کشمیر میں شرمناک ناکامی

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>کشمیر میں شرمناک ناکامی</h1>

پاکستان کی جانب سے بار بار سیز فائر کی خلاف ورزی کئے جانے کے باوجود منہ توڑ جواب کیوں نہیں دیا جاتا

 

نئی دہلی۔ ’ہم نے  سرجیکل اسٹرائیک کے ذریعہ سرحد پار پاکستان میں گھس کر انہیں سبق سکھایا، آگے بھی ہم پاکستان کو اس کی حرکتوں کے لئے منہ توڑ جواب دیں گے‘۔ اس طرح کی مسلسل جملہ بازی کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، وزیر دفاع نرملا سیتا رمن اور آرمی چیف بپن راوت کی شرمناک ناکامی چھ فروری کو اس وقت سامنے آئی جب سری نگر کے مہاراجہ ہری سنگھ میڈیکل کالج میں علاج کے لئے لائے گئے لشکر طیبہ کے خطرناک پاکستانی دہشت گرد نوید جٹ عرف  ابو حنظلہ کو اس کے ساتھی دہشت گردوں نے پولیں والوں پر حملہ کرکے چھڑا لیا اور ہیڈ کانسٹیبل مشتاق  احمد  اور کانسٹیبل بابر احمد کو شہید کردیا۔ سری نگر کے بھیڑ بھاڑ والے علاقہ میں یہ واقعہ سرکار اور سکیورٹی فورسز کے لئے نہ صرف شرم کا باعث ہے بلکہ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ فوج اور سکیورٹی فورسز میں غداروں کی شکل میں کچھ سیاہ بھیڑیں بھی داخل ہو چکی ہیں۔ جنہو ںنے اتنے خطرناک دہشت گرد کو علاج کے لئے اسپتال لے جانے کی خبر لیک کی۔ فوج اور کشمیرپولیس ایسے کسی خطرناک دہشت گرد کو اسپتال لے جانے کے پروگرام کی بھنک کسی کو نہیں لگنے دیتی ہے۔ پھر اسے اسپتال لے جانے کی اطلاع اس کے ساتھیوں کو کیسے مل گئی؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب فوج اورسکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ سرکار کو ہی دینا ہے۔ نوید جٹ اور کچھ دیگر  قیدیوں کو لے کر جیسے ہی پولیس  ٹیم اسپتال پہونچی، اسپتال کی پارکنگ میں پہلے ہی سے گھات لگائے بیٹھے دہشت گردوں نے پولیس ٹیم پرحملہ کردیا اور اسے چھڑا کر  بھاگ گئے۔ اس واقعہ کی اطلاع فوراً ہی پورے شہر کے وائرلیس پر گونجنے لگی اس کے باوجود دہشت گرد اسے لے کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ سمجھا جاتا ہے کہ رات میں ہی دہشت گردوں نے اسے سرحد پار کرادی ہوگی۔ وہ پاکستان کے ساہیوال ملتان کا رہنے والا ہے جسے کشمیر پولیس نے ۲۶ اگست ۲۰۱۴ کو کلگام میں گرفتار کیا تھا۔ اس واقعہ سے دو دن پہلے ہی  چار فروری کو پاکستانی فوج نے تارکنڈی سیکٹر میں ایک ہندوستانی فوجی چوکی پر حملہ کرکے محض بائیس سال کے کیپٹن کپل کنڈو سمیت چار لوگوں کو شہید کر دیا تھا۔ اس وقت آرمی چیف، راج ناتھ سنگھ اور نرملا سیتا رمن سبھی نے ملک کو یقین دلایا تھا کہ وہ  پاکستان سے اس کا بدلا بہت اچھی طرح لیں گے۔

مودی حکومت کشمیر اور پاکستان کے معاملے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان  کے خلاف سرکار اور ہماری فوج نے کیا کیا، محض ووٹوں کی سیاست کے لئے بار بار مودی حکومت اس کا ذکر تو ملک کے سامنے کرتی ہے لیکن ہمیشہ آدھی ادھوری معلومات ہی دیتی ہے۔ چھ فروری کو لوک سبھا میں وزیر دفاع نے تفصیلی بیان دیتے ہوئے  یہ تو بتا دیا کہ ایک سال میں کتنے پاکستانی گھس پیٹھیوں اور دہشت گردوں کو مارا گیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس دوران ملک کے کتنے بہادر فوجیوں کو اپنی شہادت دینی پڑی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دوران تقریباً سو فوجیوں کو شہادت دینی  پڑی ہے۔ یہ دعویٰ کہ ہم نے اتنے پاکستانیوں کو مارا اس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملک کے کتنے فوجی شہید ہوئے۔ یہ سلسلہ اس لئے چل رہا ہے کہ مودی حکومت  پاکستان کو ٹھیک کرنے کے معاملے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے اور موجودہ آرمی چیف سیاستدانوں کی طرح صرف بیان بازی کرتے رہتے ہیں ۔ اتنی بڑی تعداد میں اپنے فوجیوں کو شہید کرا کر اگر پاکستان کے سو ڈیڑھ سو دہشت گردوں کو مار بھی لیا گیا  تو انہیں مارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

سری نگر کے مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال سے چھ فروری کو لشکر طیبہ کے جس خطرناک دہشت گرد نویدجٹ عرف ابو حنظلہ پولیس کی گرفت سے فرار ہوا ہے۔ وہ بہت ہی خطرناک قسم کا دہشت گرد ہے جو ۲۰۱۲ سے ہی  گھس پیٹھ کرکے کشمیر آ گیا تھا۔ اگلے ہی سال ۲۰۱۳ میں اس نے ایک پولیس سب انسپکٹر اور سی آر پی ایف کے ایک جوان کو قتل کردیا تھا۔ حیدر پورا علاقہ میں اس نے فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔ جلور اسٹار ہوٹل اور نیشنل ہائے وے پر فوج پر ہوئے حملوں  میں بھی وہ شامل تھا۔  پولیس سے ہتھیار چھیننے کی بھی کئی وارداتیں وہ انجام دے چکا تھا۔۲۶ اگست ۲۰۱۴ کو جب اسے گرفتار کیا گیا اس وقت تک وہ کشمیر میں لشکر طیبہ کا ڈپٹی چیف کمانڈر بن چکا تھا۔ پولیس کسٹڈی سے اس طرح اس کا فرار ہونا پولیس اور سکیورٹی فورسز کے  لئے ایک انتہائی شرمناک واقعہ ہے۔ وہ اسپتال سے بھاگ کر کہاں گیا کوئی نہیں جانتا، لیکن اگر وہ سری نگر میں ہی کہیں چھپا ہے تو کسی بھی وقت وہ پولیس، سکیورٹی فورسز اور عام لوگوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ خبر یہ بھی کہ اس کے ساتھی دہشت گردوں نے  پولیس سے چھڑا کر اسے اسی دن بارڈر پار کرا کر پاکستان بھیج دیا۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ بھی سکیورٹی عملہ کے لئے شرمناک بات ہے کہ وہ سری نگر اسپتال سے بھاگتے ہوئے سرحد پار کر جائے اور راستے میں اسے کوئی روک نہ سکے۔ اس معاملے میں سرکار کی ناکامیوں کے پیش نظر یقینی طور پر سرکار کی طرف سے چند دنوں کے اندر ہی بس ایک بیان آجائے گا کہ ہم نے پاکستان میں گھس کر اس کی فوجی چوکیوں کو تباہ کر دیا۔ خبر لکھے جانے تک نوید جٹ کو بگھائے جانے کے معاملے میںپولیس نے پانچ  لوگوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ نوید جٹ عرف ابو حنظلہ کو بھگائے جانے میں استعمال ہوئی موٹر سائیکل اور گاڑی کو بھی پکڑا گیا ہے۔ گرفتار لوگوں میں جیل کا سپرنٹنڈنٹ بھی شامل ہے۔

اس سے پہلے چار فروری کو جموں کے راجوی سیکٹر کے تارکنڈی میں واقع ہندوستان کی ایک فوجی چوکی پر پاکستانیوں نے میزائل سے حملہ کرکے جیکلائی یونٹ کے ایک کیپٹن کپل کنڈو سمیت چار فوجیوں اور آدھا درجن سے زیادہ شہریوں کو قتل کردیا تھا۔ کپل کنڈو ہریانہ میں گڑ گاؤں کے قریب رسنکا گاؤں کے رہنے والے تھے۔ بائیس سال کے کنڈو اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔ ان کی والدہ نے کہا کہ اگر ان کے ایک اور بیٹا ہوتا تو وہ اسے بھی فوج میں بھیج دیتیں ۔ کیپٹن کنڈو کے علاوہ مارے گئے ۲۳ سال کے رائفل مین شبھم سنگھ، کٹک کے رہنے والے تھے۔ ۲۷ سال کے رائفل مین رام اوتار مدھیہ پردیش میں گوالیار کے نزدیک براکا گاؤں کے رہنےو الے تھے اور ۴۲ سال کے حوالدار سانبا ضلع کے گھیگوال کے رہنے والے تھے۔ پاکستانی فوج نے  سرحد پر سندربنی سے پونچھ تک اس قدر فائرنگ کی کہ ۸۴ اسکول بند کرنے  پڑے کئی ہزار شہریوں کو اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ جگہوں پر بھاگنا پڑا۔ بڑی تعداد میں مویشی گائے بیل بھینس اور بکریاں وغیرہ کا بھی نقصان ہوا لیکن مودی  سرکار کی جانب سے صرف اتنا کہہ کر ذمہ داری پوری کر لی گئی کہ ہم پاکستان کو سخت سبق دیں گے۔

 

باکس:

’’سری نگر کے اسپتال سے پاکستانی دہشت گرد گروہ لشکر طیبہ کے خطرناک دہشت گرد نوید جٹ عرف ابو حنظلہ کو چھڑا لے گئے۔ سوال یہ ہے کہ فوج اورسکیورٹی  فورسز میں گھسی وہ کون سی  غدار کالی بھیڑیں ہیں جنہوں نے نوید جٹ کو علاج کے لئے جیل سے اسپتال لے جانے کی اطلاع اس کے ساتھیوں تک پہونچا دی۔ اس کا جواب فوج دے گی یا مودی حکومت؟‘‘

 

’’چار فروری کو پاکستانی فوجیوں نے تارکنڈی سیکٹر  میں ایک ہندوستانی فوجی چوکی پر میزائل سے حملہ کرکے بائیس سال کے کیپٹن کپل کنڈو سمیت چار فوجیوں کو شہید کر دیا۔ وزیر داخلہ اور آرمی چیف بپن راوت نے جذباتی بیان بازی تو کرد ی کہا کہ ہم پاکستان کومناسب جواب دیں گے۔ پورا ملک کہتا رہا کہ پاکستان نے جس جگہ سے میزائل داغا اس جگہ کو بھی پوری طرح تباہ و برباد کیا جائے۔ لیکن کچھ نہیں ہوا‘‘۔

 

 

’’کشمیر اور پاکستان کے معاملے میں مودی حکومت  کی طرف سے ہمیشہ آدھی ادھوری معلومات دی جاتی ہیں۔ چھ فروری کو وزیر دفاع نے یہ تو بتا دیا کہ ایک سال میں  ہم نے کتنے پاکستانی دہشت گردوں کو مارا ہے لیکن انہو ںنے یہ نہیں بتایا کہ اس دوران ملک کے کتنے فوجی جوانوں اورافسران  کو شہادت دینی پڑی۔ اس طرح لاشوں کی گنتی کا مقابلہ آخر کب تک چلے گا؟‘‘