کریمنلس کے سہارے بی جے پی لائے گی رام راج

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>کریمنلس کے سہارے بی جے پی لائے گی رام راج</h1>

لکھنؤ۔ اترپردیش کا وزیر اعلیٰ بننے کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ کریمنلس یا توجیل میں ہوںگے یا پھر ریاست کے باہر ہوں گے۔ اپنے اس بیان کو انہو ں نے پچھلے دنوں آگرہ میں لوکل باڈیز  الیکشن کی چناوی میٹنگ کے دوران ایک بار پھر دہرایا۔ ان کے دعوؤں کی سچائی کا اندازہ اسی سے ہو جاتا ہے کہ اس بار لوکل باڈیز کے الیکشن میں سب سے زیادہ انتیس فیصد داغی امیدواروں کو بی جے پی نے ٹکٹ دیا ہے۔ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ بی جے پی کریمنلس کے سہارے رام راج لانا چاہتی ہے۔ خود کو ایمانداری کا ٹھیکہ دار بتانےوالی بی جے پی نے سب سے زیادہ کروڑ پتی امیدواروں کو بھی میدان میں اتا را ہے۔ یہی وجہ تھی کہ کچھ بی جے پی ورکروں نے ٹکٹ بیچنے کا الزام بھی لگایا تھا۔

لوکل باڈیز کے معمولی الیکشن  میں بی جے پی نے سب سے زیادہ داغی اور کروڑ پتی امیدوار میدا ن میں اتار کر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ وہ طاقت اور دولت دونوں کا کھلا استعمال کرکے الیکشن جیتنا چاہتے ہیں۔ داغی امیدواروں کو میدان میں اتارنا بی جے پی کے لئے کوئی نئی بات نہیںہے۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ تو ایسا کریمنل ریکارڈ رکھتےہیں کہ انہیں گجرات بدر تک کیا جا چکا ہے۔ لیکن مودی کے وزیر اعظم بنتے ہی  وہ پاک صاف ہو گئے۔ اب جج لویا کی موت کے سلسلے میں بھی ان پر شک کی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف کئی سنگین دفعات میں مقدمے درج ہیں۔ مگر یوپی سرکار نے ان پر مقدمہ چلانے کی اجازت ہی نہیں دی۔ ان کے ڈپٹی  چیف منسٹر کیشو پرساد موریہ کا بھی کریمنل ریکارڈ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے ریاست میں رام راج لانے کے لئے کریمنلس کا سہارا لوکل باڈیز الیکشن میں بھی لیا ہے۔

بی جے پی نے لوکل باڈیز کے الیکشن میں سب سے زیادہ داغی امیدوار میدان میں اتارے ہیں یہ کسی اپوزیشن پارٹی کا الزام نہیں ہے بلکہ پرچا نامزدگی داخل کئے گئے حلف ناموں کی بنیاد پر الیکشن واچ نے بتایا ہے۔ الیکشن واچ کے کوآرڈینیٹر سنجئے سنگھ کا کہنا ہے کہ پندرہ نگر نگموں میں میئر کے عہدے کے لئے کل ۱۹۵ امیدوار میدان میں ہیں ان میں سے بیس پر کریمنل کیس درج ہیں۔ بی جے پی کے چودہ میئر امیدواروں میں سے چار پر کریمنل کیس درج ہے تو بی ایس کے تین امیدوار داغی ہیں۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کی طرف سے میئر کے لئے صرف دو دو امیدوار  مجرمانہ پس منظر رکھنے والے ہیں۔ اسی کے ساتھ بی جے پی نے سب سے زیادہ کروڑ پتی امیدواروں کو میئر کا ٹکٹ دیا ہے۔ ۱۹۵ امیدواروں میں سے ۷۰ امیدوار کروڑ پتی ہیں۔ ان میں بی جے پی اور بی ایس پی کے ۷۹ فیصد کروڑ پتی امیدوار ہیں جبکہ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے ۷۳-۷۳ فیصد امیدوار کروڑ پتی ہیں۔ سب سے کم آٹھ کروڑ پتی امیدوار عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔ سب سے امیر لوگوں میں پہلے دوسرے نمبر پر بی جے پی  کے ہی امیدوار ہیں۔ پہلے نمبر ۴۰۹  کروڑ روپیوں کی مالی حیثیت رکھنے والے آگرہ سے بی جے پی کے امیدوار نوین جین ہیں۔ تو دوسرے نمبر ۵۷ کروڑ کی املاک کی ابھیلاشا گپتا نندی ہیں۔ ان کے شوہر گوپال نندی کے خلاف کئی مقدمے درج ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی دعویٰ تو صاف ستھری سیاست کا کرتی ہے لیکن جس طریقے سے لوکل باڈیز کے الیکشن میں بی جے پی نے داغی اور کروڑ پتی امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے اس سے صاف ہے کہ وہ دھن بل ذریعہ چناؤ جیتنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی امیدوار صرف ہوائی باتیں کر رہے ہیں اور اس کے گودی میڈیا کا سارا فوکس گجرات الیکشن پر نظر آرہا ہے۔ کوئی یہ سوال نہیں پوچھ رہا ہے کہ گورکھپور کے اسپتال میں بچوں کی موت اگر وزیر اعلیٰ یوگی کےمطابق گندگی کی وجہ سے ہوئی تو اس گندگی کا ذمہ دار کون ہے؟