ملک کو خوف زدہ کیا گیا…….یشونت سنہا

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>ملک کو خوف زدہ کیا گیا…….یشونت سنہا</h1>

جبل پور۔ راشٹر منچ بنانے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے بغیر نام لئے مرکزی سرکار پر جم کر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ  ملک میں خوف کا ماحول ہے اور ملک کی جانچ ایجنسیوں کا بے جا استعمال کیا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش کے نرسنگھ پور میں این ٹی پی سی کے خلا ف چل رہے آندولن میں حصہ لینے آئے سنہا نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی جانچ ایجنسیوں کا بے جا استعمال کیا جار ہا ہے۔ ایک الگ ذہنیت رکھنے والوں کے خلاف جانچ ایجنسیوں کا استعمال ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے پورے ملک میں خوف کا ماحول ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بی جے پی کے ممبر ہیں ان کی مخالفت کسی شخص سے نہیں بلکہ پارٹی کی پالیسیوں سے ہے۔ اس لئے وہ پارٹی نہیں چھوڑیں گے پارٹی چاہے تو انہیںنکال سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا شہری ہونا بی جے پی کا ممبر ہونے سے اوپر ہے۔ ملک کے شہری ہونے کی وجہ سے وہ کسانوں کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ دہلی اور بھوپال میں بیٹھے لوگ کسانوں کی زمینی حالت  و صورتحال سے انجان ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک میں کسانوں کی کسی کو فکر ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کے معاشی سروے میں بے روزگاری، تعلیم اور کسانوں کے مسئلے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مسئلہ ایک دن میں توپیدا نہیں ہوا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ پچھلے تین برسوں میں سرکار ان مدّوں پر ناکام رہی ہے۔ پارٹی کے خلاف بیان بازی کرنے کے تعلق سے پوچھے گئے سوال کےجواب میں  انہو ںنے کہا کہ ان کا آندولن کسی شخص اور پارٹی کے خلاف نہیں ہے۔  ان کی مخالفت پالیسیوں کے خلاف ہے، وہ پارٹی کے ممبر ہیں۔ وہ پارٹی نہیں چھوڑیں گے، پارٹی چاہے تو انہیں ہٹا سکتی ہے۔

راشٹر منچ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ غیر سیاسی تنظیم ہے۔  اس میں مختلف پارٹی کے ممبران سمیت سابق وزیر اور ایم پی شامل ہیں۔ یہ ایک آندولن ہے، جو ملک کے کسان، بے روزگاروں کے ساتھ ہے۔ ایم پی شترو گھن سنہا کے علاوہ  بی جے پی کے دیگر سینئر لیڈران کے راشٹر منچ میں شامل ہونے کے بارے میں انہوںنے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔ اس کا وہ وقت آنے پر خلاصہ کریں گے۔ انہو ںنے کہا کہ نرسنگھ پور کے گاڈرواڑا میں  این ٹی پی سی پلانٹ کے خلاف دھرنا دے رہے کسانوں کے ساتھ انتظامیہ نے غیر انسانی برتاؤ کیا ہے۔  انتظامیہ کی کاروائی کا جواب ہم دیں گے۔ انہو ںنے کہا کہ اس کے لئے ریاستی سرکار بھی ذمہ دار ہے۔ اس سال مدھیہ پردیش میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی حالت پر پوچھے گئے سوال پر کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا۔

نرسنگھ پور میں کسانوں کے ساتھ دھرنا دینے والے بی جے پی لیڈر یشونت سنہا نے مہاراشٹر سرکار کے ذریعہ کسانوں کی سات اہم مانگیں مان لئے جانے کے بعد تین دن چلا کسان آندولن ملتوی کرنے کی اعلان کیا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا،’’ وزیر اعلیٰ  دویندر فڑنویس نے ہم سے بات چیت کی۔ ہماری بات چیت سود مند رہی۔ انہوں نے ہمیں بھروسہ دلایا ہے کہ کسانوں کی ساری مانگیں مان لی جائیں گی۔ اس کے بعد آندولن واپس لے لیا گیا ہے‘‘۔

اسّی سال کے سابق مرکزی وزیر خزانہ نے حالانکہ صاف کیا کہ اسے کسی کی جیت یا ہار کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے، بلکہ یہ مہاراشٹر اور باقی ملک کے تمام کسانوں کے مفاد میں ہے۔

شیتکاری جاگرن مورچہ کی مانگوں میں پنک بالورم کے حملے سے کسانوں کو ہوئے نقصان کی بھرپائی، نقلی بایوٹیک بیج بنانے اور بیچنے والی کمپنیوں کے خلاف کاروائی ، مونگ ، اڑد اور سویا بین کی فصلوں میں ہوئے نقصان کے لئے کسانوں کو پورا معاؤضہ، زرعی پمپوں کے لئے بجلی سپلائی بند نہیں کرنے، کسانوں کے لئے ریاستی سرکار کی جانب سے سونے کو گروی رکھنے کی اسکیم میں چھوٹ کی نا مناسبشرطوں کو ہٹانے، نیفٹ کی جانب سے اعلان کردہ سبھی زرعی فصلوں کی کم سے کم سہارا قیمت پر خرید اور پندرہ جنوری تک اہل کسانوں کے قرض کی معافی شامل ہیں، کسانوں کے تین دن کے آندولن کو اقتدار پر قابض  بی جے پی کو چھوڑ کر ریاست کی باقی  سبھی سیاسی پارٹیوں کی حمائت حاصل تھی۔ بزرگ لیڈر یشونت سنہا اس سے پہلے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے لئے بھی مودی سرکار پر سوال اٹھا چکے ہیں۔