دھمکیوں سے بے پروا کمل ہاسن اپنی بات پر قائم

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>دھمکیوں سے بے پروا کمل ہاسن اپنی بات پر قائم</h1>

’’اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا کے نائب صدر اشوک شرما نے دی کمل ہاسن کو گولی مارنے کی دھمکی،بولے ہندوؤں کے خلاف بد زبانی کی سزا موت ہی ہے‘‘۔

 

نمائندہ خصوصی

چینئی:ہندو دہشت گردی کا ذکر کرکے اسے روکنے کا مطالبہ کرنے والے جنوبی بھارت کے مقبول اداکار کمل ہاسن نے گولی مار نے اور جیل بھیجنے کی دھمکیوں سے بے پرواہوکر اپنے موقفپرقائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سچ بولنے والوں کو بندکیاگیاتو ملک میں جیل کم پڑ جائیں گی۔کمل ہاسن کے ذریعہ ہندو دہشت گردی کا متنازعہ مدا اٹھائے جانے کے بعد اب ایک اورمشہور اداکار پرکاش راج نے بھی ایسا ہی تبصرہ کیا ہے ۔بی جے پی اور ہندو وادی دہشت گرد تنظیموں پر نشانہ سادھتے ہوئے پرکاش راج نے ٹویٹ کیا،اگر طبقے، ثقافت اور اخلاقیات کے نام پر کسی کو ڈ رانا،دہشت زدہ کرنا نہیں ہے تو پھر دہشت زدہ کرناکیا ہے۔اس ٹویٹ کے بعد پرکاش راج بھی تنازعہ میں گھر سکتے ہیں ۔اس سے پہلے سیاست میں آنے کی تیاری کر رہے کمل ہاسن نے ایک تمل میگزین کے لئے لکھے مضمون میں کہا تھا کہ رائٹ ونگ نے اب مسل پاور کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔انہو ںنے الزام لگایا کہ رائٹ ونگ تشددمیں شامل ہے۔ہندو کیمپوں میں دہشت گردی داخل ہو چکی ہے۔

پرکاش راج نے ٹویٹ کرکہا کہ کیا میرے ملک کی سڑکوں پر جوان جوڑے کے ساتھ اخلاقیات کے نام پر بد سلوکی کرنادہشت زد ہ کرنا نہیں ہے۔گئو کشی کے معاملو ںمیں محض شک کی بنیاد پر قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے لوگوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالنا دہشت زدہ کرنا نہیں ہے۔اگر کسی کو ٹرولنگ کرنا،گالیاں دینا اور ذرا سی نا اتفاقی پر چپ رہنے کی دھمکی دینا دہشت زدہ کرنا نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟

غور طلب ہے کہ کمل ہاسن کی جانب سے ’ہندو آتنک واد‘کو لے کر متنازعہ کمنٹ کے جواب میں بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے کہا تھا کہ ا نہو ںنے ایسے وقت پر یہ معاملہ اٹھایا ہے جب کیرلا میں مسلم دہشت گرد تنظیمیں رڈار پر ہیں۔یہی نہیں ونے کٹیار نے کمل ہاسن پر ہندوسماج کی توہین کرنے کاالزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کےلئے ا نہیں معافی مانگنی چاہئے۔

بجرنگ دل کے بانی اور بی جے پی کے راجیہ سبھا ممبرونے کٹیار نےتو کمل ہاسن سے صرف معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ،اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا کے نا ئب صدر اشوک شرما نے میرٹھ میں کہا کہ کمل ہاسن اور ان جیسے خیالات رکھنے والوں کو گولی مار دینی چاہئےیا پھر ا نہیں کسی میدان میں پھانسی پر لٹکا دیاجانا چاہئے۔انہو ں نے بھارت کی دھرتی پر اپنا قبضہ بتاتے ہوئےکہا کہ کوئی بھی شخص جو ہندوؤں کےلئے نازیباالفاط کا استعمال کرتا ہےاسے اس پاک زمین پر رہنے کاکوئی حق حاصل نہیں ہے۔اسے تو موت کی سزا ہی دی جانی چاہئے۔ اشوک شرما نے کہاکہ کمل ہاسن جیسے لوگ اپنے فرقہ پرستی کے ایجنڈے کے تحت ہندوؤں کو بدنام کرنے والی بد زبانی کر تے ہیں۔ایسے لوگوں کوگولی مارنے کےعلاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔اشوک شرما نے کمل ہاسن اور ان کے کنبے کے تمام اداکاروں کی فلموں کا بائیکاٹ کرنے کی ہدایت عام ہندوؤں کو دیتے ہوئے کہا کہ کمل ہاسن جیسے لوگ زندہ رہنے کا اپنا حق کھو چکے ہیں۔

کمل ہاسن کے خلاف نفرت  کی آگ الگتے وقت اشوک شرمایہ بھول گئے کہ کمل ہاسن بھی ہندوہی ہیں۔ ان کی بیشتر فلمیںتمل،کنڑ اور ملیالی زبان میں ہوتی ہیں ۔ جنوبی بھارت کی چار ریاستوں میں ہی یہ فلمیں اتنی موٹی کمائی کر لیتی ہیں کہ انہیں شمال ہند کے شائقین کی ضرورت ہی نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ اشوک شرما نے بوکھلاہٹ میں جو زہریلا بیان ان کے خلاف دیا ہے کمل ہاسن نے اسی قسم کی ذہنیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنا مضمون لکھا ہے۔

یاد رہے کہ تمل زبان کی مشہور میگزین ’آنند وکٹن‘ کے پچھلے شمارے میں کمل ہاسن نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ ’رائٹسٹ طاقتوں نے اب تشدد کا دامن اس لئے تھام لیا ہے کہ ان کی پرانی حکمت عملی پوری طرح ناکام ہو چکی ہے اب اس نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔انہوں نے کسی تنظیم کا نا م لئے بغیر لکھاہے کہ رائٹسٹ فورسریز نے اپنے رویہ اور برتاؤ میں بڑی تبدیلی کر کے تشدد اور دہشت گردی کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔انہو ںنے کہا کہ پہلے ہندو طبقے کے لوگ تشدد کاسہارا لئے بغیر اپنے دلیلوں اور زبانی دلیلوں سے دوسروں کو تشد د کر نے پر مجبور کر دیا کرتے تھے اب وہ پرانی سازشیں کام نہیں کر رہی ہیں۔اسی لئے ان طاقتوں نےتشدد کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ جو لو گ ہندو ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور دہشت گردی میں شامل ہوتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ راستہ ان کےلئے ترقی اور کامیابی کا راستہ نہیں ہو سکتا۔انہو ںنے کیرلا کے وزیر  اعلی پنرائی وجین کی اس بات سے بھی اتفاق ظاہر کیا کہ تمل ناڈورمیں ’رجعت پسند‘طاقتیںپیر جمانے کی کوشش کر رہی ہیںلیکن انہیں دراوڑ سماج پر یقین ہے کہ وہ کسی کے بہکانے سے تشدد میں شامل نہیں ہونگے۔ انہیں گرفتار کر جیل میں ڈالنے کی دھمکی پر ا نہوں نے کہا کہ سچ بولنے والوں کی گرفتاریاں ہوئیں تو ملک میں جیلیں کم پڑ جائیں گی۔

فوٹو:کمل ہاسن اور پرکاش راج

تشدد پر اتارو لوگوں کو للکارنے کی ہمت