سپریم کورٹ کو موہن بھاگوت کی صاف ہدایت

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>سپریم کورٹ کو موہن بھاگوت کی صاف ہدایت</h1>

نئی دہلی۔ ایودھیا میں بابری مسجد/رام جنم بھومی مسئلے کو حل کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں پانچ دسمبر سے روزانہ سنوائی ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے چوبیس نومبر کو کرناٹک کے اڈپی میں بڑی صفائی سے کہہ دیا کہ رام مندر کی تعمیر صرف اور صرف اسی جگہ پر ہوگی جہاں پر رام للا پیدا ہوئے تھے اور اس وقت بھی وہیں پر رام للا براجمان ہیں۔ مطلب صاف ہے کہ موہن بھاگوت سپریم کورٹ کا ایسا کوئی فیصلہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے جو مندر کے حق میں نہ ہو۔ انہو ںنے یہ بھی واضح کردیا کہ مندر کا کام بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ موہن بھاگوت اڈپی میں وشو ہندو پریشد کی جانب سے بلائی گئی دھرم سنسد میں تقریر کررہے تھے۔

موہن بھاگوت کے بیان کے فوراً بعد گووردھن پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی نشچلانند سرسوتی نے بھی اعلان کردیا کہ ایودھیا میں تو صرف اور صرف رام مندر ہی بنے گا جہاں تک مسجد کا سوال ہے ایودھیا میں ہم مسجد کی عمارت تو دور علامت کی شکل میں بھی مسجد کو برداشت نہیں کریں گے۔ بھوپال میں انہوں نے کہا کہ سناتن دھرم کو چیلنج کرنے کی حیثیت کسی میں نہیں ہے۔ ہمیں کوئی اپنے راستے سے ہٹا نہیں سکتا۔ انہو ںنے کہا کہ سردار پٹیل نے جس ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے سومناتھ مندر کی تعمیردوبارہ کروائی تھی وہ حوصلہ اور ہمت پی وی نرسمہا راؤ اور اٹل بہاری باجپائی جیسے وزیراعظم بھی نہیں دکھا سکے۔ لیکن آج کی صورتحال ایسی نہیں ہے آج ملک کا اقتدار جن (مودی) کے ہاتھ میں ہے وہ ہندوتو اور مندر کے لئے کچھ بھی کرگزرنے کا مادہ رکھتے ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ ہندوؤں کو اپنی طاقت پہچاننی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اٹل بہاری باجپائی نے ان کے پاس ایک تجویز بھیجی تھی کہ مندر کے سامنے مسجد بن جائے مگر میں نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔

سوامی نشچلانند نے کھلا ہوا جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ہندو تو اور رام للا کے نام پرنہیں ’وکاس‘ کے نام پر چناؤ لڑا تھا۔ انہو ںنے کہا کہ ملک میں سو سے زیادہ نقلی شنکر اچاریہ گھوم رہے ہیں۔ انہیں تو جیل میں ڈال کر موت کی سزا دے دینا چاہئے ۔ اب شنکر آچاریہ سے کون پوچھے کہ رمضان میں بجلی تو دیوالی میں بھی بجلی آئے شمشما ن ، قبرستان ، گنگا میّا، گئو کشی، لو جہاد، گھر واپسی، ہندو تو کے مدّے نہیں تو کیا سیکولرزم کے ایشوز ہیں۔ ملک میں پہلی بار ہندوؤں کی حکومت بنی ہے یہ پروپگینڈہ ہندوتو نہیں تو کیا ہے؟

موہن بھاگوت کے ہی نقش قدم پر چلتے ہوئے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کےسرکاریہ واہ سریش راؤ بھیا جی جوشی نے کہا کہ ملک کا ہر ہندو چاہتا ہے کہ مندر بنے مگر مندر تبھی بنے گا جب رام للا چاہیں گے انہو ںنے کہا کہ جس جگہ پر مندر بنانے کا منصوبہ ہے وہ جگہ ابھی عدالت کے قبضہ میں ہے۔ جس دن قبضہ مل جائے گا اسی دن مندر بن جائے گا۔ اسی طرح سبرامنیم سوامی نے بھی عدالت کا فیصلہ تسلیم نہ کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر فیصلہ مندر کے خلاف آیا تو پارلیمنٹ میں قانون بنوا کر مندر تعمیر کا راستہ صاف کیا جائے گا۔ حالانکہ دھرم سنسد میں شریک کچھ لوگوں نے تو مندر تعمیر کا وقت بھی بتا دیا۔

وشو ہندو پریشد کے ذریعے کرائی گئی دھرم سنسد کے منچ سے رام مندر تعمیر سے لے کر گئو رکشا جیسے مدّے اٹھائے گئے۔ لیکن راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے چیف موہن بھاگوت نے ایودھیا میں مندر ہی بنے گا کے نعرے کے ساتھ  دھرم سنسد کی شروعات کی تھی، اس میں اس رام مندر سے جڑی کوئی تجویز پاس نہیں کی گئی۔ دھرم سنسد کے پہلے دن آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے رام مندر کے مسئلے پر بولتے ہوئے منچ سے اعلان کردیا کہ ایودھیا میں رام مندر ہی بنے گا۔ موہن بھاگوت کے اس بیان پر کافی تنازعہ بھی ہوا۔ مسلم تنظیموں نے بھاگوت کے اس بیان پر اعتراض جتاتے ہوئے اسے سپریم کورٹ کو چنوتی دینے والا قرار دیا۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے بھی صاف طور پر کہا کہ رام مندر کیس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے، ایسے میں آر ایس ایس چیف کا یہ بیان عدالت کو چنوتی دینے والا ہے۔

دھرم سنسد کے آخری دن وشو ہندو پریشد کے صدر پروین توگڑیا نے بھی بھاگوت کے بیان کی حمائت کی۔ توگڑیا نے کہا کہ متنازعہ جگہ پرصرف مندر کی ہی تعمیر ہوگی، وہاں مسجد نہیں بنے گی۔  انہوںنےبھی کوئی تاریخ نہیں بتائی۔ لیکن کرناٹک میں وی ایچ پی کے ایک دوسرے لیڈر نے مندر تعمیر کب شروع ہوگی، یہ بھی بتا دیا۔ کرناٹک میں وی ایچ پی کے ایک عہدیدار گوپال نے دعویٰ کیا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اگلے سال دسمبر میں شروع ہو جائے گی۔ اتنا ہی نہیں وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری نے بھی ایسا ہی دعویٰ کیا ہے۔ دھرم سنسد میں شامل ہو نے  پہونچے وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے کہا کہ کیا ہمیں اس طرح کی کسی تجویز کی ضرورت ہے؟ جین نے کہا کہ ۱۵۲۸؁ء سے یہ ہر ہندو کا عزم ہے۔ جین نے کہا کہ یہ تجویز نہیں ایکشن کا وقت ہے۔ انہوں نے تو دسمبر سے بھی پہلے اعلان کیا کہ اکتوبر۲۰۱۸؁ء میں مندر کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔ جین نے یہ بھی کہا کہ اگلی دھرم سنسد ایودھیا  میں ہوگی۔ دھرم سنسد میں بھلے ہی رام مندر کو لے کر کوئی تجویز نہ لائی گئی ہو لیکن گئو رکشا کے لئے سخت قانون کی مانگ کی تجویز پاس کی گئی ہے۔ گجرات سے اکھلیشور داس مہاراج نے دھرم سنسند میں گائے کی حفاظت کے لئے ایک سخت مرکزی قانون کی تجویز رکھی تھی، جسے پاس کر دیا گیا۔ معلوم ہو کہ رام مندر پر سپریم کورٹ کے تبصرے کے بعد کئی تنظیموں نے تنازعہ کو کورٹ کے باہر نپٹانے کی کوشش کی ہے۔ شیعہ وقف بورڈ اور شری شری روی شنکر بھی اس کی پہل کرچکے ہیں لیکن دھرم سنسد میں رام مندر تعمیر کو لے کر کوئی تجویز نہیں لائی گئی۔ حالانکہ وی ایچ پی لیڈر نے اپنے بیان سےصاف کر دیا کہ اب پروپوزل نہیں، ایکشن کا وقت ہے۔ لیکن دھرم سنسد میں رام مندر تعمیر کو لے کر کسی تجویز کا پاس نہ کیا جانا یہ بتاتا ہے کہ رام مندر بنانے کا دعویٰ کرنے والے بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ مندر نہیں بنا سکتے ہیں کیونکہ معاملہ کورٹ میں ہے۔ وہ ہندوؤں کو بھڑکانے کے لئے منہ سے مندر بناتے رہے ہیں۔