سپریم کورٹ پر لگا داغ دھلنا مشکل

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>سپریم کورٹ پر لگا داغ دھلنا مشکل</h1>

چار سینئر ججوں کے میڈیا کے ذریعہ ملک کے سامنے آنے کے باوجود چیف جسٹس اپنا رویہ تبدیل کرنے کو تیار نہیں

 

نئی دہلی: ستر سالوں میں ملک میںکچھ نہیں ہوا، وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ بیان بارہ جنوری کو اس وقت صحیح ہو گیا جب ملک کی عدلیہ میں دیمک کی طرح لگ چکی بے ایمانی کا معاملہ منظر عام پر لانے کی غرض سے سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں جسٹس جے چیلمیشور، جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس کورین جوزف نے سپریم کورٹ کی تاریخ میں پہلی بار میڈیا سے روبرو ہو کرملک کو بتایا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ تک میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اپنی ایمانداری اور غیر جانبداری کے لئے جانے جانے والے چاروں فاضل ججوں نے چیف جسٹس دیپک مشرا یا کسی دوسرے جج پر سیدھے طور پر بے ایمانی کا کوئی الزام تو نہیں لگا یا لیکن میڈیا کے ذریعہ انہوں نے ملک کو جتنا بتایا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کی تصویر کافی دھندھلی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھگوا برگیڈ نے ان چاروں ججوں کے خلاف جو گھٹیا اور گھناؤنا پروپگینڈا کرنے کے ساتھ ساتھ چف جسٹس کے تعریفوں کے پل باندھے اس پروپگینڈا نے بھی اندرونی حالات کافی حد تک ظاہر کردیئے ۔ ان لوگوں نے لکھا کہ چیف جسٹس دیپک مشرا ہندو تو  کے سپوت ہیں ان کے ریٹائر ہونے سے پہلے وہ ایودھیا میں عالیشان رام مندر بنانے کا راستہ صاف کرنے والے ہیں۔ اسی لئے چار سینئر ججوں نے ان کے خلاف مورچہ کھول دیا۔ خود کو مودی کا بڑا بھکت بتانے والے ایک شخص نے تو فیس بک پر لکھ دیا کہ نریندر مودی اور دیپک مشرا کی جوڑی ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی مضبوط بنیاد ڈال دے گی۔ خود کو ہندو تو کا ٹھیکہ دار بتانے والی بھگوا برگیڈ نے جس انداز میں چاروں سینئر ججوں پر حملہ کئے اسے دیکھ کر تو شک اور بھی گہرا ہو گیا کہ جسٹس دیپک مشرا کے چیف جسٹس بننے کے بعد سے سپریم کورٹ کے معاملات بھی ٹھیک نہیں رہ سکے ہیں۔ چار ججوں کی پریس کانفرنس کے بعد مودی سرکارنے اس پورے معاملے میں دخل نہ دینے کا اعلان کرکے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر سپریم کورٹ تک میں بے ایمان پہونچ جائیں، بات ملک اور دنیا کے سامنے آ جائے تو ایسی حالت میں کوئی بھی سرکار اتنے سنگین معاملے پر اپنے ہاتھ کیسے کھڑے کر سکتی ہے۔ معاملہ حل کرنے کا کام تو سرکار کو کرنا ہی پڑے گا۔ بار کاؤنسل آف انڈیا، وکیلوں کی دوسری تنظیموں اور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بڑی تعداد میں ریٹائر ججوں نے اس مسئلہ کا حل کرکے ملک کی عدلیہ کی ساکھ بچانے میں دن رات محنت کی، چاروں ججوں کی چیف جسٹس کے ساتھ چائے پر بات چیت بھی ہو گئی لیکن چوتھے دن سولہہ جنوری کو چیف جسٹس نے اہم مقدمات کی سنوائی کرنے کے لئے اپنی قیادت میں پانچ ججوں کی جو آئینی بنچ بنائی اس میں کسی سینئر جج کو شامل نہ کرکے واضح کر دیا کہ وہ کسی کا رائے مشورہ سننے کو  تیار نہیں ہیں وہ اپنی مرضی مطابق ہی کام کرتے رہیں گے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح نریندر مودی ملک کی سرکار چلا رہے ہیں۔ جن دو مقدموں کی وجہ سے چار ججوں نے میڈیا کے ذریعہ ملک کے سامنے جانے کا غیر معمولی فیصلہ کیا ان میں ایک ہے امت شاہ کے خلاف سنوائی کرنے والے اسپیشل سی بی آئی جج لویا کی مشتبہ موت کا اور دوسرا معاملہ ہے پرساد ایجوکیشن ٹرسٹ میڈیکل کالج کا۔ سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے صاف صاف الزام لگایا ہے کہ اس میڈیکل کالج کے معاملے میں بڑے پیمانے پر رشوت کا لین دین ہوا ہے، سی بی آئی نے رشوت کی شکل میں دیئے گئے دو کروڑ روپئے موقع سے برآمد کئے ایک ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج سمیت آدھا درجن لوگ گرفتار ہوئے ۔ اس میڈیکل کالج کے معاملہ کی سنوائی جتنی بار سپریم کورٹ میںہوئی ہر بنچ میں دیپک مشرا خودشامل رہے اور ہر بار کالج کے فائدے میں فیصلہ ہوئے بے ایمانی کا اس سے بڑا ثبوت اورکیا چاہئے؟

سی بی آئی جج  بی ایچ لویا کی مشتبہ موت کا معاملہ چیف جسٹس نے جونیئر جج ارون مشرا کی بنچ کو بھیجا تھا لیکن یہ ہنگامہ ہونے کے بعد سولہہ جنوری کو جسٹس ارون مشرا نے خود کو اس مقدمہ سے الگ کر لیا۔ اس درمیان چودہ جنوری کو اچانک جج لویا کا بیٹا انوج لویا ایک وکیل  عامر نائک اور فیملی دوست بتائے جانے والے کے بی کاٹکے کے ساتھ میڈیا سے روبرو ہو کر کہتا ہے کہ اسے اپنے والد کی فطری موت پر شک نہیں ہے اس لئے اب اس معاملے میں ہمیں پریشان نہ کیا جائے۔ وہیں ان کے فیملی دوست کے بی کاٹکے نے صاف کہا کہ ہم کئی دنوں سے پریشان تھےہم نے بی جے پی صدر امت شاہ سے بات کی تو انہوں نے ہی پریس کانفرنس کرنے کےلئے کہا اور پریس کانفرنس کا انتظام کرایاہے۔

چار سینئر جج صاحبان نے پریس کانفرنس کرکے جو مدعا اٹھایا تھا وہ تھا سپریم کورٹ میں جڑیں جما چکی بے ایمانی کا، لیکن اس معاملے پر بحث چلوا کر بڑی چالاکی کے ساتھ اس معاملے کی بحث کو اس طرف موڑ دیا کہ چار سینئر ججوں کو اس طرح سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات کو منظر عام پر لانا چاہئے تھا یا نہیں؟ جبکہ اصل مسئلہ تھا بے ایمانی رکنی چاہئے یا نہیں؟ بے ایمانی کا الزام بھی پوری طرح بے بنیاد نہیں ہے یہ سمجھانے کے لئے پرساد ایجوکیشن ٹرسٹ کا مقدمہ ہی کافی ہے۔ ٹرسٹ نے ۲۰۱۵ میں ایک نیا میڈیکل کالج کھولنے کی درخواست سرکار کو دی جسے سرکار نے میڈیکل کاؤنسل آف انڈیا کو بھیج دیا۔ کاؤنسل نے ضروری وسائل ٹرسٹ کے پاس نہ ہونے کی وجہ سے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ٹرسٹ سپریم کورٹ چلا گیا تو مئی ۲۰۱۶ میں سپریم کورٹ کی اوور سائٹ کمیٹی نے کاؤنسل کو ہدائت دی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اسی بنیاد پر سرکار نے پرساد ایجوکیشن ٹرسٹ کو میڈیکل کالج کھولنے کی اجازت دے دی۔ مئی ۲۰۱۷ میں میڈیکل کاؤنسل کی ٹیم نے میڈیکل کالج کا معائنہ کیا وہاں اسپتال جیسا کچھ تھا ہی نہیں، تالے لٹک رہے تھے۔ کاؤنسل نے سرکار کو اس کی رپورٹ دی تو سرکار نے کالج کی منظوری مسترد کردی۔ ساتھ ہی کاؤنسل کو ہدائت د ی کہ وہ کالج کی جانب سے جمع کی گئی بینک گرانٹ کو اپنے حق میں بھنا لے۔

پرساد ٹرسٹ نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کا رخ کیا، معاملہ دیپک مشرا، جسٹس امیتابھ رائے اور جسٹس اے ایم خانوبلکر کی بنچ نے سنا تو کہا کہ ٹرسٹ  کے ساتھ نا انصافی کی گئی ہے اس لئے مرکزی سرکار کو اس معاملے پر ایک بار پھر غور کرنا چاہئے۔ اس ہدائت کے بعد پرساد ایجوکیشن کے ایک ٹرسٹی بی پی یادو نے اڑیسہ،  الٰہ آباد اور جھار کھنڈ ہائی کورٹ میں رہے جسٹس آئی ایم قدوسی سے بات کی انہوں نے سپریم کورٹ کے کسی جج سے سیٹنگ کرکے معاملہ سپریم کورٹ سے واپس کرا کر دوبارہ الٰہ آباد ہائی کورٹ بھجوایا۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے پچیس اگست ۲۰۱۷ کو آرڈر سنا دیا کہ کالج میڈیکل میں ایڈمیشن کرسکتا ہے۔اسی کے سا تھ ہائی کورٹ نے ٹرسٹ کی جانب سے جمع کی گئی بینک گرانٹ بھنانے پر بھی روک لگا دی۔ چار دن بعد انڈین میڈیکل کاؤنسل نے  ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ یہ اپیل بھی جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی بنچ  میں سنوائی کے لئے لگی تو سپریم کورٹ کی بنچ نے ایک بار پھر ٹرسٹ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے پر ہی مہر لگا دی اور آئی ایم سی کی اپیل خارج کر دی۔ اٹھارہ ستمبر کو معاملہ مکمل طورپر سیٹل کرانے کے لئے کالج ٹرسٹ پھر سپریم کورٹ پہونچا تو فیصلہ ٹرسٹ  کے حق میں ہوا اس بار بھی اس معاملہ کی سنوائی کرنے والی بنچ کی قیادت جسٹس دیپک مشرا ہی کرر ہے تھے۔ اس کے اگلے ہی دن رشوت کے لئے اکٹھا کی گئی دو کروڑ کی رقم کے ساتھ اس معاملے میں ملوث پانچ لوگوں کو سی بی آئی نے گرفتار کر لیا۔ یہ رقم کس جج کو دینے کےلئے آئی تھی کسی نے جج کا نام نہیں لیا لیکن پرشانت بھوشن ہیں کہ جب ہر بار سپریم کورٹ سے جسٹس دیپک مشرا کی بنچ نے ہی ٹرسٹ کے حق میں فیصلہ دیا تو یہ بات آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے کہ رشوت کی رقم کسے د ی جانی تھی ۔ انہوں نے ایک  پی آئی ایل دائر کرکے مطالبہ کیا کہ پورے معاملہ کی تحقیقات کے لئے ایک  ایس آئی ٹی بنائی جائے۔

سپریم کورٹ سے جو آوازیں اٹھیں ان کا حل ہونا تو مشکل نظر آتا ہے۔ لیکن اس جھگڑے میں کچھ لوگوں کو چیف جسٹس دیپک مشرا کی زندگی کا پورا چٹھا کھولنے کا موقعہ مل گیا۔سوشل میڈیا پر جس طرح کی باتیں دیپک مشرا کے لئے لکھی گئیں انہیں پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے دیپک مشرا ایک وکیل سے بنے جج نہ ہو کر  عادتاً بے ایمان ہوں۔ پرساد ایجوکیشن ٹرسٹ کا معاملہ تو اب سامنے آیا ہے۔ دیپک مشرا نے  وکیل کی حیثیت سے ۱۹۷۹ میں ہی اڑیسہ سرکار کو ایک حلف نامے کے ساتھ درخواست دے کر کہا کہ وہ ایک برہمن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی زمین نہیں ہے اس لئے بے زمین کاشتکاروں کو سرکار کی طرف سے دی جانے والی زمینوں میں سے انہیں بھی دو ایکڑ زمین دی جائے۔ انہیں دو ایکڑ زمین الاٹ ہو گئی کسی نے اس کی شکائت کی تو اس کی تحقیقات ہوئی، تحقیقات میں الا ٹمنٹ غیر قانونی پایا گیا اور ۱۹۸۵ میں زمین کا الاٹمنٹ رد ہو گیا۔

دیپک مشرا کے والد رگھو ناتھ مشرا ۱۹۶۱ سے ۱۹۷۱ تک کانگریس پارٹی کے ممبر اسمبلی رہے اور منسٹر بھی اسی دوران دیپک مشرا کے چاچا لوک ناتھ مشرا راجیہ سبھا کے ممبر رہے اور ان کے  ایک  دوسرے چاچا رنگ ناتھ مشرا سینئر وکیل اس کے بعد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ  تک کے جج۔ انہوں نے اٹھارہ ستمبر ۱۹۵۰ سے ہی وکالت شروع کردی تھی۔ اتنی مضبوط خاندانی حیثیت کے باوجود دیپک مشرا نے غلط حلف نامہ دے کر غریبوں کو ملنے والی زمین میں سے دو ایکڑ زمین ہتھیا لی تھی۔ زمین کا الاٹمنٹ تو منسوخ ہو گیا لیکن غلط طریقہ سے زمین ہتھیانے کے معاملے میں دیپک مشرا کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی الٹے انہیں مسلسل ترقی ملتی رہی یہاں تک کہ وہ ملک کے چیف جسٹس بن گئے۔

ارونا چل پردیش کے وزیر اعلیٰ رہے کلیکھوپل نے تیرہ جولائی ۲۰۱۳ کو خوو کشی کرلی تھی۔ مرنے سے پہلے انہو ںنے اپنا جو سوسائڈ نوٹ لکھا تھا اس میں صاف لکھا تھا کہ ان کی سرکار غیر قانونی طریقہ سے گرائی گئی تھی۔ اس وقت آدتیہ مشرا نے ان سے ۳۷ کروڑ روپئے یہ کہہ کر مانگے تھے کہ وہ سپریم کورٹ سے ان کی سرکار کی بحالی کا آرڈر کرا دیں گے۔ یہ آدتیہ مشرا کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ آج کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے بھائی ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود دیپک مشرا ملک کے چیف جسٹس ہیں۔ ان کے سلسلے میں جس طرح کی باتیں اور حقائق منظر عام پر آ چکے ہیں ان کے باوجود اگر دیپک مشرا اپنے عہدے پر بنے رہیں گے تو کیا سپریم کورٹ اور ملک کی عدلیہ کی ساکھ برقرار رہ پائے گی؟

 

 

’’چار سینئر ججوں جسٹس جے چیلمیشور، جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس کورین جوزف نے سپریم کورٹ کی تاریخ میںپہلی بار میڈیا کی معرفت ملک کے عوام سے روبرو ہوئے اور بتایا کہ سپریم کورٹ میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اس لئے  ملک کی جمہوریت  خطرے میں ہے۔ فوراً خود کو ہندوتو کا ٹھیکہ دار بتانے والی فوج سوشل میڈیا پر تو مین اسٹریم میڈیا ان چاروں  پر ٹوٹ پڑا، چیف جسٹس دیپک مشرا کو ہندو تو کا بے مثال یودھا تک کہہ کر اس فوج نے چیف جسٹس کو  شک کے دائرے میں کھڑا کردیا۔‘‘

’’پرساد ایجوکیشن ٹرسٹ کے میڈیکل کالج کا معاملہ چھ سات بار سپریم کورٹ گیا۔ ہر بار جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی بنچ میں ہی پیش ہوا ہر بار فیصلہ ٹرسٹ کے حق میں ہوا۔ سپریم کورٹ کے جج کو دینے کے نام پر ایک گروہ نے دو کروڑ ایڈوانس مانگا، سی بی آئی نے دو کروڑ کی نقدی کے ساتھ پانچ لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا۔ اب سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن کا الزام ہے کہ رشوت کس جج کے لئے تھی حالات سے سب کچھ واضح ہے ان کا اشارہ جسٹس دیپک مشرا کی  جانب ہی ہے۔‘‘

 

’’وزیر اعظم نریندر مودی بار بار دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی سرکار آنے سے پہلے ستر سالوں میں ملک میں کوئی کام ہی نہیں ہوا۔ اب انہی کے قریبی بتائے جانے والے چیف جسٹس دیپک مشرا کے دور میں سپریم کورٹ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے مودی کے دعوے پر ہی مہر لگ رہی ہے کہ ہاں ستر سالوں میں ملک میں ایسا کچھ نہیں ہوا جیسا اب موجودہ دور میں ہو رہا ہے۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ مودی سرکار نے اس تنازعے میں کسی بھی طرح کی مداخلتسے انکار کردیا۔‘‘