بے شمار دولت لے کر ملک سے بھاگنے والوں کی تعداد میں اضافہ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>بے شمار دولت لے کر  ملک سے بھاگنے والوں کی تعداد میں اضافہ</h1>

نئی دہلی۔ ہندوستان میں ہزاروں کروڑ روپئے کما کر بیرون ملک کو بھاگنے والوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ۲۰۱۷ میں ایک دو نہیں سات ہزار ہندوستانی ملک سے اربوں کھربوں ڈالر کے برابر دولت لے کر بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر نے امریکہ کو اپنا نیا ٹھکانہ بنایا ہے۔ ان سبھی کا شمار دیش بھکتوں میں ہوتا ہے۔ اسی خیال سے تو سرکار ہر سال این آر آئی کانفرنس کرکے ان بھگوڑوں پر سیکڑوں کروڑ روپئے  خرچ کرتی ہے۔ ویسے بیرون ملک بھاگنے والوں کو نان ریزیڈنٹ انڈین (این آر آئی) کہا جات ہے لیکن حقیقت  میں  یہ ’ نان ریلائی ایبل انڈین‘ ہوتے ہیں۔ اس طرح ملک کی اربوں کروڑ کی دولت لے کر غیر ملک کو بھاگنے والے زیادہ ایسے ہوتے ہیں جن کو ٹیکس چوروں اور بے ایمانوں کے خانہ میں رکھا جانا چاہئے لیکن این آر آئی کانفرنس میں یہ سب ہندوستان آتے ہیں تو  سرکار ان کی اسی طرح آؤ بھگت کرتی ہے جیسے گھروں میں داماد کے آنے پر اس کی  کی جاتی ہے۔ این آر آئی میٹ میں آنے والوں کی کوئی جانچ نہیں ہوتی یہ بھی نہیں معلوم کیا جاتا ہے کہ وہ کتنے دن یا کتنے سال قبل ہندوستان چھوڑ کر بھاگے تھے۔

’’نیو ورلڈ ویلتھ‘‘ کی تازہ رپورٹ ایک حیران کن انکشاف کرتی ہے کہ سال ۲۰۱۷ میں ملک کے سات ہزار کروڑ پتیوں نے دوسرے ملک کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔ یہ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ کروڑ پتیوں کا بیرونی ممالک میں مستقل طور پر بسنے کا رجحان نیا  نہیں ہے۔ ۲۰۱۶ میں چھ ہزار کروڑ پتی ہندوستان کو مستقل طور پر چھوڑ گئے تھے تو اس سے پہلے ۲۰۱۵ میں ایسے ہندوستانیوں کی تعداد چار ہزار تھی۔ واضح ہو کہ ۲۰۱۴ میں جب مرکز کے اقتدار پر بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے قابض ہوئی تھی تب یہ باتیں بڑے  زور  و شور سے کہی جارہی تھیں کہ دس سال کی کرپٹ من موہن سنگھ حکومت کے سبب جن ہندوستانیوں کا ملک کے تئیں اعتماد متزلزل ہوا تھا  ایک راشٹر وادی کرپشن  سے پاک حکومت کے آنے کے بعد ایسے لوگوں کا ہندوستان کے تئیں بھروسہ پیدا ہوا ہے اور جو لوگ کرپشن سے عاجز ہو کر ملک تک چھوڑنے کا فیصلہ لینے کو مجبور ہوئے تھےوہ  پھر سے ہندوستان میں بسنے کو ترجیح دیں گے۔ کتنے کروڑ پتی ہندوستان واپس آئے اس کی کوئی تعداد ابھی تک  سامنے  نہیں آئی ہے لیکن پچھلے تین سال میں سترہ ہزار  کروڑ پتی ضرور ہندوستان چھوڑ کر چلے گئے ۔ رپورٹ کے مطابق اڑتالیس لاکھ ہندوستانی غیر ملکوں میں بسنے کی تیاری کررہے ہیں۔ اب تک ایک کروڑ ستر لاکھ ہندوستانی غیر ملکوں میں بس چکے ہیں جس میں پچاس لاکھ تو خلیجی  ممالک میں رہتے ہیں۔

سترہ  ہزار کروڑ پتیوں کا پچھلے تین سال میں ہندوستان سے جا کر کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ نریندر مودی کے مرکز کے اقتدار پر قابض ہونے پر ان کے متعلق جو باتیں کہی جارہی تھیں وہ ایک لیڈر کی ’امیج بلڈنگ‘ پروگرام سے زیادہ کچھ نہیں تھیں۔ مودی جس کالے دھن کو لانے کی باتیں بڑے کانفیڈنس سے کرتے تھے اس میں سے ایک کوڑی بھی ابھی تک نہیں آئی ہے لیکن سترہ ہزار کروڑ پتیوں کے ہندوستان چھوڑنے سے ملک کا کتنا سفید دھن غیر ملک چلا گیا کچھ پتہ نہیں ہے۔ جو لوگ ملک کو چھوڑ کر گئے ہیں ظاہر ہےاپنی جائداد و املاک کو ہندوستان چھوڑ کر نہیں گئے ہوں گے اس کی قیمت لے کرگئے ہوں گے۔ اس طرح ہزاروں لاکھوں کروڑ کی رقم  ملک سے چلی گئی اور راشٹر وادی  سرکار تماشہ دیکھتی رہ گئی۔ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ لوگوں میں اعتماد بحالی کی جو باتیں کہی جارہی تھیں حقیقت ان سے کوسوں دور تھی۔ نہ مودی کے آنے سے کروڑ پتیوں کا ہندوستان کے تئیں اعتماد بحال ہوا تھا اور نہ ہی انہیں وطن سے کوئی لگاؤ تھا۔ یہ کروڑ پتی اپنے روشن مستقبل کے لئے یہاں سے چلے گئے یا پھر ایک خاص ذہنیت کے فروغ پانے کی وجہ سے ان کے دلوں میں یہ خوف اور دہشت گھر کرتی جارہی تھی کہ اگر ایسے ہی چلتا رہا تو اس ملک میں امن و سکون سے جینا آسان نہیں ہوگا۔ ایسے ہی اندیشوں میں مبتلا ہو کر ہزاروں کروڑ پتیوں کو دوسرے ملکوں میں سکون و آرام سے رہنے کی خواہش نے اپنی جڑوں سے کٹنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ’’نیو ورلڈ ویلتھ‘‘ تنظیم کی رپورٹ اس بارے میں کچھ نہیں بولتی ہے۔ کروڑ پتیوں کا ملک چھوڑنا اور دوسرے ممالک میں بسنا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے یہ ان ممالک میں خوب ہورہا ہے جہاں کی معیشت میں پیش رفت  پائی جارہی ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ ۲۰۱۷ میں چین سے دس ہزار سے زائد  کروڑ پتیوں نے دوسرے ملکوں میں مستقلاً رہنے کو ترجیح دی تو ترکی سے چھ ہزار کروڑ پتی ا پنا ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ برطانیہ اور فرانس کے چار چار ہزار اور روس کے تین  ہزار کروڑ پتی دوسرے ملکوں میں جا کر بس گئے ہیں۔

ہندوستان چھوڑ کر جانے والوں کا سب سے پسندیدہ ملک امریکہ ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات ، کناڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی ہیں جبکہ چین کے دولتمندوں کی پسندیدہ جگہ بھی امریکہ آسٹریلیا اور کناڈا ہے۔ یہ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہندوستان دنیا کا چھٹواں سب سے دولتمند ملک ہے اور ان کی کل املاک پانچ ہزار دو سو اٹھہتر کھرب روپئے ہے۔ ہندوستان تین لاکھ تیس ہزار چار سو امیروں کا گھر ہے۔