اعلی حضرتؒ علم وفنون کے سمندر تھے

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>اعلی حضرتؒ علم وفنون کے سمندر تھے</h1>

بلرام پور:اعلی حضرت عظیم البرکت مجددین ملت امام اہل سنت رحمت ورضوان کے دو سو سے زیادہ علم وفنون پرمہارت حاصل تھی۔آپ نے انسانیت کو صحیح راہ دکھائی بالخصوص دین اسلام کو نئی روشنی بخشی۔لوگوں کو حق وباطل سے روشناس کرایا۔

آپ نے دین کی جو خدمت انجام دیں اسی کی روشنی میں پوری دنیا کے مسلمان تمام دینی فتنوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ کر اپنے ایمان کو بچائے ہوئے ہیں۔یہ باتیں مدرسہ اشرفیہ بحرالعلوم مثرولیہ میں عرس کے موقع پرمدرسے کے منتظم مولانا معراج احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اعلی حضرت نے اپنی روشن زندگی میں ا یک ہزار سے زائد کتابیںلکھیں۔انہوں نے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کر کے عام آدمی کو جینے کا سلیقہ بتایا۔پروگرام کی شروعات قاری عبدالمبین کے تلاوت قرآن پاک سے ہوئی اور نظامت مولانا ذاکر حسین نے کی۔پروگرام میں مدرسے کے تمام اساتذہ وطلبا موجود تھے۔پروگرام کااختتام مولانا عاشق علی کی دعا پر ہوا۔اسی کڑی میں مہاراج گنج ترائی واقع مدرسہ جامعہ اہل سنت نورالعلوم عاتکیہ میں اعلی حضرت کے عرس کے موقع پرایک جلسے کا اہتمام ہوا جس میں اعلی حضرعت کے دینی خدمات پر روشنی ڈالی گئی۔طلبا نے قرآن خوانی کے بعد میلا مصطفی کا اہتمام کیا۔تلاوت قرآن قاری شمیم نے کی اورنظامت کے فرائض مولانا رجب علی نعیمی نے انجام دئے۔مولانا شیرعلی ثقافی نے نعت پیش کی۔مولانا محمد فاروق قادری نے اپنے خطاب میں اعلی حضرت کو اہل سنت کےلئے ایسی امانت بتائی جس کی حفاظت تمام علما پر ضروری ہے۔ اعلی حضرت کا فتوی وارشادات ہمارے لئے مشعل راہ ہےجس پر عمل پیراہو کر دارین کی سعادت سے مالا مال ہوا جا سکتا ہے۔مولانا فیاض مصباحی نے بھی اپنے طور پر خراج عقیدت پیش کی۔جلسے میں مدرسے کے منتظم عبدالوحید لاثانی سمیت مولانا سلمان رضا،مولانا غلام ربانی،طلبا میں مولوی بخشش،حافظ شہزاد علی اور حافظ محمد آصف کے علاوہ آس پاس کے لوگ کافی تعداد میں شامل رہے۔