ڈیڑھ سال میں آسمان چھونے لگیمہنگائی

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>ڈیڑھ سال میں آسمان  چھونے لگیمہنگائی</h1>

نئی دہلی:وزیر اعظم بننے سے پہلے نریندر مودی اپنی الیکشن میٹنگ میں اس بات پر بہت زور دیتے تھے کہ اگر ان کی سرکار آئے گی تو مہنگائی میں کمی آئے گی اور لوگوں کے اچھے دن آئیں گے۔ لیکن مودی سرکار بننے کے بعد سے مہنگائی میں اتنا اضافہ ہو چکا ہے کہ اس نےعام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ کھانا پکانے کی گیس ہو، کیروسین یا پھر پٹرول اور ڈیژل سب کی قیموں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ لیکن پچھلے ڈیڑھ سال میں تو مہنگائی  نے آسمان ہی چھو لیا ہے۔ کھانے پینے کی روز مرہ کی چیزوں میں بے تحاشہ اضافہ  ہوا ہے۔ یہ کسی سیاسی پارٹی کا الزام نہیں ہے بلکہ سینٹرل اسٹیٹسٹک آفس کے ذریعہ جاری آنکڑوں سے سامنے آیا ہے۔

ملک میں صرف ایک مہینے کے اندر مہنگائی کس طرح بڑھی ہے اس کا اندازہ اسی سے ہوتا ہے کہ نومبر سے ابتک شہروں میں سبزی کی قیمتوں میں ۴۲.۳۰ فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ گاؤں دیہات میں جہاں سبزیاں پیدا کی جاتی ہیں وہاں بھی سبزیوں کی قیمتوں میں ۴۸.۱۸ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح انڈے کی قیمتوں میں تقریباً دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے ایک مہینے میں پھلوں کی  قیمتوں میں ۱۹.۶ فیصد تو شکر اور کنفیکشنری کا سامان۸۰.۷ فیصد مہنگا ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی گجرات میں لوگوں کو ترقی کے خواب دکھا رہے تھے۔ اس بڑھتی مہنگائی کو دیکھ کر تو لگا کہ نریندر مودی کے ’وکاس‘ کا مطلب فی الحال تو مہنگائی میں’وکاس‘ ہی نظر آرہا ہے۔

ملک میں مہنگائی پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران اس وقت چوٹی پر ہے۔ لوگوں کو کھانے پینے کی چیزیں خریدنے میں غش آرہے ہیں۔ لیکن اس کی فکر کسی کو نظر نہیں آرہی ہے۔ نہ ہر معاملہ میں بولنے والے وزیر اعظم ٹوئیٹ کر رہے ہیں نہ وزیرفائنانس اس پر اپنی زبان کھول رہے ہیں۔یہ بات حیران کرنے و الی ہے کہ مرکزی وزیربرائے خوراک و رسد رام ولاس پاسوان نے نومبر کے مہینے میں ہی ہاتھ کھڑے کر دئےتھے کہ اشیا ء کی قیمتوںکے دام بڑھنے سے روکنے میں بے بس ہیں مہنگائی کی وجہ سے ملک کی فیکٹریوں میں پیداوار میں گراوٹ آئی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیچھے ماہرین معاشیات تو ٹیکنیکل ٹرم میں بات کریں گے مگر عام آدمی کا خیال ہے کہ جی ایس ٹی لگنے اور پیٹرول کمپنیوں پر سے سرکاری کنٹرول ختم ہونے کی وجہ سے ہی ملک میں بے تحاشہ مہنگائی بڑھی ہے۔ چونکہ خدرا مہنگائی بڑھی ہے لہٰذا اس کا سیدھا اثر عام آدمی اور غریب آدمیوں پر پڑ رہا ہے۔ انڈے کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے غریب اسے بھی خرید نہیں پا رہے ہیں۔ یہ مہنگا ئی کا ہی اثر ہے کہ انڈسٹریل پیداوار مسلسل گر رہی ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے طریقہ سوچنے کے بجائے سرکار کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ ہفتہ دو ہفتہ میں مہنگائی کم ہونے لگے گی مگر کیسے یہ نہیںبتا رہی ہے۔

اس دوران دالوں کی قیمتوں میں بڑی کمی آنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے جبکہ دالوں کی قیمتیں پہلے ہی اتنی بڑھ چکی تھیں کہ اس میں کمی آنے کے باوجود وہ عام آدمی کی خرید سے باہر ہیں۔انٹرنیشنل مارکٹ میں کچے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے انویسٹرس نے اپنے ہاتھ روک لئے تو شیئر مارکٹ لڑھک گیا۔ ۲۰۱۴ ؁  کے بعد پہلی بار کچے تیل کی قیمتیں۶۵ ڈالر فی بیرل کو پار کر گئی ہیں۔ جس سے کاروباری رک گئے مگر پچھلی من موہن سنگھ سرکار میں انٹرنیشنل مارکٹ میں کچے تیل کی قیمتیں فی بیرل۱۳۰ ڈالر تک پہونچ گئی تھیں اس کے باوجود ڈیژل اور پیٹرول کی قیمتیں اتنی نہیں بڑھیں جتنی آج ہیں نہ ہی اس وقت خدرا مہنگائی میں اضافہ ہوا تھا۔ ڈیژل اور پیٹرول کی قیمتوں کے علاوہ بجلی کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ کیا گیاہے۔ شہروں سے زیادہ مہنگی بجلی کا بوجھ دیہی علاقوں کے لوگوں پر ڈالا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کھیتی کی سنچائی، جتائی وغیرہ کی قیمتیں ڈیژل اوربجلی کے مہنگے ہونے سے بڑھیں گی تو فصلوں کی لاگت بھی بڑھ جائے گی اور وہ بازارمیں آتے آتے خاصی مہنگی ہو جائیں گی۔

صنعتی اداروں کی تنظیم ایسو چیم کا کہنا ہے کہ کارخانوں میں مینوفیکچرنگ میں نئے آرڈر کی کمی اور جی ایس ٹی کے لاگو ہونے کی وجہ سے گراوٹ آئی ہے۔ جب کارخانوں میں سامان تیار ہونا بند یا کم ہو جائے گا تو پھر اس میں کام کرنے والے مزدوروں کی چھٹنی ہو جائے گی جس سےوہ بے روزگار ہوجائیں گے۔ مگر ان سب کی فکر کسی کو نظر نہیں آرہی ہے۔ کوئی یہ کہنے کی ہمت نہیں کر پارہا ہے کہ مودی سرکار کے غلط فیصلوں کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ جو اس وقت اپنی چوٹی  پر ہے۔ وہ چاہے نوٹ بندی کا فیصلہ ہو، پیٹرول کمپنیوں سے کنٹرول ہٹانے کا یا پھر جی ایس ٹی لاگو کرنے کا۔ انہی غلط فیصلوں کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔

سبزیاں ، پھل اور انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے مہنگائی کے مورچے پر بری خبر ہے۔ نومبر میں خدرا مہنگائی شرح۸۸.۴ فیصد پر پہونچ گیا۔ یہ ڈیڑھ سال میں سب سے اونچی سطح ہے۔ اکتوبر میں خدرا مہنگائی شرح ۵۸.۳ فیصد تھی۔ خدرا مہنگائی کی شرح میں اضافہ کے ساتھ ہی حال فی الحال ریپوریٹ میں کسی  طرح کی کمی کے امکانات پر روک لگ گئی ہے۔دراصل، سرکار اور ریزرو بینک کے بیچ ہوئے  سمجھوتے کے مطابق، خدرا مہنگائی کی شرح کا نشانہ چار فیصد رکھاگیا ہے جس میں دو فیصد تک کمی بیشی منظور ہوگی۔ عام زبان میں کہیں تو خدرا مہنگائی شرح دو سے چھ فیصد کے بیچ ہونی چاہئے، حالانکہ تکنیکی طور پر نشانہ چار فیصد مانا جاتا ہے۔ اب چونکہ خدرا مہنگائی شرح چار فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے اور خود ریزرو بینک بھی کہہ چکا ہے کہ ۳۱ مارچ کو ختم ہونے والے کاروباری سال ۱۸- ۲۰۱۷ میں خدرا مہنگائی کی شرح۳.۴ سے ۷.۴  فیصد کے بیچ رہ سکتی ہے۔ ایسے  میں مہنگائی کے موجودہ چلن کو دیکھتے ہوئے اس کاروباری سال کے دوران ریپوریٹ میں کمی کے آثار نہیں ہیں۔ قرض پالیس کا اگلا جائزہ فروری میں ہوگا۔

کھانے پینے کے سامان نے خدرامہنگائی بڑھانے میںسب سے اہم رول ادا کیا۔ اسٹیٹسٹک وزارت کے آنکڑے بتاتے ہیں کہ نومبر کے مہینے میں کھانے پینے کے سامان کی خدرا مہنگائی شرح۴۲.۴ فیصد رہی جبکہ اکتوبر میں یہ ۹.۱ فیصد تھی۔ صرف سبزیوں کی بات کریں تو وہاں نومبر کے مہینے میں خدرا مہنگائی ۴۸.۲۲ فیصد رہی، وہیں پھرپھلوں کے معاملے میں یہ شرح ۱۹.۶ فیصد رہی۔ پریشانی انڈے کے معاملے میں بھی نظر ا ٓئی جہاں خدرا مہنگائی قریب آٹھ فیصد رہی۔ دھیان رہے کہ پانچ روپئے کی قیمت سے بکنے والا انڈا  چھ سے سات روپئے کے بیچ آج کل بک رہا ہے۔ ٹھنڈک بڑھنے کے ساتھ اس کے دام میں اور اضافہ ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف صنعتی ترقی کے مورچہ پر بھی اچھی خبر نہیں ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں صنعتوں کے بڑھنے کی رفتار سست ہو کر ۲.۲ فیصد پر آ گئی، وہاں ستمبر کے مہینے میں یہ شرح چار فیصد زیادہ تھی۔ اگر پچھلے سال ۲۰۱۶؁ء کے اکتوبر کی بات کریں تو صنعتی شرح ترقی ۲.۴ فیصد رہی۔ انڈسٹری کی رفتار دھیمی پڑنے کی بڑی وجہ مینوفیکچرنگ شعبہ تھا۔ مینوفیکچرنگ کے بڑھنے کی شرح ۵.۲ ہی درج کی گئی جبکہ ستمبر کے مہینے میں یہ ۸.۳ فیصد تھا۔ مینوفیکچرنگ کی سست رفتار روزگار کے موقعوں پر اثر ڈالتی ہے، کیونکہ یہاں اگر ایک کو سیدھے روزگار ملتا ہے تو کم سے کم چار لوگوں کو ان ڈائرکٹ روزگار ملتا ہے۔