گجرات میں مودی کی اخلاقی شکست

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>گجرات میں مودی کی اخلاقی شکست</h1>

وکاس نہ ہونے کے راہل کے الزامات کے جواب میں مودی نے تھاما مذہب اور پاکستان کا ہتھیار

 

احمد آباد۔ مذہب، مسلمان، پاکستان اور دہشت گردی کے سہارے گجرات اسمبلی کا الیکشن بھلے ہی بی جے پی جیت لے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اور روی شنکر پرساد، ارون جیٹلی اور اسمرتی ایرانی جیسے ان  کے وزراء کی بوکھلاہٹ سے صاف ظاہر ہے کہ مودی شائد پہلی بار اخلاقی طور پر الیکشن پوری طرح سے ہار چکے ہیں۔ ویسے تو نریندر مودی نے اکتوبر میں الیکشن کا اعلان ہونے سے قبل تابڑ توڑ کئی دورے کرکے پردیش اور ملک کی ترقی کے بڑے بڑے دعوے کئے لیکن الیکشن مہم باقاعدہ شروع ہونے کے بعد نریندر مودی نے ستائیس نومبر سے الیکشن دورے شروع کئے تو گجرات میں ترقی کی جگہ دھرم، مسلمان، پاکستان اور دہشت گردی نے لے لی۔ یہ ہتھیار مودی کے جانے مانے اور پرکھے ہتھیار ہیں انہیں اب بھی یقین ہےکہ دھرم، مسلمان، نفرت اور پاکستان جیسے جذباتی مدّوں میں پھنسا کر وہ گجرات کے عام لوگوں کے ووٹ ٹھگ لیں گے۔ انہوں نے پہلی پبلک میٹنگ پاٹیدار سماج  کے گڑھ  کہے جانے والے راجکوٹ کے جسروڈ میں کی تو تمام کوششوں کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی ان کے لئے اتنی بھیڑ بھی اکٹھا نہیں کرسکی کہ ڈائس کے سامنے میدان کے آگے کے آدھے حصہ میں پڑی کرسیاں بھر جاتیں۔ ظاہر ہے کہ مودی کے لئے یہ انتہائی مایوس کن صورتحال تھی، نتیجہ یہ کہ انہو ںنے فوراً پاکستان ا ور وہاں کے دہشت گرد گروہ کے سرغنہ حافظ سعید کا دامن تھام لیا اور بولے کہ حافظ سعید کی رہائی پاکستان کی ایک عدالت کے آرڈر پر ہوئی تو راہل گاندھی اور کانگریس  اس کی رہائی پر تالیاں بجا رہے ہیں۔ دراصل نریندر مودی اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے اس قسم کی باتیں کررہے ہیں۔ وزیر اعظم بننے کے بعد تین سالوں میں آدھی دنیا سے بھی زیادہ ملکوں کا  دورہ کرچکے ہیں۔ امریکہ، چین، جاپان، آسٹریلیا، جرمنی، فرانس اور روس جیسے ملکوں کا دورہ کرنے کے بعد ہر بار مودی نے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہوئے کہا کہ ان سبھی ملکوں نے بھارت کے ساتھ مل کر  دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا وعدہ کیا ہے۔ بار بار یہ بھی کہا گیا کہ ہم نے دنیا کی سطح پر پاکستان کو  الگ تھلگ کردیا ہے۔ یہ دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے کیونکہ ایک تو ان تمام ملکوں نے مل کر پاکستان پر اتنا دباؤ بھی نہیں ڈالا کہ وہ حافظ سعید کو نظر بند ہی رکھتا، دوسرا یہ کہ امریکہ نے چند دن پہلے ہی پاکستان کو سات ہزار کروڑ ڈالر کی مدد دینے کا بھی اعلان  کردیا۔ اپنی اس ڈپلومیٹک ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے اب مودی، کانگریس پر الزام لگا رہے ہیں۔ ۲۰۰۲؁ء سے ۲۰۱۴؁ء تک اسمبلی کے تین اور ایک لوک سبھا الیکشن نریندر مودی نے ہندو مسلم کا مدّا گرم کرکے جیتے ہیں اسی لئے اس بار پھر انہو ںنے وہی پرانا  پینترا چلا ہے۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے پریس کانفرنس کرکے کہا کہ نو سال قبل راہل گاندھی نے امریکی سفیر سے  کہا تھا کہ بھارت کو القائدہ کے مقابلے بھگوا دہشت گردی سے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔ روی شنکر کی پریس کانفرنس کے فوراً بعد اس پر بحث بھی شروع کرا دی گئی تاکہ راہل گاندھی پر ہندو مخالف ہونے کا الزام چسپاں کیا جا سکے۔ اب ایک طرف راہل  گاندھی اکیلے ہیں  مقامی طور پر ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی اور الپیش ٹھاکر ان کی مدد کررہے ہیں تو دوسری طرف ان چار نوجوانوں کے مقابلے نریندر مودی خود تو میدان میں ہیں ہی انہوں نے پچاس مرکزی وزیروں، ایک درجن سے زیادہ وزیر اعلیٰ، ڈیڑھ سو ممبران پارلیمنٹ تقریباً اتنے ہی مختلف ریاستوں کے ممبران اسمبلی اور آر ایس ایس سویم سیوکوں کی ایک بھاری بھرکم فوج کو اتار رکھاہے۔ یہی تو ان کی ذہنی اور اخلاقی شکست ہے۔

شکست کے خوف سے پریشان نظر آرہے نریندر مودی راہل گاندھی پر حملے کرتے کرتے ہماچل پردیش کی طرح ایک بار پھر جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی تک پہونچ گئے۔ انہوں نے الزام جڑ دیا کہ جب سردار پٹیل نے سومناتھ مندر کی نئی تعمیر کا کام کرایا تھا راہل کے نانا جواہر لال نہرو کی بھنویں تن گئی تھیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سومناتھ مندر کی دوبارہ تعمیر کا فیصلہ نہرو کی کیبنٹ نے ہی لیا تھا۔ گجرات میں ترقی کی بات کرنے کے بجائے مودی اس حد تک اتر گئے کہ بولے موربی میں جب آفت آئی تھی تو اندرا گاندھی یہاں آئیں، یہاں کی بدبو وہ برداشت نہیں کرپائیں تو ناک پر رومال لگا کر بھاگی تھیں۔ دوسر ی طرف آر ایس ایس کے سوئم سیوک اسی گندگی میں گھس کر لوگوں کی مدد کررہے تھے۔ فوراً ہی کانگریس نے اس وقت کی ایک تصویر جاری کرکے مودی کو منہ  توڑ جواب دیا۔ اس تصویر میں آر ایس ایس کے تمام لوگ کپڑے سے اپنی ناک بند کئے نظر آرہے ہیں۔

نریند مودی نے ایک اور نیا پینترا چلا ہے کہ وہ ایک غریب گھر سے آتے ہیں اس کے باوجود ان کے کیرئیر پر بے ایمانی کا ایک بھی داغ نہیں ہے۔ یہ گجرات کے لئے انتہائی فخر کی بات ہے اور گجرات کی عزت پر کیچڑ اچھالنے کے مقصد سے دہلی  سے ان کے اپنے گھر میں آکر ایک شخص (راہل گاندھی) ان پر اناپ شناپ الزام لگا رہا ہے۔ اب ان کا یہ داؤ چلتا نہیں نظر آرہا ہے۔ مودی پر ویسے تو راہل گاندھی نے کئی سنگین الزامات لگائے ہیں لیکن نینو کارفیکٹری کے نام پر ٹاٹا موٹرس کو تینتیس ہزار کروڑ کی سبسڈی دے کر اس  میں بندر بانٹ کا الزام ایسا ہے جس پر عام گجراتی بھی اب یقین کرنے لگا ہے۔ کوئی آٹھ سال پہلے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے مودی نے ٹاٹا کو احمد آباد کے نزدیک ہزاروں کروڑ کی بیش قیمتی زمین مفت میں دے دی تھی۔ اس کے علاوہ سرکاری خزانے سے ٹاٹا کو تینتیس ہزار کروڑ کی سبسڈی ایڈوانس میںدے دی گئی۔ جن کاشتکاروں کی زمین اکوائر کی گئی تھی ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ہر گھر سے کم سے کم ایک فرد کو نینو کمپنی میں نوکری دی جائے ۔ آج تک ٹاٹا کی نینو فیکٹری لگی نہیں کسی کو نوکری نہیں ملی اور ٹاٹا نے غریب عوام کے حق کا  تینتیس ہزار کروڑ روپیہ بھی ہضم کر لیا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ اس تینتیس ہزار کروڑ کی آپس میں بندر بانٹ کر لی گئی۔ اسی میں سے ایک بڑی رقم ۲۰۱۴؁ء کے لوک سبھا الیکشن میں بھی خرچ کی گئی۔ مودی سمیت بی جے پی  کا ایک بھی لیڈر اس سوال پر منہ کھولنے کی ہمت نہیں کرپا رہا ہے۔

راجکوٹ ریلی  سے بھی مودی کی میٹنگوں میں بھیڑ کم ہونی شروع ہوئی تو بعد کی  کسی بھی میٹنگ میں ان کی پارٹی اس بار ان کے نام پر بھیڑ اکٹھا نہیں کر پارہی ہے۔ ان سے زیادہ بھیڑ تو ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی اور الپیش ٹھاکر کی میٹنگوں میں جٹتی نظر آتی ہے۔ اس سے مودی اپنا آپا بھی کھو بیٹھے اور بے سر پیر کی باتیں کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے گجرات میں پٹیلوں کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ انتہا یہ ہے کہ کیشو بھائی پٹیل کو ہٹانے کے لئے کانگریس کے دفتر میں سازش رچی گئی۔ انہوں نے خود آنندی بین پٹیل کو اپنا جانشین بنایا تھا  کانگریس نے ان کے خلاف سازشیں بھی کیں اور پیسہ بھی  خرچ کیا اور انہیں نے بھی ہٹوا کردم لیا۔ یہ بوکھلاہٹ نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ کیشو بھائی پٹیل کو ہٹوا کر تو مودی خود ہی گجرات کے اقتدار پر قابض ہوئے تھے انہیں ہٹائے جانے کے وقت اٹل بہاری باجپائی کی سرکار تھی اڈوانی بہت طاقت ور وزیر داخلہ اور ڈپٹی پرائم منسٹر تھے تو کیا یہ سبھی کانگریس کے اشاروں پر کام کرتے تھے؟ آنندی بین پٹیل کو خود مودی نے اپنا جانشین بنایا تھا پھر انہیں ہٹا کروجئے روپانی کو وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ اب کہہ رہے ہیں کہ آنندی بین کو ہٹانے کی کانگریس نے سازش کی اور پیسہ بھی خرچ کیا، تو کیا خود مودی نے کانگریس سے پیسہ لے کر آنندی بین کو ہٹایا تھا؟ اب پٹیل طبقہ کی  توہین کرنے کی غرض سے ہی خود مودی نے  آنندی بین کا ٹکٹ کاٹ دیا۔ آنندی بین اپنی سیٹ سے اپنی بیٹی انار پٹیل کو ٹکٹ دلانا چاہتی تھیں انہیں نہ دے کر مودی نے اپنے ایک قریبی بھوپیندر پٹیل کو ان کی سیٹ سے ٹکٹ دے دیا۔ آنندی کی اس سے زیادہ توہین اور کیا ہوگی۔ اس کے علاوہ موجودہ وزیر روہت پٹیل موجودہ ممبر اسمبلی آر ایم پٹیل، ناگرجی ٹھاکر اور ودیا بھوریا وغیرہ کا ٹکٹ کاٹ کر مودی اور امت شاہ نے صاف پیغام دے دیا انہیں پٹیلوں،بیک ورڈ اور دلتوں کی اب کوئی فکر نہیں ہے۔

مودی اپنے پچاس وزیروں، ایک درجن سے زیادہ وزیر اعلیٰ، ڈیڑھ سوممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی بھاری بھرکم فوج لے کر گجرات میں چار لڑکوں سے الجھے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے موجودہ وزیر اعلیٰ وجئے روپانی ہی راجکوٹ مغربی سیٹ سے ہارتے نظر ا ٓرہے ہیں۔ ان کا ایک آڈیو وائرل ہوا ہے جس میں انہوں نے سریندر نگر کے نریش سنگیتم سے فون پر یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ نریش بھائی میری حالت بہت خراب ہے، مدد کیجئے۔ پھر دونوں کے درمیان ملاقات طئے ہوتی ہے اور نریش سنگیتم آزاد امیدوار کی حیثیت سے داخل اپنا نامنیشن واپس لے لیتے ہیں۔ اس وقت گجرات میں نریندر مودی کی حالت ٹھیک ویسی ہی ہو رہی ہے جیسی حالت ۲۰۰۴؁ء کے لوک سبھا الیکشن میں اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری باجپائی کی تھی۔ اس  وقت پورے ملک میں’انڈیا شائننگ‘ اور ’فیل گڈ‘ کا بول بالا تھا آج مودی کا مبینہ ’وکاس‘ اور ’کرپشن فری‘ سرکار کا نعرہ ہے۔ اس وقت ایک طرف اٹل بہاری باجپائی، لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، پرمود مہاجن  جیسا  منیجر، خود مودی ، جارج فرنانڈیز، نتیش کمار، ممتا بنر جی، کرونا ندھی، بال ٹھاکرے، فاروق عبداللہ، چندر بابو نائیڈو، نوین پٹنائک، پرکاش سنگھ بادل اور شرد یادو جیسے قد آور لیڈران کی بھاری بھرکم فوج این ڈی اے کے نام پر ایک طرف تھی۔ دوسری طرف پوری کانگریس کا حوصلہ پست تھا۔ ایک اکیلی سونیا گاندھی ان سب کے خلاف مورچہ سنبھالے ہوئے تھیں۔ اس وقت تک سونیا گاندھی رومن میں لکھی ہوئی اپنی تقریر بھی ٹھیک سے پڑھ نہیں پاتی تھیں۔ اس کے باوجود سونیا گاندھی نے این ڈی اے کی بھاری بھرکم  فوج کو پٹخنی دے دی تھی۔۲۰۰۹؁ء کا الیکشن بھی انہوں نے جیتا اور دس سالوں تک لگاتار  ڈاکٹر من موہن سنگھ جیسے مشہور اکنامسٹ کو ملک کا وزیراعظم بنائے رکھا۔ آج ۲۰۰۴؁ء کی سونیا گاندھی کے رول میں راہل گاندھی ہیں جو سیاسی اعتبار سے کافی پختہ ہو چکے ہیں۔ لگتا ہے کہ راہل گاندھی گجرات سے ہی مودی کی سیاسی پاری ختم کرنے کا کام کر دیںگے اور  اگر گجرات سے مودی کے پیر اکھڑ گئے تو ۲۰۱۹ کے لوک سبھا تک تمام الیکشن وہ ہاریں گے۔

 

 

’’نریندر مودی اپنی مبینہ ایمانداری کا ڈھنڈورا چاہے جتنا پیٹ لیں راہل گاندھی کا یہ الزام ان پر اچھی طرح چسپاں ہو چکا ہے کہ نینو فیکٹری کے لئے انہوں نے  ٹاٹا کو جو تینتیس ہزار کروڑ کی سبسڈی دی  تھی اس رقم کی بندر بانٹ کی گئی ہے۔ نینو فیکٹری شروع نہیں ہوئی تو ان کاشتکاروں میں بہت ناراضگی ہے جن کی بیش قیمتی زمین اکوائر کر ٹاٹا کو دی گئی تھی۔‘‘

 

 

’’ اپنی میٹنگوں میں بھیڑ نہ دیکھ کر مودی نے یہاں تک کہہ دیا کہ کانگریس نے پٹیلوں کی ہمیشہ  توہین کی یہاں تک کہ کیشو بھائی پٹیل اور آنندی بین پٹیل تک کو وزیر اعلیٰ سے ہٹوانے کے لئے کانگریس دفتر میں سازشیں رچی گئیں اور پیسہ بھی خرچ کیا گیا۔ وہ بھول گئے کہ کیشو بھائی پٹیل کو ہٹوا کر خود وزیر اعلیٰ بنے تھے اور آنندی بین پٹیل اور ان کی بیٹی انار پٹیل کو ٹکٹ نہ دے کر انہو ںنے پٹیلوں کے ساتھ کیا کیا۔‘‘

 

 

’’ہر الیکشن کی طرح اس بار بھی گجرات  پہونچتے ہی نریندر مودی نے ہندوتو، دھرم، مسلم، پاکستان اور دہشت گردی کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ حافظ سعید کی نظر بندی جاری رکھنے میں ڈپلومیٹک فرنٹ پر پوری طرح ناکام مودی نے سفید جھوٹ بولتے ہوئے کہنا شروع کر دیا کہ حافظ سعید کی رہائی پر راہل گاندھی اور کانگریس تالیاں بجا رہے ہیں۔ روی شنکر پرساد نے کہہ دیا کہ نو سال پہلے راہل گاندھی نے امریکہ کے سفیر سے کہا تھا کہ لشکر طیبہ سے زیادہ خطرہ بھارت کو بھگوا دہشت گردی سے ہے۔ اب مودی اور ان کی پارٹی ترقی کے بجائے انہی مدّوں پر الیکشن لڑ رہی ہے۔‘‘