بڑے اور مضبوط ایکشن ہیرو وزیراعظم  نریندر مودی  سدھار اور بدلاؤ نہیں چاہتے ہیں؟ ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے ہم نے اس منچ کو شروع کیا ہے، جیسے جئے پرکاش نارائن اور وی پی سنگھ نے ایک پارٹی بنائی تھی جس سے ر اشٹریہ سوئم سیوک سنگھ بھی جڑا تھا۔ ہماری پارٹی میں ایک جیسی ذہنیت کے لوگ ہیں اور ہمارے نشانے  ہمارے دل میں ہیں۔ پون ورما ، دنیش تیواری، رینوکا چودھری، سوم پال جیسے لیڈر ہمارے ساتھ ہیں۔ اس لئے  اپنا نشانہ پانے کے لئے ہم پر عزم اور اہل محسوس کرتے ہیں۔

بی جے پی کے تلنگانہ ترجمان کرشن ساگر نے کہا ہے کہ شترو گھن سنہا اور یشونت ساری حدیں پھلانگ چکے ہیں۔ اس بارے میں شترو گھن سنہا نے ایک گیت گاکر جواب دیا، اس ساگر میں کتنی گہرائی ہے یہ تو سب کو معلوم ہے۔