اگر گاندھی اور لوہیا کی بات ہو گئی ہوتی…..!

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>اگر گاندھی اور لوہیا کی بات ہو گئی ہوتی…..!</h1>

شیش نارائن سنگھ

تیس جنوری کے دن دہلی کے بڑلاہاؤس میں مہاتما گاندھی کا قتل کرکے ناتھو رام گوڈ سے نے صرف مہا تما گاندھی کو ہی قتل نہیں کیا تھا۔ اس نے ایک آزاد ملک کے  خواب کے مستقبل کو بھی مار ڈالا تھا۔ حکمراں طبقہ کے استحصال کے فلسفہ کے نمائندے ناتھو رام گو ڈ سے  نے اسی قتل کے ساتھ دیگر بہت سے نظریات کا قتل کردیا تھا۔ مہاتما گاندھی کو پڑھنے والا کوئی بھی آدمی بتا دے گا کہ مہاتما جی نے کانگریس کی معاشی ترقی کے اس ماڈل کو  تسلیم نہیں کیا تھا جسے آزاد بھارت کے لئے جواہر لال نہرو اور ان کی سرکار والے لاگو کرنا چاہتے تھے۔ مہاتما گاندھی نے صاف بتا دیا تھا کہ وہ گاؤں کو ترقی کی اکائی بنانے کے حامی تھے لیکن جواہر لال نہرو کی قیادت والی کانگریس کے لیڈروں کے دماغ میں صنعتی اداروں کے راستے ملک کی معاشی ترقی کرنے کے خواب پل رہے تھے۔ گاندھی جی نے اس پر بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ ان کی اصل کتاب ’ہند سوراج‘ میں تو یہ بات صاف صاف لکھی ہی ہے بعد کے دستاویزوں میں بھی گاؤں کو  ترقی کی یونٹ بنانے  کی بات بار بار کہی گئی ہے۔ آزادی کی لڑائی تک یعنی ۱۹۴۶ تک مہاتماگاندھی کی ہر بات ماننے والے جواہر لال نہرو نے مہاتما جی کی معاشی ترقی کی سوچ کو نکارنا شروع کردیا تھا۔ بھارت کے آخری پائیدان پر کھڑے آدمی کی ترقی کے حامی گاندھی کی سیاست سے اسی دور میں جواہر لال نہرو نے نظریاتی فاصلہ بنانا شروع کردیا تھا۔ کانگریس کا طاقتور طبقہ بھی اس  معاملے میں نہرو کے ساتھ تھا۔ گاندھی جی ایک سیاسی پارٹی کی شکل میں کانگریس کو ختم کرکے باقی سیاسی پارٹیوں کو چناؤی میدان میں برابری دینا چاہتے تھے۔ لیکن اس وقت تک کانگریس میں سب سے زیادہ طاقتور  ہو چکے سردار پٹیل اور جواہر لال نہرو نے اس بات کو سرے سے خارج کردیا تھا۔ معاشی ترقی کی ان کی سوچ کو بھی صحیح ٹھہرانے والا کوئی بھی آدمی جواہر لال کی پہلی وزارت میں شامل نہیں تھا۔ گاندھی جی اس بات سے مطمئن نہیں تھے۔ ادھر محمد علی جناح کی ضد کے چلتے مسلم لیگ میں مسلمان زمینداروں نے پورے ملک میں فساد بھڑکانے کی سازش پر عمل کرنا شروع کردیا تھا۔ ۱۹۴۶ کے بعد سے ہی ہر اس قدر کو دفن کیا جا رہا تھا جس کو بنیاد بنا کر آزادی کی لڑائی لڑی گئی تھی۔ آزادی کے آندولن کے ایتھوز کو کانگریس کو لوگ بھول چکے تھے اور اگر بھولے نہیں تھے تو اسے تاریخ کےکوڑے دان کے حوالے کرنےکی پوری تیاری کر چکے تھے۔

اس پس منظر میں جن لوگوں نے کانگریس سوشلسٹ پارٹی بنائی تھی، مہاتما گاندھی ان لوگوں پر بہت بھروسہ کررہے تھے۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر رام منوہر لوہیا تھے۔ اگست کرانتی کے دوران ڈاکٹر لوہیا کے کام سے مہاتما گاندھی بہت زیادہ  متاثر ہوئے تھے۔ اس کے پہلے ڈاکٹرلوہیا کے کئی مضامین، مہاتماگاندھی کے اخبار’ہریجن‘ میں شائع بھی ہو چکے تھے۔گوا کے معاملے پر ان کا ساتھ مہاتما گاندھی کو چھوڑ کر اور کسی بڑے لیڈر نے نہیں دیا۔

آزادی کے بعد نہرو سرکار کی معاشی پالیسیاں گاندھی کے نظریات کے برعکس تھیں۔ ڈاکٹر لوہیا کا سماج واد گاندھی کے نظریات کے بہت قریب تھا۔ نہرو سرکار کے حالات اور سمت کی وجہ سے مہاتما گاندھی کی نہرو سے رغبت کم ہو رہی تھی اور لوہیا کی طرف رجحان بڑ رہا تھا۔ آزادی کے بعد ملک فرقہ واریت میں پھنس گیا تو امن اور ہم آہنگی قائم کرنے میں ڈاکٹر لوہیا نے گاندھی کا بھرپور تعاؤن کیا۔ اس طرح وہ گاندھی جی کے کافی قریب آ گئے تھے۔ اتنے قریب کہ گاندھی نے جب لوہیا سے کہا کہ جو چیز عام آدمی کے لئے دستیاب نہیں ہوسکےاس کا استعمال تمہیں بھی نہیں کرنا چاہئے اور سگریٹ چھوڑ دینا چاہئے تو لوہیا نے فوراً ان کی بات مان لی۔ مہاتما جی سے  لوہیا کے خیالات اتنے مل رہے تھے کہ لگتا تھا کہ آزادی کے بعد لوہیا ہی گاندھی کی سیاست کے وارث بنیں گے۔ لگتا ہے کہ آزادی کے بعد کی بھارت کی سیاست پر پھر سے غور کرنے کی ضرورت جتنی آ ج ہے اتنی کبھی نہیں تھی۔ ’’بھارتیہ پکش‘‘ نام کی ایک ڈکشنری میں لکھا ہے کہ اٹھائیس جنوری ۱۹۴۸ کو گاندھی نے لوہیا سے کہا، مجھے تم سے کچھ معاملات پر تفصیل سے بات کرنی ہے۔ اس لئے آج تم میرے بیڈ روم میں سو جاؤ۔ صبح تڑکے ہم لوگ بات چیت کریں گے۔ لوہیا گاندھی کے برابر میں سو گئے۔ انہو ںنے سوچا کہ جب باپو جاگیں گے  تب بات چیت ہو جائے گی۔ لیکن جب لوہیا کی آنکھ کھلی تو گاندھی جی بستر پر نہیں تھے۔ بعد میں جب لوہیا گاندھی سے ملے تب گاندھی نے کہا،’ تم  گہری نیند میں تھے۔ میں نے تمہیں جگانا ٹھیک نہیں سمجھا۔ خیر کوئی بات نہیں۔ کل شام تم مجھ سے ملو۔ کل یقینی طور پر  میں کانگریس اور تمہاری پارٹی کے بارے میں بات کروں گا ۔ کل آخری فیصلہ ہوگا‘‘۔ یعنی ۲۹ جنوری کے دن ڈاکٹر لوہیا ان سے وعدہ کرکے آئے کہ تیس تاریخ کو بات کرنے کے لئے آ جائیں گے۔

لوہیا تیس جنوری، ۱۹۴۸ کو گاندھی سے بات چیت کرنے کے لئے ٹیکسی سے بڑلا بھون کی طرف بڑھے ہی تھے کہ تبھی انہیں گاندھی کی شہادت کی خبرملی۔ ایک ٹھوس اسکیم کا حمل میں ہی قتل ہو گیا۔ باپو اپنی شہادت سے پہلے اپنے آخری   وصیت نامہ میں کانگریس کو تحلیل کرنے کی  ضرورت ثابت کرچکے تھے۔ اس وقت انہوں نے ایسا واضح اشارہ دیا تھا کہ آزادی کی لڑائی کے دوران بے شمار مقاصد کے لئے تشکیل دیئے گئے مختلف تعمیری کاموں کو کرنے والے اداروں کو ایک ہی دھاگے میں پرو کر جلد ہی ایک نئی قومی سطح پر عوامی تنظیم قائم کی جائے گی۔ ڈاکٹر لوہیا کا اس میں خصوصی کردار ہوگا۔اس طرح بننے والی طاقت سے باپو آزادی کی ادھوری جنگ کے فیصلہ کن نکتہ تک پہونچنا  چاہتےتھے۔

ڈاکٹر لوہیا کی زندگی کے اس پہلو کے بارے میں معلومات  کی کمی ہے۔ ظاہر ہے کہ اب اس معاملے پر بھی تبادلۂ خیال کیا جانا چاہئے کہ اگر مہاتما جی اور لوہیا کی وہ ملاقات ہو گئی ہوتی تو ہمارے ملک کی تاریخ بالکل الگ ہوتی۔ اس بات کا پورا امکان ہے کہ مہاتما گاندھی  کی سیاست اور اس میں ہونے والی جدو جہد کے اصلی قائد ڈاکٹر رام منوہر لوہیا ہی ہوتے۔ لیکن وہ ملاقات نہیں ہو سکی اور کانگریس سے الگ ہو کر ڈاکٹر لوہیا اور ان کے ساتھیوں نے جو سیاسی راستہ چنا وہ سماج واد کا تھا۔ آزادی کے بعد کے لوہیا کے سارے کام پر نظر ڈالیں تو سمجھ میں آ جائے گا کہ ان کے اصول بھی تقریباً وہی تھے جن کے لئے مہاتما گاندھی نے زندگی بھر جنگ کی۔ جب کانگریس کے تخت نشینوں سے مہاتما گاندھی مایوس ہو گئے تھے تو ان کو لگا تھا کہ رام منوہر لوہیا ہی ان کی سیاسی سوچ کے حساب سے آزاد بھارت کے مستقبل کو ڈیزائن کر سکتے ہیں۔ لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔

۱۹۴۷ کے بعد کی جو کانگریس ہے اس میں  مہاتما گاندھی کی سیاست کو کوئی پوچھنے والا نظر نہیں آتا۔ مہاتما گاندھی نے چھوا چھوت کو ختم کرنے کے لئے آزادی کے آندولن کو ایک ہتھیار مانا تھا لیکن ۱۹۴۷ کے بعد ہم صاف دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر  بی آر امبیڈکر کی دلتوں کے لئے ریزرویشن کی اسکیم کو آئین میںڈالنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوا۔ ہاں یہ بھی سچ ہے کہ  جواہر لال نہرو نے ڈاکٹر امبیڈ کر کی آئینی سوچ کی حمایت کی۔ لیکن اس منظر سے کانگریسی ندارد تھے۔ سرکاری طور پرذات کی بنیاد پر چھوا چھوت کو مٹانے اور معاشرتی ہم آہنگی کو قائم کرنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ گاندھی کے نام پر اپنا کاروبار چلانے والے کچھ اداروں نے مندر وغیرہ میں داخلے جیسی کچھ علامتی کاروائی کی لیکن کہیں بھی سنجیدہ قدم نہیں  اٹھائے گئے۔

مہاتما گاندھی نے صاف کہا تھا کہ کارخانوں کے مالک صنعت کاروں کا رول ایک ٹرسٹی کا ہوگا۔ لیکن جس طرح کی صنعتی پالیسی بنی عوامی جائیداد کی ملکیت کے  جو ضوابط بنے اس میں مہاتما گاندھی دور دور تک نظر نہیں آتے۔ سارا کا سارا کنٹرول سرمایہ داروں کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔ مزدوروں کی بہبود کے لئے جو پالیسیاں بنیں اس میں بھی صنعت کاروں کا پلڑا بھاری کر دیا گیا۔ اپنے ملک کی لیبر پالیسی مزدوروں کے استحصال کا ہتھیار بنی۔ مہاتما گاندھی کا سب سے پسندیدہ موضوع تھا، دیہی ہندوستان کی مناسب ترقی لیکن زرعی پالیسیاں ایسی بنائی گئیں جس میں کہیں بھی گاؤں میں رہنے والے کسان کی بھلائی کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ اس ملک میں شروع سے ہی کھیتی کو اس راستے پر ترقی دی گئی جس کے بعد کسان کا  رول قومی ترقی میں صرف ووٹر کا ہوکر رہ گیا۔ اس ملک میں نہرو کے وارثوں نے جس طرح کی زرعی پالیسیوں کو اہمیت دی اس میں کسان کو صرف اتنی ہی سہولت دی جاتی ہے جس کے بعد وہ شہری آبادی کے لئے خوراک کا انتظام کرتا رہے، اور برسر اقتدار پارٹی کو ووٹ دیتا رہے۔

مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ پنچائتوں کا رول بھارت کی دیہی زندگی میں سب سےزیادہ ہونا چاہئے۔ لیکن سرکار نے ایسی پالیسیاں بنائیں کہ آج ملک میں وکیلوں اور ان کے دلالوں کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک تیار ہو گیا ہے۔ دیہی بھارت میں ایسا کوئی کنبہ نہیں بچا ہے جس نے کورٹ کے پھیرے نہ لگائے ہوں۔ ظاہر ہے کہ مہاتما گاندھی کے ہر خواب کو برسر اقتدار پاٹریوں نے ناکام کیا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اگر ۲۹ جنوری ۱۹۴۸ کی صبح ڈاکٹر لوہیا اور مہاتما گاندھی کی بات چیت ہو گئی ہوتی تو شائد ڈاکٹر لوہیا ’کجات‘ گاندھی نہ ہوتے۔ بہت بعد میں انہوں نے سرکاری اور مٹھی گاندھی وادیوں سے پریشان ہو کر اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو ’کجات‘ گاندھی وادی کہہ دیا تھا لیکن اگر گاندھی جی نے ان کو کانگریس سے اپنی مایوسی سے باقاعدہ واقف کرادیا ہوتا تو اس بات میں دو رائے نہیں ہونی چاہئے کہ رام منوہر لوہیا نے مہاتما جی کی خواہش کو پورا کیاہوتا اور مہاتما گاندھی کی وراثت کو کانگریس اور کانگریسی اقتدار کی فائلوں میں گم ہونے سے بچا لیا ہوتا۔