بریلی کے ڈی ایم راگھویندر سنگھ کی فرقہ پرست دنگائیوں پر سخت چوٹ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>بریلی کے ڈی ایم راگھویندر سنگھ کی فرقہ پرست دنگائیوں پر سخت چوٹ</h1>

لکھنؤ۔ آر ایس ایس کنبہ کے رضا کاروں کے ذریعہ مسلمانوں کو بھڑکا کر فساد کرائے جاتے ہیں۔ یہ حقیقت بریلی کے ڈی ایم کیپٹن راگھویندر وکرم سنگھ نے اپنے ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعہبیان کر دی تو آر ایس ایس لیڈران اور ان سے زیادہ مودی کی غلامی میں لگے کچھ ٹی وی چینلوں کے اینکروں کو جیسے آگ لگ گئی۔ اترپردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر کیشو پرساد  موریہ تو ایسے آگ ببلولہ ہو گئے کہ ڈی ایم کی سخت تنقید کرتے ہوئے بولے کہ انہیں کسی پارٹی کے ترجمان کی طرح بات نہیں کرنی چاہئے۔ اب کیشو موریہ سے کون پوچھے کہ راگھویندر وکرم سنگھ ڈی ایم کی حیثیت سے ایڈمنسٹریشن کا اہم حصہ ہیں۔ سول سروسیز میں آنے سے پہلے انہو ںنے فوج میں نوکری کی ہے اس لئے وہ ملک اورملک کے آئین کے ترجمان کی حیثیت سے بات کررہے ہیں اور اس ترجمانی پر کیشو موریہ ، یوگی آدتیہ ناتھ اور نریندر مودی تک کوئی روک نہیں لگا سکتا۔

۲۶ جنوری کو  کاس گنج میں وشو ہندو پریشد اور اکھل بھارتیہ ودیاتھی پریشد کے غنڈوں نے جھنڈا یاترا کے نام پر فساد کرا دیا تھا۔ جس میں چندن گپتا نام کے ایک نوجوان کی موت ہوگئی تھی۔ اٹھائیس جنوری  کو ڈی ایم بریلی کیپٹن راگھویندر وکرم سنگھ نے اپنے فیس بک پیج پر فسادیوں کے چہرے بے نقاب کرتے ہوئے لکھا’’ عجیب رواج بن گیا ہے، مسلم محلوں میں زبردستی جلوس لے جاؤاور پاکستا ن مردہ باد کے نعرے لگاؤ کیوں بھائی کیا وہ (مسلمان) پاکستانی ہیں؟ یہی یہاں بریلی کے کھیلم میں بھی ہوا پھر پتھراؤ ہوا اور مقدمے لکھے گئے ۔ چین تو بڑا دشمن ہے، ترنگے لے کر چین مردہ باد کیوں نہیں۔‘‘ راگھویندر وکرم سنگھ ڈی ایم کی حیثیت سے کاوڑیوں کی شرارت دیکھ چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے حقیقت بیان کر دی۔ ان کی اس پوسٹ کے وائرل ہوتے ہی فسادیوں اور ان کے حامی میڈیا چینل اور اخبارات بپھر پڑے۔ ہر جگہ ایک ہی خبر تھی کہ ڈی ایم کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔ لیکن خبر لکھے جانے تک ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی تھی۔ دوستوں اور ساتھی افسران کے کہنے پر انہوں نے تیسرے دن فیس بک سے اپنی یہ پوسٹ ہٹا دی تھی۔

کیپٹن راگھویندر سنگھ نے فیس بک سے اٹھائیس جنوری کی اپنی پہلی پوسٹ ہٹا کر جو دوسری لکھی وہ فرقہ پرستوں کے لئے اور بھی زیادہ آنکھیں کھولنے والی ہے۔ انہوں نے لکھا’’ اٹھائیس جنوری کو ان کی پوسٹ بریلی میں کانوڑ یاترا کے دوران پیدا ہوئے نظم و نسق کے مسئلے سے متعلق تھی مجھے امید تھی کہ اسے اکیڈمک طریقہ سے دیکھا جائے گا لیکن اس نے دوسرا رخ اختیار کرلیا۔ ہم آپس میں چرچا اس لئے کرتے ہیں کہ ہم بہتر ہو سکیں۔ایسا لگتا ہے کہ اس سے بہت سے لوگوں کو اعتراض بھی ہوااور تکلیف بھی ہماری منشاءکسی کو تکلیف پہونچانے کی نہیں تھی۔ فرقہ وارانہ ماحول سدھارنا ہماری ایڈمنسٹریٹیو  اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔  مسلمان بھی ہمارے بھائی ہیں۔ ہمارا ہی خون ہیں ہمارے ڈی این اے بھی ایک ہی ہے۔ ہم انہیں اپنے ساتھ واپس لانا نہیں سیکھ سکے ۔ اتحاد اور آپسی میل جول کے جذبہ کو ہم جتنی جلدی سمجھ سکیں ہمارے ملک، ریاست اور ،ضلع کے  لئے اتنی ہی بہتر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں پاکستان ہمارا دشمن ہے۔ تو اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مسلمان بھی ہمارے اپنے ہیں، ہمارے بھائی ہیں۔ میں چاہتا ہوں یہ تنازعہ ختم ہو، میری وجہ سے اگر کسی دوست یا بھائی کو تکلیف پہونچی ہو تو میں اس کے لئے معافی مانگتا ہوں۔‘‘

جن لوگوں کے پاس عقل نام کی ذرا سی بھی کوئی چیز ہوگی وہ کیپٹن راگھویندر سنگھ کا میسج سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش ضرور کریں گے۔ کیونکہ ملک کے لئے یہ ایک بہت ہی اہم اور دل کو چھو لینے والاپیغام ہے۔ فرقہ پرستی کا زہر پھیلا کر ووٹ لینے اقتدار ہتھیانے والے کیشو موریہ جیسے لوگ اس پیغام کی اصل روح کو نہیں سمجھ سکتے۔ مختلف ٹی وی چینلوں نے پلانٹڈ روہت سردانہ اور بلیک میلر فرقہ پرست سدھیر چودھری جیسے مبینہ صحافی بھی اس پیغام کو نہیں سمجھ سکے۔

 

 

 

 

باکس:’’ پہلو خان اور افروزل سمیت درجنوں بے گناہوں  کا خون رنگ لایا کرنی سینا کو خوش کرنے کے لئے فلم پدماوت کے معاملے میں سپریم کورٹ کے دو آرڈرز کو ٹھکرانا بھی بی جے پی کے کام نہ آیا‘‘