پدما وتی پر ہنگامہ اور کچھ سوال

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>پدما وتی پر ہنگامہ اور کچھ سوال</h1>

نئی دہلی۔ سنجےلیلا بھنسالی کی اگلی فلم پدما وتی پر ہنگامہ جاری ہے۔ سپریم کورٹ نے صاف طور پر اعتراض ظاہر کر دیا کہ فلم پر بیان بازی بند ہو لیکن نہ تو بیان بازی بند ہو رہی ہے اور نہ ہی ہنگامے رک رہے ہیں۔ پدما وتی پر جس انداز میں ہنگامے ہو رہے ہیں اس کے پیچھے یقینی طور پر وہی طاقتیں نظر آ رہی ہیں جن طاقتوں نے کئی سال قبل دہلی میں انّا ہزارے کے آندولن اور نربھیا کے ساتھ ہوئی درندگی پر ہنگامہ مچایا تھا۔ فلم کسی نے دیکھی نہیں لیکن بی جے پی سرکاروں والی کئی ریاستوں میں فلم پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ کرنی سینا، چھتریہ سینا، چھتریہ مہا سبھا اور چھتریہ سمّان بچاؤ سینا کے نام پر بڑی تعداد میں سماج کے نئے نئے ٹھیکہ دار پیدا ہو گئے ہیں۔ چھتریوں کی تاریخ رہی ہے کہ انہو ںنے خواتین کی عزت بچانے کے لئے اپنی جانیں تک دی ہیں لیکن نئے دور کے نئے نئے خود ساختہ لیڈران نے پدما وتی فلم کی ہیروئن دیپکا پادوکون کی ناک کاٹنے، سر قلم کرنے اور اس پر تیزاب پھینکنے جیسے کاموں کے لئے کروڑوں کے انعام کا اعلان کردیا۔ چھتریہ یوا مہا سبھا کے صدر بتائے جانے والے ٹھاکر ابھیشیک سوم نے تو گرجتے ہوئے یہاں تک اعلان کر دیا کہ وہ لوگ جلد ہی سنجے لیلا بھنسالی پر ایک فلم بنا کر دنیا کو بتائیں گے کہ لیلا بھنسالی نام کی یہ خاتون کس طرح عام سے خاص ہو گئی۔ یہ لوگ اتنا آگے نکل گئے کہ لکھنؤ کی ایک چھترنی اپرنا بشٹ یادو نے  اپنے بھائی امن کی منگنی کے موقعہ پر گھومر ڈانس کر دیا تو اس کے خلاف بھی نا زیبا بیان بازی کر دی۔ اپرنا کوئی معمولی چھترانی نہیں ان کا تعلق وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی کی طرح بشٹ ٹھاکر سماج سے ہے ان کی شادی اترپردیش کے سب سے بڑے سیاسی کنبہ ملائم سنگھ یادو کے بیٹے کے ساتھ ہوئی ہے۔ ان کے والد اروند سنگھ بشٹ ایک مشہور صحافی رہے ہیں جو اب اترپردیش کے انفارمیشن کمشنر ہیں۔

پدما وتی بنانے والے اسے لکھنے والے اس میں کام کرنے والے تمام اداکار ہندو ہیں۔ اس کے باوجود کچھ فرقہ پرستوں نے اور دنگائیوں نے مسلمانوں کو اس تنازعہ میں گھسیٹنے کی حرکت کی۔ زی نیوز سے آج تک چینل پہونچنے والے روہت سردانہ نام کے ایک بے وقوف اینکر نے اس سلسلے میں پیغمبر اسلامﷺ کے کنبہ کی خواتین اور حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ حضرت مریمؑ کا نام لے کر ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا۔ سردانا جیسے بے عقلوں کو اسلام اور مسلمانوں کے سلسلے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ اسے یہی نہیں پتہ کہ اسلام کی قابل احترام جتنی بھی شخصیتیں گزریں ان پر تنقید ہی نہیں ان کی تعریف میں بھی فلمیں بنائے جانے پر پابندی ہے پھر اس معاملے میں اسلامک شخصیات کو گھسیٹنے کا کیا مطلب ہے؟

ملک میں نریندر مودی کی سرکار آنے کے بعد سے سماج میں نفرت اور عدم رواداری کا جو ماحول پیدا کیا گیا پدما وتی فلم پر مچا ہنگامہ بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ تبھی تو فلم دیکھے اور اس میں کون کون سی قابل اعتراض باتیں ہیں یہ سمجھے بغیر ہی لوگ اتنے غصہ میں آ گئے کہ قانون آئین اور سپریم کورٹ سمیت سبھی سے ٹکرانے کے لے تیار نظر آنے لگے۔چھتریہ سماج اور کرنی سینا کے لوگ سمجھیں یا نہ سمجھیں لیکن پدما وتی مخالف آندولن کو ہوا دینے والوں کی نظر گجرات اور اگلے سال ہونے والے راجستھان اسمبلی الیکشن پر ہے۔ یہ لوگ جذبات بھڑکا کر اور ہنگامہ کراکر چھتریہ سماج کےووٹ ٹھگ لیں گے پھر پدما وتی کا معاملہ بھی فلم جودھا اکبر کی طرح ٹھنڈے بستے میں چلا جائے گا۔ ابھی تو چھتریہ سماج کو بھڑکانے میں آر ایس ایس کنبہ اس حد تک لگا ہوا ہے کہ سپریم کورٹ نے اٹھائیس نومبر کو جب یہ کہا کہ عوامی زندگی  میں سرکاری عہدوں پر بیٹھے لوگوں(وزیروں اور وزیر اعلیٰ) کو اس فلم پر بیان بازی نہیں کرنی چاہئے تو ہریانہ کے  وزیر صحت انل وج نے فوراً سپریم کورٹ  کے خلاف بیان بازی کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ہر کسی کو اپنی بات کہنے کا پورا حق ہے  اگر اپنی بات کہنے کےلئے عدالت سے اجازت لینی پڑے تو جمہوریت کا کیا مطلب ہے؟ جو دلیل انل وج دے رہے ہیں وہی دلیل تو فلم بنانے والوں کی بھی ہے۔

پدما وتی کے سلسلے میں کئی مؤرخین کا کہنا ہے کہ چتوڑ گڑھ یا راجستھان میں اس نام کی کوئی رانی ہوئی ہی نہیں یہ محض ایک خالی کردار ہے۔۱۵۴۰؁ء میں ملک محمدجائسی نے  مثنوی ’پدماوت‘ نام سے لکھی اسی کے بعد پدما وتی کی کہانی چل پڑی۔ علاؤالدین خلجی کی حکومت ۱۳۱۶؁ء تک تھی۔ اب کہا جاتا ہے کہ خلجی نے ۱۳۰۳؁ء میں چتوڑ گڑھ پر حملہ کرکے رانا رتن سنگھ کو اس لئے ہرایا تھا کہ وہ رانا رتن سنگھ کی انتہائی خوبصورت رانی پدما وتی کو حاصل کرنا چاہتا تھا۔ پدما وتی ٹھہری چھترانی جو اپنی عزت کے لئے جان کی بھی پروا نہیں کرتی تھی اس لئے اپنے شوہر کے مارے جانے کی خبر ملتے ہی انہو ںنے سولہ ہزار دوسری چھترانیوں کے ساتھ جوہر یعنی زندہ چتا پر چڑھنے کا کام کیا اور خلجی کو ان کی راکھ ہی ملی۔ علاؤالدین خلجی نے  پدما وتی کو کبھی دیکھا نہیں تھا۔ کہانی کے مطابق رانا رتن سنگھ کے ایک غدار درباری اور نزدیکی تانترک  چیتن راگھو نے آئینہ میں رانی پدما وتی کو خلجی کو دکھا دیا تھا۔ یہ بھی عجیب بات ہے کیونکہ آئینہ تو پہلی بار ۱۵۰۸؁ء میں اٹلی میں بنا اس سے پہلے آئینہ تھا ہی نہیں تو چیتن راگھو نے آئینہ میں رانی پدما وتی کی خوبصورتی علاؤ الدین خلجی کو سوا دو سو سال پہلے کیسے دکھادیا تھا؟ کہانی کے مطابق رانی پدماوتی نے اپنی عزت بچانے کے لئے خلجی کے ہاتھ لگنے کے بجائے  جوہر کرکے زندہ جل جانا بہتر سمجھا تھا۔ اس بات پر شک کرنے کا کوئی جواز  نہیں ہے۔ انہو ںنے ایسا کیا ہوگا  لیکن چتوڑ گڑھ کے قلعہ میں اتنی جگہ کہاں ہے کہ سولہہ ہزار چھترنیاں زندہ چتا پر چڑھ گئی تھیں؟

بھنسالی کی فلم پدماوتی ابھی سینسر بورڈ سے پاس نہیں ہوئی ہے اس کی ریلیز بھی اب اگلے سال ۲۰۱۸؁ء میں ہی ممکن ہے گھومر گانے کے ساتھ  اس کا ٹریلر جاری ہوا ہے خبر لکھے جانے تک گھومر گانا مقبولیت کے تمام جھنڈے گاڑ چکا تھا۔ اسےیو ٹیوب پر تقریباً سات کروڑ لوگ اس گانے کو دیکھ چکے تھے۔ آج کل شادیوں کا سیزن شباب پر ہے تقریباً ہر شادی کے سنگیت میں یہ گانا ہوتے دیکھا جارہا ہے۔چھتریہ سماج اور کرنی سینا کا کہنا ہے کہ اس گانے میں جو کپڑے دپیکا پادوکون کو پہنائے گئے ہیں ان میں اس کا پیٹ اور کمر نظر آتی ہے یہ رانی پدما وتی کی توہین ہے۔ چھترانیاں اور رانیاں ایسے پھوہڑ قسم کے کپڑے پہن ہی نہیں سکتی تھیں۔ چھتریہ سماج اور کرنی سینا کو اگر لباس پر ہی اعتراض ہے تو انہیں  ناٹکوں، فلموں اور رامائن جیسے سیریل میں ’سیتا‘ کے لباس پر بھی اعتراص کرناچاہئے تھا۔ پدما وتی تو ایک رانی تھی، سیتا جی کا درجہ ملک اور دنیا میں ماں کا ہے اسی لئے انہیں سیتا ماتا یا سیتا میّا کہا جاتا ہے۔ سیتا کا کردار کرنے والی اداکاراؤں کے سیتا کی شان اور احترام کے مطابق کپڑے نہ پہنائے جانے پر چھتریہ سماج اعتراض کیوں نہیں کرتا؟ سیتا بھی چھتریہ سماج کا حصہ تھی۔ ابھی دیوالی کے موقعہ پر تو اترپردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے پشپک ومان بتا کر اتر پردیش سرکار کے ہیلی کاپٹر سے جس سیتا کو رام اور لکشمن بنے اداکاروں کے ساتھ اتارا ان کا نام آنچل گھئی ہے۔ بائیس سال کی آنچل گھئی پیشہ سے ریمپ ماڈل ہیں۔ جس قسم کے معمولی کپڑوں میں وہ ریمپ پر اترتی ہیں ان کو بیان کر پانا ممکن نہیں ہے۔ انہیں سیتا بنوا کر کیا سیتا کی توہین نہیںکی گئی تب بھی چھتریہ سماج خاموش رہا کیونکہ اس وقت معاملہ یوگی آدتیہ ناتھ کا تھا جو سنجے لیلا بھنسالی کی طرح کمزور نہیں ہیں۔ یوگی کی مخالفت کرنے میں منہ پر زور دار تھپڑ پڑنے کا خطرہ تھا۔ ایک اور چھتریہ دروپدی ہوئی ہیں مہا بھارت میں انہیں کس قسم کے کپڑوں میں پیش کیا گیا وہ اصل زندگی میں ویسا ہی لباس پہنتی ہوں گی؟ چند دن پہلے ہی بھگوان شنکر پر ایک سیریل آیا اس میں ماتا پاروتی کو جس لباس میں دکھایا گیا کیا وہ توہین آمیز نہیں تھا تب بھی چھتریہ سماج خاموش رہا تھا کیوں؟

پدما وتی فلم کے خلاف آندولن کے پیچھے کون ہے یہ بات پوری طرح سے جگ ظاہر ہو چکی ہے۔ کرنی سینا کا ہنگامہ شروع ہوتے ہی سب سے پہلے یہ آندولن گجرات پہونچا، جہاں اسمبلی الیکشن ہو رہے ہیں۔ راجستھان میں ہنگامہ چل ہی رہا ہے۔ اب تک فلم سینسر ہوئے بغیر گجرات ، ہریانہ راجستھان، اترپردیش ، مدھیہ پردیش اور مودی کے غلام بنے نتیش کمار کے بہار میں فلم کی نمائش پر پابندی کا اعلان ہو چکا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر سمیت کئی وزیروں اور بی جے لیڈران نے پہلے ہی فلم کے خلاف خوب زہر اگلا ہے۔اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کچھ لوگ سنجے لیلا بھنسالی اور دپیکا پادوکون کا سر اور ناک کاٹنے کی بات کرر ہے ہیں انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیان دینے والے لوگ جتنے ذمہ دار ہیں ایسی صورتحال پیدا کرنے کے لئے اتنے ہی ذمہ دار فلم بنانے والے بھی ہیں۔ کرنی سینا اور چھتریہ مہا سبھا کے لوگ جس طرح کی زہریلی بیان بازی کررہے ہیں اس پر نریندر مودی سمیت پورا آر ایس ایس کنبہ یا تو  خاموش ہے  یا ان کی حمائت کررہا ہے۔ مطلب صاف ہے کہ آر ایس ایس کنبہ کی نظر اگلے سال ہونے والے راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے الیکشن پر ہے۔

فلم کے خلاف آندولن کے نام پر جئے پور کے ناہری کا ناکا کے رہنے والے پینتیس سال کے چیتن سینی کو قتل کردیا گیا۔ چوبیس نومبر کو اس کی لاش کو ناہر گڑھ قلعہ کی فصیل سےڈھائی سو فٹ کی بلندی پر لٹکا دیا گئی۔ جس جس جگہ لاش لٹکائی گئی وہاں پر کوئلے سے لکھا گیا کہ’ہم صرف پتلے لٹکانا نہیں جانتے، ہم لاشیں بھی لٹکا سکتے ہیں‘۔ تقریباً سبھی اخبارات کے اور ٹی وی چینلوں کے نمائندے موقعہ پر پہونچے، سبھی نے کوئلے سے لکھی عبارت دکھائی لیکن دنگا کرانے کے لئے مشہور رہے ’دینک جاگرن‘ اخبار نے رپورٹ کی  کہ موقع پر کوئلے سے لکھا تھا’ اللہ پر اعتبار رکھو ہر کافر کا یہی حال ہوگا جو کافر کو مارے گا وہ جنت جائے گا‘ اور ’ابھی تو یہ جھانکی ہے  بہت کچھ ہونا باقی ہے‘۔ دینک جاگرن اخبار اور اس کے نمائندے کو یہ عبارت کہاں سے دکھ گئی اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ عبارت معاملے کا رخ فرقہ وارانہ بنانے  کے لئے کیا گیا۔

پدما وتی فلم کے خلاف سب سے گھٹیا بیان بازی کرنے والے ہریانہ پردیش بی جے پی کے میڈیا سیل کے انچارج سورج پال امّو کا اس درمیان وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر سے جھگڑا ہونے کی بھی خبریں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ منوہر لال کھٹر نے انہیں اس بات کے لئے ڈانٹا کہ بیان بازی کے معاملے میں وہ کھٹراور انل وج سے آگے نکل کر شہرت حاصل کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں۔ امو نے ڈانٹ کھانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے پاس ہے تو کچھ نہیں لیکن انہو ںنے یہ اعلان کررکھا تھا کہ جو کوئی بھی سنجئے لیلا بھنسالی اور دپیکا پادوکون کا سر کاٹ کر لائے گا اسے وہ دس کروڑ کا انعام دیں گے۔