اس سال بک جائے گی ائیر انڈیا

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>اس سال بک جائے گی ائیر انڈیا</h1>

نئی دہلی۔عام بجٹ کے ٹھیک ایک دن بعد سرکار نے خلاصہ کیا ہے کہ ائیر انڈیا کے پرائیویٹائزیشن کا عمل اس سال کے آخر تک پورا ہو جائے گا۔ ساتھ ہی جون تک ائیر انڈیا کے لئے بولی لگانے والے سامنے آ جائیں گے۔ سول ایوی ایشن کے اسٹیٹ منسٹر جینت سنہا نے کہا کہ قرض کے بوجھ سے دبی ہوا بازیکمپنی کو چار مختلف یونٹوں کی شکل میں بکری کے لئے پیش کیا جائے گا۔پرائیویٹ سیکٹر کے کھلاڑی کے پاس  ائیر لائن کی کم سے کم اکیاون فیصدحصہ داری رہےگی۔ قرض کے بوجھ سے دبی ائیر انڈیا فی الحال ٹیکس دہندگان کے پیسے پر چل رہی ہے۔

جینت سنہا نے کہ ا کہ ائیر انڈیا کیمجوزہ سرمایہ کے لئے  اشتہار اگلے کچھ ہفتوں میں جاری کر دیا جائے گا۔ اس میں مختلف پہلوؤں کا بیورا ہوگا۔ اس میں بتایا جائے گا کہ بولی کے لئے کیا دستیاب ہوگا، کون سی املاک بیچی جائیں گی اور کون سی سرکار کے پاس رہیں گی۔

ایوی ایشن وزیر نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ خریدار کمپنی جون کے آخر تک سامنے آ جائے گی۔ قانونی طورسے  یہ سودا  اس کلینڈر سال میں پورا ہو جائے گا۔ انہو ںنے کہا کہ قانونی طور سے سودا پورا ہونے سے مطلب سبھی قانونی قرار، سکیورٹی منظوریاں، املاک کی منتقلی، اس کا مالکانہ حق پورا ہونے سے ہے۔ اس طرح ائیر انڈیا کا آپریشن کوئی دوسرا کرے گا۔

ائیر انڈیا کے ڈس انویسٹمنٹ کے لئے دلچسپی دکھاتے ہوئے درخواست بجٹ ائیر لائن انڈیگو اور ایک غیر ملکی ائیر لائن نے دیا ہے۔ حالانکہ  وزیر نے غیر ملکی کمپنی کے نام کا خلاصہ نہیں کیا۔ خراب حالات سے گزر رہی ائیر لائن کے حالات ٹھیک کرنے کے لئے پچھلے سال اس کے ڈس انویسٹمنٹ کا فیصلہ کیا تھا اور وزیرخزانہ ارون جیٹلی  کی قیادت میں گروپ آف منسٹرس کی تشکیل کی گئی تھی۔ جی او ایم حصہ داری فروخت  کے طور طریقہ طئے کرے گا۔

جینت سنہا نے کہا،’’ ہم ائیر انڈیا کی نجی کاری کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ائیر انڈیا کی اکیاون فیصد سے زیادہ حصہ داری پرائیویٹ سیکٹر کو منتقل کی جائے گی۔ ہم کنٹرول نجی شعبہ کو منتقل کررہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ سرکار کے پاس ۴۹ فیصد یا اس سے کم کا مالکانہ حق رہے گا۔ انہو ںنے کہا کہ ائیر انڈیا کو برٹش ائیر ویز ، امریکن ائیر لانس، لفتھانسا اور کوانٹاس کی طرح نجی شعبہ کو منتقل کیا جائے گا۔

ائیر انڈیا کی بازار حصہ داری  قریب  چودہ فیصد ہے اور اس کا قرض پچاس ہزار کروڑ روپئے کا ہے جبکہ سرکار نے نجی ہوائی کمپنیوں میں پیسہ نہیں لگایا ہے۔ ائیر انڈیا کو چلانے کے لئے  قریب پچاس ہزار کروڑ روپئے لگائے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی  نے کہا تھا کہ اس ملک میں اگر ۸۷ یا ۸۶ فیصد اڑان نجی کمپنیوں کے ذریعہ آپریٹ ہوسکتی ہیں تو وہ ۱۰۰ فیصد بھی کر سکتے ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ ۲۰۰۰ –  ۱۹۹۹ میں جب  وہ کچھ وقت کے لئے سول ایوی ایشن وزیر تھے، انہو ںنے ائیر انڈیا کے ڈس انویسٹمنٹ کی وکالت کی تھی۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ڈس انویسٹمنٹ کے لئے کچھ بھی نہیں بچے گا۔ یہ قریب اٹھارہ سال پہلے کی با ت ہے۔