ڈوب مرو – ڈوب مرو کا جملہ یاد کریں مودی

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>ڈوب مرو – ڈوب مرو کا جملہ یاد کریں مودی</h1>

مسلمان، پاکستان، مغل، اورنگ زیب، علاؤ الدین خلجی اور میاں احمد پٹیل اور نظامی کا استعمال

 

حسام صدیقی

احمد آباد۔ ’’ڈوب مرو- ڈوب مرو، دہلی کی سرکار چلانے والوں‘‘،  موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ جملہ اس وقت ملک کے میڈیا کا پسندیدہ جملہ بن گیا تھا جب گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نریندر مودی نے پاکستانیوں کے ذریعے بھارت کے دو جوانوں کی گردنیں کاٹ لی تھیں۔ مودی یہ جملہ ایک پبلک میٹنگ  میں بولے تھے پھر اپنے ایک پٹھو چینل کے عدالت پروگرام میں اسے پھر دہرایا تھا۔ اب اسی چھ دسمبر کو پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر اور پاکستان فوج کے ایک ریٹائرڈ ڈائرکٹر جنرل ارشد رفیق دہلی میں راجیہ سبھا ممبر منی شنکر ائیر کے گھر پر رات کے کھانے کے دوران بیٹھ کر گجرات اسمبلی کے الیکشن پر اثر ڈالنے اور احمد پٹیل کو گجرات کا اگلا وزیر اعلیٰ بنانے کی سازش کر گئے۔ اس سازشی میٹنگ کے اگلے دن یعنی سات دسمبر کو منی شنکر ائیر نے گجرات کے بیٹے کو ’نیچ‘ کہا تھا۔ اس سازشی میٹنگ کے بعد سبھی پاکستانی واپس اپنے ملک نکل گئے اور سازش میں شریک سابق نائب صدر جمہوریہ اور سابق وزیراعظم من موہن سنگھ، ریٹائرڈ آرمی چیف جنرل دیپک کپور اور اپنے گھر میں سازشی میٹنگ کرانے والے منی شنکر ائیر نہ صرف آزاد گھوم رہے  ہیں بلکہ گجرات کے بیٹے نریندر مودی کے خلاف بیان بازی کررہے ہیں۔ ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں ہو رہی ہے۔ اس لئے ڈوب مرو- ڈوب مرو کا مودی کا چار سال پرانا جملہ اب انہی پر فٹ ہوتا نظر آرہا ہے۔ کوئی یا کئی پاکستانی ہمارے ملک کی راجدھانی میں آئے، ملک کی  ستر سال کی آزادی کی تاریخ میں سب سے زیادہ قابل اور بے مثال وزیر اعظم کی اپنی ریاست گجرات میں آر ایس ایس کی زبان میں ایک’ملچھ‘ احمد پٹیل کو وزیر اعلیٰ بنانے کی سازش کریں اور آسانی کے ساتھ نکل جائیں یقیناً یہ ناکامی ملک چلانے والوں کے لئے ڈوب مرنے کی صورتحال پیدا کرنے والی ہے۔ سازش کی یہ خبر غلط بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ وزیر اعظم مودی نے دس دسمبر کو گجرات کے پالن پور سمیت کئی ریلیوں میں اس سازش کی خبر  خود ہی عام گجراتیوں کو دیتے ہوئے ان سے گجرات اور گجرات کے بیٹے (مودی) کی عزت بچانے کی اپیلیں کی تھیں۔ انہوں نے بڑی صفائی سے کہا کہ منی شنکر ائیر کے گھر پر یہ سازشی میٹنگ پورے تین گھنٹے چلی تھی۔ وزیر اعظم مودی نے خود ہی جو خبر پورے ملک کودی وہ چونکہ غلط نہیں ہوسکتی اس لئے پاکستانیوںکے ساتھ میٹنگ میں شامل سبھی ہندوستانیوں کو گرفتار کراکر انکے خلاف ’دیش دروہ‘ کا مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ ساتھ ہی دہلی میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر کو واپس بھیجنے کی کاروائی بھی ہونی چاہئے۔ اس سازش کے ماسٹر مائنڈ پاکستان آرمی کے ریٹائرڈ ڈائرکٹر جنرل ارشد رفیق کو بھارت لا کر ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ اگر ستر سال میں سب سے زیادہ طاقت ور اور مقبول وزیر اعظم نے یہ سب کاروائیاں نہ کرائیں تو ان کا خود کا چار سال پرانا جملہ ’ڈوب مرو- ڈوب مر ودہلی کی سرکار چلانے والو‘ انہی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ ویسے بھی ان کی پوری سرکار کے لئے ڈوب مرنے جیسے حالات ہی ہیں کیونکہ اگر پاکستان سے آکر کچھ لوگ دہلی میں بیٹھ کر بھارت کے خلاف اتنی بڑی سازش کرکے واپس نکل جائیں  اور سرکار دیکھتی رہے وزیراعظم روتے رہیں تو یہی کہا جائے گا کہ ڈوب مرو- ڈوب مرو۔

وزیر اعظم نریندر مودی نےایک نہیں کئی بار کہا کہ پاکستان آرمی  کے ریٹائرڈ ڈائرکٹر جنرل ارشد رفیق گجرات کے الیکشن پر اثر ڈال کر احمد پٹیل کو گجرات کا وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے ہیں اس کی وہ سازش بھی کررہے ہیں ۔ اب ہر طرف یہی سوال پوچھا جارہا ہے کہ پاکستان ہو یا امریکہ دنیا کا کوئی بھی ملک ہندوستان کی کسی بھی ریاست کے الیکشن پر اثر ڈال کر کسی شخص کو وزیر اعلیٰ کیسے بنوا سکتا ہے۔ اگر کوئی ملک بھارت کی کسی ریاست پر اثر ڈال کر کسی شخص کو وزیر اعلیٰ بنوا سکتا ہے تو یہ بات بھی ملک کی سرکار اور وزیر اعظم کے لئے ’ڈوب مرنے‘ والی ہی کہی جائے گی۔

گجرات میں کئے گئےمبینہ ترقیاتی کاموں اور عام ہندوؤں جذبات بھڑکا کر مسلمانوں کا نام لے کر انہیں خوف زدہ کرکے نریندر مودی اس بار بھی اپنی بھارتیہ جنتا پارٹی کو جتوا کر ایک بار پھر اقتدار حاصل کرسکتے  ہیں لیکن اس الیکشن میں انہوں نے  جن مدوں پر بات کی  وہ مدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ جیسا نعرہ بھلے ہی وہ دے رہے ہوں ان کے دل میں مسلمانوں کے لئے کوٹ کوٹ کر نفرت بھری ہے اور اس نفرت کو وہ اب چھپانا بھی نہیں چاہتے۔ تقریباً بیس دنوں میں انہوں نے سو کے نزدیک جو پبلک میٹنگ کیں ان میں  گجرات ماڈل اور گجرات کی ترقی کا مدا تو کہیں تھا ہی نہیں۔ ان کے مدے تھے پاکستان،  احمد پٹیل، اورنگ زیب، شاہ جہاں اور دیگر مغل بادشاہ کانگریس کے دو پیادے شہزاد پوناوالے اور سلمان نظامی۔ ان کی انتخابی تقریریں سننے کے بعد ملک بھر کے مسلمان خوفزدہ ہوگئے ہیں کہ ساڑھے تین سال تک وزیر اعظم رہنے کے باوجود اگر نریندر مودی کے دل اور ذہن میں مسلمانوں کے لئے اتنی نفرت بھری ہے اگر خدانخواستہ وہ گجرات ہار گئے یا نہ ہارے تو ۲۰۱۹؁ء کا لوک سبھا الیکشن جیتنے کے لئے وہ ملک کے مسلمانو ںکے خلاف کیا کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ ملک کے عام مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کی غرض سے راجستھان کے راج سمند جیسےتشدد کے واقعات باقاعدہ بی جے پی کی ریاستی سرکاروں کی ملی بھگت سے کرائے جا رہے ہیں مودی ان واقعات کے لئے کوئی سخت کاروائی بھی نہیں کراتے۔

ملک کے اقتدار میں بیٹھ کر صرف وزیر اعظم مودی نے ہی گجرات الیکشن میں بے سر پیر کی بیان بازی نہیں کی ان کے بیان کی حمائت میں ان کے فائنانس منسٹر ارون جیٹلی اور وزیر قانون روی شنکر پرساد بھی پیش پیش رہے ان دونوں نے بھی مودی کی طرح ہی چھ دسمبر کو پاکستانیوں کے ساتھ منی شنکر ائیر کے گھر پر ہوئی ڈنر میٹنگ کو مشکوک قرار دیا اور سوال کیا کہ کیا اس میٹنگ کی کوئی اجازت بھارتی سرکار اور وزارت خارجہ  سے لی گئی تھی۔ روی شنکر اور ارون جیٹلی بھی اپنا مالک او ربھگوان مان چکے مودی کی طرح کسی پر غلط الزام لگانے کے لئے جھوٹ اور صرف جھوٹ کا سہارا لیتے نظر ا ٓئے۔ کیا انہیں نہیں معلوم کہ جو لوگ پاکستان سے آے تھے وہ باقاعدہ ہندوستان کا ’ویزہ‘ لے کر آئے تھے۔ ویزہ مانگنے والے ہر شخص کو اسی و یزہ فارم پر باقاعدہ یہ لکھ کر بتانا بھی پڑتا ہے کہ وہ کس ’مقصد‘ کے لئے بھارت آنا چاہتے ہیں۔ دوسرے خورشید  محمود قصوری کی حیثیت کے لوگوں کو بھارت سرکار سے منظوری حاصل کئے بغیر پاکستان میں کام کررہا ہندوستانی ہائی کمیشن ویزہ دے بھی نہیں سکتا۔ ان حقائق کے باوجود مودی، جیٹلی اور روی شنکر غلط بیانی کرتے رہے۔ چھ دسمبر کو منی شنکر ائیر کے گھر کی جس میٹنگ کو مودی نے سازش کی میٹنگ بتایا اس میں پاکستانی مہمانوں کے علاوہ سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری، سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ، ریٹائرڈ آرمی چیف جنرل دیپک کپور، تین صحافی پریم شنکر جھا، راہل خوشونت سنگھ اور اجئے مشرا، سابق خارجہ سکریٹری سلمان حیدر کے ساتھ کے ایس باجپائی، ٹی سی اے راگھون،گھڑے خان، شرد سبروال جیسے ڈپلومیٹ اور سابق مرکزی وزیر کے نٹور سنگھ وغیرہ شریک تھے۔ انہیں مودی نے سازشی قرار دے دیا۔

وزیر اعظم کی سطح سے اتنا غلط، جھوٹا اور سطح سے گرا ہوا الزام من موہن سنگھ جیسے سنجیدہ رہنے والے بزرگ کو بھی غصہسے بھرگیا۔ انہو ںنے کہا کہ اس قسم کا جھوٹا اور گھٹیا الزام لگا کر نریندر مودی نے لکشمن ریکھا پار کی ہے۔ اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔ انہو ںنے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے سابق نائب صدر جمہوریہ، سابق وزیر اعظم اور آرمی چیف سمیت کئی اہم اداروں کی توہین کرنے کا کام کیا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ مودی جس عہدے پر بیٹھے ہیں اس کا وقار  گرانے کا کام مودی کررہے ہیں۔ من موہن سنگھ نے کہا معمولی سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے نریندر مودی نے جو جھوٹ اور افواہیں پھیلائی ہیں ان سے انہیں تکلیف بھی ہوئی ہے اور انہیں غصہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شائد گجرات میں ہونے والی اپنی سیاسی شکست کا اندازہ مودی کو لگ گیا۔ اس لئے وہ غیر مہذب الفاظ کا استعمال کرنے لگے ہیں۔ انہوںنے الزام لگایا کہ نریندر مودی اپنے معمولی سیاسی فائدہ کے لئے ہر آئینی عہدے کی تصویردھندلی کرنے کی  مہلک حرکتیں کررہے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعہ گجرات کی ریلیوں میں لگائے گئے الزامات اور ان پر دس سال تک ملک کے وزیر اعظم رہے سنجیدہ  اور شریف لیڈر من موہن سنگھ کا سخت جوابی بیان، ان دونوں کے بعد نریندر مودی کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں۔ پہلایہ کہ اگر انہو ںنے سازش کئے جانے کا جھوٹا الزام لگایا ہے تو ا نہیں نے اپنے بیان پر  افسوس ظاہر کرکے معاملہ ختم کر دینا چاہئے اور اگر ان کا بیان اور الزام سچا ہے تو سازشی میٹنگ میں شامل تمام لوگوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی شروع کرائیں۔ اگر انہوں نے دونوں کام نہیں کئے تو پھر انہی کا جملہ ان پر فٹ کرتے ہوئے کہا جائے گا ’’ڈوب مرو، ڈوب مرو ملک کی سرکار چلانے والو‘‘کیونکہ تم سرکار چلانے لائق ہی نہیں ہو۔

 

 

باکس:

’’ ستر سال کے سب سے قابل وزیراعظم کے دعویدار مودی راج میں اگر کوئی پاکستانی ریٹائرڈ فوجی افسر ارشاد رفیق یا پورا پاکستان گجرات الیکشن  میں دخل دے کر میاں احمد پٹیل یا کسی دوسرے کو وزیر اعلیٰ بنانے کی سازش کر سکتا ہے۔ کچھ پاکستانی دہلی میں آکر ملک کے خلاف سازش کرکےواپس جا سکتے ہیں تو مودی کے ہاتھوں میں ملک محفوظ نہیں ہے یہ تو سرکار کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔‘‘

 

 

’’مسلمان، پاکستان، مغل، میاں احمد پٹیل، جہانگیر، اورنگ زیب اور  علاؤ الدین خلجی کے ساتھ ہی نرنیدر مودی اس بار شہزاد پونا والا اور  سلمان نظامی جیسے پیادے تک اتر گئے۔ ان کی تقریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے ان کے دل اور دماغ میں کتنا زہر بھرا ہے۔ شائد یہی زہر کبھی پہلو خان توکبھی افروزل کے قتل کی شکل میں سامنے آتا ہے۔‘‘

 

 

’’حامد انصاری ہوں، من موہن سنگھ ہوں، جنرل دیپک کپور، نٹور سنگھ یا کوئی اور اگر یہ لوگ گجرات الیکشن میں دخل دینے والی کسی پاکستانی سازش میں شامل تھے تو مودی سرکار ان کے خلاف قانونی کاروائی کیوں نہیں کرتی۔ ملک کو اس مبینہ سازش کی خبر تو خود مودی نے دی ہے۔ یہ کسی پولیس والے کی رپورٹ نہیں ہے۔ اگر کاروائی نہیں ہوتی تو سمجھا جائے گا کہ نریندر مودی نے ملک کے ساتھ پھر ایک بڑی غلط بیانی کی ہے انہیں معافی مانگنی چاہئے۔‘‘