انکت کے والد کا فرقہ پرست طاقتوں کو سبق

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>انکت کے والد کا فرقہ پرست طاقتوں کو سبق</h1>

نئی دہلی۔ مسلم لڑکی کے ساتھ عشق کرنے اور اسی  فروری کے آخر تک شادی کرنے کا ارادہ رکھنے والے انکت  سکسینہ کو لڑکی کے گھر والوں نے اس کے والدین اور محلّہ والوں کے سامنے گلا کاٹ کر قتل کر دیا تو ہندو تو وادی طاقتیں یہ سوچ کر ان کے گھر پر ٹوٹ پڑیں کہ فساد کرانے اور نفرت پھیلانے کا ان کو ایک بہترین موقع مل گیا ہے۔ لیکن ان فرقہ پرست طاقتوں کے منصوبہ پر اس وقت پانی پھر گیا جب انکت سکسینہ کے والد یشپال سکسینہ نے یہ کہہ دیا کہ انہیں مسلمانوں یا اسلام سے کوئی شکائت نہیں ہے ان کے بیٹے کا قتل ہو گیا شائد اس کی اتنی ہی  زندگی  تھی میں نہیں چاہتا کہ جھگڑا فساد ہو جس میں کسی اور کے بیٹے کی جان جائے۔ میں اتنا ضرور چاہتا ہوں کہ قاتلوں کو عدالت سے مناسب سزا ملے۔ یہ بات انہوںنے اس وقت کہی جب دہلی بی جے پی کے صدر منوج تیواری اپنی ایک ٹیم لے کر وہاں پہونچے  اور ان کی ٹیم کے لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ مسلمانوں نے سب کے سامنے دن دہاڑے ایک ہندو نوجوان کا قتل کردیا۔ اس کے لئے انہیں مناسب سبق سکھایا جانا چاہئے۔ لیکن جب انکت کے والد یشپال سکسینہ نے  منوج تیواری کو صاف کہہ دیا کہ وہ نفرت کے کھیل میں شامل نہیں ہونا چاہتے اس لئے وہ لوگ انہیں چھوڑ کر جائیں۔ انہوں نے انتہائی شرافت کے ساتھ منوج تیواری کو اپنے گھر سے واپس جانے کے لئے کہا۔ ان کا رخ دیکھ کر فوراً منوج تیواری کے سر بدل گئے اور انہوں نے بھی وہاں بیٹھ کر یہ کہنا شروع کردیا کہ جھگڑا فساد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، ان کی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر، کانگریس لیڈر اور سابق لوک سبھا ممبر مہابل مشرا سمیت بڑی تعداد میں سیاستدانوں نے انکت کے گھر جا کر ان کے گھر والوں سے ہمدردی ظاہر کی لیکن انکت کے والدین  نے بار بار یہ کہا کہ انہیں فرضی اور سیاسی ہمدردیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں صرف عدالت سے انصاف چاہئے۔

نفرت کے موجودہ ماحول میں انکت کے والد یشپال سکسینہ نے جس استقامت کا مظاہرہ کیا اس کے ذریعہ انہوں نے فرضی ہندوتو کے ٹھیکہ داروں کو یہ سبق دیا ہے کہ اصل ہندو کیسے ہیں۔ انکت کی موسی کے بیٹے آشیش دگل نے بھی ایک فیس بک پیج بنا کر لوگوں سے اپیل کی ہے کہ سب لوگ انکت کو انصاف دلانے کے لئے امن و امان کے ساتھ فیس بک پر ہی مہم چلائیں۔ وہ خود اور ان کا پورا خاندان چاہتا ہے کہ اس معاملے میں کوئی سیاست نہ ہو۔  انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر اترکر دوسرے لوگوں کو تکلیف دے کر وہ لوگ انصاف کی لڑائی نہیں لڑنا چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ فاسٹ ٹریک کورٹ میں مقدمہ چلا کر انکت کے قاتلوں کو جلد سے جلد سخت سزا ملے اورانہیں ضمانت بالکل نہ دی جائے۔

انکت اور سلیمہ دونوں نے شادی کا پلان بنایا تھا۔ اسی کے تحت سلیمہ رات میں اپنے گھر سے نکلی اور دونوں کو ٹیگور میٹرو ریلوے اسٹیشن پہونچنا تھا چونکہ وہ جاتے وقت اپنے گھر والوں کو اپنی شادی کے ارادے کے بارے میں بتا گئے تھے اس سے ناراض گھر والے انکت کی تلاش میں نکلے اور اسے راستے میں پکڑ کر مار پیٹ شروع کردی۔معاملہ گھر کے پاس ہونے کی وجہ سے انکت کی ماں کملیش اسے بچانے کو پہونچیں مگر ان کے سامنے ہی انکت کا قتل کردیا گیا۔ انکت کی ماں کملیش ڈائبٹیس کی مریضہ ہیں تو والد یشپال سکسینہ دل  کے مریض ہیں۔ اس کے باوجود جوان بیٹے کی موت پر انہو ںنے  بڑے دل کا مظاہرہ کرتےہوئے صرف اپنے بیٹے کے قاتلوں کو سزا ملنے کی بات کہی۔ انہو ںنے کہا کہ اس قتل کے لئے پوری مسلم برادری کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔ ادھر انکت کا انتظار کررہی  اس کی معشوقہ سلیمہ کو جب انکت کے قتل کی خبر ملی تو اس پر جیسے  بجلی سی گر گئی۔ اس نے کہا کہ اگر اسے اس کے ماں باپ کے پاس بھیجا گیا تو وہ زہر کھا کر جان دے  دیگی۔ پولیس نے انکت کے سبھی قاتلوں کو پکڑ لیا ہے۔ چونکہ قاتلوں میں شامل لڑکی کا بھائی نابالغ ہے اس لئے اسے جوئینائل جیل میں بھیجا گیا ہے۔ پولیس کو شادی روکنے کے علاوہ قتل کی کوئی وجہ نہیں ملی ہے۔

دہلی کے خیالا علاقہ میں انکت کے قتل نے سماج کے ہر اس شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے جو انسانیت میں یقین رکھتا ہے۔ ۲۳ سال کے انکت کا قتل صرف اس بات پر کیا گیا کیونکہ وہ مسلم لڑکی سلیمہ سے پیار کرتا تھا۔ محبت کی یہ دیوار جدیدیت کا نعرہ لگانے والے ہمارے سماج پر بہت زور کا طمانچہ ہے۔

جس دن انکت کاقتل ہوا اس دن سلیمہ کے والد نے پولیس کو فون کیا اور کہا کہ انہو ںنے اس لڑکے کو  پکڑ لیا ہے جو ان کی لڑکی کو چھیڑ رہا تھا۔ جب پولیس وہاں  پہونچی  تو دیکھا کہ لڑکی کی ماں کے ہاتھ میں خون سے سنا ہوا چاقو ہے۔ لڑکی کی ماں پولیس کے سامنے خود کو  وکٹم بتانے کی کوشش کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ انکت نے ان کی بیٹی کو اغوا کر لیا تھا اور جب ہم نے اسے چھڑانے کی کوشش کی تو انکت نے ہم پر حملہ کیا۔ اس کے بعد ایک دوسرا کال پولیس کے پاس آتا ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ انکت کی موت ہوچکی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ سارا واقعہ تقریباً ۳۵ منٹ میں ہوا جب لڑکی کے ماں باپ نے اسے ڈھونڈھنا شروع کیا۔ حالانکہ لڑکی نے پولیس کو بتایاکہ اپنی ماں اور بھائی سے  نوک جھونک کے بعد اس نے ۴۵.۷ پر اپنا گھر چھوڑ دیا تھا اور اس نے گھر کا دروازہ بند کردیا تھا تاکہ اس کا بھائی پیچھا نہ کر سکے۔

۵۰.۷  پر لڑکی کے باپ گھر پر پہونچتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان کی بیوی اور بیٹا گھر کے اندر بند ہیں۔ انہو ںنے یہ طئے کیا کہ وہ اس بار اپنی بیٹی سلیمہ کو اچھے طریقہ سے سبق سکھائیں گے۔ انہو ںنے ایک چھڑی اٹھائی اور لڑکی کو اپنے محلّے میں ڈھونڈھنے  لگے۔ لڑکی کے والدین اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا کہ انکت محلّے کے باہر ہی  کھڑا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انکت نے ان کی بیٹی کو اغوا کر لیا ہے۔

انکت اپنے دو دوستوں کے ساتھ ٹیگور گارڈن میٹرو اسٹیشن  کی طرف جارہا تھا جہاں اس نے سلیمہ کو انتظار کرنے کے لئے کہا تھا۔ اس بیچ انکت اور سلیمہ کے والد میں کافی بحث ہوتی ہے اور سلیمہ کے والد انکت کو کئی بار پیٹتے ہیں۔ جب انکت  کے دوست اسے بچانے کی کوشش کرتے ہیں تو لڑکی کے والد ان پر بھی حملہ کرتے ہیں۔

اس بیچ انکت اپنے ایک دوست سے کہتا ہے کہ وہ جا کر اسکی ماں کو بلا لائے اور دوسرے دوست کو اس نے لڑکی کو میٹرو اسٹیشن سے لانے کے لئے کہا۔ انکت نے لڑکی کے چاچا کو بھی بلایا اور سلیمہ کے باپ سے ہوئی لڑائی کے بارے میں بتایا۔ حالانکہ لڑکی کا چاچا ہی وہ چاقو لایا تھا جس سے انکت کا قتل کیا گیا۔ تب تک انکت کی ماں وہاں پہونچ جاتی ہیں اور دیکھتی ہیں کہ پھر سے لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ اس بیچ ان کے سامنے ہی انکت کا گلا کاٹ دیا جاتا ہے۔ انکت کی ماں یہ سب دیکھ کر روتی رہتی ہیں ۔ افسوس بلکہ شرمناک بات یہ ہے کہ انکت کو بچانے کے بجائے آس پاس  جمع ہوئے لوگ فوٹو کھینچنے میں لگے تھے۔ دس منٹ بعد ایک ای رکشا آتا ہے اور انہیں اسپتال لے کر جاتا ہے۔

شام میں آٹھ بج کربارہ منٹ پر پولیس کو پہلی کال آتی ہے جس میں سلیمہ کے والد یہ الزام لگاتے ہیں کہ انکت ان کی بیٹی کو چھیڑ رہا تھا اور انہوں نے اسے رنگے ہاتھ پکڑ لیا ہے۔

آٹھ بج کر سترہ منٹ پر پولیس موقع پر پہونچتی ہے اور سلیمہ کی ماں سے پوچھ گچھ کرنے لگتی ہے۔ سلیمہ کی  ماں کو مقامی لوگوں نے پکڑ رکھا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ شروع میں اس نے انکت پر ہی الزام لگانا چاہا لیکن بعد میں قبول کیا کہ اس کے شوہر اور بھائی نے ہی انکت کا قتل کیا ہے۔

پولیس کو آٹھ بج کر پچاس منٹ پر دوسری کال آتی ہے ۔ یہ کال اس اسپتال سے آتی ہے جہاں پر انکت بھرتی تھا۔ ڈاکٹر نے پولیس کو بتایا کہ انکت کی موت ہوچکی ہے۔ ملزمان کو دیر رات روہنی سے پکڑا گیا۔ یہ لوگ سہارن پور بھاگ جانے کی فراق میں تھے۔ وہیں لڑکی کے نا بالغ بھائی کو صبح میں یوپی کے ایک گاؤں سے پکڑا گیا۔ اس پورے معاملے کا سب سے شرمناک پہلو یہ ہے کہ اگر لوگوں نے انکت کو پیٹنے اور قتل کئے جانے کا ویڈیو بنانے کے بجائے اسے بچانے کی کوشش کی ہوتی تو آج انکت زندہ ہوتا۔ لو گ حساس فون لے کر بے حس  ہو چکے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے۔