ڈونالڈ ٹرمپ پھر اسلحہ لابی کے ساتھ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>ڈونالڈ ٹرمپ پھر اسلحہ لابی کے ساتھ</h1>

امریکہ کا بندوق کلچر اجتماعی قتل عام کی اصل وجہ

 

واشنگٹن۔ ایک سنکی نے پھر چھبیس امریکی شہریوں کی جان لے لی۔ پینتیس دنوں کے اندر یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے جب ہنستے کھیلتے خوشیاں مناتے اور عبادت کرتے لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔ گولی باری میں مارے جانے کے واقعات بڑھنے سے اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ کسی شخص کی سنک لوگوں کی جان لے رہی ہے تو ا س  کی ایک وجہ یہ ہے کہ  امریکی سماج اپنے کو چاہے جتنا روشن خیال کیوں نہ بتاتا ہو پورا معاشرہ ذہنی دباؤ میں زندگی جی رہا ہے۔ اور جب وہ اپنے دباؤ پر قابو نہیں پا پاتا تو  ایسے افسوسناک واقعات کی شکل میں اس کی ذہنی گھٹن  سامنے آتی ہے۔ لیکن بے قصور لوگوں کی اصل قاتل اسلحہ لابی ہے جو کسی بھی صورت میں نجی اسلحوں پر  پابندی نہیں لگانے دے رہی ہے۔ امریکہ کی قومی رائیفل اسوسی ایشن نجی طور پر ہتھار رکھنے پر پابندی لگانے کی مخالفت اس بنیاد پر کرتی ہے کہ امریکی آئین میں ہوئی دوسری ترمیم کے تحت امریکی شہریوں کو بندوق رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اسلحہ رکھنے کے آئینی حق کی ڈھال امریکہ کےلئے ناسور بنتی جارہی ہے۔ اسلحہ لابی کا امریکہ کے ارباب اقتدار پر کتنا دباؤ ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ پچھلے دنوں مین ہٹن میںپیش آنے والے واقعہ پر اسلامی دہشت گردوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم کرتے ہیں وہی امریکی صدر ایک سنکی کی گولی باری میں مارے جانے والے لوگوں کو خراج عقیدت توپیش کرتے ہیںان کے افراد کنبہ سے ہمدردی اور ان کے غم میںشریک ہونے کی بات کرتے ہیں مگر ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ گولی باری میں ہلاکتوں کی وجہ سے نجی اسلحوں پر پابندی لگانے کا کوئی جواز نہیںہے۔

یاد رہے کہ محض ایک مہینہ پہلے ہی لاس ویگاس کے ہارو ویسٹ میوزیکل پروگرام میں ایک سنکی نے متعدد ہتھیاروں سے گولی باری کرکے اٹھاون لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور پانچ سو سے زیادہ لوگوں کو زخمی کردیا تھا اور اسے امریکہ کی تاریخ میں کسی شخص کی گولی باری میں ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعتبار سے بدترین واقعہ قرار یا گیا تھاتب یہ سوال اٹھا تھا کہ امریکی شہریوں کو اسلحہ رکھنے کی آزادی کے آئینی حق میں ترمیم اب ناگزیر ہوگئی ہے لیکن ڈونالڈ ٹرمپ  انتظامیہ نے اس جانب غور کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ پیش آگیا مگر جب امریکہ کا صدر ہی یہ کہے کہ اسلحہ پر کنٹرول کرنے کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی تو سمجھ میں آتا ہے کہ امریکی سرکار اسلحہ لابی کی مٹھی میں ہے اور یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اسی لابی نے انہیں اقتدار تک پہونچانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

پانچ نومبر کو ٹیکساس کے ایک بیپٹسٹ چرچ کے باہر ایک بندوق بردار شخص نے اس وقت گولیاں چلائیں جب لوگ چرچ میں عبادت کرنے کے لئے اکٹھا ہوئے تھے۔ اندھا دھند کی گئی گولی باری میں پادری کی ایک چودہ سالہ بیٹی بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔ اس گولی باری میں پانچ سال سے ۷۲ سال کی عمر کے چھبیس لوگ ہلاک جبکہ پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ جس شخص نے اس خوفناک واردات کو انجام دیا اس کےبارے میں یہ کہا گیاہے کہ متشدد ذہنیت کا حامل تھا۔ اسے ائیرفورس کی نوکری سے اس لئے برخاست کیاگیا تھا کیونکہ وہ اپنی بیوی اور بچے کو اکثر مارتا پیٹتا تھا اور اذیتیں پہونچایاکرتا تھا ۔ کورٹ مارشل کے تحت اسے ۲۰۱۲ میں ایک سال کی سزا بھی ہوئی تھی اس کے باوجود وہ اسلحہ رکھتا تھا اب یہی سوال شدت سے اٹھ رہا ہےبلکہ اس پر بحث چھڑ گئی ہے کہ لاس ویگاس کے خوفناک ترین قتل عام کے بعد ٹیکساس میں قتل عام کی واردات کیوں؟ ڈیون کیلی نام کا شخص سدرلینڈ اسپرنگس کے بیپٹسٹ چرچ کے باہر دن میں قریب ساڑھے گیارہ بجے نمودار ہوا پہلے اس نے چرچ کے باہر پھر چرچ کے اندر داخل ہو کر اندھا دھند گولیاں چلائیں جب لوگوں اس پر قابو پانے کی کوشش کی تو وہ فرار ہونے میں کامیاب تو ہوا لیکن لوگوں نے اس کا تعاقب کرنے کی کوشش کی حالانکہ یہ کوشش لا حاصل رہی مگر بعد میں وہ اپنی کار میں مردہ پایا گیا۔ اسے کسی نے مارا یا خود اس نے گولی مار کراپنے آپ کو ہلاک کرلیا یہ بات خبر لکھے جانے تک معلوم نہیں ہوپائی تھی۔ چرچ میں آئے لوگوں پر حملہ کرنے کی یہ پہلی واردات نہیں ہے اس سے پہلے جون ۲۰۱۵ میں چار لیسٹن کے ایس کارولینا میں ایک میتھاڈسٹ چرچ پر حملہ ہوا تھا جس میں نو لوگ مارے گئے تھے جب کہ دسمبر ۲۰۰۷؁ء میں کولوراڈو میں ایک بندوق بردار شخص نے نیو لائف چرچ میں گولیاں چلا کر پانچ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ امریکہ میں دوسری جگہوں پر بھی گولی باری کی متعدد وارداتیں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔ آر لینڈو کے پاس نائٹ کلب میں ہوئی فائرنگ میں انچاس لوگ جون ۲۰۱۶؁ء میں مارے گئے تھے۔ دسمبر ۲۰۱۲؁ء میں کنیکٹکٹ کے سینڈی ہک اسکول میں ایڈم لانزا نے بیس بچوں کو گولی مار کر قتل کردیاتھا۔ اس سے پہلے اپریل ۲۰۰۷؁ء میں ورجینا ٹیک میں ایک طالب علم سوئنگ ہوچونے اندھا دھند فائرنگ کرکے بتیس لوگوں کی جان لے لی تھی۔ امریکہ میں ایسی وارداتیں اس لئے شائد زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ یہاں اسلحہ رکھنے پر کوئی پابندی نہیںہے۔ بلکہ ایک شخص کئی کئی ہتھیار رکھتا ہے۔دنیا میں۶۵کروڑ نجی ہتھار ہیں ان میں اڑتا لیس فیصد صرف امریکہ میں ہیں۔ ایک سو امریکیو ں میں سے اوسطاً ۸۹ لوگوں کے پاس بندوقیں ہیں جبکہ چھیاسٹھ فیصد ہتھیار رکھنے والے امریکیوں کے پاس ایک سے زائد بندوقیں ہیں۔

امریکہ میں بے سبب لوگوں کو ہلاک کرنے والی وارداتوں کے تسلسل کے ساتھ ہونے کے بعد اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ اسلحہ رکھنے کی آزادی کی امریکہ قیمت بھی چکا رہا ہے۔ دنیا کی پانچ فیصد آبادی امریکہ میں بستی ہے لیکن یہاں پر ماس شوٹنگ کے واقعات کا فیصد ۳۱ ہے۔ یہ بھی رپورٹ ہے کہ امریکہ میں دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے امریکہ میں آٹھ گنا سے زیادہ بندوق سے خود کشی کے واقعات پیش آتے ہیں۔امریکہ میں کیلی فورنیا کی چیپ مین یونیورسٹی کے ایک مطالعہ کے مطابق امریکہ میں دہشت گردی کے مقابلے بندوق سے مرنے کا خطرہ ۳۲  گنا زیادہ ہے۔ وہیں برطانیہ کے مقابلے امریکہ میں گولی باری کا شکار ہونے کا اندیشہ اکیاون گنا زیادہ ہے۔

بیپٹسٹ چرچ میں ہوئے گولی باری کے واقعہ کے بعد امریکیوں میں بندوق کلچر کے خلاف غصہ پایا جانے لگا ہے۔ لوگوں میں اس لئے مزید برہمی ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں جس طرح اصل مسئلہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔اس کا سیدھا مطلب اسلحہ لابی کے مفادات کا تحفظ ہے۔ ٹرمپ کواس کی کوئی فکر نہیں ہے کہ بے قصور لوگ بے سبب مارے جارہے ہیں۔ انہوں نے یہی کہا کہ ایسے واقعات کے لئے ’’بندوق کلچر سے پیدا ہونے والے حالات‘‘ نہیں بلکہ ملک کے لوگوں میں پنپتی ’’نفسیاتی خرابی کا معاملہ‘‘ ہے۔ اس سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ امریکہ میں فی الحال بندوق کلچر بدستور جاری رہے گا کیونکہ ٹرمپ کو اقتدار کے اعلیٰ ترین عہدے تک پہونچانے میں اسلحہ لابی نے کلیدی رول نبھایا ہے۔