دل ویر بھنڈاری نے آئی سی جے ریکارڈ قائم کیا

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>دل ویر بھنڈاری نے آئی سی جے ریکارڈ قائم کیا</h1>

ہندوستان کے جج کو یو این کی سکیورٹی کونسل اور جنرل اسمبلی میں ملی غیر معمولی حمائت، برطانیہ کی ساکھ کو زبردست جھٹکا

 

نئی دہلی۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں ہندوستانی جج جسٹس دل ویر بھنڈاری کا دوبارہ منتخب ہونا ہندوستان کے لئے انتہائی فخر کی بات ہے لیکن یہ انتخاب کبھی پوری دنیا پر حکومت کرنے والے برٹین اور  پاکستان کے لئے اس سے زیادہ شرمناک واقعہ ہے۔ برٹش میڈیا اتنا ایماندار ہے کہ اس نے اپنی حکومت کی ناکامی کو ملک کے لئے توہین آمیز بتایا لیکن پاکستان نے مکمل طور پر خاموشی اختیار کرلی تھی۔ برٹین کا تو امیدوار تھا پاکستان کا کوئی امیدوار تو نہیں تھا لیکن پاکستان کھل کر برٹش امیدوار کی حمائت کررہاتھا وہ بھی اس حد تک کہ مسلم ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز او آئی سی ) تک میں جا کر دل ویر بھنڈاری کو ہرانے اور برٹش امیدوار کو جتانے کی پیروی کی تھی۔ اس کامیابی کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر خارجہ  سشما سوراج کو پورا کریڈٹ دیا حالانکہ ہر کامیابی کے لئے خود اپنی پیٹھ تھپتھپانے کے وہ عادی رہے ہیں۔

انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب اس میں برٹش جج نہیں ہوگا اور کسی ملک (ہندوستان) کا امیدوار لگاتار دوبارہ  جیت کر پہونچا ہے۔ یہ بھی ایک مثال ہے۔ یونائیٹڈ نیشنس کی سکیورٹی کونسل کے تمام  پندرہ ممالک کے ووٹ دل ویربھنڈاری کو ملے اور یو این کی جنرل اسمبلی کے ۱۹۳ میں ۱۸۳ ووٹ ہندوستان کو ملے۔ اپنی ہار یقینی دیکھ کر برٹین نے الیکشن کے دوران ہی اپنے امیدوار کو واپس لینے کا اعلان کردیا۔ پانچ ججوں میں چار لبنان، صومالیہ، برازیل اور فرانس کے چنے گئے پانچویں کے لئے برٹین اور ہندوستان کے ججوں کے درمیان مقابلہ تھا۔

آئی سی جے کے لئے جسٹس دل ویر  بھنڈاری کا دوبارہ چنا جانا نہ صرف ہندوستان کی تاریخی کامیابی ہے بلکہ اس غیر معمولی کامیابی کےذریعئے ہندوستان نے عالمی طاقت کے توازن میں نئی تقسیم کی مضبوط آہٹ محسوس کرادی ہے۔ خارجی امور کے ماہرین اسے نہ صرف عالمی فورم پر ہندوستان کی بڑی حصولیابی قرار دے رہے ہیں بلکہ اسے آئندہ عالمی معاملات میں ہندوستان کی ساکھ کے مزید مضبوط ہونے کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں تو دوسری طرف برٹین میں اسے زبردست ناکامی اور برطانیہ کی گرتی ساکھ کے طور پر دیکھا جارہا ہے خصوصاً برطانیہ کامیڈیا اسے بین الاقوامی سطح پر برطانیہ کی توہین آمیز شکست قرار دے رہا ہے۔ دی گارجین کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے حریف کے آگے جھکنے کا فیصلہ برطانیہ کے کم ہوتے وقار کو تسلیم کرنے جیسا ہے۔ وہیں انڈیپنڈنٹ اخبار کا یہ کہنا ہے کہ برطانیہ کی ناکامی یہ ثابت کرتی ہے کہ عالمی سطح پر اس کے غیر محل ہونے  کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے جبکہ بی بی سی برطانیہ پر ہندوستان کی جیت کو جی -۷۷ کی بڑی کامیابی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ جس میں سلامتی کونسل کی طاقتوں کو دھکیل دیا۔ حالانکہ اقوام متحدہ میں برطانیہ کے مستقل نمائندے  میتھو رائی کرافٹ کا یہ کہنا ہے کہ ہم نہیں جیت پائے تو کیا ہوا اپنے قریبی دوست ہندوستان کی کامیابی پر خوش ہیں۔ یو این میں اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔ سیاسی تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ برطانیہ کے پاس پیچھے ہٹنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں تھا۔ وہ اہم عالمی معاملوں میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اپنےقد کا استعمال اپنے حق میں کرنے سے ناکام رہا۔ پچھلے واقعات کو بھی دیکھیں تو شروعات بریگزٹ کے حق میں ہوئی ووٹنگ سے ہوئی۔ اس سے لندن نے یورپی یونین کے دو ممتاز اداروں کو گنوا دیا۔ یورپی بینکنگ اتھارٹی پیرس اور یورپی میڈیسن ایجنسی ایمسٹرڈم کے پاس چلی گئی۔ آئی سی جے میں برطانیہ کو بہت بڑا جھٹکا لگا ہے کیونکہ وہ اقوام متحدہ کے بانی ممبران میں سے ایک ہے۔

آئی سی جے یعنی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں ہندوستان کے جج جسٹس دل ویر بھنڈاری کے دوبارہ چنے جانے پر وزارت خارجہ نے کہا ’’اقوام متحدہ کے اراکین کی غیر معمولی حمائت حکومتی نظام میں ہندوستان کی آئینی ایمانداری کو ظاہر کرتی ہے۔‘‘ وزیرخارجہ سشما سوراج نے اپنی وزارت کی ٹیم کی تعریف کی اور اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے سید اکبر الدین کا خاص طور سے ذکر کیا۔ انہوں نے ٹوئیٹ کیا، جسٹس دل ویر بھنڈاری کو پھر آئی سی جے کا جج چنے جانے پر مبارکباد۔ ٹیم وزارت خارجہ کی بہت بڑی کوشش۔ اقوام متحدہ میں ہمارے خصوصی نمائندے سید اکبر الدین کا ذکر خاص طور پر کیا جانا  ضروری ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے دل ویر بھنڈاری کے آئی سی جے میں جج کے لئے دوبارہ چنے جانے پر کہا کہ دل ویر بھنڈاری کی جیت پر ملک کو فخر ہے۔ انہوں نے اس کے لئے وزیر خارجہ سشما سوراج ، ان کی ٹیم اور دنیا بھر میں پھیلے ہندوستانی سفارتخانوں اور اقوام متحدہ اور یواین سکیورٹی کونسل کے رکن ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند  نےاسے ملک کی سفارتی تاریخ میں میل کے پتھر سے تعبیر کیا۔ اپوزیشن لیڈروں نے بھی اس جیت کو ہندوستان کی ڈپلومیٹک کامیابی  کا استقبال کیا ہے۔

جسٹس دل ویر بھنڈاری کو آئی سی جے کے لئے دوبارہ نہ چنا جائے اس کے لئے پاکستان نے بہت ہاتھ پیر مارے مگر اسے انجام کار ہزیمت ہی اٹھانی پڑی اور عالمی برادری میں اس نے اپنا مذاق ہی اڑوایا۔ پاکستان کے ہندوستان سے عداوت کے جذبے نے ہی دل ویر بھنڈاری کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے اکسایا۔ دراصل  انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر کل بھوشن جادھو کا معاملہ زیر سماعت ہے ۔ آئی سی جے نے اپنے انٹرم آرڈر میں اٹھارہ مئی ۲۰۱۷؁ء کو کل بھوشن جادھو کی پھانسی پر عبوری طور پر روک لگا دی تھی۔ ہندوستان اور پاکستان کو اپنا اپنا موقف نئے سرے سے رکھنے کے لئےکہا گیا تھا۔ پاکستان کو تیرہ دسمبر ۲۰۱۷؁ء تک اپنا موقف رکھنے کو کہا گیا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ ہیگ واقع آئی سی جے میں آئندہ  سال جنوری کے مہینہ میں اس سلسلے کی سماعت شروع ہوگی۔ بھنڈاری کی جیت سے یہ تو یقینی ہوگیا ہے کہ  اب جادھو معاملے کی سنوائی ہوگی تو آئی سی جے  میں ہندوستان کا بھی ایک نمائندہ ہوگا۔ حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ملک کے جج کے ہونے کی وجہ سے اس سے وابستہ معاملے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے لیکن پاکستان کی مخالفت تو یہی ظاہر کرتی ہے کہ وہ اسی وجہ سے دل ویر بھنڈاری کی مخالفت کررہا تھا کہ جسٹس بھنڈاری کا تعلق ہندوستان سے ہے۔

انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے پینل میں پندرہ جج ہوتے ہیں۔ پانچ ججوں کی تقرری ہر تین سال بعد ہوتی ہے اور ہر جج کی مدت کار نو سال ہوتی ہے۔ پانچ میں چار جج لبنان، صومالیہ، برازیل اور فرانس کے چنے گئےتھے۔ پانچویں کے لئے ہندوستان اور برطانیہ کی بیچ مقابلہ تھا اس مقابلے میں یو این سکیورٹی کونسل میں برطانیہ کو جیت مل رہی تھی لیکن جنرل اسمبلی میں ہندوستان کی جیت کا فرق مسلسل بڑھ رہا تھا۔ بارہویں دور کا الیکشن شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد برطانیہ نے اپنے امیدوار کرسٹوفر گرین ووڈ کو ہٹانے کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد بیس نومبر کو نیویارک میں ہوئی میٹنگ میں سلامتی کونسل کے سبھی پندرہ ووٹ اور جنرل اسمبلی کے ۱۹۳ میں سے ۱۸۳ ووٹ ہندوستان کے امیدوار کو ملے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ویٹو رکھنے والا ایک  ملک آئی سی جے میں شامل نہیں ہے۔ ہندوستان کی جیت سے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں مستقل نمائندگی کے دعوے کو مزید مضبوطی حاصل کرنے کے طور پربھی دیکھا جارہا ہے۔