سپریم کورٹ کی توہین ہے اجمیری کی گرفتاری

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>سپریم کورٹ کی توہین ہے اجمیری کی گرفتاری</h1>

احمد آباد۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیاسی فائدہ پہونچانے کے لئے گجرات پولیس اور احمد آباد کرائم برانچ کے افسران اتنے بے لگام نظر آنے لگے ہیں کہ انہیں سپریم کورٹ تک کی پروا نہیںہے۔۲۰۰۲ میں اسمبلی الیکشن سے ٹھیک پہلے احمد آباد کے اکشردھام مندر پر حملہ ہوا تھا۔ تیس لوگوں کی جانیں چلی گئی تھیں۔ اس معاملے میں کرائم برانچ اور پولیس نے جو کہانی گڑھ کر ۲۸ مسلمانوں کو ملزم بنایا تھا اور آٹھ لوگوں کو ہی گرفتار کرکے پوٹا کورٹ اور ہائی کورٹ سے پھانسی اور عمر قید کی سزا دلوا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے سبھی کو ۲۰۱۴؁ء میں نہ صرف بری کر دیا تھا بلکہ کرائم برانچ کی تحقیقات کا جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر اسے خارج کر دیا تھا اب اسی خارج شدہ تحقیقات کی بنیاد پر کرائم برانچ نے عبدالرشید اجمیری کو گرفتار کرکے سپریم کورٹ کی توہین کرنے کا کام کیا ہے۔

گجرات اسمبلی کے پچھلے کم سے کم چار الیکشنوں  کی شروعات تو ترقیاتی کاموں کے ذکر سے ہوئی لیکن ہر بار  بھارتیہ جنتا پارٹی خصوصاً وہاں  تقریباً تیرہ سال تک وزیر اعلیٰ رہے آج ملک کے  وزیراعظم نریندر مودی نے آخر  میں   ہر الیکشن کو مذہب اور دھرم سے  جوڑ کر لوگوں کے جذبات بھڑکا کر ووٹ حاصل کرنے میں  کامیابی حاصل  کی ہے۔ ۲۰۰۲؁ء کا الیکشن تو پوری طرح گودھرا حادثہ اور گجرات میں ہوئے انسانیت کے قتل عام کے پس منظر میں ہوا تھا۔ اس کے باوجود اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے تقریباً ہر پبلک میٹنگ میں کسی نہ کسی بہانے میاں مشرف کا ذکر ضرور کیاتھا۔ اس وقت پرویز مشرف کا ذکر کرنے کا مقصد صاف تھا کہ وہ گجرات کے لوگوں کو کسی نہ کسی طریقے سے ہندو مسلم کا پیغام دے رہے  تھے۔ان کے زمانے  میں دوبارہ اسمبلی الیکشن آیا تو اس وقت انہوں نےسونیا گاندھی او ر اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر کو عیسائی بتا کر گجرات کے لوگوں کو  پیغام دیا کہ عیسائی لابی ان کو ہرانا چاہتی ہے۔ اسی مقصد سے انہوں نے بار بار جے این ایم لنگدوہ کو جیمس مائیکل لنگدوہ کہہ کرمخاطب کیا تھا۔۲۰۱۲؁ء کے الیکشن میں جب کیشو بھائی پٹیل اپنی الگ پارٹی بنا کر کانگریس کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا تو وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر کی حیثیت سے نریندر مودی نے اپنی تقریباً ہرپبلک میٹنگ میں گجرات کے عام لوگوں سے کہا کہا کانگریس تو ’احمد میاں پٹیل‘ کو گجرات کا  چیف منسٹر بنانے کی سازش کررہی ہے۔ مطلب یہ کہ ہر الیکشن میں انہوں نے مسلمانوں اور عیسائیوں کو  علامت کی شکل میں استعمال کرکے ووٹوں کا فائدہ حاصل کر لیا ۔ گجرات اسمبلی کا الیکشن شروع ہو چکا ہے بھارتیہ جنتا پارٹی ، وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی صدر امت شاہ اور گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئے روپانی نے کچھ مسلمانوں اور مسلم ناموں کا  علامتی استعمال پھر شروع کردیا ہے۔چوبیس ستمبر ۲۰۰۲ کو احمد آباد کے اکشر دھام مندر پر ہوئے یا ایک سازش کے تحت قرار دئیے گئے  دہشت گردوں کے حملے میں اس وقت کی نریندر مودی سرکار کے ڈٹیکشن آف کرائم برانچ (ڈی سی بی) نے اٹھائیس لوگوں کو نامز دکرکے اسپیشل پوٹا عدالت میں چارج شیٹ داخل کرکے کہا تھا کہ اٹھائیس میں سے صرف آٹھ کو پکڑا جا سکا ہے باقی بیس فرار ہیں۔ پوٹا عدالت نے ۲۰۰۶ میں چھ کو  قصوروار ٹھہرا کر دو کو موت کی اور باقی چار کو دس سال سے عمر قید  تک کی سزا سنا دی تھی۔ بعد میں گجرات ہائی کورٹ نے بھی اسپیشل پوٹا عدالت کے فیصلے پر مہر لگا دی تھی۔

چھبیس مئی ۲۰۱۴ کو جب نریندر مودی وزیر اعظم کا حلف لے کر ملک کا  اقتدار سنبھال رہے تھے ٹھیک اسی دن سپریم کورٹ کی ایک بینچ نے سبھی چھ ملزمان کو بری کرتے ہوئے ڈی سی بی کی تحقیقات کو مکمل طور پر خارج کرتے ہوئے اسے جھوٹی کہانی کا پلندہ قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس بات پر خاص ناراضگی ظاہر کی تھی کہ کرائم برانچ نے کس طرح جھوٹ کی بنیاد پر آٹھ  بے گناہ لوگوں کو پھنسانے کا کام کیا۔ سپریم کورٹ نے یہاں تک کہا تھا کہ اس معاملے کو پوٹا عدالت میں لے جانے کی منظوری دیتے وقت گجرات کے ہوم منسٹر نے یا تو اپنی عقل کا استعمال نہیں کیا تھا یا پھر وہ اپنی عقل گھر پر رکھ کر آئے تھے۔یہاں یہ ذکر  ضروری ہے کہ یہ معاملہ پوٹا عدالت میں لے جانے کی منظوری دینے والے ہوم منسٹر بھی وزیر اعلیٰ نریندر مودی ہی تھے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد پوٹا عدالت نے باقی دو کو بری کر دیا تھا۔

اب چونکہ الیکشن میں دہشت گردی کا نام لینا ضروری ہے اس لئے عبدالرشید نام کے ساٹھ سال کے ایک شخص کو تین نومبر کو صبح سویرے احمد آباد ہوائی اڈے پر اس وقت گرفتار کر لیا گیاجب وہ سعودی عرب سے اپنے خاندان کے لوگوں  سے ملنے لئے احمد آباد آئے تھے۔ اس خبر کو احمد آباد کرائم برانچ نے بڑھا چڑھا کر میڈیا میں پیش کیا کہ اکشر دھام مندر پر ہوئے دہشت گردوں کے حملے کی سازش میں شامل اجمیری کو آخر  پکڑ لیا گیا۔ سوال ہے کہ جب ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ اس معاملے میں کرائم برانچ کی تحقیقات کو فرضی، سازشی اور فلم کی کہانی جیسی بتا کر پوری طرح سے منسوخ کر چکی ہے تو پھر کرائم برانچ اپنی اسی تحقیقات کی بنیاد  پر پندرہ سال بعد کسی کو گرفتار کیسے کر سکتی ہے؟ اجمیری ۲۲ سال بعد سعودی عرب سے واپس احمد آباد آئے تھے۔ کرائم برانچ کا کہنا ہے کہ ہاں اجمیری بائیس سال بعد واپس آیا ہے۔

کرائم برانچ کی چارج شیٹ کے مطابق اس معاملے میں گرفتار کئے گئے اشفاق عبداللہ بھاؤنگری نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں کام کرتا تھا وہیں اس کی ملاقات عبدالرشید اجمیری سے ہوتی تھی۔ اسے معلوم ہے کہ اجمیری نے ریاض میں بیٹھ کر اکشردھام مندر پر حملہ کرنے  کی سازش رچی تھی۔ سپریم کورٹ بھاؤنگری کے بیان کو جھوٹا اور گڑھا ہوا قرار دے کر رد کر چکا ہے۔اس کے باوجود احمد آباد پولیس نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ  کرتے ہوئے اجمیری  کو اسی کیس میں گرفتار کر لیا جس کی پوری تحقیقات ہی سپریم کورٹ سے جھوٹی قرادا دی جاچکی ہے۔ کرائم برانچ اور گجرات پولیس کو پتہ تھا کہ  اجمیری ریاض میں کہاں رہتے ہیں اگر وہ  ملزم تھے تو پندرہ سالوں سے انہیں سعودی عرب سے ڈی پورٹ  کرانے کی کاروائی کیوں نہیں کی گئی۔ اس درمیان  انہوں نے  ریاض میں واقع ہندوستانی سفارت خانے سے اپنے پاسپورٹ کا رینیول بھی کرایا ہوگا۔ گجرات سرکار اور سعودی میں قائم اپنے سفارت خانے کو یہ آرڈر کیوں نہیں بھجوایا کہ اگر اجمیری اپنا پاسپورٹ رینیو کرانے آئے تو پاسپورٹ ضبط کرکے اسے ڈی پورٹ کرایا جائے۔ایسا اس لئے نہیں کیا گیا کہ جب تک  الیکشن میں دوسرے کئی مدے تھے۔ اجمیری یا کسی دوسرے مسلمان کو گرفتار کرکے عام گجراتیوں کو پولرائز کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس وقت اس کی سخت ضرورت ہے۔

گجرات سرکار، وزیر اعظم نریندر مودی اور اجمیری کو گرفتار کرنے والی کرائم برانچ کے افسران کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اکشر دھام مندر پر ہوئے مبینہ حملے میں پہلے ہی پھنسائے گئے آٹھ بے گناہوں کی طرح اجمیری بھی عدالت سے بری ہو جائیں گے اس کے باوجود کرائم برانچ نے سیاسی مقاصد کے تحت انہیں گرفتار کرکے اس کا پروپگینڈہ کیا ہے۔ اگر اس معاملے میں سپریم کورٹ سنجیدگی سے کاروائی کرے تو  کرائم برانچ کے افسران کو عدالت کی توہین کرنے کے معاملے میںجیل کی ہوا  کھانی پڑ سکتی ہے۔ یہ تو دھاندھلی کی انتہا ہے کہ جس تحقیقات کو سپریم کورٹ  خارج کر چکی ہے اسی تحقیقات کی بنیاد پر کسی کو گرفتار کرلیا جائے۔ یہ دھاندھلی وزیراعظم کی ناک کے نیچے کی جا رہی ہے۔

دہشت گردی کے الزام میں عبدالرشید کی گرفتاری پہلی نہیں ہے اس سے پہلے ستائیس اکتوبر کو کرائم برانچ نے ایک لیب ٹیکنیشئن قاسم ٹمبر والا اور اس کے ایک دوست عبید مرزا کو پکڑ لیا تھا۔ اعلان کیا گیا کہ یہ دونوں اسلامک اسٹیٹ کے بہت ہی خطرناک دہشت گرد ہیں جو ہندوؤں کے کئی مندروں اور دھرم گروؤں پر حملہ کرنے کی سازش رچ رہے تھے۔ ان دونوں کی گرفتاری اور کانگریس لیڈر احمد پٹیل کے ساتھ قاسم کے رشتے بتانے کے لئے گجرات کے وزی اعلیٰ وجئے روپانی نے رات دس بجے میڈیا نمائندوں کو بلایا تھا۔ ان دونوں کی گرفتاری اور ان کے خطرناک ہونے کا پروپگینڈہ گجرات سرکار نے بڑے پیمانے پر کیا۔ ابھی بھی بی جے پی لیڈران ان دونوں کی گرفتاری کا ذکر الیکشن کمپین میں کرتے پھر رہے ہیں۔

گجرات سرکار اور کرائم برانچ کی یہ کہانی کتنی جھوٹی اور بے بنیاد ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے جو دو مبینہ دہشت گرد کرائم برانچ کے مطابق بڑےپیمانے پر مندروں اور دھرم گروؤں پر حملے کرنے کی سازش رچ رہے تھے ان کی گرفتاری کے دو ہفتوں بعد تک پولیس یا کرائم  برانچ ان کے قبضہ سے یا ان کے کسی ٹھکانے سے ایک ڈنڈہ تک برآمد نہیں کر  سکی۔ دوسری بات یہ کہ شام اور عراق میں جہاں اسلامک اسٹیٹ کے اڈے ہیں وہاں تویہ دہشت گروہ کچھ کر نہیں پا رہے ہیں اس کے دو ایجنٹ احمد آباد میں کیا کرپائیں گے۔ اب تو رہائی منچ نے اپنے ایک بیان میں یہاں تک الزام لگایا ہے کہ پانچ نومبر کو ممبئی ائیر پورٹ پر اعظم گڑھ کے رہنے والے ابو زید، تین نومبر کو احمد آبا ہوائی اڈے سے عبدالرشید اجمیری کی گرفتاری اور اس سے بھی پہلے احمد آباد میں قاسم ٹمبر والا اور عبید مرزا کی گرفتاری صرف اور صرف گجرات اسمبلی کے الیکشن پر اثر ڈالنے کے لئے کی گئی ہے۔ الیکشن سے پہلے ابھی کچھ اور بے قصور مسلمانوں کو دہشت گرد بتا کر اٹھایا جائے گا۔ گجرات پولیس کا یہ پرانا ہتھ کنڈہ ہے۔

رہائی منچ کا الزام سچ نظر آتاہے۔ کیونکہ  ۲۰۰۱؁ء میں مودی کے گجرات کا وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے دہشت گردی کے نام پر جتنے مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا عدالتوں سے سبھی چھوٹ گئے ۔ پولیس اور کرائم برانچ کی کہانی عدالت میںجھوٹ ہی ثابت ہوئی ہے۔

 

’’اکشر دھام مندر پرچوبیس ستمبر ۲۰۰۲؁ء کو ہوئے دہشت گردوں کے حملے کے الزام میں کرائم برانچ نے جن آٹھ مسلمانوں کو گرفتار کرکے پوٹا عدالت سے موت اورعمر قید کی سزائیں دلائی تھیں ، سپریم کورٹ نے  سبھی کو با عزت بری کرتے ہوئے کرائم برانچ کی تحقیقات کو منسوخ کر دیا تھا۔ اب اسی منسوخ شدہ تحقیقات کی بنیاد پر عبدالرشید اجمیری کو گرفتار کرکے  پولیس نے سپریم کورٹ کی بھی توہین کر دی‘‘۔

 

 

’’ہر بار گجرات اسمبلی الیکشن سے پہلے دہشت گردی کے نام پر کچھ مسلمانوں کی گرفتاری ایک رواج سا بن گئی ہے۔ قاسم ٹمبر والا اور عبید مرزا کو گرفتار کراکر وزیراعلیٰ وجئے روپانی نے میڈیا کو خبر دی۔ کہا گیا کہ دونوں اسلامک اسٹیٹ کے خطرناک دہشت گرد ہیں جو مندر اور دھرم گروؤں پر حملے کرنے کی سازش کرر ہے تھے۔دو ہفتہ بعد تک ان کے پاس سے ایک ڈنڈہ تک برآمد نہیں ہوا۔‘‘