مودی کو کرناٹک کے سدا رمیا کا منہ توڑ جواب

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>مودی کو کرناٹک کے  سدا رمیا کا منہ توڑ جواب</h1>

بنگلور۔ نریندر مودی اخلاقی طور پر وزیر اعظم بننے لائق نہیں ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں، جھوٹے پروپگینڈے کرتے ہیں اور ملک کے بڑے بڑے جھوٹوں کے سرداروں کو گود میں بٹھایا کرتے ہیں۔ ایسا شخص ملک کا وزیر اعظم کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ بیان ہے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدا رمیا کا، جو انہوں نے نریندر مودی کے الزام کے جواب میں میڈیا کے سامنے دیا ہے۔ دراصل کرناٹک اسمبلی کا الیکشن چار مہینے بعد ہونا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے چار  فروری کو کرناٹک بی جے پی کی ۸۵ دنوں کی پریورتن یاترا ختم ہونے پر بنگلور کے پیلس گراؤنڈ میں ہوئی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے اپنی عادت کے مطابق لفاظی کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ کرناٹک سرکار  دس فیصد کمیشن والی سرکار ہے۔ یہاں ہر کام میں کم سے کم دس فیصد کمیشن ضرور لیا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ کرناٹک سے اب کانگریس کا چل چلاؤ ہے۔ اگلے الیکشن میں کانگریس کا ہارنا یقینی ہے۔

سدا رمیا نے کہا کہ نریندر مودی نے ایک دن پہلے پیلس گراؤنڈ میںجو کچھ کہا تھا وہ صرف اور صرف جھوٹ کا پلندہ ہے۔ جھوٹ کے سوا ایک لفظ  بھی سچ نہیں تھا۔ انہو ںنے کہا کہ مودی  کہہ رہے تھے کہ کرناٹک میں کانگریس کا چل چلاؤ ہے کانگریس باہر کے دروازے پر بیٹھی ہے یہ  بھی جھوٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب ملک سے بھارتیہ جنتا پارٹی کا چل چلاؤ ہے اور اگلے سال ۲۰۱۹ میں بی جے پی ملک کے اقتدار  سے باہر ہو جائے گی۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ اس حقیقت کا خیال آتے ہی نریندر مودی کا دماغ گھومنے لگتا ہے اور وہ جھوٹے پروپگینڈے کرنے لگتے ہیں۔ انہوں نے  کہا کہ راجستھان کی دونوں لوک سبھا اور ایک اسمبلی کے بائی الیکشن میں بی جے پی کی شرمناک شکست ہوئی ہے،مودی کے اچھے دن کہاں چلے گئے۔ انہو ںنے کہا کہ راجستھان  کے نتائج نے ہی دنیا کو بتا دیا ہے کہ اب مودی  کی ملک کے عوام میں کیا حیثیت ہے؟

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے صرف اور صرف ایک بی جے پی ورکر کی طرح بیان دے کر پرائم منسٹر کے عہدے کی توہین کی ہے انہو ںنے بی جے پی ورکر کی طرح کرناٹک سرکار پر بغیر ثبوت کے جھوٹے الزام  لگا دیئے۔ وہ وزیر اعظم کی طرح برتاؤ نہیں کرتے ہیں وہ بہت ہی نچلی سطح تک گر کر غلط بیانی کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں۔ اسی لئے ہم نریندر مودی کو کہتے ہیں کہ اخلاقی اعتبار سے وہ پرائم منسٹر کے عہدے کے لئے  مناسب شخص نہیںہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو مودی اپنی مبینہ ایمانداری کا ڈھنڈھورا پیٹتے ہیں لیکن بی ایس  یدورپا جیسے اتنے بڑے بے ایمان کو ساتھ لئے پھرتے ہیں جو یدورپا بے ایمانی کے سنگین الزام میں  وزیر اعلیٰ رہتے ہی جیل جا چکے ہیں۔ اس طرح وہ بے ایمانی کو فروغ دے کر لوٹ مچانا چاہتے ہیں۔ کرناٹک سرکار دس فیصد کمیشن والی سرکار ہے مودی کے اس الزام کا ذکر کرتے ہوئے  اس الزام کا سخت  جواب دیتے ہوئے ایک بار پھر یدورپا کا ذکر کیا اور کہا کہ جو پرائم منسٹر یدورپا جیسے لٹیروں کو بچانے کا کام کررہا ہو اس وزیر اعظم کوبے ایمانی پر بولنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ مودی اس معاملے میں اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔

سدا رمیانے کہا کہ مودی خود اتنے بڑے بے ایمان ہیں کہ اپنی سرکار کی بے ایمانی پر پردہ ڈالے رکھنے کے مقصد سے انہوں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے نو سالوں تک لوک  آیوکت کی تقرری نہیں ہونے دی تھی۔ جب ہائی کورٹ کے کہنے پر گورنر نے خودہی لوک آیوکت مقرر کر دیا تھا تو انہوں نے اس کی سخت مخالفت کرکے انہیں کام نہیں کرنے دیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ انہیں اس  بات کا خوف تھا کہ لوک آیوکت کہیں ان کی سرکار کی بے ایمانیوں کی پول پٹی نہ کھول دے۔ انہی کی پارٹی اور پارٹی کو پیدا کرنے والے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ نے من موہن سنگھ سرکار کو بدنام کرنے کے لئے دہلی میں رام دیو اور انا ہزارے وغیرہ سے خوب ہنگامہ کرایا تھا۔ مطلب تھا کہ کانگریس سرکار لوک پال مقرر کرے اب تو سرکار کے چار سال پورے ہونے والے ہیں۔ مودی لوک پال کی تقرری کیوں نہیں کرا رہے ہیں۔ کرناٹک میںہوئے دو تین قتل کے واقعات کا مودی نے بڑھا چڑھا کر ذکر کیا وہ یہ کیوں بھول گئے کہ ان کی سرکار آنے کے بعد سے آر ایس ایس کے لوگوں نے کتنے دلتوں اور مسلمانوں کو قتل کردیا ہے۔ آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکاروں والی ریاستوں میں سب سے زیادہ غیر محفوظ دلت اورمسلمان ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اور پورا ملک ابھی تک ۲۰۰۲ میں گودھرا حادثہ کے بعد گجرات کے مسلمانوں کا قتل عام نہیں بھلا پائے ہیں۔ انہی کی سرکار میں جاٹ آندولن اور ایک فلم ’پدماوت‘ کے  بہانے ہریانہ میں جو کچھ ہوا وہ بھی سب کے سامنے  ہے۔ آخر میں سدا رمیا نے کہا کہ مودی میں اگر ہمت ہے تو ذاتی طور پر ان(سدا رمیا)  کے خلاف ایک پیسے کی بھی بے ایمانی کا الزام لگا کر دیکھیں۔

فوٹو:

سدا رمیا….. چوبیس کیرٹ کی ایمانداری کی  طاقت

نریندر مودی….. جھوٹ بولنے اور لفاظی کرنے میں  مہارت