غیر ملکی سیاحوں پر رک نہیں رہے ہیں حملے

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>غیر ملکی سیاحوں پر رک نہیں رہے ہیں حملے</h1>

مرزا پور: وزیر اعظم نریندر مودی اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ وغیرہ نے پورے ملک اور ریاست کے ماحول میں نفرت کا اتنا زہر اور ہندو تو کے فخر کی  اتنی بھانگ گھول دی ہے کہ اب ان فرضی دیش بھکتوں کو ہر غیر ملکی سیاح حملہ آور نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ دنوں میں سیاحوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے دنوں فتح پور سیکری میں سوئس جوڑے پر حملہ ہوا تھا۔ تب بھی یوگی سرکار کی ٹورزم وزیر ریتا جوشی نے اس کی مذمت کرکے اپنا فرض پورا کرلیا تھا۔ اب گزشتہ گیارہ دسمبر کو غریبوں، بے سہاروں اور ضرورت مندوں کی مدد کے مقصد سے آئے فرانسیسی سیاحوں کے ساتھ مار پیٹ، چھیڑ خانی اور بد سلوکی کے واقعات پیش آئے۔ یوگی سرکار ریاست کا نظم و نسق دست ہونے کے چاہے جتنے دعوے کرے سچائی یہ ہے کہ سیاحوں پر ہونے والے حملے رک نہیں رہے ہیں حالانکہ آٹھ حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یوگی کی ٹورزم وزیر ریتا جوشی نے مار پیٹ کے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے مار پیٹ کے واقعات سے ریاست اور ملک کی غیر ملکوں میں بدنامی ہوتی ہے۔ فرانسیسی سیاحوں پر حملہ کرنے والے آٹھ لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

فرانس کے سوشل ورکر جوپنئیر کے ساتھ ان کے پانچ دوست جن میں ایک مرد اور چار لڑکیاں تھیں پچیس نومبر کو آئے تھے۔ گیارہ دسمبر کو جوپنئیر اپنے مقامی دوست نتن ڈے اور اس کی تین بھتیجیوں کے ساتھ لکھنیا دری کا آبشار دیکھنے گئے تبھی کچھ لوگوں نے چھیڑ خانی شروع کردی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب بڑا خوفناک تھا اب بھارت آنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سرکار کو سیاحوں کی حفاظت کے پختہ بندوبست کرنے چاہئیں تبھی سیاح یہاں آئیں گے۔

فرانس کے ایک این جی او میں کام کرنے والے جوپنئیر اپنی ٹیم کے ساتھ مقامی شیوالا گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے تھے۔ وہ اپنے دوست نتن ڈے اور ان کی بھتیجیوں کے ساتھ لکھنیا کے واٹر فال پر پکنک منانے گئے تو فرانسیسی لڑکیوں کو دیکھ کر کچھ لڑکے انہیں چھیڑنے لگے۔ ریا دت کو جب وویک نام کا لڑکا چھیڑ رہا تھا  تو فرانسیسی سیاحوں نے اسے منع کیا جس پر اس نے اپنے دوست کو بلا لیا اور سیاحوں کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جب آگرہ گئے تھے اسی دوران فتح پور سیکری میں سوئٹزرلینڈ سے آئے ایک سیاح جوڑے پر گلے  میں  بھگوا انگوچھا ڈالے کچھ لوگوں نے حملہ کیا تھا انہیں بری طرح مارا پیٹا گیا تھا۔ حالانکہ بعد میں ان حملہ آوروں کو  پکڑ لیا گیا تھا مگر بعد میں ان کا کیا ہوا کوئی نہیں جانتا۔ کسی کو نہیں معلوم کہ وہ غنڈے جیل میں ہیں یا ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔

مسلسل چھیڑ چھاڑ روکنے میں ناکام رہنے کے بعد اب دلیل یہ دی جارہی ہے کہ ملک میں پچھلے سال کی بہ نسبت زیادہ ٹورسٹ آئے۔ یہ بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ چونکہ ملک میں ماحول ٹھیک ہے تبھی سیاحوں کی تعداد بڑھی ہے لیکن یہ سوال سیاحوں کی تعداد کے بڑھنے کا نہیں بلکہ غیر ملکی سیاحوں پر ہونے والے حملوں کی تعداد کے بڑھنے کا ہے۔ جس پر نہ تو وزیر اعظم نریندر مودی اور نہ ہی ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کچھ بولنے کے لئے تیار ہیں۔ کچھ کرنے کے بجائے وہ ہر واقعہ کے بعد ٹیپ ریکارڈر کی طرح کا بیان دیتے ہیں کہ کریمنلس کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ کریمنل کو چھوڑا تو تب نہیں جائے گا جب انہیں پکڑا جائے گا۔ یوگی کی وزیر ٹورزم ڈاکٹر ریتا بہوگنا جوشی بھی ایسے واقعات کے تعلق سےمذمت کر کے کام چلا لیتی ہیں۔ حالانکہ انہیں اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ ایسے واقعات سے غیر ملکوں میں ریاست اور ملک کی بدنامی ہوتی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ اس کے باوجود بھی وہ غیر ملکی سیاحوں کی حفاظت  کے پختہ بندوبست نہیں بڑھاتی ہیں اور غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ چھیڑ خانی یا مار پیٹ کے ہر واقعہ کے بعد مذمت کرکے اپنا فرض پورا کر لیتی ہیں۔

بھارت کی روائت رہی ہے کہ یہاں مہمان کو بھگوان سمجھا جاتا ہے۔ ملک بھر میں ایسے قابل دید مقام ہیں جسے دیکھنے غیر ملکی سیاح یہاں آتے ہیں۔ لیکن  پچھلے دنوں ہوئے کچھ واقعات نے ہمیں شرمسار کیا ہے۔ مرکز اور ریاستی سرکار نے بنارس سمیت پروانچل کے دیگر اضلاع میں ٹورزم کو بڑھاوا دینے کی مہم چھیڑ رکھی ہے لیکن حفاظت کا کوئی پختہ بندوست نہیں ہے۔ مرزا پو رکے واقعہ نے سیاحوں کے حفاظتی انتظام پر سوال کھڑا کردیا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کےساتھ بد سلوکی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود ملک میں آنے  والے غیر ملکی سیاحوں کی حفاظت کے پختہ انتظامات نہیں ہیں۔

وارانسی کے بابت پورائیر پورٹ اور کینٹ ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلنے کے بعد غیر ملکی شہریوں کی مدد کے لئے نہ کہیں ہیلپ سینٹر  ہیں اور نہ ہی پولیس انگریزی میں اتنی ماہر ہے کہ ان کے سوالوں کے جواب دے پائے۔ انہیں ان کی ضرورت کے مطابق اطلاعات، معلومات دی جائیں۔ اس کا فائدہ چور اچکے اور جعل ساز تو اٹھاتے ہی ہیں شرارتی عناصر کو بھی گاہے بگاہے چھیڑ خانی جیسی حرکتوں کا موقع مل جاتا ہے۔

غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ پہلے بھی کئی بارپر تشدد واقعات ہو چکے ہیں۔ اسی سال جون کے مہینے میں روہنیا علاقے میں بزرگ فرانسیسی خاتون کے ساتھ گیٹ ہاؤس کے چوکیدار نے ریپ کیا تھا اورمزاحمت کرنے پر مار پیٹ کر ادھ مرا کر دیا تھا۔ اس سے پہلے سال ۲۰۱۵؁ء میں روسی لڑکی پر لنکا علاقے میں اس کے  سرپھرے دوست نے تیزاب پھینک دیا تھا۔

پچھلے نومبر مہینے میں سون بھدر میں ایک جرمن شہری اور ایک داروغہ کے بیچ ہاتھا پائی کا معاملہ سرخیوں میں تھا۔ ۲۰۱۳؁ء میں ایک غیر ملکی لڑکی کو بھانگ پلاکر ریپ کئے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ کچھ سالوں قبل لنکا تھانے کے نگواں علاقہ میں ایک جاپانی شہری کی لاش مشتبہ حالت میں ملی  تھی۔

اس کے علاوہ گنگا گھاٹوں پر آئے دن غیر ملکی شہری اٹھائی گیری کا شکار ہوتے رہتے ہیں لیکن علاقائی تھانوں کی پولیس معاملے کو رفع دفع کردیتی ہے۔ مرزا پور کے لکھنیا دری میں فرانسیسی شہریوں کے ساتھ ہوئے چھیڑ خانی اور مار پیٹ کے واقعہ سے ایکبارگی پھر سیاحوں کی حفاظت کا سنگین  سوال کھڑا ہو گیا ہے۔ سیاحوں کی حفاظت کا پختہ انتظام نہ ہونا ٹورزم ڈیولپمنٹ کی مہم پر بھی بڑا سوال ہے۔

فرانسیسی سیاحوں سے چھیڑ خانی، مار پیٹ، بلوا کے معاملہ میں گرفتار  کئے گئے آٹھوں ملزم کینٹ اور سارناتھ علاقے کے ہیں۔ ایس پی مرزا پور نے بتایا کہ ڈیوٹی پر تعینات پولیس اور پی اے سی کے جوان کہاںتھے، اس کی جانچ کر کے رپورٹ دینے کے لئے ایس پی آپریشن کو کہا گیا ہے۔ حالانکہ جانچ سے پہلے ہی پولیس نے کہنا شروع کردیا ہے کہ فرانسیسی شہریوں کے ساتھ مار پیٹ نہیں ہوئی ہے۔ اس سے صاف ہے کہ کاروائی کرنے کے بجائے پولیس ملزمان کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔

مرزا پور میں غیر ملکی سیاحوں سے ہوئی چھیڑ چھاڑ اور مار پیٹ کے واقعہ نے نہ صرف ریاست بلکہ ملک کو شرمسار کر دیا ہے۔ فرانس کےا یک مرد اور چار خواتین کے ساتھ اس دن اگر کاشی کی بیٹیاں نہیں ہوتیں تو شائد واقعہ اور بڑا ہوتا۔ فرانسیسی شہریوں کے ساتھ مرزا پور گئی کاشی کی ان بیٹیوں نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر دس سے بارہ کی تعداد میں آئے شر پسندوں سے بھڑ گئی تھیں۔

جوپنئیر نے بتایا کہ اس واقعہ سے وہ اوران کے ساتھی بے حد سہم گئے ہیں اور اب واپس اپنے ملک لوٹ رہے ہیں۔ جوپنئیرنے ریا، ملی اور تانیہ کی خاصی تعریف کی۔ بتایا کہ غنڈے جب چھیڑ خانی ، مار پیٹ اور گالی گلوچ کررہے تھے تو انہیں کچھ سمجھ نہیں آیا۔ ایسے میں ان کے دوست نتن کے گھر کی تینوں بچیوں نے ہمت دکھائی اور غنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔