اقتدار کی ہوس نے ہیرو کو بنایا زیرو

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>اقتدار کی ہوس نے ہیرو کو بنایا زیرو</h1>

زمبابوے پر ۳۷ سال راج کرنےوالے رابرٹ موگابے کی توہین آمیز رخصتی

 

ہرارے۔تیرہ نومبر ۲۰۱۷؁ء سے پہلے کسی کے خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ زمبابوے کو انگریزی سامراجیت سے آزادی دلانے  میں کلیدی رول ادا کرنےوالا اور برسہابرس تک زمبابوے کا ہیرو قرار دیا جانے والا حکمراں  صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائے گا۔۹۳ سالہ رابرٹ موگابے کی ۳۷ برسوں تک زمبابوے پر راج کرنے کے باوجود بھی اقتدار کی ہوس کی پیاس نہیں بجھی تو فوج کی بغاوت نے ایک جھٹکے میں سب کچھ ختم کردیا۔ انگریزی  غلامی سےآزادی کے وقت ۱۹۸۰؁ء میں جس رابرٹ موگابے کا زمبابوے میں ایک ہیرو کے طور پر زبردست استقبال کیا گیا تھا اور پورا زمبابوے جشن کے ماحول میں شرابور تھا اسی موگابے کے خلاف جب فوجی بغاوت ہوئی تو زمبابوے کے عوام ان کی نظر بندی پر جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ رابرٹ موگابے نے گزشتہ چھ نومبر کو جن نائب  صدر ایمرسن منن گاگوا کو برخاست کردیا تھا انہی منن گاگوا نے محض تین ہفتوںکے اندر ہی عہدہ صدارت سنبھال لیا۔ ایمرسن منن گاگوا جو زمبابوے میں کرو کو ڈائیل یعنی مگرمچھ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں اگلے الیکشن تک موگابے کی بقیہ مدت کار کو پورا کریں گے۔ ملک میں اگلے عام انتخابات ستمبر ۲۰۱۸؁ء میں ہونے کا امکان ہے۔

رابرٹ موگابے نے اپنی اہلیہ گریس کو زمبابوے کا اگلا صدر بنانے کے لئے جس حکمت عملی پر کام کرتے ہوئے نائب صدر ایمر سن منن گاگوا کو برخاست کیا تھا ان کا یہ قدم ہلاکت خیز ثابت ہوا اور دو ہفتے کے اندر ہی فوج کی بغاوت ہوئی انہیں نظر بند کرلیا گیا۔ ایمرسن کو نائب صدر کے عہدے سے بے سبب ہٹانے پر پارٹی میں بھی تقسیم ہوگئی تھی۔ پارٹی کا بڑا طبقہ یہی مان رہا تھا کہ صدر موگابے نے اپنی اہلیہ گریس کو ملک کا اگلا صدر بنانے کے لئے اپنے برسوں پرانے ساتھی اور مجاہد آزادی کو ہوس اقتدار کی خاطر دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا ہے۔ موگابے کی اس کاروائی کو نہ ان کی پارٹی زانو- پی ایف میں نہ فوج میں اورنہ ہی عوام میں اچھی نظر سے دیکھا گیا۔ عوام میں تو ان کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے پہلے سے ہی ناراضگی پائی جارہی تھی۔ منن گاگوا کی برطرفی کی کاروائی نے انہیں مزید پریشانی اور خدشات میں مبتلا کردیا۔ منن گاگوا کے قریبی دوست آرمی چیف جنرل کاسٹنٹینو چیونگا کو بھی یہ بات بری لگی۔ انہوں نے تیرہ نومبر ۲۰۱۷؁ء کو ہی صدر کو آگاہ کردیا تھا کہ پارٹی اور لوگوں میں پائی جانے والی بے چینی اور اندیشوں کو جلد ہی دور نہ کیا گیاتو فوج مداخلت کرسکتی ہے۔ صدر رابرٹ موگابے کی جانب سے جب تین دنوں تک خاموشی اختیار کی گئی اور مصالحت کی کوئی پہل نہیں ہوئی تو فوج نے صدارتی محل اور نیشنل براڈ کاسٹر کے ہیڈ کوارٹر کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ ہرارے کی سڑکوں پر ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں دوڑنے لگیں۔ فوج کی اس کاروائی پر صدر موگابے کی زانو- پی ایف پارٹی میں کوئی رد عمل نہیں دکھائی دیا اور نہ ہی عوام میں خوف اور دہشت کا ماحول دکھائی دیا بلکہ اس کے برعکس عوام جشن مناتے ناچتے گاتے اور فوجی جوانوں سے گلے ملتے دکھائی دئیے۔ پارٹی نے صدر موگابے سے اپیل کرتے ہوئے چوبیس گھنٹوں کا وقت دیا کہ وہ عہدہ سے دستبرادر ہوجائیں ورنہ ان کے خلاف ایوان میں تحریک مواخذہ (ایمیچمنٹ موشن) لایا جائے گا۔ جب موگابے نے صدر کا عہدہ  چھوڑنے سے انکار کردیا تو پارٹی نے ان کے خلاف تحریک مواخدہ لانے کا فیصلہ کرلیا اس سے پہلے کہ ایوان میں ان کے خلاف تحریک مواخدہ کی کاروائی شروع ہوتی تو ایک مصالحت کار نے یہ اطلاع دی کہ رابرٹ موگابے صدر کا عہدے چھوڑنے پر راضی ہوگئے ہیں تو پارٹی ہیڈ کوارٹر پر موجود دوسو سے زیادہ  پارٹی عہدیداروں میں جشن کا ماحول دیکھا گیا اور لوگ ایک دوسرے کو خوش خوش مبارک باد دیتے نظر آئے۔ لیکن پس و پیش تب بھی بنا ہوا تھا۔ اکیس نومبر کو اسپیکر جیکب موڈینا نے ایوان میں موجود اراکین کو بتایا کہ موگابے نے ایک مکتوب لکھ کر اس سلسلے میں مطلع کیا۔ موگابے نے خط میں لکھا ’’میں نے اقتدار کی منتقلی کے عمل کو آسان کرنے کے لئے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ میں نے اپنی جانب سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ برائے مہربانی میرے فیصلے کے بارے میں عوام کو جلد از جلد مطلع کریں‘‘۔ استعفیٰ کے ساتھ ہی دنیا کے سب سے بزرگ (۹۳ سالہ) سربراہ مملکت کے ۳۷ سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔ اس سے قبل زانو-پی ایف نے موگابے کے خلاف تحریک مواخذہ لانے کی تیاری کرلی تھی۔ مرکزی کمیٹی نے برطرف کئے گئے نائب صدر ایمرسن منن گاگوا کو ملک کے اگلے لیڈر کے بطور چننے کے لئے ووٹ دیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ وقت ہمیشہ کسی ایک کے ساتھ نہیں رہتا۔ ۳۷ سال تک اقتدار  پر ان کی مضبوط پکڑ رہی۔ انہوں نے ہر طوفان کو دبا دیا لیکن پھر ایسا کیا ہوا کہ ۳۷ گھنٹوں میں سب کچھ بکھر گیا۔ رابرٹ موگابے  کا سیاسی سفر جتنا ڈرامائی ہے، اس سے بھی زیادہ ڈرامائی اسکا خاتمہ۔ زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے نے قریب چار دہائی تک سام، دام ، دنڈ اور بھید کے سہارے اپنے سیاسی حریفوں کو دبایا لیکن جس طرح انکے اقتدار کا خاتمہ ہوا ہے شائد اس سے سب سے زیادہ خود موگابے ہی چونکے ہوں گے۔ ۳۷ سال کی صدارتی مدت کار کے دوران موگابے لمبی لمبی چھٹیاں لیتے تھے۔ ان چھٹیوں کے دوران کبھی انکی گدی نہیں ہلی۔۹۳ سال کی عمر میں بھی برسر اقتدار پارٹی کی کمان انہوں نے مضبوطی سے جکڑ رکھی تھی لیکن تبھی اچانک سب کچھ ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل گیا۔ ۱۹۸۰ میں آزادی کے ساتھ ہی ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے موگابے اچانک عرش سے فرش پر آ گئے۔

انیس نومبر ۲۰۱۷؁ء کو ان کو پارٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کو کہا گیا۔ ان کے سامنے دوشنبہ کی دوپہر یعنی بیس نومبر تک استعفیٰ دینے یا تحریک مواخذہ کے  لئے تیار رہنے کا الٹی میٹم تھا۔ انیس نومبر کو انہوں نے عوام کو ٹیلی ویژن سے خطاب کیا لیکن استعفیٰ نہیں دیا۔ وہ اپنے اور اپنے کنبہ کے لئے سکیورٹی کا داؤ کھیلنے لگتے ہیں۔

اصل میں موگابے کا سیاسی محل  تاش کے پتوں کی طرح ڈھہ گیا۔ چھ نومبر کو انہوں نےفوج کے قریبی نائب صدر کو برخاست کیا۔ اس کے فوراً بعد  موگابے کے ہاتھ فوج کے چیف کی طرف بڑھے۔ زمبابوے کی آزادی کی لڑائی لڑنے والے ڈگلس ماہیہ کہتے ہیں، انہوں نے لال لکیر پار کردی اور ہم ایسا  تسلیم نہیں کرسکتے تھے۔ برخاستگی کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد نائب صدر ایمرسن منن گاگوا پڑوسی ملک موزیمبک پہونچے۔ موزیمبک کی فوج  کے ساتھ ان کے گہرے رشتے تھے۔ پھر وہ ایک اور بھروسہ مند ساتھی کہے جانے والے ساؤتھ افریقہ پہونچے۔ اصل میں نائب صدر کو اپنی برخاستگی کا اندازہ تھا اور انہوں نے پلٹ وار کا پورا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ لمبے وقت تک دوسروں کو پھندے میں پھنسانے والے موگابے کو اس کی بھنک نہیں تھی۔ وہ نائب صدر کے ٹریپ میں پھنس گئے۔

رنگین مزاج موگابے کے سیاسی زوال میں کیا ان کی اہلیہ کا بھی کوئی رول ہے؟ کچھ نکتہ چیں اسے بھی ایک بڑی وجہ بتاتے ہیں۔ باون سال کی گریس موگابے کے سیاسی عزائم شوہر پر بھاری پڑے۔ ۲۰۱۴؁ء میں گریس موگابے نے ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر ابھرنے کی کوشش کی ۔ معاشی بحران اور مہنگائی سے کراہ رہے ملک کی خاتون اوّل گریس کی امیج زمبابوے میں خراب ہے۔ انہیں مہنی خریداری کرنے والی اور عیش و عشرت والی  طرز زندگی والی خاتون مانا جاتا ہے۔ موگابے کے دفتر میں گریس ایک ٹائپسٹ تھیں۔ شادی شدہ موگابے سے ان کا افیئر ہوا، وہ بھی ایسے وقت میں جب موگابے کی پہلی بیوی کینسر سے مر رہی تھیں۔ موگابے کی پہلی بیوی سیلی سے عوام جتنی محبت کرتے تھے، اتنی ہی نفرت دوسری بیوی گریس نے بٹوری۔ سیاست میں گریس کے دخل سے موگابے کے خلاف عوام اور ارباب اقتدار میں بے چینی پائی جانے لگی۔ بارود تیار تھا بس چنگاری کا انتظار تھا۔