پدماوت کے بہانے شمالی ہند میں انارکی

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>پدماوت کے بہانے شمالی ہند میں انارکی</h1>

سپریم کورٹ کے آرڈر کے باوجود اتربھارت میں سڑکوں پر دہشت کا ماحول کرنی سینا کو سرکاری پشت پناہی

 

نئی دہلی۔ سنجئے لیلا بھنسالی کی ’پدما وتی‘ سے ’پدما وت‘ بنی فلم کی مخالفت کے بہانے کرنی سینا، اکھل بھارتیہ چھتریہ مہا سبھا، راشٹریہ کرنی سینا، اکھنڈ ہندو پارٹی جیسی تنظیموںنے ہریانہ، مدھیہ پردیش راجستھان، گجرات، اترپردیش اور بہار سمیت  اتربھارت کی تمام بی جے پی سرکار والی ریاستوں میں انارکی پیدا کر دی۔ شروع میں ایک کرنی سینا میدان میں تھی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے راشٹریہ کرنی سینا، اکھنڈ ہندو پارٹی ، چھتریہ سینا، راجپوت سینا،راجپوت سماج، یوا چھتریہ سبھا نام کی آدھا درجن سے زیادہ تنظیمیں سامنے آگئیں۔ ان سیناؤں میں کون کون ہے یہ تو کوئی نہیں جانتا لیکن لوکیندر سنگھ کالوی، سورج پال سنگھ  ’’امو‘، مہیپال سنگھ مکرانا، ہتیندر ٹھاکر، ابھیشیک سوم اور سکھدیو نام کے لوگوں نے مختلف ٹی وی چینلوں کے ذریعہ بار بار نہ صرف کھلے عام سپریم کورٹ کے آرڈر  تک کی دھجیاں اڑائیں بلکہ سنجئے لیلا بھنسالی کو زندہ جلانے، ان کی گردن کاٹنے، ان کو زندہ دفن کرنے، فلم کی ہیروئن دپیکا پادوکون کی ناک کان کاٹنے اور زندہ جلانے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ اس کے باوجود بی جے پی سرکاریں نہ صرف نا مردوں کی طرح تماشائی بنی رہیں بلکہ انار کی پھیلانے والوں کے سامنے گھٹنے ٹیکتی رہیں۔ جو لوگ سڑکوں پر دہشت پھیلاتے پھرتے رہے ان کی حرکتوں کو  دیکھ کر لگا کہ ’پدماوت‘ فلم تو بہانہ ہے اصل نشانہ کچھ اور ہے۔ کیونکہ فلم کی ریلیز پچیس جنوری کو ہونی تھی لیکن بائیس جنوری سے ہی غنڈوں نے سڑکوں پر دہشت گرد شروع کردی تھی۔ انتہا تو تب ہو گئی جب گڑ گاؤں میں ان دہشت گردوں نے معصوم بچوں سے بھری اسکول بس پر حملہ کردیا۔ بس کے شیشے  توڑ دیئے۔ روتے بلکتے بچوں کو بس میں موجود ٹیچروں نے سیٹوں کے نیچے چھپا کر بچایا۔ ٹی وی چینلوں پر بس کا ویڈیو دیکھ کر پورے ملک میں لوگوں نے غم اور غصہ کا اظہار کیا لیکن کرنی سینا اور اس کے ساتھ دہشت پھیلانے والی دوسری تنظیموں کے لوگوں کو کوئی شرم نہیں آئی۔ تئیس جنوری سے ہی غنڈوں نے سڑکوں پر انارکی پھیلانی شروع کر دی تھی۔ کسی کی سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ فلم کی مخالفت میں دہلی -نوئیڈا کے درمیان ڈی این ڈی  پل پر سیکڑوں گاڑیاں کیوں توڑی گئیں۔ عام لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کیوں کی گئی۔ ہریانہ کے کئی ضلعوں میں تین دن پہلے ہی کئی سنیما گھروں پر حملے کیوں ہوئے، سنیما دیکھنے والوں، عورتوں اور بچوں کو دوڑا دوڑا کر کیوں مارا گیا۔ احمد آباد سمیت گجرات کے کئی شہروں میں شاپنگ مالس کیوں جلائے گئے۔ ان تمام سوالات کا جواب تب ملا جب  پچیس جنوری آتے آتے فلم کی مخالفت کرنے والوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ فلم کے ذریعہ صرف راجپوتوں کی ہی نہیں پورے ہندو سماج کی توہین کی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ اس لا قانونیتکو راجپوتوں کے  بجائے پورے ہندوؤں کا مسئلہ بنانے کی کوشش شروع کردی گئی ہے تو لوگوں کو سمجھ میں آیا کہ اس پورے ہنگامہ کے پیچھے اصل طاقتیں کون ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی بھی بہت کچھ کہہ گئی۔ اتربھارت کی  بی جے پی سرکاروں کے وزرائے اعلیٰ اور ان کی پوری سرکاری مشینری سیدھے سیدھے یا گھما پھرا کر تو انارکی پھیلانے والوں کے ساتھ تھی ہی، بہار کے کرمی وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور انکی سرکار اتنی اتاؤلی ہو گئی کہ فلم ریلیز ہونے کی تاریخ پچیس جنوری کو سب سے زیادہ  ہنگامے بہار میں ہی ہوئے اور پولیس انارکسٹ عناصر کی مدد کرتی رہی۔اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی شروع سے ہی فلم کے خلاف تھے لیکن سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد اترپردیش میں  صورتحال کو قابو کرنے کی پوری کوشش کی ۔ میرٹھ، سہارنپور، دیوبند، کانپور اور لکھنؤ میں راجپوت سینا اور چھتریہ مہا سبھا کے نام پر کچھ لوگوں نے ہنگامہ شروع کیا۔ میرٹھ میں ایک شاپنگ مال اور سنیما ہال پر حملے ہوئے اس کے علاوہ باقی شہروں میں زیادہ سنگین قسم کے واقعات پیش نہیںآئے۔

راجستھان کی وسندھرا راجے سرکار سپریم کورٹ کے واضح آرڈر کے باوجود  کرنی سینا کے ساتھ ہی کھڑی رہی۔ سپریم کورٹ نے فلم ریلیز کرنے کا آرڈر کیا تین سرکاریں اپیل میں گئیں سپریم کورٹ نے اپیل ردد کری دی اور حکم دیا کہ سرکاریں سنیماگھروں اور ناظرین کی حفاظت کا بندوبست کریں۔ اس کے باوجود راجستھان، گجرات، مدھیہ پردیش، ہریانہ اور گوا میں فلم نہیں دکھائی گئی۔ اترپردیش سرکار نے بار بار کہا کہ فلم دکھائی جائے، تحفظ کا پورا انتظام کیا جائے گا لیکن وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سپریم کورٹ کے آرڈر سے پہلے فلم کے لئے  جتنا کچھ کہہ چکے تھے پولیس اور ضلع انتظامیہ کے افسران کے لئے وہ اشارہ کافی تھا۔ اس لئے کچھ شہروں کے چند سنیما گھروں کے علاوہ فلم کہیں نہیں دکھائی گئی۔

پچیس جنوری کو جئے پور میں لٹریری فیسٹیول شروع ہو رہا تھا جس میں سینسر بورڈ کے چیئر پرسن  پرسون جوشی اور مشہور شاعر  و مصنف جاوید اختر کو شریک ہونا تھا لیکن کرنی سیناکے غنڈوں کے سامنے وسندھرا راجے سرکار اس حد تک سرینڈر کر گئی کہ وہ  صرف ان دولوگوں کو تحفظ دینے  کے لئے تیارنہیں ہوئی اور دونوں کا پروگرام کینسل ہو گیا۔ کرنی سینا کے صدر کہے جانے والے مہیپال سنگھ مکرانا نے اعلان کیا تھا کہ سینسر بورڈ سےفلم کو پاس کرکے پرسون جوشی بھی سنجئے لیلا بھنسالی کی صف میں شامل ہوگئے ہیں اور ہم بھنسالی یا ان جیسے کسی بھی شخص کو معاف نہیں کرنے والے۔ کرنی سینا کے بانی لوکیندر سنگھ کالوی نے کہا تھا کہ اس وقت ہم بھڑکے ہوئے ہیں اور پرسون جوشی ہمارے لئے لال کپڑے کی طرح ہو گئے ہیں۔اگر وہ جئے پور آئے تو ان کے ساتھ جو سلوک ہوگا وہ ہم پہلے سے بیان نہیں کرسکتے۔ جاوید اختر کے لئے بھی ہمارا یہی موقف ہے کیونکہ وہ بھی بھنسالی کے ساتھیوں میں ہیں۔

سپریم کورٹ کے دو احکامات کے باوجود لوکیندر سنگھ کالوی، مہیپال سنگھ مکرانا، بی جے پی اور آر ایس ایس لیڈر سے اچانک راجپوت بنے سورج پال سنگھ ’امو‘ اکھنڈ ہندو پارٹی کے ہتیندر ٹھاکر، یوا چھتریہ سبھا کے صدر کہے جانے والے ابھیشیک سوم، اچانک سامنے آئی راشٹریہ کرنی سینا کے سکھ دیو سنگھ سمیت راجپوتوں اور ہندوتو کے تمام ٹھیکہ دار زہر اگلتے رہے لیکن سرکاریں خاموش رہیں۔ پچیس جنوری کی شام کو ہریانہ پولیس نے بچوں کی بس پر حملہ کرنےو الے اٹھارہ  لوگوں اور زہر اگلنے والے سورج پال سنگھ امو کو حراست میں لے لیا تھا۔ چودہ لوگوں کو عدالت نے جیل بھی بھیج دیا تھا۔

تمام مخالفتکے بعدفلم جہاں  جہاں  ریلیز ہوئی اور لوگوں نے اسے دیکھا انہوں نے فلم کے خلاف  ہونے والے ہنگاموںکو بے بنیاد اور سیاستسے متاثر بتایا۔  فلم دیکھ کر باہر نکلنے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ فلم میں ایسا  کچھ نہیں دکھایا گیا ہے جس کے لئے ہنگامہ کیا جا رہا ہے۔ ہنگامہ کرنے والوں نے  اگر فلم دیکھ لی ہوتی تو ا ن کی  بھی سمجھ میں آ جاتا کہ فلم میں بھنسالی نے راج پوتوں کی شان کو گرانے کا نہیںبلکہ بڑھانے کا  کام کیا ہے۔ جو راجپوتی آن بان اور شان فلم میں دکھائی گئی ہے اس کے بارے میں تو ہنگامہ کرنے والے بھی ٹھیک سے نہیں جانتے ہوں گے۔راجپوتی شان کے ٹھیکہ دار بنے لوگ اگر چاہتے ہیں کہ پورا ملک راجپوتوں خصوصاً راجپوتانیوں کے رعب،دبدبہ، شان اور آن  کے بارے میں جانیں تو ان لوگوں کو چاہئے کہ وہ فلم کو ٹیکس فری کرنے کا مطالبہ کریں۔ بغیر فلم کو دیکھے ہنگامہ کرنے سے تو لگتا ہے کہ کچھ گمنام سی تنظیمیں فلم کی مخالفت کو اپنی شہرت کا ذریعہ بنا رہی ہیں۔ ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر  بحث کرنے و الے راجپوتی شان کے ٹھیکہ دار اور کچھ اینکر کی جہالت کا عالم یہ ہےکہ وہ رانی پدما وتی کے بارے میں صرف اتنا جانتے ہیں جتنا پدماوت میں لکھا گیا ہے۔ پدما وت صوفی شاعر ملک محمدجائسی کے ذریعہ لکھی گئی ایک مثنوی ہے جس میں انہو ںنے رانی پدماوتی کے کردار کو بڑے جاندار طریقہ سے پیش کیا ہے۔

اس فلم کی مخالفت میں آگے آگے رہنے والی کرنی سینا جیسی کئی راجپوت تنظیموں کا الزام ہے کہ فلم میں تاریخ کو توڑمروڈ کر پیش کیا گیا ہے اور فلم رانیپدماوتی اور راجپوتی آن کی توہین کرتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ الزام لگانے والے کرنی سیناجیسی راجپوتی شان کے ٹھیکیداروں نے جب فلم کو دیکھا ہی نہیں تو انہیں کیسے معلوم کہ فلم میں تاریخ کو توڑا مروڈا گیا ہے اور رانی پدماوتی کی توہین کی گئی ہے۔ دوسری بات رانیپدماوتی کے وجود کے بارے میں بھی مورخین میں اختلاف ہے تو کبھی ان تاريخ دانوں کے خلاف کوئی مظاہرہکیوں نہیں ہوا۔ فلم کی مخالفت کرنے والے تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا المام لگاتے ہیں مگر خود تاریخ کی وہی معلومات رکھتے ہیں جو پدما وت میں درج ہے۔ جنہوں نے فلم دیکھی ہے وہ کہتے ہیں کہ سنجے لیلا بھنسالی نےرانی پدماوتی کے کردار کو بڑے پروقار انداز میں پیش کیا ہے۔

فلم کی مخالفت کے دوران ۲۳جنوری کو ہندو تنظیموں کے ساتھ منسلک کچھ لوگوں نے لاجکس مال میں فلم دیکھی۔ فلم دیکھنے کے بعد ان لوگوں نے کہا کہ اب فلم میں مخالفت جیسا کچھ نہیں ہے۔ راجپوتی آن کو ٹھیسپہونچانے والے سین فلم سے ہٹادیئے گئے ہیں۔ لہٰذا اب نہ تو فلم کی مخالفت ہونی چاہئے اور نہ ہی اتنا حملہ ور ہونے کی ضرورت ہے۔ ہندوتووادی تنظیموںسے جڑے سریش چوہان، تاريخ دا هں ہمیندر راجپوت اور ڈاکٹر ایچ ایس راوت نے کہا کہ کرنی سیناکے عہدیداران کے کہنے پر فلم دیکھی گئی تھی۔ فلم میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر فلم میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں ہے تو پھر سڑکوں پر فلم کی مخالفت کے لئے  لوگوں کو کون اکسا رہا ہے۔ جن راجپوت لوگو ں نے فلم دیکھی ہے ان کی رائے بھی معلوم کر لینا چاہئے مگر فلم کی مخالفت کو ہوا دینے والے کچھ چینل ان راجپوتوں سے بات بھی کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں جنہوں نے فلم دیکھی ہے۔

ان ہنگاموںکے پیچھے سیاسی کھیل ہے  اتنا اندازہ تو وزیر اعظم سمیت بی جے پی حکومتوں والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی خاموشی سے ہی لگ جاتا ہے۔ لیکن جس طرح سے بسوں، سینما گھروں اور شاپنگ مالس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ تو جرم کے زمرے میں آتا ہے گڑگاؤں میں اسکول بس پر پتھراؤ کیا گیا اور راجپوتی  شان کے کسی ٹھیکیدار نے اس پر معافی نہیں مانگی۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہریانہ میں بی جے پی کی سرکارہے، بی جے پی کی نفرت اور تشدد کی سیاست ملک کو آگ کے حوالے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کمزوری کی نشانی ہے۔ کیا معصوم بچوں کی بس پر حملہکرنا راجپوتی شان کو بٹہ لگانے والا کام نہیں ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ مرکزی سرکار سپریم کورٹ اور ریاستی سرکاریں مل کر اگر ایک فلم ریلیز نہیں کروا پا رہے ہیں تو ملک میں سرمایہ کاری کس طرح آئے گی؟ عدم  تحفظ کے جذبے میں غیر ملکی سرمایہ کارملک میں پیسے لگانے سے کترائیںگے جو ملک کی معیشت کے لئے اچھا نہیں ہو گا۔

 

 

 

باکس:

’’ سپریم کورٹ کے ایک نہیں دو دو آرڈر کے باوجود راجستھان، ہریانہ، مدھیہ پردیش، گجرات اور گوا جیسی بی جے پی  سرکاروں والی ریاستوں میں پچیس جنوری کو فلم نہیں دکھائی جا سکی۔ سبھی ریاستوں کی سرکاریں سڑکوں پر دہشت پھیلانے والوں کے ساتھ کھڑی دکھائی دیں۔ انتہا یہ ہے کہ جئے پور لٹریری فیسٹیول میں آنے کو تیار بیٹھے پرسون جوشی اور جاوید اختر تک کو وسندھرا سرکار تحفظ دینے کو تیار نہیںہوئی‘‘۔

’’مخالفت پدماوت فلم کی تھی تو دہلی نوئیڈا کے درمیان ڈی این ڈی پر ۲۳ جنوری کو ہی سیکڑوں گاڑیوں پر حملے کیوں ہوئے، لوگوں پر حملے کیوں کئے  گئے۔ چوبیس جنوری کو معصوم بچوں سے بھری اسکول بس پر حملہ کیوں کیا گیا۔ احمد آباد سمیت گجرات کے کئی حصوں میں شاپنگ مالس پر حملے کیوں ہوئے۔ گڑگاؤں کے  سنیما ہال پر ۲۳ جنوری کو ہی حملہ کرکے کرنی غنڈوں نے سنیما دیکھ رہے مردوں، عورتوں اور بچوں کو دوڑا دوڑا کر کیوں پیٹا۔‘‘

’’لوکیندر سنگھ کالوی کی کرنی سینا کا آندولن شروع ہوا، دیکھتے ہی دیکھتے آدھا درجن سے زیادہ سینائیں کس نے بنوا دیں۔ فلم کو شروع سے ہی راجپوت مخالف کہا گیا۔ ۲۵ جنوری آتے آتے ہندو مخالف کہا جانے لگا۔ ان سازشوں کے پیچھے کس کا دماغ ہے۔ یہودی بچے  موشے  کے لئے آنسو بہانے والے وزیر اعظم نریندر مودی اپنے گجرات سمیت چار ریاستوں میں پھیلی انارکی پر خاموش کیوں رہے۔‘‘