کاس گنج فساد: یہ ہے تفتیش اور واقعات کا سچ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>کاس گنج فساد: یہ ہے تفتیش اور واقعات کا سچ</h1>

’’ملزم محسن کے مبینہ بیان کی بنیاد پر تھوپا جارہا مسلمانوں پر پتھراؤ اور فائرنگ کرکے فساد کرنے کا الزام، چندن کے قتل کی رپورٹ چودہ گھنٹے کی دیری سے ہوئی درج، کوئی وجہ نہیں بتائی جبکہ  مبینہ واقعہ کی جگہ سے تھانہ محض تین سو میٹر کی دوری پر ہے، سبھی دوست ہوئے روپوش‘‘۔

زخمی اکرم کو تھانے میں کہا گیا کہ آگئے تمہارے مرنے کے دن

پہلے سے ہی فساد کی رچی جا رہی تھی سازش

اب جانچ کرے گی ایس آئی ٹی،متاثرین کی نہیں ہو رہی رپورٹ درج، للیتا شاستری کیس میں دیئے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی

ڈر کی وجہ سے نہیں کھول رہے متاثرین اپنی زبان

 

دو فروری کو ٹیم ’یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ‘ کے ساتھیوں  راکھی سہگل، برنا جیوتسنا، ندیم خان، حسن بننا، خالد ، شریک حسین کے ساتھ کاس گنج فساد متاثرین سے ملاقات کی ، لکھنؤ سے سابق  آئی جی ایس آر داراپوری، جے این یو طلباء یونین کے سابق صدر موہت پانڈے نے بھی شرکت کی اور کوتوالی بھی گئے۔

(الف) کاس گنج فساد کے سلسلے میں پولیس نے جو پہلی رپورٹ درج کی ہے وہ کیس کرائم نمبر ۵۹ سن ۲۰۱۸ ہے۔ یہ رپورٹ  ایس ایچ او  پردیومن سنگھ نے درج کرائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ترنگا یاترا کے دوران دو  فرقوں میں جھگڑا ہو رہا تھا۔ بلگرام گیٹ پر بھیڑ اکٹھا تھی،دیگر پولیس افسروں نے بھی بھیڑ کو سمجھایا مگر بلگرام گیٹ سے کوتوالی کے بیچ دوسرے فرقے کے لوگوں کو للکار  رہے تھے کہ انہوں نے ترنگا یاترا میں خلل ڈالا ہے۔ ان لوگوں کو  سمجھایا گیا مگر یہ نہیں مانے تبھی گلیوں کے اندر سے پتھراؤ اور فائرنگ ہونے لگی تب یہ بھی پتھراؤ کرنے لگے۔ دونوں طرف سے پولیس پر پتھراؤ  اور فائرنگ کی گئی۔ ایک پولیس والا انکت کمار زخمی ہوا۔ ہنگامہ کرنے  والوں میں نصیر الدین، اکرم، اکشے خان اور توفیق کو پہچانا گیا۔

یہ بھی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایک فرقہ کے لوگ دوسرے فرقہ کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچانے کی نیت سے گالی گلوچ اور مذہبی مقامات پر توڑ پھوڑ  اور آگ زنی کرنے لگے۔ نظم و نسق تار تار ہو گیا اور لوگ بازار بند کرکے بھاگنے لگے۔ حالات پر قابو پانے کے لئے پولیس نے تین آنسو گیس سیل اور پولیس کانسٹیبل انکت کمار نے ایکشن گن کا ایک فائر کیا جس کا کھوکھا نہیںمل سکا۔ پولیس کو شہر کی الگ الگ جگہوں سے دس عدد خالی کھوکھے ملے۔

یہ رپورٹ سب سے اہم ہے مگر جانبداری سے لبریز ہے۔

۱… صرف چار مسلمانوں کو پہچانا گیا لکھا ہے جن کو بعد میں ۲۷ جنوری کو تین  دوسرے لوگوں کے ساتھ گپو چوراہے سے گرفتار بھی کیا گیا یعنی سات کو گرفتار کیا گیا۔ جس بابت کیس کرائم نمبر ۶۳ سن ۲۰۱۸ درج ہوا مگر اس کیس ۵۹ سن ۲۰۱۸ کی رپورٹ میں کسی بھی ہندو شر پسندوں کے ناموں کا ذکر نہیں ہے جو ہنگامہ کر رہے تھے جن میں کافی لوگوں کی موٹر سائیکل بھی جائے واقعہ سے برآمد ہوئی ہے اور نہ ہی ان کی برآمدگی کا کہیں ذکر کیا گیا ہے۔

کیا سارے ویڈیو تفتیش میں شامل کر لئے گئے ہیں یا پھر ہم تفتیش کے لئے مہیا کرائیں۔

۲…یہ حقیقت ہے کہ کسی مندر پر کوئی توڑ پھوڑ، آگ  زنی کا واقعہ نہیں ہوا، صرف دو مساجد میں (محلّہ کھیڑیا اور حلوائی) توڑ پھوڑ اور آگ زنی ہوئی مگر ان کے ناموں کا حوالہ اس رپورٹ میں نہیں ہے۔

۳… جو لڑکے ویڈیو میں مسلمانوں سے الجھتے نظر آر ہے ہیں  اور دوسرے ویڈیو میں پیدل  چلتے ہوئے فائرنگ کر رہے ہیں اور تیسرے ویڈیو میں موٹر سائیکل پر ریوالور سے فائر کررہے ہیں۔ جن میں چندن بھی دکھائی دے رہا ہے، کا کوئی ذکر اس ایف آئی آر میں کیوں نہیں ہے ، صرف چار مسلمانوں کو ہی کیوں پہچانا گیا ان ہندو ہنگامہ کرنے  والوں کے نام پولیس کو خوب پتہ تھے جو الجھ رہے تھے اور پولیس جن کو سمجھا رہی تھی جیسا کہ رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ سینئر افسر بھی موجود تھے اور سمجھا رہے تھے مگر کس کو؟

۴….۲۷ جنوری کو سات مسلمانوں کی گرفتاری ہوئی جن میں چار کو پہلے سے ہی کیس کرائم نمبر ۵۹ سن۲۰۱۸ میں ملزم نامزد کررکھا تھا۔ ببلو ولد انوار کے قبضہ سے ایک گن بارہ بور اور دو عدد زندہ کارتوس برآمد دکھائے گئے ہیں۔ دو دیگر گرفتار عمران ولد عرفان اور شمشاد ولد ننھے ہیں۔

(ب) قابل پولیس نے محسن علی والد ببلو خان کو بھی بلی کا بکرا بنا کر کیس میںاپنی تھیوری کے مطابق محسن کے بیان کو ثبوت بنایا ہے جبکہ قانون کا  یہ ماننا ہے کہ پولیس حراست میں لکھے ملزم کے بیان کی کوئی اہمیت اس کے یا کسی کے خلاف نہیں ہوتی ۔ محسن کے قبضہ سے چار عدد زندہ کارتوس، آٹھ عدد خالی کھوکھے بھی برآمد دکھائے گئے ہیں۔

’پولیس نے اس سلسلے میں کیس کرائم نمبر ۶۵ سن ۲۰۱۸ درج کیا ہے جس کے وادی ایس ایچ ریپو دمن سنگھ خود ہیں اور محسن کے اس مبینہ بیان کی بنیاد پر پولیس ثابت کرناچاہتی ہے کہ فائرنگ اور پتھراؤ مسلمانوں نے بچاؤ میں کیا جس کی گولی چندن اور نوشاد کو لگی۔

اس مبینہ بیان میں محسن کہتا ہےکہ اس نے اور سلیم، وسیم، نسیم، زاہد جگا، آصف ہٹلر، اسلم قریشی، عاصم قریشی، نصیر الدین، اکرم، توفیق، کھلن، شباب، راحت، سلمان، آصف جم والا، ثاقب، ببلو، نیشو واصف اور عمران ولد عبدالکریم، شاکر والد صدیق، سراج والد معراج، عظیم الدین ولد روشن وغیرہ نے بچاؤ اور مجبوری میں پتھراؤ اور فائرنگ کی جس میں چندن کی موت ہوئی اور نوشاد زخمی ہوا۔

اس مبینہ بیان میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ دوسرے فرقہ کے فسادی پتھراؤ اور فائرنگ کررہے تھے لہٰذا ہم نے بھی ایسا کیا۔ دوسرے فرقہ کے لوگ ہنگامہ کررہے تھے، صرف اتنا لکھ دیا ہے جس کا مطلب پتھراؤ اور فائرنگ نہیں ہوتا۔

یعنی پولیس محسن کے اس مبینہ بیان کو کیس کرائم نمبر ۶۵ سن ۲۰۱۸ میں لکھ کر  یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ مسلم فرقہ زیادہ مشتعل ہو کر فائرنگ اور پتھراؤ کر رہا تھا جبکہ ہندو فرقہ ہنگامہ کررہاتھا۔

(پ) چندن کے والد نے  کیس کرائم نمبر ۶۰ درج کرایا ہے جس میں وہ خود چشم دید گواہ نہیں ہیں۔ رپورٹ چودہ گھنٹے کی دیری سے درج ہوئی ہے۔

(ت) پولیس نے کیس کرائم نمبر ۶۷ سن ۲۰۱۸ تاریخ ۲۷ جنوری کو درج کی ہے۔ یہ رپورٹ مسلمانوں کی دکانوں مکانوں میں ۲۷ جنوری کو ہوئی آگ زنی کے واقعات سے متعلق ہے۔

۱…بانک نیر گیٹ پر لکڑی کا کھوکھا آگ زنی، گرفتاری- بیرو،سچن اور دیپک۔

۲… اوما پور اڈہ پر فرنیچر کی دکان میں آگ زنی، گرفتاری-  انوج تومر، ونیت سکسینہ، گجیندر، بھوپیندر، انل۔

۳…بارہ دری گھنٹہ گھر جوتےکی دوکان میں آگ  زنی، گرفتاری- انکت سکسینہ، راج، روہت ، گگن۔

۴…او ما پور اڈے پر بیچ کی دوکان میں آگ زنی، گرفتاری- ستیش۔

۵…گنگیشوری کالونی میں آگ زنی شاکر کا مکان۔

۶…چھرا روڈ پر ایسار پیٹرول پمپ کے پاس دوا کی دوکان میں آگ زنی۔

(ٹ) پولیس نے ۲۶ جنوری سے لے کر ۳۱ جنوری تک کل ۶۶ لوگوں کو ۱۵۱ سی آر پی سی  کے تحت امن و امان کو درہم برہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جس میں صرف تین مسلم ہیں۔

۲۶ اور ۲۹ جنوری کو کوئی گرفتاری  نہیں ہے۔ ۲۷ جنوری کو ۲۴گرفتاری، ۲۸ جنوری کو  ۳۷ ہندو اور تین مسلمان اور ۳۱ جنوری کو دو ہندو نظم و نسق کے الزام میں گرفتار ہوئے۔

حسین بیگ نے اپنے مکان میں آگ زنی ہونے کےبارے میں کیس کرائم نمبر  ۶۴ سن ۲۰۱۸ رپورٹ درج کرائی ہے۔

کیس کرائم نمبر ۶۷ سن ۲۰۱۸ نفیس احمد نے درج کرائی ہے جو ان کے جنرل اسٹور میں آگ زنی کے بارے میں ہے۔

کیس کرائم نمبر ۷۰ سن ۲۰۱۸ سراج نے ا پنے گھر میں آگ زنی کے سلسلے میں درج کرائی ہے۔

پولیس نے سلیم سے اس کی مبینہ نشان دہی پر  جو طمنچہ برآمد کیا ہے (جس پر مبینہ طور پر چندن کی قتل کئے جانے کا الزام ہے) اس کے لئے سلیم کے خلاف کیس کرائم نمبر ۶۹ سن ۲۰۱۸ آرمس ایکٹ کے تحت درج کیا ہے۔

پولیس نے ببلو کے خلاف کیس نمبر ۶۰ سن ۲۰۱۸  آرمس ایکٹ میں درج کیا ہے جس میں ببلو سے مبینہ برآمدگی ایک گن ، بارہ بور اور چار زندہ کارتوس برآمد بتائے ہیں۔

پولیس نے محسن کے خلاف آرمس ایکٹ میں کیس کرائم نمبر ۶۵ درج کیا جس میں محسن سے ایک ایس بی بی دو گن اور چار عدد زندہ اور آٹھ عدد کھوکھے برآمد دکھائے ہیں۔

(ث) کیس کرائم نمبر ۶۱ سن ۲۰۱۸ نثار احمد نے درج کرائی ہے جس میں نوشاد کے گولی لگنے اور زخمی ہونے کا ذکر ہے۔

کیس کرائم نمبر ۶۶ سن ۲۰۱۸ مطیع الرب نے درج کرائی ہے جس میں اکرم صدیقی کی کار پر بھیڑ کے حملہ کرنے سے ان کے زخمی ہونے اور کار میںبیٹھی ایک نابالغ لڑکی سے فحش حرکت کرنے کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک پولیس والے نے  زخمی اکرم سے تھانے میں کہا کہ تمہارے مرنے کے دن ہیں (دیکھیں ایف آئی آر)۔

حسین بیگ نے اپنے مکان میں آگ زنی ہونے کے بارے میں کیس کرائم نمبر ۶۴ سن ۲۰۱۸ رپورٹ درج کرائی ہے۔

کیس کرائم نمبر ۶۷ سن ۲۰۱۸ نفیس احمد نے درج کرائی ہے جو ان کے جنرل اسٹور میں آگ زنی کے بارے میں ہے۔

کیس کرائم نمبر ۷۰ سن ۲۰۱۸ سراج نے اپنے گھر میں آگ زنی کے سلسلے میں درج کرائی ہے۔

ویڈیو میں پیدل فائرنگ کرتے دکھائی دے رہے ہندو فرقہ کے آٹھ دس  لڑکوں کے خلاف کوئی ایکشن یا گرفتاری ابھی تک نہیںہوئی ہے۔ کوتوالی  سے سلیم کے گھر کی طرف جانے والی گلی میں پیدل چل کر  یہ فائرنگ کر رہے ہیں اور گلی سونی پڑی ہے،کوئی مسلم دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ یہ ایک اہم ثبوت ہے۔