بھگوا برگیڈ سے بے عزت ہوتی یوپی پولیس

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>بھگوا برگیڈ سے بے عزت ہوتی یوپی پولیس</h1>

لکھنؤ۔ اترپردیش میں آدتیہ ناتھ یوگی کی قیادت میں بی جے پی سرکار آنے کے بعد سے کوئی بھی شخص اپنے کو وشو ہندوپریشد ، بجرنگ دل، آر ایس ایس، ہندو یوا واہنی سمیت کسی بھی ہندوتووادی تنظیم کا بتا کر سڑکوں پر تو دہشت پھیلاتا ہی ہے ریاست کی پولیس کی بھی ان غنڈہ قسم لوگوں کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان کا سب سے بڑا ہتھیار گلے میں پڑا یا سر پر باندھا بھگوا پٹکا ہے۔ اب تو چور اچکوںنے بھی بھگوا پٹکا کا فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔

اس قسم کی دہشت گردی کی شروعات گزشتہ سال اپریل میں سہارن پور سے ہوئی تھی جہاں سڑک دودھلی میں  بی جے پی کے لوک سبھا ممبر راگھو لکھن پال شرما نے پہلے تو فساد کرانے کی نیت سے مسلمانوں کے محلّوں سے امبیڈ کر شوبھایاترا نکالنے کی کوشش کی پولیس نے انہیں روکا تو موقع پر کھڑے ہو کر بھری بھیڑ میں انہوں نے سینئر پولیس کپتان کو گالیاں بکیں پھر ایک بھیڑ لے جا کر سینئر پولیس کپتان کے سرکاری بنگلے پر حملہ کر دیا۔ اس سرکاری غنڈے کو یہ احساس بھی نہیں رہا کہ بنگلے میں کپتان کی بیوی اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ تھی۔ انہوں نے جانور پالنے کی جگہ پر اپنے  بچوں کو چھپایا۔ اسی کے بعد راگھو لکھن پال نے مہاراناپرتاپ جینتی کے بہانے شبیر پور گاؤں کے دلتوں پراس لئے حملہ کرایا کہ سڑک دودھلی میں دلتوں نے مسلمانوں کے خلاف ان کا ساتھ کیوں نہیں دیا۔

سہارن پور کے تشدد کی شروعات راگھو لکھن پال نے کرائی یہ بات اترپردیش سرکار نے مرکزی  وزیر داخلہ کو بھیجی گئی اپنی رپورٹ میں بھی درج کی تھی۔ اس کے باوجود آج تک راگھو لکھن پال کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں ہوئی۔ دوسری طرف شبیر پور کے دلتوں پر ہوئے حملے کے خلاف گاندھی چوک پر دھرنا  مظاہرہ کرنے والے بھیم آرمی کے لیڈر چندر شیکھر آزاد ’’راون‘‘ پر کئی مقدمے قائم کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ انہیں تمام مقدموں میں ضمانت مل گئی تو ان پرپہلے سے لگے نیشنل سکیورٹی ایکٹ(این ایس اے) میں اگلے چھ مہینوں تک کی توسیع کر دی گئی تاکہ وہ جیل سے باہر نہ آسکیں۔ کیا اس قسم کی کاروائیاں کرکے یوگی آدتیہ ناتھ سرکار ریاست میں نئے قسم کے باغی پیدا کرنے کا راستہ صاف نہیں کررہی ہے؟ سرکار کی ایسی ہی کاروائیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پورے اترپردیش میں خود کو بھگوا برگیڈ بتانے والے تھانوں میں گھس کر  پولیس  افسران تک کو ما ں بہن کی گندی گالیاں بک رہے ہیں۔ تھانیداروں کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں کپتان تک گالیاںکھانے کو مجبورہیں۔

آگرہ کے بی جے پی لوک سبھا ممبر رام شنکر کٹھہریا نے مہیش یادو نام کے داروغہ کو اس لئے فون پر برا بھلا کہا اور ایس سی / ایس ٹی ایکٹ میں جیل بھجوانے کی دھمکی دی کہ داروغہ کے تھانے کے کسی سپاہی نے کٹھہریا کے کسی قریبی کو ایک ڈنڈا مار دیا تھا۔ کٹھہریا اس سے پہلے مسلمانوں کے خلاف زہر اگل چکے ہیں۔ نریندر مودی نے انہیں شروع میں ہی اپنی وزارت میں منسٹر آف اسٹیٹ بنایا تھا لیکن ان کی نا اہلی اور بدتمیزی کی وجہ سے بعد میں وزارت سے نکال دیا تھا۔

بریلی کے ایک تھانے میں آٹھ دس لوگ گلے میں بھگوا پٹکا ڈال کر اور سر پر باندھ کر داخل ہوتےہیں۔ وہ لوگ کسی ملزم کو چھڑانے گئے تھے۔ تھانیدار کو ہدائت دی کہ جس طرح وہ لوگ کہیں اسی طرح کام کریں ورنہ جوتوں سے  ماریںگے۔ غنڈوں کے حوصلے اتنے بلند تھےکہ انسپکٹر کو گھیر کر کہا کہ آج ہم جا رہے ہیں تین چار دن بعد پھر واپس آئیں گے اگر تم نے ٹھیک سے کام نہیں کیا تو ہم تمہاری میّا… ڈالیں گے۔ ڈرا  سہما انسپکٹر خاموشی سے گالیاں سنتا رہا۔ اپنی خاموشی کے ذریعہ انسپکٹر نے اپنے ساتھ ساتھ وردی کی بھی توہین  کرائی۔

میرٹھ میں شہر پولیس کپتان مان سنگھ چوہان کو باقاعدہ ایک تھانے میں گھس کر کمل دت شرما نام کے ایک آر ایس ایس بی جے پی ورکر نے  گالیاں دیں کیونکہ کمل دت شرما کے خلاف ایک کریمنل مقدمہ درج ہو گیا تھا۔ وہ  بدنام کریمنل ہے اس کے خلاف تین درجن مقدمے درج ہیں۔ بھگت سنگھ مارکیٹ کی ایک دکان پر قبضہ کرنے کے معاملے میں تین لوگوں کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا۔ ملزمان میں کمل دت شرما کا نام بھی تھا۔ اس نےشہر پولیس کپتان کو تھانے میں ہی دھمکاتے ہوئے کہا کہ یہ میرٹھ ہے تم میرٹھ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہو میرٹھ ہم چلائیں گے تم پولیس والوں کو میرٹھ چلانے کی اجازت ہم نہیں دیں گے۔ شرمانے پولیس کپتان کو باقاعدہ چیلنج کرتے ہوئے کہا تمہاری ہمت ہو تو  مجھے گرفتار کرکے دکھاؤ۔ جاتے جاتے شرما دھمکی دے گیا کہ اگر رپورٹ سے اس کا نام نہ نکالا گیا تو وہ پولیس کو صحیح سبق سکھائے گا۔ پولیس کپتان خاموش بیٹھے رہے کیونکہ اب یوپی میں پولیس کو اسی طرح نوکری کرنی ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ سرکار میں آر ایس ایس ، وشو ہندو پریشد، ہندو یوا واہنی اور بجرنگ دل جیسی تنظیموں کے نام پر جس قسم کی غنڈئی سرکار ی افسران اور پولیس کے ساتھ ہو رہی ہے اس سے پوری سرکاری مشینری کا حوصلہ پوری  طرح ٹوٹاہوا دکھائی دینے لگا ہے۔ مایوسی میں پولیس والے اپنا غصہ یا تو بے گناہوں پر اتارتے نظر آتے ہیں یا پھر ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ریپ اور قتل جیسے جرائم کا سیلاب پوری ریاست خصوصاً راجدھانی لکھنؤ میں نظر آنے لگا ہے۔