خیرآباد نگر پالیکا چیئر مین کےلئے سہ رخی مقابلہ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>خیرآباد نگر پالیکا چیئر مین کےلئے سہ رخی مقابلہ</h1>

لوکل باڈیز کے الیکشن میں سماجوادی امیدوار کی پوزیشن مضبوط ہونے کے باوجود

 

خیرآباد(سیتا پور):نگر پالیکا پریشد کے انتخاب نزدیک ہیں۔۲۹نومبر کوووٹنگ ہونی ہے اس میں تقریباً ۳۸ ہزار ۸۰۰ووٹرس کسی ایک شخص کو چن کر قصبے کی تاریخی نگر پالیکا کا چیئر مین بنانا چاہتے ہیںاور ۲۵ وارڈوں سے ایک ایک ممبر منتخب کرنا ہوگا۔چیئر مین کے لئے سات امیدوار میدان میں ہیںجس میں چار امیدوار مختلف سیاسی پارٹیوں سے ہیں اور تین امیدوار آزاد ہیں۔ان آزاد امیدواروں میں حاجی  حنیف انصاری بھی امیدوار ہیں او رموجودہ چیئر مین بھی ہیں۔یہ ۲۰۰۰؁میں پہلی مرتبہ جیتے تھے اور ۲۰۰۶؁میں ہار گئے اس کے ۲۰۱۲؁میں دوبارہ کامیاب ہوئے تھے۔سیاسی پارٹیو ںنے جن چار لوگوں کو ٹکٹ دے کر اپنی قسمت آزمانے کا موقع دیا ہے اس میں موجودہ برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلم چہرے کی شکل میں سابق وزیر ٹرانسپورٹ مرحوم حاجی عابد علی انصاری کے پوتے زبیر انصاری کو میدان میں ا تار ا ہے۔دوسرے طرف پوری ریاست کے سب سے خستہ حال پارٹی بہوجن سماج پارٹی نے نوجوان چہرے سامنے لاتے ہوئے شکیل انصاری ایڈوکیٹ کو اپنا ہاتھی نشان تھمایا ہے۔دوسری طرف اترپردیش میں دھیرے دھیرے سانس بھرنے والی کانگریس نے بالکل نیا چہرہ صاف ستھری شخصیت کے مالک واحد حسین ادریسی کو امیدوار بنایا ہے۔ جبکہ باربار سارے انتخابات میں قسمت آزمانے والے حاجی جلیس انصاری جنہیں ۲۰۰۲؁ میں ۲۴۸ووٹوں سے اسمبلی کے الیکشن میں شکست ملی تھی پھر ۲۰۱۲؁میں نگر پالیکا کے انتخاب میںچیئرمین شپ کے لئے انتخاب لڑا جس میں حاجی جلیس ا نصاری کو ۹۳۴ ووٹوں سے شکست دے کرچیئرمین کی کرسی پر اپنا قبضہ جمالیا تھااس انتخاب میں سماجوادی پارٹی نے حاجی جلیس انصاری کو اپنا نمائندہ بنا کرعوام کے بیچ بھیجا ہے۔اب اگر قصبے کے ساڑھے تین ہزار سماجوادی پارٹی کے پختہ ووٹرس او ربی جے پی امیدوار سے ناراض لوگ حاجی جلیس انصاری کوووٹ دیتے ہیں تو اس مرتبہ ان کی جیت ممکن ہو سکتی ہے۔ویسے اس وقت قصبے کے لوگوں کا رجحان دیکھ کر محسوس ہورہا ہے کہ بڑی تعداد میں سبھی طبقے و پارٹی کے لوگ حاجی جلیس انصاری کو ہی چیئر مین بنانا چاہتے ہیں۔دوسری طرف موجودہ چیئر مین حاجی محمد حنیف انصاری جیت کا دعوی کر رہے ہیںجبکہ ان کے مضبوط گڑھ رہے شیخ پورہ اور چلائے سرائے میں جلیس انصاری کے حمایتی بڑھ گئے ہیں۔حالانکہ جلیس کا محلہ کساوتی ٹولہ ان کا گڑھ ہے کیونکہ یہیں ان کا مکان بھی ہے وہاں رہنے والے ایک ایکسپورٹر بھی ہیں۔محمد اشفاق انصاری حنیف انصاری کو جتانے کی قسم کھا چکے ہیں۔دوسری طرف اسی محلے کے محمد شکیل انصاری ایڈوکیٹ جو ۲۰۱۲؁میں جلیس انصاری کے لیگل ایڈوائزر تھے وہ خود اس مرتبہ بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ سے چناؤ لڑ رہے ہیںتو وہیں کانگریس امیدوار واحد حسین ادریسی اپنی جیت کا دعوی کر رہے ہیں۔ان کاکہنا ہے کہ خیرآبادمیں چیئرمینی دو ہی گھرانے(حاجی حنیف اور حاجی جلیس ا نصاری)میں رہی اس لئے خیرآبادکی ترقی نہیں ہو سکی اب یہ صورتحال بدلنی چاہئے۔سماجوادی پارٹی کے گڑھ رہے خیرآبادمیں کانگریس امیدوار کو بھی لڑائی میں شامل مانا جا رہاہے۔